.

دورِ متناقضات

ڈاکٹر ملیحہ لودھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہم متناقضات کے ایک ایسے دور میں رہ رہے ہیں جس میں عالمگیریت ایک ہی وقت میں دنیا کو جوڑ بھی رہی اور اس میں انتشار بھی پیدا کررہی ہے۔ معلومات کے اس دور نے لوگوں کو بااختیاربھی بنایا ہے لیکن اس کے ساتھ معلومات کی افراط نے علمی خسارے کو بھی جنم دیا۔ اکثرمعلومات کے نام پر غیر اہم چیزیں ہماری توجہ کا مرکز بن جاتی ہیں، ان دونوں کو علیحدہ کرکے اصل حقیقت پر توجہ دینا ہی ایک اہمیت طلب بات ہے ۔ نورینا ہرٹز کی ایک نئی کتاب’آئیز وائڈ اوپن‘ اس سوال کا ایک اور زاوئیے سے جواب دیتی ہے معلومات کی بہتات کے دور میں فیصلہ سازی میں تعطل ایک دہری مشکل ہے۔ اس کتاب کا مقصد نئی معلوماتی منظرنامے کو جانچے کیلئے اچھی فیصلہ سازی ہے۔

مذکورہ کتاب کی مصنفہ صف اوّل کی برطانوی ماہر معاشیات اور تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں جن کا سابق کام خاصا مختلف تھا جس میں بین الاقوامی قرضوں اور نجی شعبے کی حرص پر تحقیق شامل تھی۔ ان کی نئی کتاب مختلف شعبہ ہائے تعلیم جیسے نفسیات، عمرانیات، رجحانی معاشیات اور معلوماتی علوم کو بروئے کار لاکرلوگوں کو بہتر انتخاب میں مدد فراہم کرتی ہے۔ ہرٹز کا نکتۂ آغاز وہ نہایت اہم فیصلے ہیں جنہیں ہم سب کو کرنا ہوتا ہے اور جن کے تمام عمر ہماری زندگیوں پر دورس نتائج مرتب ہوتے ہیں۔ آج کی تیزرفتار دنیا ہم سے نئے تقاضے کرتی ہے، ہر کسی کو معلومات جمع کرنے اور انہیں جانچنے کے عمل سے گزارنے میں مہارت کی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ اس بات کا تعین کرنا بھی آنا چاہئے کہ کس پر بھروسہ کیا جائے اور کس کے مشورے پر کان دھرے جائیں ساتھ ہی مختلف راہوں اور مختلف آراء کو جانچنے کی بھرپور اہلیت بھی ہونی چاہئے۔

ہرٹز کے مطابق معلومات کے ماحول کے تین پہلو ہمارے سوچنے اور ہمارے دانشمندانہ انتخاب کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتے ہیں۔ اول، یہ وقت معلومات کی بہتات کا ہے جو کہ میڈیا، ایڈورٹائزر اور مارکیٹیرز کی جانب سے ہمارے سامنے بہت تیزی آتی ہے۔ معلومات کا یہ سیلاب ہمیں تیزی سے نکتہ انتشار کی جانب لے جاتا ہے اور ہمارے سامنے ذہانت اور شور کے مابین تفریق کرنے اور ساتھ ہی واضح سوچنے اور فیصلہ کرنے کا چیلنج لاکھڑا کرتا ہے کہ کس پر یقین کیا جائے اور کسے مسترد کیا جائے۔ دوسرا پہلو جو ہمیں درپیش ہے وہ ہیں مستقل اور لاپروائی پر مبنی رکاوٹیں، جو کہتی ہیں کہ پُرشور ماحول نہ صرف ہماری سوچنے کی صلاحیت کو کم کرتا ہے بلکہ ہمیں معلومات کے بوجھ سے تھکابھی دیتا ہے۔انہوں نے ہنری کسنجر کا حوالہ دیا ہے جنہوں نے اپنے گیراج کے اوپر کام کرنے کیلئے شور سے محفوظ رہنے کی خصوصیت کا حامل آفس تعمیر کروارکھا تھا جہاں وہ اس وقت جبکہ وہ سوچ وبچار میں مشٖغول ہوتے،اہل خانہ کو بھی داخل نہیں ہونے دیتے تھے۔

بدنظمی ہمارے دور کی تیسری اہم خاصیت ہے جو اچھے فیصلوں کے حوالے سے ہماری اہلیت کو محدود کرتی ہے، اس سے ہرٹز کا مطلب ہے کہ تسلیم شدہ دانشمندی کا دور قدیم اور تزلی کا شکار ہوچکا ہے، اس نے ہمیں حقائق جانچنے والے آلے سے محروم کردیا جس سے یہ تعین کرنا مشکل ہوگیا کہ بھروسہ کس پر کریں اور خود حقائق بھانپنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ایسے ہی مشکل ماحول میں ایک امریکی صدر کو دوسرے ملک پر فوجی کارروائی کے بارے میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے جبکہ دیگر کو یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کس طبیب کا مشورہ مانیں، کہاں سرمایہ کاری کریں اور کسے بھرتی کریں۔ پھر مصنفہ نئی فیصلہ سازی کیلئے اقدامات کے ضمن میں رائے عامہ ہموارکرنے کی کوشش کرتی ہیں تاکہ لوگ اپنی ذاتی اور پیشہ وارانہ زندگی میں بہتر فیصلے کرسکیں۔ ہرٹز نے اپنی کتاب میں 10 اقدامات کا ذکر کیا جس میں پہلا اہم قدم ایک چیز پر توجہ دینے سے اجتناب ہے (شیر کی ضرب المثل تصویر) جو کہ اس طرح کرنا ہے کہ باقی رہ جانے والوں پر غور کیا جائے (اسی تصویر میں سانپ بھی ہے)۔ انہوں نے دکھانے کی کوشش کی ہے کس طرح ٹھوس نکات فیصلہ سازی میں معاونت دیتے ہیں۔ وہ لکھتی ہیں کہ خلاصوں کی اپنی اہمیت ہے تاہم ان کی بنیاد پر کیے جانیوالے فیصلے ہماری بصیرت کو دھندلاتے ہیں اور اس میں اہم اور واضح تفصیلات نظر انداز ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

انہوں نے صدر اوباما کی جانب سے ڈیوڈ کیمرون کو دئیے جانے والے اس مشورے کا حوالہ بھی دیا جس میں انہوں نے انہیں دن کے دوران بڑے حصے کو سوچنے کیلئے وقف کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ آپ اس کے بغیر وسیع تر تناظر نہیں دیکھ سکیں گے۔ ہرٹز کہتی ہیں کہ اس وسیع تر تناظر کے بغیر ہمیں ان سانپوں کو نہ دیکھ پانے کا خطرہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ فیصلہ سازی کا عمل آہستہ ہونا چاہئے کیونکہ وقت کا دبائؤ دھندلاتی ہوئی بصیرت کو جلابخشتا ہے جبکہ اکثر بہترین خیالات وقت کے انعکاس سے جنم لیتے ہیں۔ کتاب کے ایک زیادہ دلچسپ باب میں ہرٹز نے قارئین کی رہنمائی کی ہے کہ کس طرح پیچیدگی کے حامل اور گمراہ کن اشاروں کی موجودگی میں ڈیجیٹل طوفان کے ریپر میں موجود معلومات کو جانچا جانا چاہئے۔ انہوں نے صدر جارج بش 2003 کے خطاب کا ذکر کیا جب عراق پر حملے کیلئے غور ہورہا تھا جس میں انہوں نے حملے کی حمایت کے حصول کیلئے کس قدر جذباتی زبان استعمال کی تھی۔ ان کا خطاب حقائق اور ثبوت سے خالی تھا جس کے کہانی جیسے اور خوفزدہ کردینے والے الفاظ امریکی عوام کی رائے تبدیل کرنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے اسی طرح کی مثالوں کی نشاندہی کی، جن میں لوگ پولنگ بوتھوں اور سپرمارکیٹوں میں لکھے الفاظ کا شکار ہوجاتے ہیں جن کا مقصد جان بوجھ کر ان کا فائدہ اٹھانا ہوتا ہے۔

ہرٹز نے ’ڈچ ڈیفرنس اینڈ چیلنج ایکسپرٹ‘ کے نام سے ایک باب میں بہتر فیصلہ سازی کے حوالے سے ایک اور اقدام کا ذکر کیا ہے، جس میں انہوں نے ماہرین کے تسلط سے خبردار کیا ہے۔ انہوں نے دلیل پیش کی ہے کہ ہمیں اپنی عقل و فہم اور قوت سے دستبردار نہیں ہونا چاہئے اور انہیں ہمارے بارے میں سوچنے نہیں دینا چاہئے۔ ماہرین کی اپنی قدر ہے۔ وہ ماہرین کے اختلاط پر سوال اٹھاتی ہیں جن پر سوال نہیں اٹھایا جاسکتا اور جس سے ہماری سوچ معذور ہوسکتی ہے۔ وہ تجویز دیتی ہیں کہ ایسی کئی وجوہات ہیں جن کی بناء پر ماہرین کا ادب و لحاظ واجب نہیں ہوتا۔ ایک قابل قدر پہلو یہ ہے کہ کسی ایک کو ماہر کہنے میں کیا بات متحرک ہوتی ہے۔ ایک اور پہلو یہ ہے کہ ماہرین اجماع اور گروہ کی سطح پر اپنے فہم کو آگے بڑھاتے ہیں جوکہ اچھی فیصلہ سازی کے عمل میں ایک رکاوٹ ہے۔

اسکے بجائے وہ ہم سے ماہرین کی سننے کیلئے اور وسیع تر فہم کیلئے منتشر فہم کی تلاش کیلئے اور تقریباً سچ بالکل قطعی سمجھی جانیوالی بات پر سوالات اٹھانے کیلئے دلائل دیتی ہیں۔ اکثر قطعی دانش ذہنی صلاحتیوں کو انا سے گرہن لگ جانے کی نشانی ہوتا ہے۔ ذرائع کو جانچنے پرزور دینے کیلئے ہرٹز نے دمشق میں ایک لڑکی کی ایک قابل بیان مثال کا حوالہ دیا۔ وہ یاد دلاتی ہیں کہ جس طرح2011؁ء کے اوائل میں شامی بحران کا آغاز ہوا۔ اس دوران آمنہ عمری کے نام سے ایک بلاگ دنیا بھر کے صحافیوں کیلئے ایک مقبول ذریعہ بن گیا۔ آمنہ کو بغاوت کا محرک گردانا گیا اور اسکے فہم پر زمینی حقائق جاننے کیلئے انحصار کیا گیا۔ لیکن چند ماہ بعد یہ پتہ چلا کہ آمنہ کا کوئی وجود نہیں، شامی بغاوت کا وہ استعارہ نہ ہی عورت تھی اور نہ ہی اس کا شام سے کوئی تعلق تھا، وہ ایک چالیس سالہ پی ایچ ڈی کا امریکی طالب علم تھا جوکہ ایڈنبرگ میں زیر تعلیم تھا۔

میڈیا اور ماہرین دھوکے کا شکار ہوئے کیونکہ کسی نے بھی سطح سے بالاتر کوئی تحقیق نہیں کی تھی۔ اس حوالے سے مصنفہ کہتی ہیں کہ یہ کوئی ایک ہی دفعہ کا واقعہ نہیں، یہ انٹرنیٹ پر موجود معلومات کے غلط ہونے کا ثبوت اور اس حوالے سے خطرے کی ترجمانی کرتا ہے جیسا کہ طب کے شعبے کی کئی جعلی ویب سائٹس کی موجودگی کی مثال سے عیاں ہے۔ نتیجتاً جو لوگ ان ذرائع کی تحقیق کررہے ہیں انکے فیصلے کا کھوکھلی معلومات کے زیر اثر آنے کا خطرہ ہے۔ اس سے ہرٹز صاحبہ اس نتیجے پر پہنچتی ہیں کہ مسائل کو حل کرنے اور دانشمندانہ فیصلے کرنے کیلئے سوچ کے طریق کار میں تبدیلی کی ضرورت ہے جس کیلئے ایک ایسا ماحول وضع کرنا ہوگا جہاں متضاد نکتہ ہائے نظر کی حوصلہ افزائی کی جائے، ہماری اپنی آراء کو چیلنج کیا جائے اور مختلف پس منظر سے مختلف خیالات کو جمع کرکے انہیں فیصلہ سازی کے عمل کا مرکز بنایا جائے۔

وہ کہتی ہیں کہ اچھے رہنما مختلف و متضاد آراء کے متلاشی ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے ابراہم لنکن کا حوالہ بھی دیا کہ انہوں نے اپنی معاونت کیلئے مخالفین کی ایک ٹیم بنائی ہوئی تھی، وہ کہتی ہیں کہ ہمیں اپنے جیسے خیالات کے حامل افراد کو اپنے گرد جمع کرنے کی رغبت سے اجتناب کی ضرورت ہے۔لیکن یہاں اور کہیں اور اس مشورے پر سیاسی رہنمائؤں کو عمل پیرا ہوتے دیکھا جانا مشکل ہی ہے کیونکہ ان میں سے زیادہ تر تخلیقی متبادل تسخیر کیلئے متضاد آراء کے افراد کو اپنے گرد جمع کرنے کے بجائے ہم خیال حلقے کو ترجیح دیتے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.