اوباما، مشعل کی روشنی میں آگے بڑھیں

ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ میں نے اپنی اہلیہ مشعل اوبامہ کے خوف سے تمباکو نوشی چھوڑ دی ہے۔ خاتون اول مشعل نے بھی اچھا کیا ہے اور دنیا کے طاقتور انسان مگر تابعدار شوہر نے بھی اچھا کیا ہے۔ ورنہ ایک آدھ دفعہ اس طرح کی بات کرنے کے بعد بیویاں خاموش ہو جاتی ہیں اور شوہر صاحبان صرف بیوی کی بات نہیں مانتے ورنہ دنیا بھر کی عورتوں کی کئی طرح کی باتیں ماننے کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ بیوی کو ساتھ لے کے گاڑی چلاتے ہوئے بھی شوہر صاحب شوفر نہیں ہوتے۔ جو اپنی بیوی کے شوفر ہوتے ہیں وہ بہت کم ہوتے ہیں۔ بیوی سے اچھا سلوک کریں تو رن مرید کہلائیں اور اسے دبا کے رکھیں تو ظالم کہلائیں۔ اکثر مرد ظالم کہلانے میں اپنی شان سمجھتے ہیں۔ وہ اپنی بیوی کے علاوہ دنیا کی کسی کمزور عورت پر بھی رعب نہیں جما سکتے۔

میں اس کالم کو بوجھل نہیں بنانا چاہتا ورنہ میں مشعل صاحبہ سے کہتا کہ وہ اپنے شوہر نامدار کو دنیا میں بلکہ مسلم دنیا تیسری دنیا غریب دنیا میں دھواں پھیلانے سے باز رہنے کا کہیں۔ یہ تینوں دنیائیں آج کل ایک ہی دنیا ہے۔ اب تو دھواں پوری انسانیت کے لئے مہلک بنتا جا رہا ہے۔ خود امریکہ کے لئے بھی زہر قاتل ہے۔ دنیا نہیں بچے گی تو امریکہ کیسے بچے گا۔ دنیا کے لئے خطرے کا بہانہ بنا کے امریکہ نے اتنے خطرات پیدا کر دئیے ہیں کہ اب زندگی درندگی بن گئی ہے اور شرمندگی بن گئی ہے۔ درندے صرف چند ایک ہیں باقی سب شرمندہ ہیں۔ کسی کو معلوم نہیں کہ وہ زندہ ہے یا شرمندہ ہے۔ کیا مشعل اپنے خاوند کو کہہ سکتی ہے۔ وہ یہ نہیں کہہ سکتی؟ کہہ بھی دے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ ورنہ ایک عورت ہونے کے ناطے وہ دنیا کو مصیبتوں کا گھر ایک عبرت کدہ بنتے نہیں دیکھ سکتی ہو گی۔

مجھے مشعل کا نام بھی پسند ہے۔ یہ امریکی نام نہیں۔ یہ کوئی مشرقی نام ہے۔ شمع نام تو بہت عورتوں کے ہیں۔ روشنی بھی چند ایک عورتوں کے ہوں گے مگر مشعل بہت بامعنی اور خوبصورت نام ہے۔ پہلے لوگ مشعلیں اٹھائے ہوئے چلتے تھے اور خوشی مناتے تھے۔ اس طرح کی روشنی کچھ اور طرح کی روشنی ہوتی تھی۔ سانولی دھیمی خوبصورت مدھم نرم۔ اب تو چکاچوند کر دینے والی روشنی میں آنکھیں چندھیا جاتی ہیں اور دل بھی بیزار ہوتے ہیں۔

