.

وزیراعظم نواز شریف کی تقریر۔ خطہ میں نئی صف بندی

نصرت مرزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جہاں اِس وقت آواران اور ملحقہ علاقوں میں زلزلہ، پشاور میں چرچ حملے کی وجہ سے ہر پاکستانی اشک بار ہے۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے پاکستان میں ففتھ کالم سرگرمیاں عروج پر ہیں اور یہ کہ پاکستان پر جنگ مسلط کی ہوئی ہے، وہاں اہم فیصلوں اور نئی صف بندی کے اشارے مل رہے ہیں۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے 27ستمبر 2013ء اقوام متحدہ میں تقریر کرتے ہوئے مغرب کو انتہائی اہم پیغام دیا کہ وہ امداد نہیں تجارت چاہتے ہیں، اس طرح انہوں نے آزاد خارجہ پالیسی کی راہ پر چلنے کی خبر دی۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون حملے پاکستان میں شدت پسندی میں خاتمے میں رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو عالمی قوانین کے تحت لڑنے پر زور دیا۔ اس طرح انہوں نے امریکہ کو براہ راست پاکستان میں امن قائم ہونے میں رکاوٹ قرار دیا ہے۔

مسئلہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ میں 1948 سے پڑا ہے اس کو حل کرنے کی بات کرکے انتہائی جرأت مندانہ موقف اختیار کیا ۔ انہوں نے فلسطین کے مسئلے کا حل تلاش کرنے اور شام میں جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا جبکہ شام میں امریکہ اور دیگر ممالک باغیوں کو اسلحہ فراہم کر رہے ہیں۔ اس طرح انہوں نے امریکی و عرب پالیسی پر نظرثانی کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ افغانستان کے معاملے میں انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان وہاں امن چاہتا ہے۔ انہوں نے اقوام میں اصلاحات کی بات بھی کی۔ شاید پہلی مرتبہ کسی مسلم لیڈر نے اس طرح بے باک گفتگو کی ہے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نرم الفاظ میں نوازشریف نے سخت پیغام دیا ہے۔ میری نظر میں انہوں نے پہلی مرتبہ اپنے آپ کو ایک ایٹمی اور مضبوط طاقت سمجھا ہے اور شاید وہ امریکی صدر کی تقریر سے کہ وہ کسی بھی اسلامی ملک پر حملہ کر سکتے ہیں سے بھی متاثر ہیں اور پاکستان کو نظر انداز کرکے امریکہ، افغانستان اور بھارت کے سربراہوں کی ملاقات سے بھی۔ امریکہ، بھارت اور افغانستان کے رہنمائوں کی اس تناظر میں مشترکہ ملاقات کہ خطہ کو کیسے پرامن رکھا جائے اور بھارت کو کیا سامراجی کردار دیا جائے، وہاں پاکستان کے وزیراعظم کا امریکی صدر اوباما کی دعوت نامہ میں شریک نہ ہونا، ایران کے صدر حسن روحانی سے ملاقات اور یہ بیان کہ پاکستان امریکہ کے تمام تر دبائو کے باوجود پاک ایران گیس پائپ لائن بچھائے گا، نئی صف بندی کا پتہ دیتا ہے۔

افغان صدر حامد کرزئی پاکستان کو دشمن سمجھتے ہیں اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ امریکہ پاکستان سے اُن کے ملک کو تحفظ فراہم کرے تو عین ممکن ہے کہ موجودہ امریکہ، بھارت اور افغانستان کے رہنمائوں کی ملاقات، میں یہ فیصلہ ہو کہ بھارت کو افغانستان کے محافظ کا کردار دے دیا جائے اور پاکستان کو دونوں طرف سے سینڈوچ کرنے کی کوشش کی جائے، جس کا ہم کئی بار اپنے کالموں میں ذکر کر چکے ہیں اور یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر بھارت افغانستان میں آجائے تو اس سے اچھا کیا، پھر ہم تاریخی حقائق کو بھی سامنے رکھنا چاہتے ہیں، ہم پر کیا موقوف پاکستان کے کئی قلم کار لکھتے رہے ہیں کہ افغانستان سپر پاور کا قبرستان ہے اس وقت امریکیوں کا کہنا تھا کہ ہم ہر طاقت کو نیست و نابود کردیں گے مگر افغانستان سے اس کو نکلنا پڑا۔ ایک فوجی ماہر کا کہنا ہے کہ ہم خواہ مخواہ پریشان ہورہے ہیں ، دراصل ہم تو بھارت اور افغانستان کے بیچ میں حائل ہیں ورنہ تو تاریخ یہی کہتی ہے کہ افغانی ہندوستان کے پانی پت میں جا کر رکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جس فوج کی بھارت اور امریکی تربیت کررہے ہیں وہ دراصل بھارت کو پریشان کرنے کیلئے ہی کام آئے گی۔بہرحال امریکی، بھارت اور افغانی رہنمائوں کی ملاقات، امریکہ کے افغانستان سے نکلنے پر تحفظات اور پاکستان چین کے درمیان معاہدات نے پہلے سے موجود امریکہ کو نئی صف بندی ظاہر کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے دورہ چین کے بعد کھیل کی تبدیلی کی اصطلاح استعمال کی تھی، اس پر ہم نے جہاں اُن کے اِس مدبرانہ فیصلہ پر اُن کو مبارکباد پیش کی تھی وہاں اپنی فکرمندی کا بھی اظہار کیا تھا کہ اس سے پاکستان خطرات و مشکلات سے دوچار ہوسکتا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان پر دبائو بڑھتا جا رہا ہے، پاکستانی حکام اور فوجی ادارے یہ نہیں سمجھ پا رہے ہیں کہ وہ حالت جنگ میں ہیں اور پاکستان میں دشمن خفیہ کارروائیاں کررہا ہے۔ اس کے علاوہ وہ پاکستان کی معیشت کو تباہ کرنے کے لئے اپنے کارندوں کو حرکت میں لاچکا ہے۔ کراچی میں ہائی الرٹ کے باوجود اسٹریو ٹائپ کی بدامنی ہے۔ بلوچستان میں آزادی کی جنگ کا نام سے امریکہ اور اُس کے حواری سرگرم عمل ہیں اور خیبرپختونخوا میں طالبان کے نام سے خودکش بم دھماکوں کا زور ہے، وہ بھی امریکہ اور اُس کے حواریوں کا کیا دھرا ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان کی طرف سے سرحدوں پر گولہ باری ہو رہی ہے تو مشرقی سرحدوں پر بھی انڈین حملے جاری ہیں۔

تو صورتحال یوں بن رہی ہے کہ پاکستان، چین، روس اور ایران ایک لڑی میں پروئے جانے کی امید ہے تو دوسری طرف انڈیا، افغانستان اور امریکہ مل کر امریکہ کے ایجنڈے کو آگے بڑھائیں گے۔ امریکہ ایران کو اِس لڑی میں پروئے جانے سے روکنے کے اقدامات کرنے کے اشارے دے رہا ہے۔ لگتا ہے کہ پاکستان کی مشکلات میں قدرے اضافہ ہونے جارہا ہے۔ اُس کی معیشت کو تباہ کرنے کے لئے کراچی نشانہ پر لگا دیا ہے جہاں چومکھی جنگ جاری ہے اور شرح نمو میں کمی واقع ہورہی ہے اور پاکستان کی معیشت سخت دبائو کا شکار ہے۔

اکتوبر 2013ء میں امریکہ اور افغانستان کے درمیان دفاعی معاہدہ ہو جائے گا تو وہ امریکی صدر، پاکستانی وزیراعظم کو اِس معاہدہ کے بارے میں 23 اکتوبر 2013ء کو ہونے والی ملاقات میں بتا دیں گے۔ عین ممکن ہے کہ اُن کو متنبہ کریں کہ وہ افغانستان میں مداخلت نہ کرے تو ہم پہلے ہی کب کررہے ہیں، مگر لگتا ہے کہ یہ خطہ جنگ و جدل، پروکسی وار اور خاک و خون میں نہانے جارہا ہے۔ اِس منصوبہ کی تکمیل کے لئے کانگریس کے بجائے بی جے پی حکومت میں آنا ضروری ہے اور اسی لئے نریندر مودی کو تیار کیا جارہا ہے اور یہاں ہندوستانی یہ بات بھول رہے ہیں کہ دراصل پاکستان بھارت کو تحفظ فراہم کر رہا ہے۔ یہ بات میں نے دہلی میں ہونے والے 2011ء کے ایک سیمینار میں کہہ دی تھی جس کو شرکاء مذاکرہ نے سراہا تھا کہ بھارت کو ہمارا شکرگزار ہونا چاہئے کہ ہم اُن کے ملک میں تاریخ کو دہرانے کی راہ میں حائل ہیں، ورنہ افغانستان کے طالبان اور خود افغانستان کی افواج بھارت کے خلاف سرگرم عمل ہو جائے گی۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.