.

ن لیگ حکومت اللہ کے قہر کو دعوت نہ دے

انصار عباسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قاتلوں، دہشتگردوں، کم سن بچوں اور بچیوں سے زیادتی کرنے والے درندوں، ٹارگٹ کلرز، اغوا برائے تاوان کے مجرموں، موبائل اور چند ٹکوں کی خاطر انسانی جان لینے والے جانور صفت انسانوں اور دوسرے سنگین وارداتوں میں ملوث جرائم پیشہ افراد کو میاں نواز شریف کی حکومت نے خوش کر دیا۔ خوش تو ویسے سابق صدر آصف علی زرداری بھی بہت کرتے رہے، اُن کی روایت پر میاں صاحب بھی عمل پیرا ہیں۔

چاہے کراچی میں سو سو معصوموں کے قتل میں ملوث ٹارگٹ کلر ہو یا لاہور میں پانچ سالہ بچی سے زیادتی کرنے والے درندے، بے شک پشاور میں چرچ حملہ کرنے والے دہشتگرد ہوں یا بلوچستان میں شناختی کارڈ دیکھ کر بسوں سے اتار اتار کر درجنوں افراد کو گولیوں سے چھلنی کرنے والے، چاہے ہیروئن کے ذریعے موت بیچنے والے ہوں یا ناموس رسالت کے قانون کی خلاف ورزی کرنے والے یا دوسرے فسادی سب کے لیے یہ نوید سنا دی گئی کہ گزشتہ حکومت کی طرح موجودہ حکومت بھی کسی کو موت کی سزا نہیں دے گی چاہے موت کی سزا پانے والے کا جرم کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو۔

وزارت داخلہ کے ترجمان نے بڑے فخر کے ساتھ برطانوی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ نواز شریف حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ گزشتہ پانچ سال کی طرح آئندہ کے لیے بھی پاکستان میں سزائے موت کو معطل رکھا جائے گا۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوے ترجمان وزارت داخلہ نے کہا کہ اس فیصلے کی بنیاد پاکستان کے بین الاقوامی دنیا کے ساتھ کیے گئے کچھ معاہدے ہیں۔ یہ بین الاقوامی معاہدے دراصل یورپی یونین کی پاکستان کے ساتھ تجارت بڑھانے کی پیشکش سے متعلق ہیں جس کے لیے ایک بنیادی شرط یہ رکھی گئی ہے کہ موت کی سزا پر علمدرآمد روکا جائے تا کہ ایساساز گار ماحول بنایا جائے تا کہ سزائے موت کے قانون کو ہی پاکستان میں ختم کر دیا جائے۔ جیسا کہ میں پہلے اپنے کالمز میں لکھ چکاکہ سزائے موت تو اللہ کی مقرر کی ہوئی سزا ہے جسے تبدیل یا ختم کرنے کا کسی انسان کو کوئی حق حاصل نہیں۔

اسلامی ریاست اور اس میں رہنے والے مسلمانوں کی یہ بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اللہ کی حدود کے نفاذ کو یقینی بنائیں۔ حدود اللہ کو ایک اسلامی ریاست میں چھوڑنے کا مطلب اللہ کے عذاب کو دعوت دینا اور اپنے ایمان اور آخرت کو دائوپر لگانے کے مترادف ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں مسلمانوں کو یہ وارننگ دیتے ہیں کہ جو لوگ اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہی ظالم ہیں، وہی فاسق ہیں اور وہی کافر ہیں۔ اللہ کی اس وارننگ کے باوجودگزشتہ پانچ سال صدر زرداری صاحب کے حکم پر اللہ کے اس قانون پر پاکستان میںعملدرآمد روکے رکھا گیا جس پر زرداری صاحب کو بڑا فخر ہے اور اسی بنیاد پر وہ آج موجودہ حکومت کو سراہ رہے ہیں۔ جناب زرداری صاحب کا فرمانا ہے کہ چونکہ پاکستان میں تقریباً 17 قسم کے جرائم پر موت کی سزا دی جاتی ہے اس لیے موجودہ حکومت کو اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ کن کن جرائم پر یہ انتہائی سزا دی جا سکتی ہے۔

