.

عورتوں کے استحصال کا نیا طریقہ

اشتیاق بیگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں بشارالاسد کی حکومت کے خلاف 2 سال سے جاری خانہ جنگی ایک جہاد کی صورت اختیار کرتی جارہی ہے جس میں حصہ لینے کیلئے طالبان اور القاعدہ سمیت کئی اسلامی ممالک کی جہادی تنظیموں کے جنگجو شام کا رخ کر رہے ہیں۔ اس خانہ جنگی میں حکومت کے حامیوں اور مخالفین سمیت اب تک مجموعی طور پر ایک لاکھ 10 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ابھی تک یہ تصور کیا جارہا تھا کہ اس جہاد میں صرف مرد حضرات ہی پیش پیش ہیں مگر گزشتہ دنوں ایسی اطلاعات منظر عام پر آئیں کہ اس جہاد میں حصہ لینے کیلئے خواتین نے بھی شام کا رخ کیا ہے تاکہ بشار الاسد حکومت کے خلاف برسرپیکار جنگجوئوں کو اپنی خدمات پیش کرسکیں۔

مسلمان خواتین کے جہاد میں حصہ لینے کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب ایک عرب ملک سے تعلق رکھنے والے ایک مفتی نے یہ فتویٰ جاری کیا کہ ’’شام میں بشارالاسد حکومت کے خلاف جاری جنگ میں عورتوں کا بہترین جہاد یہ ہے کہ وہ اس جہاد کیلئے شام کا رخ کریں اور جہاد میں شریک مردوں سے ’’جہاد النکاح‘‘ کیلئے رجوع کریں جس کے صلے میں انہیں جنت ملے گی‘‘۔ اس نام نہاد فتوے کے بعد کئی مسلمان لڑکیوں کو ’’جہاد النکاح‘‘ کے نام پر شام بھیجے جانے کا سلسلہ شروع ہوا اور یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ متعدد تیونسی لڑکیوں کو اس فتوے کے نام پر شام بھجوایا گیا جہاں انہیں باغیوں کے ساتھ چند گھنٹوں کیلئے نکاح پر مجبور کیا گیا اور وہ حاملہ ہوکر وطن واپس آئیں۔ واضح رہے کہ تیونس کے ایک مفتی نے کچھ عرصہ قبل ’’جہاد النکاح‘‘ کے نام پر 16 لڑکیاں شام بھجوائی تھیں جس کے بعد حکومت نے انہیں منصب سے ہٹا دیا تھا۔ تیونس کے وزیر داخلہ نے ’’جہاد النکاح‘‘ کے نام پر شام بھجوائی جانے والی تیونسی خواتین کی صورتحال کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان تیونسی لڑکیوں کو ’’جہاد النکاح‘‘ کے نام پر جنگجو اپنی ہوس کا نشانہ بناتے رہے۔ وزیر داخلہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت مارچ سے اب تک 6 ہزار سے زائد افراد کو شام جانے سے روک چکی ہے جبکہ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو جہاد میں شرکت کیلئے بھیجنے کے الزام میں متعدد افراد بھی گرفتار کئے جاچکے ہیں۔

دوسری جانب تیونس کی وزارت خواتین کے مطابق ان کی وزارت نے اس بحران سے نمٹنے کیلئے ایک گروپ تشکیل دیا ہے جو ایسے منصوبے پر کام کررہا ہے جس کی رو سے تیونسی خواتین کو مذہبی تعلیم سے روشناس اور ’’جہاد النکاح‘‘ میں شرکت سے روکا جا سکے گا۔ اس حوالے سے کچھ ماہ قبل مصر سے بھی یہ خبر منظر عام پر آئی تھی کہ مصری خواتین، معزول صدر محمد مرسی کی جماعت ’’اخوان المسلمون‘‘ کے حامیوں کے حوصلے بلند کرنے کیلئے ’’جہاد النکاح‘‘ کے حوالے سے ایک مہم شروع کرنے پر غور کررہی ہیں جس کے تحت یہ خواتین حکومت کے خلاف برسرپیکار اخوان المسلمون کے نوجوانوں کو اپنی خدمات پیش کریں گی۔

پاکستان کے حوالے سے بھی سوشل میڈیا پر کچھ اسی طرح کی غیر مصدقہ خبریں منظر عام پر آئیں کہ پاکستان سے بھی خواتین ’’جہاد النکاح‘‘ کیلئے شام گئی ہیں جس کے بعد سرکاری ذرائع نے پاکستان سے خواتین کی شام روانگی اور ’’جہاد النکاح‘‘ کے نام پر بیک وقت کئی افراد سے ان کی شادی کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا جبکہ پاکستان کے علماء اور مفتیان کرام نے ’’جہاد النکاح‘‘ کے فتوئوں کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے اسے یکسر مسترد کردیا۔ میں نے جب اس سلسلے میں جامعہ بنوریہ العالمیہ کے مہتمم مفتی محمد نعیم صاحب سے رہنمائی چاہی تو انہوں نے ’’جہاد النکاح‘‘ کو ناجائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عمل سراسر بدکاری کے زمرے میں آتا ہے جس کی اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے بتایا کہ اسلامی جنگوں میں جب مسلمان فتوحات حاصل کرتے تھے اور مال غنیمت تقسیم ہوتا تھا تو کچھ مسلمانوں کے حصے میں کافر عورتیں بھی آتی تھیں جنہیں مسلمان کر کے لونڈی کے طور پر رکھنے کی اسلام میں اجازت تھی۔

مسلمانوں کی صفوں میں موجود کچھ نام نہاد علماء نے اسلام کو مذاق بنالیا ہے جسے وہ اپنے مفاد میں استعمال کرتے ہوئے اس کی غلط تشریح کرکے مسلمانوں کو گمراہ کررہے ہیں۔ جہاد کے نام پر مسلمان کے ہاتھوں مسلمان کا قتل، عبادت گاہوں پر حملے، خود کش دھماکے اور اب ’’جہاد النکاح‘‘ کے فتوے نے مسلمانوں کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ ہم اسلام کو کس سمت لے جارہے ہیں اور ہماری یہ حرکات غیر مسلموں اور مغربی میڈیا میں اسلام کی تذلیل کا سبب بن رہی ہیں جس سے اسلام کا تشخص مجروح ہورہا ہے۔ تاریخ اسلام، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے دور میں ہمیں کہیں بھی ’’جہاد النکاح‘‘ کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہ فتویٰ بھی دراصل ان متعدد فتوئوں میں سے ایک ہے جو اسلامی قواعد و ضوابط اور تعلیمات کے برخلاف ہے جس کی آڑ میں اسلام کے بنیادی تصور نکاح سمیت روح جہاد و اسلام کے روشن چہرے کو داغدار کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس کا مقصد جہاد کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دینا، نوجوان مسلمان لڑکوں اور لڑکیوں کو بے راہ روی کے راستے پر ڈالنا اور عورتوں کا استحصال کرنا ہے جس کی اسلام قطعاً اجازت نہیں دیتا۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.