.

اوورسیز پاکستانیوں کی اس سال کی ریکارڈ ترسیل زر

منو بھائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی بینک نے بتایا ہے کہ محنت کی عالمی منڈیوں میں روزگار کمانے والے پاکستانی محنت کش سال رواں کے دوران اپنے ملک کو پندرہ ارب ڈالروں کی مالیت کے برابر زرمبادلہ فراہم کریں گے جو اس سلسلے کی ریکارڈ ترسیل ہو گی جو حکومت پاکستان کے ماہرین کی توقع سے بھی زیادہ ہے۔

عالمی بینک کے بریف میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ سے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب تک پھیلی ہوئی محنت کی عالمی منڈیوں سے مجموعی طور پر سال رواں کے دوران پس ماندہ اور ترقی پذیر ملکوں کے محنت کشوں کے ذریعے چار سو چودہ ارب ڈالرز کی مالیت کے برابر ترسیل زر ہو گی۔ سب سے زیادہ ترسیل زر دنیا کی غربت کے ایک تہائی حصے کے وطن ہندوستان کے اوورسیز محنت کشوں کی طرف سے ہو گی جو 71 (اکہتر) ارب ڈالروں کی مالیت کے برابر ہوگی۔ اس کے بعد چین کے محنت کش اپنے وطن میں ساٹھ ارب ڈالروں کی مالیت کی ترسیل زر کریں گے۔ فلپائن کے محنت کش بیرونی ملکوں سے اپنے وطن میں 26ارب ڈالرز بھیجیں گے۔ اس کے بعد میکسیکو (22ارب ڈالرز) نائیجیریا (20ارب ڈالرز) ، مصر (20ارب ڈالرز) کا نمبر آتا ہے۔

پاکستان اور بنگلہ دیش سے سال 2013ء کے دوران پندرہ پندرہ ارب ڈالروں کی ترسیل زر ہو گی۔ ان دونوں ملکوں کے بعد ویت نام (گیارہ ارب ڈالرز) اور یوکرائن(9ارب ڈالرز) کا نمبر آتا ہے۔ سائوتھ ایشیا کے ملکوں کو مجموعی طور پر سال 2013ء میں ایک سو چودہ ارب ڈالروں کی ترسیل زر ہو گی۔ بریف میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سائوتھ ایشیا کے ملکوں میں ان کے اوورسیز محنت کش غیر قانونی ذرائع سے بیشتر ترسیل زر کرتے ہیں چنانچہ اصل ترسیل زر قانونی ترسیل زر سے تقریباً دو تہائی زیادہ ہوتی ہے۔ نیپال، پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا کی ترسیل زر وہاں کے زرمبادلہ کی قومی کمائی سے زیادہ ہو گی۔ پاکستان کو ہونے والی ترسیل زر ، زرمبادلہ کے سرکاری ذخیرے سے 140فیصدی زیادہ ہو گی۔ ہندوستان کی ترسیل زر وہاں کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برآمدات کی مالیت سے زیادہ ہو گی۔ ہندوستان کی ترسیل زر (71ارب ڈالرز) پچاس ترقی پذیر ملکوں کے زرمبادلہ کے ذخیروں کی مجموعی مالیت سے آدھی ہو گی۔

عالمی بینک کے بریف میں تسلیم کیا گیا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں نے غیر ممالک میں روزگار کمانے والے اپنے محنت کشوں کو بہت سی سہولتیں فراہم کی ہیں اور ان کے جائز مفادات کے تحفظ کو بہت حد تک ممکن بنایا ہے۔ اس کے علاوہ محنت کی عالمی منڈیوں نے ترسیل زر کے سلسلے میں اپنے حقِ محنت میں کمی کرنے کی کوشش بھی کی ہے اور ان کوششوں کا ان کو فائدہ بھی پہنچ رہا ہے۔

عالمی بینک کے بریف میں ہندوستان اور پاکستان کی افسر شاہی کے ہتھکنڈوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ حال ہی میں پاکستان کے فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے غیرممالک سے آنے والی رقوم پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پیش کی تھی جس کیخلاف شدید ردعمل سامنے آیا چنانچہ اس تجویز کو شاید منسوخ تو نہیں کیا گیا مگر موخر ضرور کر دیا گیا ہے۔

ایشیائی ملکوں کے محنت کشوں کی ترسیل زر ان ملکوں کو عالمی مالیاتی ذرائع سے ملنے والی امداد اور کمتر سود پر دیئے جانیوالے قرضوں سے بھی زیادہ مالیت کی ہے۔ اپنے ملکوں کو قیمتی زرمبادلہ فراہم کرنے والے محنت کشوں کی عالمی مالیاتی فنڈ کی طرف سے قرضوں کی شرائط جیسی شرائط بھی نہیں ہوتیں جو ان ملکوں کے عوام کی ضروریات زندگی کو ناقابل برداشت حد تک مہنگا کرنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ معلوم نہیں مارکیٹ اکانومی کے ماہرین یہ کیوں نہیں سوچتے کہ اگر لوگوں کے پاس قوتِ خرید نہیں ہو گی تو مارکیٹ کیسے چلے گی؟ مارکیٹ نہیں چلے گی تو مارکیٹ اکانومی کیسے چلے گی؟ ۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.