خاتون اول مشعل اوبامہ سے گزارش ہے کہ وہ اس طرح کی روشنی سے دنیا بھر کو بھر دینے کی کوشش کریں اور اپنے شوہر کو سمجھائیں۔ وہ دنیا کے طاقتور ترین آدمی ہیں جو طاقت پر اترانا شروع کر دے وہ کمزور آدمی ہوتا ہے۔ طاقت کا مثبت استعمال زندگی کو خوبصورت زندگی بنا سکتا ہے۔ اس طرح صدر اوبامہ کو امریکی تاریخ بلکہ انسانی تاریخ میں زندہ جاوید کردار کی طرح یاد رکھا جائے گا۔ یہی تبدیلی ہے جو صدر اوبامہ کے دل میں تڑپتی ہے؟ وہ مشعل کی روشنی میں زندہ جاوید ہو سکتے ہیں۔ امریکہ جنگ کے ذریعے امن قائم کرنا چاہتا ہے جو ناممکن ہے۔ دہشت گردوں کو دہشت گردی کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ دہشت گردی کی جنگ سے پہلے دہشت گردی نہیں ہوتی تھی۔ اب یہ تیسری دنیا کا مقدر بن چکی ہے۔ بم دھماکے یورپ امریکہ میں تو نہیں ہوتے۔ دہشت گردی وہاں نہیں ہے تو پھر امریکہ کس کو دہشت گردی سے بچانا چاہتا ہے۔ یہ ظالمانہ جھوٹ بولا جاتا ہے کہ اس طرح دنیا کو خطرہ ہے؟ عراق سے کیا خطرہ تھا؟ اسرائیل کو بھی خطرہ نہیں تھا۔ عراق ایران جنگ سے بھی امریکہ کو کیا خطرہ تھا؟ وہ تو اسی کی پالیسی کا حصہ تھی۔ صرف عراق کمزور اور خالی ہو گیا۔ اپنے اشاروں پر چلنے والے عراق کو امریکہ نے معاف نہ کیا۔ عراقی صدر صدام کے لئے میرے دل میں نرم گوشہ نہیں مگر ایک باعزت اور بہادر موت کو اپنے دوست کی طرح قبول کرکے اس نے امریکہ کو شرمندہ کر دیا۔ شرمندہ ہونا امریکہ کے لئے کوئی شرمندگی نہیں ہے۔ وہ درندگی کر سکتا ہے اور کر رہا ہے مگر فطرت کے اصولوں کے مطابق وہ خود بھی ایک دن درندگی کا شکار بن سکتا ہے۔

امریکہ نے لیبیا کے ساتھ کیا کیا۔ لیبیا کے کرنل قذافی نے اپنے نالائق اور عیاش بیٹے کی وجہ سے امریکہ کی دشمنی چھوڑ کر ایک کمزور دوستی کو قبول کیا اور خاک و خون کا رزق بن گیا۔ امریکہ دشمنوں کو دوست بنا کے اور کمزور کرکے شکار کرتا ہے۔ جمہوریت کے چیمپئن امریکہ نے مصر میں ایک منتخب صدر مرسی کے ساتھ کیا کیا۔ جمہوریت اور قرض دو ہتھیار امریکہ کے پاس ہیں اور پھر اپنی اسلحہ ساز کمپنیوں کے لئے کاروباری حالات سازگار بنائے جاتے ہیں۔ دہشت گردی اور جنگ نہیں ہو گی تو اسلحہ کہاں بکے گا؟ اپنے ملک میں تو جنگ ابھی امریکہ ہونے نہیں دے گا۔ مگر اب بھی بے چینی مایوسی اور ردعمل نظر آ رہا ہے۔ ردعمل کی کہانی بڑی بھیانک ہو گی۔ امریکی تھنک ٹینک اس حوالے سے بھی سوچیں۔

مشعل اوبامہ صدر اوبامہ کو یہ بات بھی یاد کرائیں۔ وہاں بھی انسانی حقوق پامال ہونے لگے ہیں۔ آخر سرمایہ دارانہ جمہوریت کی زیادتیاں انہیں اٹھ کھڑے ہونے پر مجبور کر دیں گی۔ یہ مجبوری آغاز پکڑ رہی ہے۔ یہ کیا تضاد ہے اور مذاق ہے کہ جب یہ خبر شائع ہوئی کہ صدر اوبامہ نے مشعل اوبامہ کے خوف سے سگریٹ نوشی چھوڑ دی ہے۔ صدر اوبامہ کی جو تصویر شائع ہوئی ہے اس میں ان کے منہ میں سگریٹ ہے ممکن ہے یہ پرانی تصویر ہو مگر یہ تو ایسے ہی ہے کہ آدمی سگریٹ کا کش لے کے دھواں سامنے والے کے منہ پر پھینکے اور کہے تم سگریٹ نہیں پی سکتے بلکہ بنا بھی نہیں سکتے۔ ایٹم بم چلانے والے واحد ملک امریکہ کی مرضی ہے کہ کوئی ملک ایٹم بم نہ بنائے۔ اب بھی اس کے پاس ہزاروں ایٹم بم ہیں۔ ان میں سے کچھ اسرائیل کے پاس رکھے گئے ہیں۔ کسی اور ملک میں لڑنے کی توفیق نہ ہو۔ سب امریکہ کے خوف او رغلامی میں زندگی کو شرمندگی بنا لیں۔ درندگی صرف امریکہ کو زیبا ہے۔

بشکریہ روزنامہ 'نوائے وقت'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں