عسکریت پسندی۔ کیا بات بن جائے گی؟

سلیم صافی
سلیم صافی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

میرے منہ میں خاک لیکن مجھے بات بنتی نظر نہیں آرہی۔ عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کے حامیوں کو مذاکرات کا طریقہ نہیں آتا اور طاقت کے استعمال کے حامی اس کا سلیقہ نہیں جانتے ۔ مذاکرات کے حامی کنفیوژن کا شکار ہیں تو طاقت کے حامی اس سے دگنے کنفیوژن میں مبتلا ہیں۔ وفاقی حکومت طالبان کے ساتھ مذاکرات کی حامی ہے۔ اس نے فوج کو بھی اس کا حامی بنانے کی کوشش کی اور اے پی سی کے ذریعے سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو بھی ہمنوا بنا لیا لیکن اے پی سی کے بعد میاں صاحب معمول کے مطابق مخصوص مشیروں حصار میں معمول کی دلچسپیوں میں مگن ہو گئے اور دہشت گردی کے شکار عوام مذاکرات کے حوالے سے پیش رفت کا انتظار کرتے رہ گئے۔ مذاکرات کے لئے ایک راستہ براہ راست رابطے کا ہوسکتا تھا‘ وہ آپشن حکومت نے نہیں آزمایا۔ دوسرا علماء اور طالبان کے ہاں عزت رکھنے والی مذہبی شخصیات کا ہو سکتا تھا لیکن روایتی چالاکیوں سے کام لے کر حکومت نے اس آپشن کو بھی خراب کر دیا۔

اب تیسرا اور واحد آپشن یہی ہے کہ سید منورحسن‘ مولانا فضل الرحمن ‘ عمران خان اور مولانا سمیع الحق کا وفد بنا کر حکومت اختیار کے ساتھ طالبان کے پاس بھیجیں لیکن حکومت اس کے لئے بھی تیار نظر نہیں آتی۔ چار ماہ حکومت کرنے کے بعد بھی ہمارے حکمرانوں کی سوچ واضح نہیں کہ مذاکرات کس سے ‘ کس طریقے سے ‘ کن لوگوں کے ذریعے اور کن شرائط کے ساتھ کرائے جائیں۔ حکومت کبھی مختلف شخصیات سے رابطہ کرتی ہے‘ کبھی وہ مذہبی رہنمائوں سے اور کبھی خفیہ ایجنسیوں سے۔ اس چالاکی کی وجہ سے حکومت نے تقریباً ہر ایک کو مایوس کر دیا ہے۔ مذاکرات کے بڑے وکیل عمران خان علمیت کایہ عالم ہے کہ انہوں نے طالبان کیلئے دفتر کے قیام کا مطالبہ کردیا ۔ تفصیل کا یہاں موقع نہیں ورنہ میں ثابت کر سکتا ہوں کہ اس طرح کی تجویز دینا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ عمران خان صاحب آج بھی طالبان کے بارے میں بنیادی اور بڑی حقیقتوں سے واقف نہیں۔

افغان طالبان کا تو نہ لیڈر نظر آ رہا تھا اور نہ ان کے زیرقبضہ علاقہ معلوم ہے لیکن پاکستانی طالبان تو پاکستانی سرحدوں کے اندر ہی رہتے ہیں۔ حکیم اللہ محسود اور دیگر رہنمائوں کے خاندان بھی معلوم ہیں اور ان سے روزانہ کی بنیاد پر رابطہ ہو سکتا ہے۔ شمالی وزیرستان میں پولیٹکل انتظامیہ کا طالبان کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر رابطہ ہوتا رہتا ہے۔ وہ ہر روز میڈیا کے درجنوں نمائندوں کے ساتھ بذریعہ فون اور ای میل رابطے میں رہتے ہیں اور ہمہ وقت ان کے نرغے میںلوگوں کی رہائی سے متعلق پولیٹکل انتظامیہ اور خفیہ ایجنسیوں کے مذاکرات کسی نہ کسی شکل میں جاری رہتے ہیں۔ جماعت اسلامی بھی مذاکرات کی حامی ہے لیکن وہ اس سلسلے میں کوئی کردار ادا کرنے کو تیار نہیں اور سب سے زیادہ کنفیوژن کی شکار اس کی قیادت ہے۔ گزشتہ روز میرے ساتھ جیو نیوز کے پروگرام میں پروفیسر محمد ابراہیم صاحب تشریف فرماتھے اور وہ کسی بھی سوال کا جواب دینے کو تیار نہیں تھے حالانکہ القاعدہ اورطالبان کی حقیقت جتنا وہ جانتے ہیں ‘اتنا بہت کم لوگ جانتے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمن صاحب مذاکرات کے ایک اور بڑے حامی ہیں لیکن وہ صرف ان مذاکرات کی بات کرتے ہیں جو ان کے ذریعے ہوں۔

میرے نزدیک تو حکومت نے باقی تمام آپشن خراب کر دئیے ہیں اور اب مذاکرات کا واحد آپشن یہ رہ گیا ہے کہ حکومت مولانا فضل الرحمن‘ سید منور حسن‘ عمران خان اور مولانا سمیع الحق پرمشتمل کمیٹی تشکیل دے۔ اسے اختیار دے اور اسے طالبان کے پاس بھیج دے۔ وہ ان سے بات منوا سکے تو فبہا‘ نہیں تو اتمام حجت طالبان پر بھی ہو جائے گی اور خود ان لوگوں پر بھی لیکن چونکہ حکومت اپنی دکان چمکانا چاہتی ہے اور میاں صاحب ایک خاص قومیت اور اپنے کارندوں کے ایک خاص گروپ کے سوا کسی اور پر اعتماد نہیں کرتے ‘ اس لئے اس کا امکان بہت کم ہے کہ وہ مذکورہ سیاسی شخصیات کے ذریعے یہ کام کر لیں۔ جہاں تک آپریشن اور طاقت کے استعمال کے حامیوں کا تعلق ہے تو وہ شمالی وزیرستان میں فوری اور بھرپور فوج کشی کو مسئلے کا حل سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اس وقت شاید ہی پندرہ بیس فی صد عسکریت پسند شمالی وزیرستان میں بیٹھے ہوں گے۔ باقی ماندہ عسکریت پسند یا افغانستان میں ہیں یا پھر پاکستان کے بڑے شہروں میں۔ عسکریت پسندوں کا سب سے طاقتور اور خطرناک عنصر وہ ہے جو عام اور پرامن پاکستانیوں کے روپ میں بڑے شہروں کے اندر موجود ہیں یا پھر اچھے عسکریت پسندوں اور مین اسٹریم مذہبی جماعتوں کے اندر چھپے ہوئے ہیں۔

جب تک نظریاتی‘ تزویراتی‘ قانونی اور تزویراتی محاذوں پر ہمہ گیر آپریشن نہیں ہوتا‘ کسی ایک علاقے میں فوجی آپریشن سے پاکستان پرامن نہیں بن سکتا۔ صرف شمالی وزیرستان میں فوجی کاروائی‘ ویسی ہی ایک کارروائی ہو گی جیسی کہ جنوبی وزیرستان‘ اورکزئی ایجنسی یا باجوڑ میں وغیرہ میں کی گئی۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہو جائیں گے ‘ فوج قربانی دے دے گی لیکن مسئلہ پھر بھی جوں کا توں رہے گا۔ طاقت کے استعمال کے آپشن کو مفید بنانے کیلئے نہ تو سفارتی سطح پر کوئی تیاری ہوئی ہے "نظریاتی سطح پر" تزویراتی سطح پر اور نہ اندرونی سلامتی کے محاذ پر۔ خفیہ ایجنسیوں کی سرگرمیوں کو ہم آہنگ بنانے کیلئے کوئی میکنزم موجودہ حکومت نہیں بنا سکی۔

پولیس کی کاکردگی کو بہتر بنانے کے لئے عملاً کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ عدالتی نظام میں اصلاحات ہوئی ہیں اور نہ انسداد دہشت گردی کے قوانین تبدیل کئے گئے ہیں۔ آپریشن زدہ علاقوں کی بحالی اور تعمیر نو کے لئے حکومت کے پاس پیسہ ہے اور نہ منصوبہ۔ اور تو اور اس حکومت کی ٹیم میں آج وہ لوگ ہی نظر نہیں آتے جو اس مسئلے اور اس کی مختلف جہتوں کو سمجھتے ہیں۔

بیوروکریسی میں ایک خاص علاقے کے خاص لوگ اہم مناصب پر فائز ہیں جبکہ وفاقی کابینہ میں ایک صوبے کی ایک خاص پٹی کے ایک خاص قومیت سے تعلق رکھنے والے لوگ ہی اہم وزارتوں پر قابض ہیں اور ظاہر ہے ان لوگوں کا ان مسائل سے کوئی تعلق رہا ہے اور نہ اس میں مہارت رکھتے ہیں۔ اب جو لوگ مذاکرات کی مخالفت کرکے طاقت کے استعمال کی دہائیاں دے رہے ہیں‘ وہ طاقت کے استعمال کے ان پہلووں کی طرف متوجہ ہیں اور نہ ان کے ذہن میں ان مسائل کے حل سے متعلق کوئی خاکہ ہے۔ گویا مذاکرات کے حامیوں کو مذاکرات کا طریقہ نہیں آتا اور طاقت کے استعمال کے وکیلوں پر یہ واضح نہیں کہ مذکورہ پہلووں کا احاطہ کئے بغیر اگر طاقت استعمال ہو گی تو اس کے کیسے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔ لوگ مر رہے ہیں "بستیاں اجڑ رہی ہیں" لیکن کسی مناسب اقدام کی بجائے ایک فضول مباحثہ جاری ہے۔ جس کی وجہ سے کنفیوژن بڑھ رہا ہے اور میرے نزدیک یہی عسکریت پسندوں کے لئے آئیڈیل صورتحال ہے کیونکہ جس طرح افغانستان میں طالبان ٹال مٹول سے کام لے کر2014ء کی آمد کے منتظر ہیں‘ اسی طرح پاکستانی طالبان بھی اس وقت کی آمد کا انتظار کر رہے ہیں۔

جوں جوں وقت گزر رہا ہے‘ ان کی منزل قریب آ رہی ہے لیکن دوسری طرف پاکستانی ریاست کے لئے مہلت ختم ہو رہی ہے۔ ہمارے پالیسی ساز سمجھ رہے ہیں کہ2014ء کے بعد عسکریت پسندوں سے نمٹنا ان کے لئے بائیں ہاتھ کا کھیل بن جائے گا لیکن جس طرح افغان طالبان سمجھتے ہیں کہ غیرملکی افواج کے انخلاء کے بعد پھر انہی کا بول بالا ہو گا ‘ اسی طرح پاکستانی طالبان سمجھ رہے ہیں اور شاید ٹھیک سمجھ رہے ہیں کہ2014ء کے بعد کا دور ان کا دور ہو گا۔ تبھی تو وہ کبھی مذاکرات کی اور کبھی جنگ کی بات کرتے ہیں۔ شاید ان کے لئے یہی پالیسی مناسب ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ہماری حکومت کس خیال سے وقت ضائع کر رہی ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں