.

عمران خان، نیلی آنکھوں والی حسینہ اور’’ڈینگی مچھر‘‘!

عطاء الحق قاسمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ان دنوں کچھ لوگ عمران خان کے پیچھے خواہ مخواہ پڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے صرف یہی تو کہا تھا کہ طالبان کو دفتر کھولنے کی اجازت دی جائے۔ اس پر مولانا فضل الرحمن ایسے سنجیدہ سیاستدان کی رگ ظرافت بھی پھڑکی اور بولے ’’کیوں نہیں، آپ یہ دفتر اپنی سی گالہ کی رہائش گاہ میں کھول لیں!‘‘میاں افتخار حسین نے کہا ’’آپ کے ہوتے ہوئے طالبان کو کسی دفتر کی کیا ضرورت ہے‘‘ اور تو اور عمران خان کی اپنی جماعت کے رہنما اسد عمر نے یہ صورتحال دیکھ تو گھبرا کر کہا’’یہ عمران خان کی ذاتی رائے ہے‘‘بلکہ فیس بک جو تحریک انصاف کی آماجگاہ ہے اب اس میں بھی دراڑ پڑتی نظر آرہی ہے۔ طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے اس پر یہ مزیدار عبارت درج نظر آئی’’ڈینگی مچھر کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوتےاسے ختم کیا جاتا ہے‘‘ لطیفوں کا سلسلہ اس کے علاوہ ہے، کینیا کے ایک فوجی جرنیل سے پوچھا گیا’’کیا آپ دہشت گردوں کو معاف نہیں کر سکتے ہے‘‘ جنرل نے جواب دیا ’’معافی دینے والا صرف خدا ہے، ہمارا کام تو صرف خدا سے ان کی ملاقات کا اہتمام کرنا ہے‘‘۔

اب اگر آپ سچی بات پوچھیں تو عمران خان ایک سچے کھرے آدمی ہیں اور اس طرح کا آدمی جو کچھ اس کے منہ میں آئے وہ کہہ ڈالتا ہے، یہ تو میرے آپ ایسے وہمی لوگ ہیں جو کچھ کہنے سے پہلے ؎

کہیں ایسا نہ ہو جائے ،کہیں ویسا نہ ہو جائے

کے چکر میں پڑجاتے ہیں، کچھ لوگ اس عادت کو سوچ سمجھ کر بات کرنا قرار دیتے ہیں حالانکہ انسان نے اگر سوچ سمجھ کر ہی بات کرنی ہے تو پھر ہنگامہ ہائے شوق کہاں جائیں گے، سوچے سمجھے بغیر بات کرنے سے جو رونق بازار نظر آتی ہے ہم تفریح کے لئے ترسے ہوئے لوگ اس سے بھی محروم ہو جائیں گے۔ میرے دل میں عمران خان کے لئے جو جگہ ہے اس کی وجہ ان کا اس آگ میں بھی بلا خوف و خطر کود پڑنا ہے جس کے گلزار ہونے کا بھی کوئی چانس نہ ہو۔ ان کے بیانات کی وجہ سے ہم اداس لوگوں کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آ جاتی ہے اور ان بیانات کے بعد جو اٹ کھڑکا ہوتا ہے اس کا مزا الگ ہے۔ مہنگائی کے ان دنوں میں جس دکان پر’’سیل‘‘ کا بینر لگا ہو، گاہک اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں، یہاں تو ’’سیل‘‘ نہیں وہ سارا’’سودا‘‘ بالکل مفت ہے جس کا ذکر میں نے ابھی کیا ہے۔

میری ان سطور سے یہ اندازہ نہ لگائیں کہ عمران خان خدانخواستہ معاملہ فہم نہیں ہیں، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ نوعمری میں انسان جلد سے جلد اپنے محبوب کو حاصل کر لینا چاہتا ہے۔ اس کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے اور اس کے محبوب کے درمیان احتیاط کا جو’’سرخ فیتہ‘‘ حائل ہے اسے پائوں سے روندتے ہوئے اپنی منزل تک جاپہنچے۔ میری ان سطور سے خدارا یہ اندازہ ہی نہ لگائیں کہ میں عمران خان کو نوعر ثابت کرنے پر تلا ہوا ہوں۔ میرا اشارہ ان کی پارٹی کی نوعمری کی طرف ہے چنانچہ تجربے کی کمی اور جذبے کی شدت کی وجہ سے الٹا منزل دور ہوجاتی ہے اور جگ ہنسائی اس کے علاوہ ہے۔

