.

یہ آخری شمعیں بھی بجھانے کے لئے آ

ارشاد احمد عارف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میاں نواز شریف نے آخر کیا غلط کہا؟ اوباما سے ملاقات ،امریکی میڈیا سے گفتگو میں بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کا انداز اور لب و لہجہ اس دیہاتی بڑھیا سے ہرگز مختلف نہ تھا جو خاوند سے لڑجھگڑ کر ہر راہ چلتے کے سامنے خصم کی برائیاں کرتی اور آمنے سامنے بیٹھ کر منطق و دلیل، حقائق و شواہد اور معقولیت کے ساتھ بات کرنے سے گھبراتی ہے۔ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔

اپنے کمرے میں بھارتی وزیر اعظم نے میاں نواز شریف کو جوس کے گلاس اور چائے سے تواضع کرکے بھارتی کلچر کی خوش اخلاقی، فراخدلی، ’’مہمان نوازی‘‘ اور ’’حق ہمسائیگی‘‘ کا بھرپور اظہار کیا۔ اس سے زیادہ بلکہ کہیں زیادہ خاطر تواضع لاہور اور ننکانہ صاحب کے عام شہری بھارت سے آئے ناواقف ہندو اور سکھ یاتریوں کی کرتے ہیں، اگر نرنیدر مودی راہول گاندھی اور بھارتی میڈیا کے دبائو میں آ کر منموہن سنگھ میاں صاحب کی دعوت رد نہ کرتے اور اس ہوٹل میں چلے جاتے جہاں پاکستانی وزیر اعظم کا قیام تھا تو انہیں پتہ چلتا کہ میزبان کیا ہوتے ہیں اور مسلمان اپنے مہمانوں کی آئو بھگت کس طرح کرتے ہیں۔

قصور اس میں سردار جی کا ہے نہ ان کے’’میزبانی پر مامور اہلکاروں کا ہے،ہندوستان میں مہمانوں کی آئو بھگت اور ایک سے زیادہ کھانوں سے تواضع کا رواج عرب، وسطی ایشیاء اور افغانستان سے آنے والے مسلمانوں نے ڈالا جو خود بھوکے رہ کر اپنے مہمانوں کی شکم سیری کے عادی تھے۔ مہمان خواہ مسلم ہو یا غیر مسلم، دوست ہو یا دشمن اس کے لئے دستر خواں پر انواع و اقسام کے کھانے سجانا مسلمانوں کی عادت ہے، قابل فخر روایت اور اپنے آقا و مولا ﷺ کی سنت۔ جو مہمان کو رخصت کرتے وقت حضرت بلالؓ سے کہتے اس طرح تحفہ تحائف دو جس طرح مہمانوں کو دیا جاتا ہے‘‘ مگر ہندوستان میں حاکم اکثریت اس وصف کو کبھی پا نہ سکی۔

ہمارے دوست ڈاکٹر امان اللہ دہلی کی سارک یونیورسٹی میں اپنے مقامی سینئر کولیگز کوبخل ا ورکے قصے مزے لے کے سناتے ہیں خود مجھے امریکہ میں قیام کے دوران ایک ماہ تک کولکتہ کے صحافی بینر جی کے ساتھ اٹھنے، بیٹھنے ،سفر اور شاپنگ کرنے کا موقع ملا۔ گھروالوں کو میرے کمرے سے فون کرنے، جلدی سے کھانا کھا کر کھسکنے اورٹیکسی سے اترنے میں پہل کرنے کی وجہ بل کی ادائیگی سے بچنے کے سوا کچھ نہ ہوتی جبکہ ہم پاکستانی اور مسلمان سفر، حضردونوں میں تنگدستی کے باوجود ہمیشہ ادائیگی میں پہل کے عادی ہیں۔ مسلم ممالک میں بالعموم ایک مہمان کے لئے چار لوگوں کا کھانا آتا ہے اور ہندوستان میں چار مہمان دو لوگوں کا کھانا زہر مار کرتے ہیں۔ ڈاکٹرمنموہن سنگھ بے چارے اپنے قومی مزاج کے برعکس میزبانی کا ’’تقاضہ‘‘ کیسے نبھاتے۔ان تھڑدلوں،کنجوسوں، مکھی چوسوں اور تنگدل ،تنگدست ،تنگ نظر لوگوں سے بعض خوش فہموں کی بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔

یہ رویہ اور جنرل اسمبلی میں پاکستان کے خلاف منموہن سنگھ کی چارج شیٹ نواز شریف کی تقریر کا ردعمل ہے نہ دیہاتی بڑھیا والی مثال کا شاخسانہ۔ بھارتی وزیر اعظم پاکستان کو دہشت گردی کا مرکز پہلے قرار دے چکے تھے۔ کنٹرول لائن پر جھڑپیں گزشتہ تین ماہ سے جاری ہیں اور مذاکرات کا عمل کئی سال سے معطل ہے کیونکہ بھارتی فوجی اور سیاسی قیادت کے سر میں بالا دستی کاخناس ہے اور 9/11کے بعد وہ پاکستان سے خوشامدانہ لب و لہجے اور فدویانہ طرز عمل کی توقع کرتی ہے۔ دو عشرے قبل ایک بھارتی ہائی کمشنر ڈی این ڈکشت نے لاہور میں سینئر صحافیوں سے گفتگو میں پاکستان کی طرف سے برابری کی سطح پر تعلقات کی خواہش کا مذاق اڑاتے ہوئے فائیو سٹار ہوٹل کے دروازے پر کھڑے پستہ قد دربان کی مثال دی جو عالمی شہرت کے دراز قد عالم چنا سے برابری کا دعویٰ کرے تو کوئی مان نہیں سکتا۔

مگر لطیفہ یہ ہے کہ پاکستان اپنی داخلی کمزوریوں ،اشرافیہ کی لوٹ مار، برے طرز حکمرانی اور دہشت گردی و تخریب کاری کے باوجود بھارتی فوجی اور سیاسی قیادت کے دل و دماغ اور اعصاب پر سوار ہے۔ بلوچستان میں عسکریت پسندوں کی اسلحی، مالی اور سیاسی سرپرستی، فاٹا میں مداخلت اور افغانستان میں دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے باوجود کمزور، پستہ قد اور مضمحل پاکستان سے بھارتی قیادت اس طرح خوفزدہ ہے۔ جس طرح ایک مسلمان کی چھاتی پر سوار ہندو بنیا چیخ چلا رہا تھا کہ یہ مسلا اٹھ کر مجھے مار ے گا۔ اس لئے منموہن سنگھ امریکہ اور عالمی برادری سے شکائیتیں لگا رہے ہیں اور غصہ میں نواز شریف کو ناشتہ کی دعوت دے کر مکر گئے۔

پاکستان کی شکست و ریخت، عدم استحکام اور ناکامی (خدانخواستہ) کا خواب دیکھنے والی بھارتی قیادت مگر سنجیدگی سے یہ سوچنے پر تیار نہیں کہ امریکی انخلاء کے بعد اگر افغان اور پاکستانی طالبان نے مزید زور پکڑا اور یہ لاوا ابل پڑا جسے پاکستان نے دبا رکھا ہے جبکہ امریکی نیٹو فورسز ناکامی سے دو چار ہوچکی ہیں تو اس کا رخ کس طرف ہوگا؟ بھارت کے سوا کون اس کے فطری بہائو کے راستے میں آتا ہے جبکہ بنگلہ دیش ،کشمیر اور اندرون بھارت آتش فشاں پہاڑ پہلے سے موجود ہیں۔ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے۔ بھارت کو آج تک فوج نے سیاستدانوں میںپیسے بانٹ کر جوڑرکھا ہے یا پھر کانگریس، بھارتی جنتا پارٹی، بجرنگ دل وغیرہ نے مسلمانوں کے خلاف نفرت، تعصب اور تنگ نظری کا پرچار کرکے ہندو توا کی راہ ہموار کی ہے اس لائو لشکر کا مقابلہ بھارتی فوج اور سیاسی قیادت کس برتے پر کریگی؟ کوئی بھارتی قیادت کو بتائے گا یا حالات اور وقت خود ہی اس کا دماغ درست کریں گے؟

منموہن نواز ملاقات کا نقد فائدہ یہ ہے کہ خام خیالی کا شکار، کوئلوں کی دلالی پر آمادہ خوش فہم حلقہ یہ جان گیا کہ بھارت دوستی نہیں تابعداری چاہتا ہے اور کوئی مسئلہ حل کرنے نہیں مرضی مسلط کرنے پر بضد ہے ،ورنہ نواز شریف جیسے تعلقات اور تجارت کے لئے بے تاب سیاستدان اور حکمران کو مایوس نہ کیا جاتا۔ خوش فہموں کو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ جس ملک کا سربراہ اپنے ہوٹل آئے مہمان کو جوس کے گلاس اور چائے کے کپ پر ٹرخاتا ہے وہ موسٹ فیورٹ نیشن کا درجہ پاکر اپنی منڈی سے پاکستانی تاجروں کو منافع کمانے دیگا؟ وہ تمہیںپیٹ بھر کر روٹی کھاتے دیکھ کے کبھی خوش نہیں ہوا۔ ہماری خوش ذوقی اور خوش خوراکی سے بدمزہ ہوتا ہے، ترقی اور خوش حالی کیسے ہضم کر پائیگا؟میاں صاحب نے ڈاکٹر منموہن سنگھ کو دورہ پاکستان کی دعوت دی ہے ڈاکٹر صاحب مہربانی کریں پاکستان آ ہی جائیں ؎


اب تک دل خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں
یہ آخری شمعیں بھی بجھانے کے لئے آ

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.