اگر اصل مسئلہ یہی تھا تو کوئی زرداری صاحب سے پوچھے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں آپ نے اس جائرہ کے لیے کوئی ایک اجلاس تک کیوں نہ بلایا۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ صدر زرداری کے اس فیصلہ کے پیچھے یورپ تھا۔ زرداری صاحب کی حکومت نے ایسا اپنے مالی حالات بہتر بنانے کے لیے کیا مگر یہی گزشتہ پانچ سال مالی لحاظ سے پاکستان کی تاریخ کا بدترین دور ثابت ہوا۔ ہم نے رزق کی کشادگی کے لیے اللہ کی حدود سے کھلواڑ کیا اس حقیقت کے باوجود کہ رازق اللہ کی ذات کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا۔ اس کی سزا ہمیں یہ ملی کہ ایک طرف پاکستان مالیاتی طور پر تقریباً دیوالیہ ہو گیا اور دوسری طرف قتل و غارت گری، ٹارگٹ کلنگ اور سنگین جرائم کئی گنا زیادہ بڑھ گئے۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ن لیگ سزائے موت کی معطلی پر گاہے بگاہے شور مچاتی رہی مگرجب وفاق میں اپنی حکومت قائم ہوئی توخود بھی اُسی رستہ پر چل پڑے جس پر کل تک نواز لیگ والے تنقید کرتے رہے۔

اس بات کی تو آج بھی کوئی گارنٹی نہیں کہ ہماری خوائش کے مطابق یورپ پاکستان کو اپنی تجارتی منڈیوں میں جگہ دے گا مگر یہ بات یقینی ہے کہ موت کی سزا کی معطلی سے پاکستان میں قتل و غارت، دہشتگردی، اغوا برائے تاوان اور دوسرے گھنائونے جرائم کی شرح میں مزید اضافہ ہو گا جس سے یہاں کاروباری اور تجارتی حالات مزید بدتر ہوں گے۔ امن و عامہ کی صورت حال کی وجہ سے بیرونی سرمایہ کاری کے لیے پاکستان پہلے ہی دنیا کے بدترین ممالک میں شامل ہے۔ بھتہ خوروں نے کراچی اور پاکستان کے کچھ دوسرے شہروں میں بڑی تعداد میں مقامی تاجروں کو اپنا سرمایہ دبئی، ملائشیا اور بنگلہ دیش جیسے ممالک میں لے جانے پر مجبور کر دیا ہے۔ دی نیوز کی ایک خبر کے مطابق سزائے موت پانے والوں کی ایک بڑی تعداد جیلوں میں بیٹھ کر ٹارگٹ کلرز، دہشتگروں اور اغواکاروں کے گروہوں کو کنٹرول کرتی ہے۔ جیلیں کریمنل مافیا کا گڑھ بن چکی ہیں۔ جن قاتلوں، فسادیوں، اغواکاروں، بچیوں، ہیروئن بیچنے والوں اور عورتوں سے زیادتی کرنے والوں کو سر عام پھانسی دے کر معاشرہ میں رہنے والوں کے لیے نشان عبرت بنانے کو ضرورت ہے وہ جیلوں میں بند ہونے کے باوجود ہمارے شہروں، بازاروں اور گلیوں میں فساد پھیلا رہے ہیں۔

جیلوں میں انہیں ہر قسم کی سہولتیں مہیا ہوتی ہیں۔ ایک خبر کے مطابق راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ایک با اثر ملزم نے پولیس کے ڈی آئی جی کو اس لیے تبدیل کروا دیا کیوں کہ پولیس افسر نے اُس با اثر ملزم کو دی گئی غیر قانونی سہولتوں کو واپس لینے کا حکم صادر کیا تھا۔ پولیس ڈی آئی جی کے حکم پر عمدرآمد سے پہلے ہی اُس بےچارے کی وہاں سے رخصتی کا حکم نامہ پنجاب حکومت کی طرف سے جاری کر دیا گیا۔ کراچی میں ایک انتہائی خطرناک سزائے موت کے مجرم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اکثر جیل سے باہر با اثر افراد سے ملاقاتیں کرتا ہے۔ایسے حالات میں سزائے موت کی معطلی سے پاکستان کاجرائم پیشہ افراد کی جنت بن جانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ وزارت داخلہ کی طرف سے سزائے موت کی معطلی کو قائم رکھنے کے فیصلہ پرایک سرکاری افسر نے کیا خوب تبصرہ کیا۔ اُس افسر نے مشورہ دیا کہ یورپ اگر سزائے موت کے مجرموں سے اتنی ہی محبت کرتا ہے تو پھر ان قاتلوں، دہشتگردوں، اغواکاروں، کم عمر بچیوں سے زیادتی کرنے والوں، فسادیوں اور ہیروئن کا کاروبار کرنے والوں کو پاکستانی جیل سے رہائی دلوا کے یورپ کے مختلف ممالک میں لے جا کر سیاسی پناہ کیوں نہیں دلوا دیتا۔ بیرونی آقاووں سے ڈالرز لے کر سزائے موت کی مخالفت کرنے والی این جی اوز اور انسانی حقوق کے چیمپئین بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.