ایک ایسے ہی نوعمر عاشق کو ایک حسینہ بھا گئی۔ دوست سے اس کے حصول کے بارے میں مشورہ کیا تو اس نے کہا’’تم یوں کرو کہ اپنے گھوڑے کو نیلارنگ کر کے اس کے سامنے سے گزرو، چونکہ دنیا میں کوئی گھوڑا نیلے رنگ کا نہیں ہے چنانچہ وہ پوچھے گی کہ تمہارا گھوڑا نیلے رنگ کا کیوں ہے؟ تم کہنا کہ تمہاری آنکھیں چونکہ نیلی ہیں اس لئے میں نے اپنے گھوڑنے کا رنگ بھی نیلا کر لیا ہے‘‘۔ عاشق نے پوچھا’’اس کا فائدہ کیا ہو گا؟‘‘ دوست نے جواب دیا کہ اس سے تمہیں بات آگے بڑھانے کا موقع ملے گا، جس کے نتیجے میں ایک دن تم اسے چائے پر مدعو کرنا، پھر کسی روز اسے فلم دیکھنے کی دعوت دینا اور اس کے بعد کسی خوشگوار لمحے میں اس سے شادی کی درخواست کرنا اور مجھے یقین ہے وہ تمہاری درخواست رد نہیں کرے گی‘‘۔نوعمر اور ناتجربہ کار عاشق کو دوست کی یہ تجویز بہت پسند آئی چنانچہ ایک دن وہ اپنے گھوڑے کو نیلا کر کے اس حسینہ کے سامنے سے گزرا۔ حسینہ نے اسے روکا اور پوچھا’’ تمہارے گھوڑے کا رنگ نیلا کیوں ہے‘‘ وصل کی آرزو میں بے تاب نوعمر عاشق نے کہا’’کیونکہ میں نے تم سے شادی کرنی ہے‘‘ یہ بھولا بھالا معصوم عاشق جس طرح درمیان کے سارے مرحلے بھول کر پہلی جست ہی میں حرف مدعا زبان پر لے آیا، یہی حال اپنے عمران خان کا بھی ہے۔ وہ بھی اقتدار کی محبوبہ کے وصل کیلئے اتنے ہی بے تاب اور اتنے ہی ناتجربہ کار نظر آتے ہیں۔

میرا خیال ہے میں نے عمران خان کے جیالوں کی طرف سے اپنی’’پذیرائی‘‘ کا خاصا’’بندوست‘‘ کر لیا ہے اب آخر میں ایک سوال ان سب دوستوں سے مشترکہ طور پر پوچھ لیا جائے جو ان طالبان سے مذاکرات پر زور دیتے چلے آرہے ہیں جو اپنی تلوار نیام میں ڈالنے کو تیار ہی نہیں ہیں۔ مذاکرات کے حوالے سے میری دعا ہے کہ اگر یہ ہوتے ہیں تو کامیاب ہوں اور یوں پاکستان زندہ سلامتی کا گہوارہ بنے اور ہماری معاشی ترقی کا سبب بنے مگر میرا سوال یہ ہے کہ مذاکرات کی کامیابی کے بعد ان ہزاروں مسلح لوگوں کا کیا کریں گے جنہیں انسانوں کو قتل کرنے کے علاوہ کچھ اور آتا ہی نہیں ہے۔ ہم نے روس کو شکست دینے کے لئے یہ فوج تیار کی تھی اس مرحلے سے فراغت کے بعد یہ لوگ’’بے روزگار‘‘ ہوگئے چنانچہ انہوں نے اپنی توپوں کا رخ ہماری طرف کرلیا جب ہم ان سے چھٹکارہ حاصل کریں گے تو یہ پہلے سے سوچ رکھیں کہ ؎

کس کے گھر جائے گا یہ سیلاب بلا میرے بعد
ورنہ ہمیں ادھر ادھر سے’’شکایتیں‘‘ ملنا شروع ہو جائیں گی۔

اس کے علاوہ ایک بات ان لوگوں کے سمجھنے کی بھی ہے جن کے خیال میں ڈینگی مچھر سے مذاکرات نہیں ہوتے، اسے ختم کیا جاتا ہے۔ بالکل صحیح لیکن مچھر مارنے سے کہیں زیادہ کوشش ان کی افزائش روکنے کے لئے کرنا پڑتی ہے چنانچہ مذاکرات (پھر وہی بات کہ اگر ہوتے ہیں اور کامیاب ہوتے ہیں) سے فراغت کے بعد دوبارہ یہ عفریت نہ پلنے دیں اور جہاں جہاں ان کی افزائش کا اندیشہ ہو، وہاں’’اسپرے‘‘ ضرور کروائیں۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.