شام اور کیمیائی ہتھیار

جاوید حفیظ
جاوید حفیظ
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

لیجئے شامی حکومت نے کیمیائی ہتھیار رکھنے کا تو اعتراف کرلیا لیکن وہ اس بات سے اب بھی انکاری ہے کہ دمشق کے علاقے مشرقی غوطہ کی آبادی پر 21 اگست کو ان ہتھیاروں کی بارش حکومتی فوج نے کی۔ شامی ارباب اختیار کا کہنا ہے کہ یہ ہتھیاری باغ نے استعمال کیے ہیں تاکہ بیرونی مداخلت کا جواز پیدا ہوسکے۔ شامی حکومت کا یہ استدلال خاصہ کمزور ہے لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ روس اس بودی منطق کی حمایت کر رہا ہے۔ پچھلے ہفتے صدر اوباما نے شام کے مسئلے پر خصوصی تقریر کی اور لگ رہا تھا کہ امریکہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی وجہ سے شام پر حملہ کرنے ہی والا ہے۔ امریکی دھمکی کا اتنا فائدہ ہوا کہ روس نے شامی لیڈروں سے ان مہلک ہتھیاروں کے رکھنے کا اعتراف کرا لیا اور ساتھ ہی یہ عندیہ بھی دیا کہ شامی حکومت ان ہتھیاروں کو تلف کرنے کیلئے تیار ہے۔ اس صورت حال میں امریکی حملے کا جواز تقریبا ختم ہوگیا۔

ویسے اس مرتبہ امریکہ خود شام پر حملے کے بارے میں خاصہ متذبذب تھا۔ افغانستان اور عراق کی جنگوں کے بعد اب امریکی عوام بیرونی مداخلت اور مہم جوئی کے خلاف ہیں۔ وہ اپنی اقتصادی حالت ٹھیک کرنا چاہتے ہیں۔ صدر اوباما کو پہلا جھٹکا تو اسوقت لگا جب برطانوی پارلیمنٹ نے شام پر حملے کی توثیق کرنے سے انکار کر دیا۔ ادھر اقوام متحدہ میں روس اور چین بھی حملے کے خلاف تھے۔ انہیں لیبیا کا تلخ تجربہ یاد تھا۔ امریکی اور مغربی ایجنسیاں جو شامی باغیوں سے رابطے میں رہتی ہیں انکا یہ کہنا تھا کہ القاعدہ شام میں سرگرم عمل ہے اور بشار الاسد کی حکومت کے جانے کے بعد شدت پسند اسلامی عناصر دمشق میں اقتدار سنبھال سکتے ہیں۔ امریکہ کی اپنی رائے عامہ بہت ہی منقسم تھی چنانچہ صدر اوباما پر کانگریس نے یہ پابندی لگائی کہ اگر حملہ کرنا بھی ہے تو وہ بہت مختصر ہوگا اور نوے دن سے زیادہ نہیں ہوگا اور یہ کہ امریکی فوج شامی سرزمین پر پائوں نہیں رکھے گی۔

امریکی غبارے سے رہی سہی ہوا روس نے کمال مہارت سے نکال دی۔ اس سلسلے کی تازہ ترین ڈویلپمنٹ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کی وہ رپورٹ ہے جس میں وثوق سے کہا گیا ہے کہ غوطہ میں کیمیائی ہتھیار واقعی استعمال ہوئے ہیں۔ اس حملے میں تقریباً پندرہ سولوگ مارے گئے تھے جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی۔ غوطہ دمشق کے نواح میں ایک گائوں ہے جس کے ارد گرد سیب، خوبانی، آڑو اور آلو بخارے کے باغات ہیں۔ موسم بہار میں جب غوطہ کے باغات میں پھول کھلتے ہیں تو دمشق کے لوگ پکنک منانے جوق درجوق چلے آتے ہیں۔ دمشق میں قیام کے دوران میں خود کئی مرتبہ وہاں جا چکا ہوں۔ شام کے شہروں کی بیشتر آبادی چونکہ فلیٹوں میں رہتی ہے لہٰذا وہاں موسم گرما میں پکنک کا رواج عام ہے۔ چند ہفتے پہلے جب کیمیائی حملے میں شہید ہونے والے بچوں کے معصوم چہرے ٹی وی سکرین پر دیکھتے تو مجھے غوطہ کے خوبصورت پھول یاد آ گئے۔ شامی بچے بھی پھولوں کی مانند بہت ہی پیارے ہوتے ہیں۔ شامی حکومت کے صاف انکار کے باوجود یہ بھیانک جرم اسی کا کیا دھرا لگتا ہے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ یو این کے انسپکٹر کو جائے وقوعہ پر جانے سے روکا گیا کہ وہاں شدید خطرہ ہے۔ لیکن یہ لوگ بضد رہے کہ ہم ہر صورت جائیں گے۔ انہیں وہاں صرف چند گھنٹوں کے لیے شامی حکومت کے کارندے لے کر گئے۔ اس عرصہ میں ان لوگوں بے بڑی مہارت سے زمین کے نمونے لیے ۔ مرنے والوں کی تصویریں اکٹھی کیں۔ جسمانی اعضاء خون اور بالوں سے نمونے لیے اور اب اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ زہریلی گیس سارین جوکہ انسانی اعصاب کو آناً فاناً تباہ کر دیتی ہے واقعی استعمال ہوئی ہے۔ شامی حکومت کیمیائی ہتھیاروں کے بین الاقوامی کنونشن کا حصہ نہیں یونی اس نے ابتک اس قانون پر دستخط نہیں کیے لیکن اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اسے یہ مہلک ہتھیار استعمال کرنے کی آزادی ہے ۔ ہین الاقوامی مبصر یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ گیس سے بھرےمیزائل تاسیون کے پہاڑ سے چلائے گئے جوکہ شامی حکومت کے قبضے میں ہے ۔ تاسیون کے پہاڑ سے غوطہ کا فاصلہ تیس کلومیٹر سے زیادہ نہیں ۔ پہاڑ شہر کے ایک جانب ہے اور وہاں حکومتی فوج کی ایک ڈویژن موجود ہے ۔ غوطہ کی بیشتر آبادی باغیوں پر مشتمل ہے۔ یہاں کے اکثر نوجوان یا حکومت کی قید میں ہیں یا دوسرے علاقوں میں جنگ لر رہے ہیں۔ کیا باغی فوج یہ حماقت کر سکتی ہے کہ اپنی ہی خواتین اور بچوں کو سینکڑوں کی تعداد میں موت کی نیند سلا دے۔

شام پر متوقع امریکی حملے کا صدر بشار الاسد کو بہت سیاسی فائدہ ہوا ہے۔ دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی شامی حکومت کے لیے ہمدردی کے جذبات پیدا ہوئے ہیں۔ یہ غالباً اس وجہ سے ہوا ہے کہ پاکستانی عوام اور میڈیا کو شام کی بعث پارٹی حکومت کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں۔ بہت کم لوگوں کو پتہ ہے کہ 1980ء میں حماۃ کے شہر میں حافظ الاسد نے ہزاروں لوگوں کو محض اس لیے قتل کروا دیا تھا کہ وہ اخوان المسلمین کے حامی تھے۔ بعث پارٹی جمہوریت کا نام لیتے نہیں تھکتی لیکن جب حافظ الاسد کا انتقال ہوا تو انکے بیٹے بشار کو تخت پر بٹھا کر خاندانی اور موروثی اقتدار کو جمہوریت پر ترجیح دی گئی۔ یادش بخیر 1982ء میں یاسر عرفات کو لبنان سے نکالنے میں شامی حکومت کا اہم رول تھا۔ شامی حکومت کی اس کارروائی سے فلسطین کے مسئلے کو شدید دھچکا لگا۔ شامی حکومت نے پچیس سال سے زائد عرصے تک لبنان میں اپنی فوج رکھی لیکن اسرائیل کے خلاف کوئی موئثر کارروائی نہیں کی۔ عرب ممالک کی اکثریت بشار الاسد کی حکومت سے خاصی متنفر ہے اور عرب لیگ میں شام کی موجودہ حکومت کی رکنیت معطل ہے اور یہی صورت او آئی سی میں بھی ہے۔

امریکی حملے کو ٹالنے کیلئے شامی حکومت کیمیائی ہتھیار تلف کرنے کیلئے تیار ہو گئی ہے۔ سکیورٹی کونسل اس سلسلے میں ایک قرارداد بھی تیار کر رہی ہے۔ لیکن کئی مبصرین کا خیال ہے کہ شامی حکومت تمام کیمیائی ہتھیار تلف نہیں ہونے دےگی۔ اس بات کا بھی احتمال ہے کہ بشار الاسد کی حکومت ان ہتھیاروں کے محل وقوع کے بارے میں معلومات صحیح طرح سے بین الاقوامی انسپیکٹرز کو نہ دے اور انہیں چکر دینے میں کامیاب ہوجائے۔ مبصرین کا اندازہ ہے کہ شام کے پاس ایک ہزار ٹن کیمیائی ہتھیار ہیں اور اسکی حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ 2014ء تک یہ ہتھیار تلف کر دیے جائیں گے۔ روس نے امریکہ کو یقین دلایا ہے کہ اگر شامی حکومت نے وعدے کی پاسداری نہ کی تو اس کے خلاف یو این چارٹر کے باب ہفتم کے تحت کارروائی ہوسکے گی۔ باب ہفتم میں طاقت کے استعمال کے ذریعہ اقوام متحدہ کے فیصلوں پر عمل درآمد کرایا جا سکتا ہے۔ پھر بھی عام رائے یہ ہے کہ امریکہ اور روس مل کر بھی ایک سال کے عرصہ میں ہتھیاروں کے اتنے بڑے ذخیرے کو تلف نہیں کر سکیں گے۔

شامی حکومت کے ہاتھوں پر غوطہ کے پھول جیسے معصوم بچوں کا خون نظر آرہا ہے لیکن وہ اب بھی جرم کی صحت سے انکاری ہے ۔ اب اتنا اقرار ضرور کیا ہے کہ کیمیائی ہتھیار حکومت کے پاس موجود ہیں۔ یو این کی رپورٹ نے اس بات کا تعین نہیں کیا کہ ہتھیار کس نے استعمال کیے کہ یہ بات یو این انسپکٹرز کے حیطئہ اختیار میں شامل نہ تھی۔ لیکن شامی باغیوں کو یہ مہلک ہتھیار کہاں سے ملے اسکے بارے میں بشار الاسد کی حکومت خاموش ہے۔ کیا حماہ سے لے کر غوطہ تک کے جرائم کے بعد بھی بشار کو حکومت کرنے کا حق ہے۔ کیا ایک لاکھ شہریوں کو قتل کرنے والی حکومت کو قائم رہنا چاہیئے۔ زبان خنجر تو خاموش ہے لیکن شامی حکومت کی آستین پر خون صاف نظر آ رہا ہے اور مجھے یقین ہے کہ غوطہ کے پھول جیسے معصوم بچوں کا خون ضرور ایک دن رنگ لائے گا۔

بہ شکریہ روزنامہ 'دنیا'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں