"امن کی آشا"۔۔۔ کیا اب بھی کوئی جواز ہے

خالد ایچ لودھی
خالد ایچ لودھی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

نیو یارک میں بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ اور وزیراعظم میاں نواز شریف کے مابین ہونے والی سوا گھنٹے تک ون آن ون اور پھر وفود کے ساتھ ہونے والی ملاقات محض رسمی طور پر سفارتی ملاقات ثابت ہوئی ۔ اتنا ضرور ہوا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اس ملاقات کو ’’ایونٹ آف دی ڈے‘‘ قرار دیا گیا۔

دونوں وزرائے اعظم نے اپنی مادری زبان پنجابی میں جملوں کا تبادلہ کر کے اس ملاقات کو خوشگوار بنایا: من موہن سنگھ نے کہا: ’’کی حال اے تسی ٹھیک او‘‘

اس کے جواب میں میاں نواز شریف نے اپنے لاہوری انداز میں کہا ’’شکر اے اللہ دا‘‘ دونوں وزرائے اعظم نے 21 سیکنڈ تک ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے رکھا اور گرم جوشی سے مصافحہ بھی کیا۔ تاہم ایک دوسرے کو گلے نہیں لگایا۔

اس طرح کی ملاقات کے ماحول میں دونوں ممالک کے معاملات اپنی اپنی جگہ پر جوں کے توں برقرار رہے یعنی کشمیر کا مسئلہ اپنی جگہ۔۔۔ بھارت کی ہٹ دھرمی برقرار رہی اور کشمیر کو بھارت نے اپنا اٹوٹ انگ بنائے رکھنے کی رَٹ برقرار رکھی۔۔۔ اور تو اور اب پاکستان کو دہشت گردی کا کارخانہ تک قرار دے دیا گیا۔ سفارتی لوازمات کے رکھ رکھاؤ کے پیش نظر دونوں وزرائے اعظم نے ایک دوسرے کو دوروں کی دعوت بھی دی جو کہ دونوں جانب سے قبول کر لی گئی۔

بلوچستان میں بھارتی مداخلت پر بھی پاکستان کی تشویش کا اظہار کیا گیا اس کے علاوہ حافط سعید کا معاملہ بھی زیر بحث رہا۔۔۔ یہ وہ اہم نکات ہیں جو کہ اس ملاقات میں پیش ہوئے۔ کنٹرول لائن پر کشیدگی کم کرنے، پاکستانی دریاؤں کا پانی روکنے، ڈی جی ملٹری آپریشنز کے جنگ بندی کے کردار پر بھی بات ہوئی۔

دونوں جانب سے حکومتوں کے ترجمانوں نے دونوں وزرائے اعظم کی اس ملاقات کو ’’نتیجہ خیز بات چیت‘‘ قرار دیا۔ بہرحال یہ سب کچھ رسمی اور سفارتی الفاظ ہیں جو کہ ہمیشہ ہی سے ادا ہوتے آ رہے ہیں لیکن آنے والے دنوں میں اس ملاقات کے بارے میں اس لیے بھی کوئی واضح صورت حال کھل کر سامنے نہیں آئے گی کیونکہ بھارت میں آنے والے اگلے چند ماہ انتہائی اہم ہوں گے وہ اس حوالے سے کہ وہاں انتخابی سرگرمیوں کا آغاز ہو چکا ہے اور موجودہ وزیراعظم من موہن سنگھ اپنی حکومت کے آخری حصے میں اپنی سیاسی پوزیشن اندرونی طورپر کمزور کر چکے ہیں۔

دوسری جانب بھارتی میڈیا مسلسل پاکستان کے خلاف زہر اگلتا رہا اور برابر پاکستان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کرنے میں پیش پیش رہا۔۔۔ افواج پاکستان کے علاوہ آئی ایس آئی اور موجودہ جمہوری حکومت کے خلاف گمراہ کن کہانیاں گھڑی گئیں۔ ان تمام حالات کی روشنی میں پاکستان کے ان دانشوروں، لکھاریوں، اور کالم نگاروں کے علاوہ میڈیا ہاؤسز کے مالکان جو کہ بھارت کے ثقافتی کلچر کا پاکستان پر پرچار کرتے ہیں اور ’’امن کی آشا‘‘ کے نام پر پاکستان کی نوجوان نسل کو گمراہ کرنے میں مصروف ہیں ان دانشوروں، لکھاریوں اور کالم نگاروں سے التجا ہے کہ پاکستان کی اسلامی اور اپنی ثقافتی اقدار کا احساس کریں دوسری جانب ان لاکھوں کشمیریوں کے خون ناحق کا بھی خیال کریں جو کہ بھارتی افواج کشمیریوں کے خون کی ہولی ہر روز کھیلتی ہیں۔

بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے بڑے واضح ثبوت موجود ہیں۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کا افغانستان میں بھرپور نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ جدید اسلحہ اور گولہ بارود بلوچستان میں جن راستوں سے لایا جاتا ہے اور جن لوگوں کو وہاں استعمال کیا جا تا ہے، اس ضمن میں لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کی خفیہ سرگرمیاں بھی بے نقاب ہو چکی ہیں۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ناراض نوجوانوں کو سرمایہ کی فراہمی اور پاکستان کے خلاف زہر آلود پروپیگنڈے پر مبنی لٹریچر بھی لندن ہی سے تیار کروا کر دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ لندن میں بھارت کی منظم لابی برطانوی میڈیا، برطانوی پارلیمنٹ کے علاوہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں میں بھی پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی کتاب “The Great Tragedy” میں کہا تھا:
“Pakistan is passing through a terrible ordeal. This countery, born in pain s is experiencing its gravest crisis. The nightmare of Pakistanis killing Pakistanis is not yet over. Blood is still being spilled. The situation has become greatly complicated by the aggressive involvment of India. Pakistan will live purpose fully forever if we survive the turmoil of today; otherwise catastrophic convulsions will lead to total ruin. Much depends on what is done now”.

