دھشت گردی اور مذاکرات کی ذلت

عرفان حسین
عرفان حسین
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

لالی ووڈ اور بالی ووڈ کی فلموں میں بعض اوقات ایسے مناظر ہوتے ہیں جن میں کوئی مزاحیہ اداکار، جو جسمانی طور پر کمزور ہو، کسی طاقتور اور جسیم ولن کو چیلنج کرتا ہے لیکن وہ قریب کھڑے اپنے دوست کے کان میں سرگوشی کر رہا ہوتا ہے کہ وہ اسے لڑنے سے روکے۔ جب بھی کیانی صاحب یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ فوج طالبان کو ختم کر سکتی ہے بشرطیکہ سیاسی قیادت انہیں گرین لائٹ دے تو مجھے یہ جانا پہچانا فلمی منظریاد آجاتا ہے۔ اس دوران نواز شریف کہتے ہیں کہ وہ ہر وہ اقدام اٹھائیں گے جس کا دیگر سیاسی جماعتیں انہیں مشورہ دیں گی۔

جب کئی ماہ کے التوا کے بعد آخر کار اے پی سی(کل جماعتی کانفرنس) کا انعقاد عمل میں آیا تواس میں سیاسی رہنماؤں نے بے عملی کو ترجیح دیتے ہوئے مذاکرات پر ہی اتفاق کرنے میں غنیمت جانی۔ اب جہاں سیاست دان خوف سے تھر تھر کانپ رہے ہیں، طالبان بے خوفی سے کُشت وخون کا کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اے پی سی کا جواب اُنھوں نے اپنے طریقے سے دے دیا… ایک جنرل کو شہید کیا اور پھر ایک چرچ پر حملہ کرکے بیسیوں شہریوں کو خون میں نہلا دیا۔ طالبان کے حملوں کا جواز فراہم کرنے میں عمران خان پیش پیش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کوئی پراسرار قوت مذاکرات کے عمل کو پٹری سے اتارنا چاہتی ہے۔ معاملے کو مزید پیچیدہ بنانے کے لیے ان کی طرف سے بیان آتا ہے …’’پشاورچرچ پر حملہ کسی انسان کا کام نہیں۔‘‘پھر خاں صاحب کیاچاہتے ہیں؟ کیا حکومت جانوروں سے بات کرے؟حقیقت یہ ہے کہ جب جی ایچ کیو، اسلام آباد، لاہور اور پشاور میں طالبان کے ہمدرد بیٹھے ہوں تو سمجھ لیں کہ یہ جنگ ہم ہار چکے ہیں۔ اب اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ طالبان ہم پر کتنی شدت سے وار کرتے ہیں، ہم ان کے سامنے عاجزی سے گڑگڑاتے ہوئے امن کی بھیک مانگ رہے ہیں۔

تاہم جس طرح حکومت امن خریدنا چاہتی ہے، وہ قیمت ادا نہیں کی جاسکتی۔ مشہور کالم نگار بابر ستار، جو ایک ماہر قانون دان بھی ہیں، ایک انگریزی اخبار میں لکھتے ہیں کہ جس راستے، غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے، پر نواز شریف چلنا چاہتے ہیں، آئینِ پاکستان اس کے راستے میں رکاوٹ ڈالتا ہے۔ سب سے پہلے طالبان اپنے قیدیوں کو آزاد کرانا چاہتے ہیں لیکن اگر ان پر مقدمات چل چکے ہیں تو ملکی قانون اُن کی رہائی کی کس طرح اجاز ت دے گا؟ اس کے بعد حکومت کا فرض ہے کہ وہ عوام کی جان و مال کا تحفظ کرے، چناچہ وہ فاٹا اور دیگر علاقوں کے شہریوں کو ان جہادی عناصر کے رحم وکرم پر کیسے چھوڑ سکتی ہے؟اس سے پہلے حکومت کا مولانا فضل اﷲ کے ساتھ معاہدہ کرنا اور سوات کو اس کے حوالے کردینا غیر آئینی اقدام تھا۔ میرے پرانے دوست بابر ایاز اپنی کتاب ’’What’s Wrong With Pakistan‘‘میں ہمیں یاد دلاتے ہیں …’’پاکستان میں جہادی عناصر اور طالبان کے ہمدردوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ان ہمدردوں کی ذہنی آبیاری مذہبی جماعتیں اور قدامت پسند حلقے ہی نہیں آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ عمران خان بھی کرتے ہیں۔ ‘‘ بابر ایاز اس فہرست میں نواز شریف اور میڈیا کے بہت سے حلقوں کو بھی شامل کر سکتے ہیں۔

ایک حالیہ ٹی وی ٹاک شو میں جنرل (ر) حمیدگل، جو کہ طالبان کے سب سے بڑے حمامی ہیں، نے دھشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعد ہمیں مشورہ دیا کہ ہم فکر نہ کریں، سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ ان کا اور اس پروگرام میں شریک جاوید ھاشمی کا موقف یہ تھا کہ یہ حملے بین القوامی سازش ہے اور اس میں را، سی آئی اے اور موساد ملوث ہیں اور ان کا مقصد مذاکرات کے عمل کوسبوتاژ کرنا ہے۔ان دنوں کی رائے حیرت انگیز حدتک یکساں تھی۔ پشاور حملے کے فوری بعد عمران خاں کی طرف سے بیان آیا تھا …’’جب بھی ہم مذاکرات کی طرف بڑھنے لگتے ہیں ، بم دھماکہ، خود کش حملہ یا ڈرون حملہ ہو جاتا ہے۔‘‘

حقیقت یہ ہے کہ عام پاکستانی شہریوں کو کئی سالوں سے خوفناک دھشت گردی کا سامنا ہے اور اس کا مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اب پی ٹی آئی کے سربراہ ، جو طالبان کی طرف سے کی جانے والی دھشت گردی کی ہر کارروائی کا جواز تلاش کرنے کے ماہر ہیں، چاہتے ہیں کہ طالبان کو پاکستان میں دفتر کھولنے کی اجازت دی جائے۔ عمران خاں خود اپنے وزیر اعلیٰ خٹک صاحب کو کیوں ہدایت جاری نہیں کرتے کہ وہ طالبان کو دفتر کھولنے کی جگہ مرحمت فرما کر مشکور کریں؟

عملی اقدامات سے جان چھڑانے کے لیے نواز شریف کا بیان آیا ہے کہ وہ دھشت گردی سے نمٹنے کے لیے ترکی سے رہنمائی حاصل کریں گے۔ اگر اُنھوں نے ترکی کی حالیہ تاریخ کا مطالعہ کیا ہوتا تو اُنہیں علم ہوتا کہ ترکی کو کرد علیحدگی پسندوں کی طرف سے جس خطرے کا سامنا تھا وہ اُس خطرے سے بہت مختلف ہے جس کا پاکستان کو طالبان کی طرف سے سامنا ہے۔ ستر کی دھائی میں ترک فوج نے سیاسی جماعتوں کی پشت پناہی سے بائیں بازو کے انقلابیوں کے خلاف کٹھن جنگ لڑی تھی۔ تاہم ہمارے وزیرِ اعظم کا وہ تمام وقت مطالعہ میں ضائع ہوجائے گا جو اُنھوں نے کھا نے میز پر بسر کرنا ہوتا ہے۔

جب نواز شریف (اور ان سے پہلے زرداری) فاٹا میں فوج کشی کے لیے قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی بات کرتے ہیں تو میں حیران ہوتا ہوں کہ بلوچستان میں فوج کشی کے لیے اس اتفاقِ رائے کی ضرورت کیوں محسوس نہیں ہوتی؟ایف سی کئی برسوں سے اس صوبے میں موجود ہے اور اس کی طر ف سے کی جانے والی زیادتیوں کی کہانیاں بھی منظرِ عام پر آتی رہتی ہیں لیکن اس پر تو کوئی اے پی سی نہیں بلائی جاتی۔ جب اس حکومت کو کراچی میں مجرموں کے گروہوں کے خاتمے کے لیے رینجرز کو بھیجنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو اس کے لیے سیاسی جماعتوں سے مشاورت میں وقت ضائع نہیں کیا جاتا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نواز شریف نے ایم کیو ایم، پی پی پی اور اے این پی کا موقف سنا لیکن بنیادی طور پر یہ فیصلہ ان کی حکومت نے ہی کیا تھا۔

تحریکِ طالبان پاکستان اور دیگر جہادی گروہ کراچی کے گینگز سے مختلف نہیں ہیں … ہاں ان کی طاقت اور وسائل زیادہ ہیں اور وہ عام مجرموں کے مقابلے میں کہیں زیادہ سفاک ہیں۔ چناچہ حکومت ان کو امن کا پیغام کیوں بھیجتی ہے ؟کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسے گروہ نواز شریف اور عمران خان کے ساتھ نظریاتی وابستگی رکھتے ہیں؟یہ بھی ایک کھلا راز ہے کہ ان میں سے کچھ فوج کے بھی پروردہ ہیں اور فوج ان کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی رہتی ہے۔ ہمارے سیاست ان جہادی گروہوں کو خوش کرنے کے لیے کس حد تک جاسکتے ہیں، اس بات کا اندازہ اے پی سی کے اعلامیے سے کیا جاسکتا ہے ۔ اس میں ان گروہوں کو دھشت گردوں کی بجائے ’’اسٹیک ہولڈرز ‘‘ کہا گیا ہے۔

ستم یہ ہے کہ اس چاپلوسی کے باوجود وہ جہادی گروہ خوش نہیں ہوئے ہیں اور نہ ہی وہ مذاکرات کی راہ اپنانے کے لیے تیار ہیں۔ اے پی سی کا جواب اُنھوں نے اعلیٰ فوجی افسروں اور بے گناہ عیسائیوں کو ہلاک کرکے دیا ہے۔ وہ کتنے خوش ہوں کہ ایٹمی طاقت کی حامل ریاستِ پاکستان ان کے سامنے گھٹنوں کے بل جھک کر التجا کرتے ہوئے امن کی بھیک مانگ رہی ہے۔ ایک اور بات، تحریکِ طالبان پاکستان کی چھتری تلے بہت سے گروہ ہیں۔ حکومت ان میں سے کس کس کے سامنے ماتھا ٹیکے گی ؟ ٹھیک ہے کہ ملک میں قتل و غارت گری کا سلسلہ توجاری ہے، لیکن ہم نے اور کتنی بے عزتی بھی برداشت کرنی ہے؟کیا صرف قتل و غارت پر اکتفا نہیں کیا جا سکتا؟

بشکریہ روزنامہ 'دنیا'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں