.

مذاکرات کامیاب ہو جائیں گے ؟

حامد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں جتنا کچھ لوگ سمجھتے ہیں۔ حکومت اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان مذاکرات میں بہت سی پیچیدگیاں ہیں۔ پس پردہ حقائق منظر عام پر آ جائیں تو پوری قوم دم بخود رہ جائے گی۔ ملک کے جید علما نے حکومت اور طالبان دونوں سے اپیل کی تھی کہ وہ مذاکرات کے ذریعہ امن قائم کریں لیکن طالبان کے ترجمان نے پشاور میں چرچ پر حملے کو شریعت کے عین مطابق قرار دیکر مذاکرات کے حامیوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپ دیا۔

کچھ دن پہلے تک مجھے یہ سمجھ نہ آ رہی تھی کہ افغان طالبان اور امریکہ میں مذاکرات شروع ہو سکتے ہیں تو پاکستانی حکومت اور مقامی طالبان میں مذاکرات آگے کیوں نہیں بڑھتے مجھے یہ بھی معلوم تھا کہ افغان طالبان نے پاکستانی طالبان کو اسلام آباد کے حکمرانوں کے ساتھ مذاکرات پر راضی کرنے کیلئے حتی الوسیع کوشش کی لیکن پاکستانی طالبان نے انہیں کوئی یقین دہانی نہ کرائی لیکن پھر اس معاملے کی کئی پیچیدگیاں مجھے نیو یارک میں چار روزہ قیام کے دوران سمجھ آئیں۔

یہ عجیب اتفاق ہے کہ پاکستانی حکومت اور افغان طالبان کے درمیان تعلق کی نوعیت مجھے 1995میں نیویارک میں ہی پتہ چلی تھی اور اٹھارہ سال کے بعد 2013میں مجھے نیویارک میں سمجھ آئی کہ پاکستانی طالبان اور پاکستانی حکومت کے درمیان مذاکرات میں کیا پیچیدگیاں ہیں ۔1995میں امریکہ کی نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیا رابن رافیل نے نیویارک میں وزیر اعظم بے نظیر بھٹو سے کہا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کو مل کر طالبان کی اصلاح کرنی ہے اور افغانستان میں استحکام کیلئے استعمال کرنا ہے ۔

یہ وہ زمانہ تھا جب روسی فوج افغانستان سے نکل چکی تھی اور روس کے خلاف جہاد کرنے والوں نے ایک دوسرے کا قتل عام شروع کر رکھا تھا گلبدین حکمت یار اور احمد شاہ مسعود کی لڑائی میں کابل تباہ ہو گیا تھا اور اس خانہ جنگی کے ردعمل میں تحریک طالبان ابھری، پاکستان میں گلبدین حکمت یار کے حامیوں نے ابتدا میں طالبان کو امریکی ایجنٹ قرار دیا۔ میں نے بھی یہ سوال اٹھایا کہ رابن رافیل طالبان کی حمایت کیوں کرتی ہیں لیکن کچھ عرصے کے بعد قندھار میں طالبان قیادت سے ملاقات ہوئی تو پتہ چلا کہ وہ نہ امریکہ کی مانتے ہیں اور نہ پاکستان کی مانیں گے۔ بعدازاں انہوں نے امریکہ اور پاکستان کی مرضی کیخلاف اسامہ بن لادن کو افغانستان میں پناہ دیکر گلبدین حکمت یار کے پراپیگنڈے کو غلط ثابت کر دیا۔ نومبر 1996میں بے نظیر حکومت کے وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر نے احمد شاہ مسعود، رشید دوستم اور گلبدین حکمت یار کو ملا محمد عمر کے ساتھ مفاہمت پر راضی کر لیا تھا اور ان سب کے نمائندوں کو اسلام آباد میں اکٹھا کرنے کیلئے تاریخ بھی طے ہو چکی تھی لیکن صدر فاروق لغاری نے فوج کے ساتھ مل کر اپنی ہی پارٹی کی حکومت کو برطرف کر دیا۔نئے وزیراعظم نواز شریف نے بھی اکتوبر 1999میں شمالی اتحاد اور طالبان کو مفاہمت پر راضی کر لیا تھا لیکن انکی حکومت کو جنرل پرویز مشرف نے فارغ کر دیا اور افغانستان مسلسل خانہ جنگی کا شکار رہا۔

2013 میں افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے لیکن پاکستانی طالبان اور پاکستانی حکومت میں مذاکرات بے یقینی کا شکار ہیں۔ 26ستمبر کو میں نیویارک پہنچا تو اصل مقصد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کی تقاریر سننا اور ان دونوں وزرائے اعظم کی ملاقات کے بعد نیویارک سے جیو ٹیلی ویژن کیلئے خصوصی پروگرام کرنا تھا میں وزیر اعظم کے ساتھ جانے والے وفد کا حصہ نہ تھا لیکن کوشش کر کے روز ویلٹ ہوٹل میں کمرہ حاصل کر لیا کیونکہ پاکستانی وفد کی تمام بریفنگز یہیں ہوتی تھیں۔ یہ ہوٹل بظاہر پی آئی اے کی ملکیت ہے لیکن یہاں گوروں کا رش اور اعلیٰ انتظامات دیکھ کر یہ شک بھی نہیں گزرتا کہ اس ہوٹل کو پی آئی اے چلاتی ہے۔ جب میں نے 369ڈالر یومیہ کے حساب سے چار دن کا کرایہ ایڈوانس ادا کیا تو سوچا کہ پی آئی اے اتنے خسارے میں کیوں ہے ؟

ایک شام ہوٹل کی لابی میں ایک برطانوی سفارت کار سے ملاقات ہو گئی جو پاکستان میں بھی وقت گزار چکے ہیں۔ وہ روز ویلٹ ہوٹل میں ایک جرمن سفارت کار کو ملنے آئے تھے۔ اگلے دن ان دونوں سے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران پتہ چلا کہ افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ برطانیہ، جرمنی اور فرانس کی کوششوں سے شروع ہوا تھا۔ ابتدا میں امریکی حکومت مذاکرات کو ناکام بنانے کی کوشش کرتی رہی بعد میں سنجیدہ ہو گئی۔ برطانوی سفارتکار نے کہا کہ امریکی دفتر خارجہ مذاکرات کا حامی تھا جبکہ سی آئی اے اور پنٹاگون مخالف تھی۔ تین چار سال یہ ادارے آپس میں لڑتے رہے آخر کار قطر میں طالبان کا سیاسی دفتر قائم ہو گیا اب مذاکرات تو شروع ہونگے پتہ نہیں کامیاب ہونگے یا نہیں لیکن لگتا ہے پاکستان میں مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی ناکام ہو چکے ہیں۔

برطانوی سفارتکار نے کہا کہ میں امریکی سفارت کار اور رچرڈ ہالبروک کے ساتھی ولی نصر کی ایک کتاب پڑھوں تو مجھے اندازہ ہو گا کہ طالبان کیساتھ مذاکرات کتنا مشکل کام ہے۔ خوش قسمتی سے مجھے ولی نصر کی کتاب (THE DISPENSABLE NATION) نیو یارک میں ایک صحافی دوست جناب ارشد چوہدری نے فراہم کر دی۔

ولی نصر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ طالبان سے مذاکرات رچرڈ ہالبروک کی تجویز تھی جس پر کافی بحث مباحثے کے بعد ہیلری کلنٹن راضی ہو گئیں۔ ہالبروک کے نمائندے برنیٹ رابن نے اپریل 2009میں ملا عبدالسلام ضعیف کو مذاکرات کیلئے راضی کیا اور پھر سعودی انٹیلی جنس منسٹر پرنس مقرین بھی اس معاملے میں شامل ہوگئے ولی نصر لکھتے ہیں کہ جب مذاکرات کیلئے تمام معاملات طے پا گئے تو صدر اوبامہ کے ارد گرد موجود ساتھیوں نے مذاکرات کے خلاف سازشیں شروع کر دیں۔ رچرڈ ہالبروک کی جگہ براہمی کے ذریعہ مذاکرات کی تجویز دی گئی جسے ہیلری کلنٹن نے مسترد کر دیا ۔ سی آئی اے اور امریکی فوج بھی طالبان سے مذاکرات کے خلاف تھی وائٹ ہائوس کی طرف سے افغان صدر حامد کرزئی کو ہالبروک کے خلاف استعمال کیا گیا۔ جنرل جم جونز کو ہالبروک کے بغیر پاکستان بھیجا جاتا رہا اور امریکی دفتر خارجہ کو جنرل جم جونز کے دورہ پاکستان سے بے خبر رکھا جاتا تھا۔ ایک موقع پر جم جونز نے جنرل اشفاق کیانی کو سویلین نیو کلیئر معاہدے کا اشارہ دیدیا لیکن بعد میں وائٹ ہائوس نے خاموشی اختیار کرلی۔

جولائی 2011میں امریکی نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر ٹام ڈونی لون اور جنرل کیانی نے ابوظہبی میں 19گھنٹے کی خفیہ ملاقات کی لیکن سلالہ حملے کے بعد معاملات آگے نہ بڑھ سکے۔ ولی نصر لکھتا ہے کہ دوحہ میں طالبان کے دفتر کا قیام ہالبروک کی کوششوں کا نتیجہ ہے لیکن یہ وہ ہالبروک تھا جو اپنے ہی ساتھیوں کی سازشوں کے خلاف لڑتا لڑتا موت کے منہ میں چلا گیا۔ ولی نصر کی کتاب میں موجود تفصیلات سے اندازہ ہوتا ہے کہ افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا مستقبل زیادہ روشن نہیں اور کچھ ایسی ہی صورتحال پاکستان میں بھی ہے۔ نئی سیاسی حکومت طالبان سے مذاکرات چاہتی ہے حکیم اللہ محسود مذاکرات کے حامی ہیں لیکن دونوں طرف سے مذاکرات کو ناکام بنانے کی کوششیں جاری ہیں اور ان کوششوں میں وہ گروپ زیادہ متحرک ہیں جو افغانستان کے صوبہ کنڑ اور نورستان میں روپوش ہیں۔

باخبر ذرائع کہتے ہیں کہ بیک وقت سب گروپوں کے ساتھ مذاکرات نہیں ہو سکتے البتہ کوشش کی جائے تو حکیم اللہ محسود ، عدنان رشید، عصمت اللہ معاویہ اور ولی الرحمان محسود کے گروپ مذاکرات پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔ جو مذاکرات کیلئے راضی ہوں ان کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں جو راضی نہ ہوں ان کے خلاف آپریشن کیا جائے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا مذاکرات کامیاب ہونگے؟کیا آپریشن کامیاب ہو گا؟ مذاکرات کی کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ تمام ادارے ایک پالیسی پر متفق ہوجائیں۔ آپریشن بھی اسی صورت کامیاب ہو گا جب مرکزی حکومت، خیبر پختونخوا حکومت اور فوج کی پالیسی ایک ہو گی۔ افسوس کہ ا بھی تک اتفاق رائے کے زبانی دعوے تو کئے جا رہے ہیں لیکن اتفاق رائے کا عملی مظاہرہ دیکھنے میں نظر نہیں آتا۔ ہم ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچ رہے ہیں ایک دوسرے کو غدار قرار دے رہے ہیں ہمارے ساتھ وہی نہ ہو جو رچرڈ ہالبروک کے ساتھ ہوا۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.