یہ حقیقت بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ پاکستان بھارت سے تعلقات بہتر بنائے بغیر اقتصادی ترقی کی وہ منازل طے کر ہی نہیں سکتا جس کا خواب یہاں حکومت دیکھتی ہے۔ اب صورت حال اس قدر گھمبیر ہو چکی ہے کہ پورا پاکستان دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ اس دہشت گردی میں یقیناًہمارے اپنے گمراہ ہاتھ بھی ملوث ہیں لیکن ان کی ڈوریاں بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ امریکی سی آئی اے اور اسرائیلی ’’موساد‘‘ کے ہاتھوں میں تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ امریکہ اور بھارت پاکستان کو مستحکم ملک بنانے میں دلچسپی لیں گے۔

امریکہ بھارت کو خطے میں بالادستی دلوانے میں اپنا ہوم ورک مکمل کر چکا ہے ۔ اس سلسلے میں افغانستان میں بھارت کو کلیدی کردار بھی سونپ دیا گیا ہے۔ اندازہ کر لیں کہ افغان بیورو کریسی کے افسران کے علاوہ پولیس اور سکیورٹی کے اہلکاروں کو بھارت ہی میں تربیت دی گئی ہے۔ ان حالات میں پاکستان کی مغربی اور مشرقی دونوں سرحدیں غیر محفوظ ہو چکی ہیں ۔ اس کے علاوہ کشمیر میں آزادئ کشمیر کی جنگ لڑنے والوں کو دہشت گردوں کا نام دیا جا رہا ہے جس میں بھارت عالمی سطح پر منظم لابی کے ذریعے مہم چلا رہا ہے۔

نیٹو افواج کے انخلا کے بعد طالبان کا تمام کا تمام ملبہ پاکستان پر پڑے گا اور بھارت اسرائیل کے خفیہ اشتراک سے خطے میں پاکستان کے خلاف کھل کر محاذ کھولے گا اور امریکہ ایک بار پھر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو نشانہ بنانے کی اپنی نئی گیم بھی تیار کر چکا ہے۔ خطرناک صورت حال یہ بھی ہے کہ بھارت میں انتہا پسند ہندو نریندر مودی جو کہ مسلمانوں کا دشمن بی جے پی کے پلیٹ فارم سے آئندہ بھارتی انتخابات میں وزارت عظمیٰ کا امیدوار ہے آج کل پاکستان کے خلاف زہر اگل رہا ہے۔

پاکستان میں ہمارے چند دانشور، لکھاری اور کالم نگار بھارت کے ساتھ دوستی کے لیے بے قرار ہیں۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ بھارت کشمیر کے معاملے پر کوئی بات کرنے کو تیار ہی نہیں اور کشمیر کو بھارتی میڈیا اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے لیکن ہمارے اپنے میڈیا نیٹ ورک بھارتی میڈیا نیٹ ورک کے اشتراک سے پروگرام پیش کرتے ہیں یعنی ’’امن کی آشا‘‘ کے نام پر، پاکستان کو ہم نے خود مذاق بنا رکھا ہے۔ ماضی میں پاکستان اور بھارت کے مابین مذاکرات کا سلسلہ پنڈٹ جواہر لعل نہرو کے دور حکومت سے لے کر آج تک جاری ہے جس میں انتہائی اہم مذاکرات کا دور ذوالفقار علی بھٹو اور سورن سنگھ سے لے کر اندرا گاندھی تک اور پھر محترمہ بینظیر بھٹو اور راجیو گاندھی کے دور میں بھی ہوا۔ ان ادوار کے بعد مختلف حکومتوں کے دور میں بھی مذاکرات کی میز سجتی رہی لیکن ہر بار بھارت کی ہٹ دھرمی آڑے آتی رہی ہے اور اب یہ ہٹ دھرمی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ بھارت پاکستان کو پوری دنیا میں دہشت گردی کا کارخانہ قرار دلوانے پرتلا ہوا ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ اگر پاکستان نے اپنے اس خطے کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنانا ہے تو پھر ہمارے اپنے میڈیا ہاؤسز اور دانشوروں کے علاوہ کالم نگاروں کو پاکستان کی اہمیت کو برقرار رکھنا ہو گا۔ یہ قوم اپنے سیاسی اور عسکری قائدین کو متحد رکھنا چاہتی ہے۔ ہمارے پاس ایمان کی قوت کے ساتھ ساتھ ایٹمی قوت بھی خداوند قدوس نے دے رکھی ہے۔

نہ تو ہمیں ’’امن کی آشا‘‘ جیسے پروگراموں کی ضرورت ہے اور نہ ہی ہمیں ان پروگراموں کا حصہ بن کر اپنی اہمیت کم کرنی چاہیے۔ ہمیں برابری کی بنیاد پر خود مختار اور آزاد مملکت کا تصور پیش کرنا چاہیے جس کے لیے ہمیں حکمرانوں کی بجائے قومی قائد کی ضرورت ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ "نئَی بات"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں