وسطی ایشیائی ریاستیں خطرے کی زد میں

ڈاکٹر رسول بخش رئیس
ڈاکٹر رسول بخش رئیس
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

پانچوں وسطی ایشیائی ریاستیں اگلے سال افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے نتائج سے خوفزدہ ہیں کیونکہ یہ ریاستیں ازبک اسلامی تحریک (IMU) اور القاعدہ کے جنگجوں کے حملوں کا نشانہ بن چکی ہیں، چناچہ وہ خوفزدہ ہیں کہ امریکی افواج کے جاتے ہی پاکستان اور افغانستان سے آنے والے انتہاپسندان پر پہلے سے بھی زیادہ شدت سے حملے کریں گے ۔ یہ خبریں بھی آرہی ہیں کہ آئی ایم یو اور اس کے اتحادی گروہ افغانستان میں وسطی ایشیائی ریاستوں کی سرحدوں کے قریب اپنے ٹھکانے قائم کرنے رہے ہیں۔ ان کا مقصد ان ریاستوں میں پر تشدد کاروائیاں کرنا ہے۔

ستائیس ستمبر کو یواین کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ازبکستان اور قازکستان کے وزرائے خارجہ نے عالمی برادری کو خبردار کیا کہ 2014 کے بعد افغان سرزمین سے علاقائی سیکورٹی کو لاحق خطرات میں اضافہ ہوجائے ۔ اس کے علاوہ یہاں سے منشیات کی سمگلنگ میں بھی تیزی آجائے گی۔ ان دونوں وزرائے خارجہ نے اپنی اپنی تقاریر میں مغرب کو موردِ الزام ٹھہرایا کہ وہ افغان کشمکش کا کوئی پرامن حل تلاش کے بغیر یہاں سے رخصت ہورہے ہیں۔ درحقیقت ان پانچوں ریاستوں کو یقین ہے کہ نیٹو اور امریکی افواج افغانستان کو غیر مستحکم چھوڑ کر جارہے ہیں۔ اُن کو یقین نہیں ہے کہ ایک عشرے کی طویل جنگ نے انتہا پسندی کے خطرے میں کسی قدر کمی کی ہے اور شواہد بتاتے ہیں کہ ان کے خدشات بے بنیاد نہیں ہیں۔

ان ریاستوں کو امریکہ اور کابل پر غصہ ہے۔ اس دوران یہ ریاستیں خود بھی کشمکش کا شکار ہیں۔ ان کے درمیان بھی اتحاد کا فقدان ہے، چناچہ یہ کسی باہم معاہدے کے تحت 2014 کے بعد اپنے تحفظ کا سامان کرنے کے قابل دکھائی نہیں دیتی ہیں۔ ان میں سے کچھ ریاستیں اپنے سابقہ حکمران روس کی طرح روج کررہی ہیں۔ یکم اکتویر کو تاجکستان کی پارلیمنٹ نے ایک معاہدے کی توثیق کی ہے۔ اس معاہدے کے تحت روس کے فوجی دستے تاجکستان میں مزید تین عشروں تک اپنے بیس قائم کر سکتے ہیں۔ روس کے چھے ہزار فوجی تاجکستان میں موجود ہیں تاکہ وہ افغانستان کے ساتھ ملنے والی 840 میل طویل سرحد کا دفاع کرسکیں۔

وسطی ایشیائی ریاستوں میں تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان کو سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے کیونکہ ان کی شمال کی طر ف سے بارہ سو میل لمبی سرحد افغانستان کے ساتھ ملتی ہے۔ ان ریاستوں میں فوجی اور معاشی طور پر تاجکستان سب سے کمزور ہی نہیں ، بدعنوان بھی ہے۔ اس کے بہت سے سرکاری عہدیدار بھی افغانستان سے آنے والی افیون کی تجارت میں ملوث ہیں۔ کئی سالوں سے آئی ایم یو اور اس کے حلیف گروہ تاجک سرحد کے نزدیک افغان شہر قندوز اور قصبہ امام صاحب میں اپنے ٹھکانے بنانے کی جدوجہد میں تھے۔ اس سے پہلے ان کو یہاں تعینات جرمن اور امریکی فوجی دستوں کی طرف سے مزاحمت کا سامنا تھا لیکن اب جبکہ یہ دستے یہاں سے رخصت ہورہے ہیں، ان کے سامنے مزاحمت کی کوئی عملی شکل باقی نہیں رہے گی۔ یہاں کی افغان فوج شایدان کو روکنے میں ناکام ثابت ہو۔

تازہ ترین رپورٹس کے مطابق ایک اور افغان صوبے بدخشان سے بھی خطرہ ابھررہا ہے۔ خبر ہے کہ یہاں کوئی پانچ سو کے قریب جنگجو افغانستان کے Iskashim ضلعے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ اس ضلعے کو تاجکستان سے صرف ایک چھوٹا سا دریا پنج (Panj) جدا کرتا ہے۔ سردیوں میں دریا جم جاتا ہے اور پر سے آسانی سے گزر کا تاجکستان جایا جا سکتا ہے … سردیاں آنے والی ہیں۔ آئی ایم یو کا بیس واردوج (Warduj) ضلع میں ہے۔ یہ ضلع بدخشاں کے مرکز میں واقعہ ہے۔ اس کی مقامی آبادی کو زبردستی وہابی بنایا جا چکا ہے، چناچہ القاعدہ اور دیگر شدت پسند گروہوں کو یہاں قدم جمانے میں آسانی ہے۔ بدخشاں کے پہاڑی سلسلے پامیر اور ہندوکش انتہا پسندوں کی جنت ہیں کیونکہ ان کٹھن پہاڑی سلسلوں میں خفیہ ٹھکانے بنانا آسان ہے۔

یہ انتہا پسند جنوبی تاجکستان سے لے کر پاکستان کے شمالی بارڈر اورا مشرقی افغانستان تک ایک وسیع علاقے پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ یہیں سے وکھان کے مقام پر آئی ایم یو چین کے صوبے Uighur کی مسلمان آبادی تک رسائی ملتی ہے۔ یہ پہاڑی سلسلوں کا زیادہ تر علاقہ ایسا ہے یہاں باقاعدہ فوجی دستے نہیں لڑ سکتے ہیں، بلکہ ان کے لیے یہاں رسائی حاصل کرنا بھی دشوار ہے۔ ان کے خلاف صرف فضائی کاورائی ہی کی جاسکتی ہے، تاہم امریکی افواج کے جانے کے بعد افغان فورسز کے پاس یقیناً فضائی قوت نہیں ہے کہ وہ انہیں نشانہ بنا سکے۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ پاکستان میں موجود انتہا پسند بھی آئی ایم یو کی معاونت کررہے ہیں۔ اس کے عوض وہ آئی ایم یو رقم کی صورت میں مدد لیتے ہیں… رقم کمانے کا اہم ذریعہ افیون کی سمگلنگ ہے۔ بہت سے انتہا پسند گروہ بعض وجوھات کی بنا کر وسطی ایشیائی ریاستوں میں بہت دلچسپی لے رہے ہیں۔ ان میں پاکستانی طالبان، افغان طالبان اور پاکستان کے مختلف گروہ جیسا کہ لشکرِ طیبہ، جند اﷲ اور اسلامی جہاد یونین شامل ہیں۔ یہ گروہ ترک اور یورپی مسلمانوں کو بھی اپنی صفوں میں شامل کر رہے ہیں۔ القاعدہ ان تمام گروہوں کو کنٹرول کررہی ہے۔ اس طرح وسطی ایشیائی ریاستیں القاعدہ کی کاروائیوں کا نشانہ بننے جارہی ہیں۔ اس وقت ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اگلے سال سے پہلے ہی انتہا پسند گروہ کنہار، نورستان اور بدخشاں جیسے صوبوں پر اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتے ہیں تاکہ امریکی انخلا کے بعد قائم ہونے والی کابل حکومت کے خلاف مضبوط بیس قائم کر سکیں۔

آئی ایم یو نے اپنے رہنما Juma Namangani کی قیادت میں ستمبر گیارہ سے پہلے وسطی ایشیائی ریاستوں میں کاروائی کا آغاز کردیا تھا لیکن 2000 میں وہ افغانستان میں آگئے تاکہ امریکی حملے کی صورت میں وہ افغان طالبان کی مدد کرسکیں۔ جب امریکہ نے 2001 میں حملہ کیا تو Juma Namangani لڑتے ہوئے ہلاک ہو گیا۔ اس سے آئی ایم یو کو نقصان پہنچا۔ اس کے بعد اس کے باقی ماندہ جنگجووں نے القاعدہ اور طالبان کے لشکر میں شمولیت اختیار کرلی۔ ان میں سے بہت سے پاکستان کے شمالی علاقوں میں رہ رہے ہیں۔ اب وہ ایک مرتبہ پھر خود کو منظم کرتے ہوئے فعال ہورہے ہیں۔ ان کو بہت سے رضاکاروں کی خدمات بھی میسر آگئی ہیں۔ اب یہ گروہ مل کو ایشیائی ریاستوں کے لیے خطرہ بننے جارہے ہیں۔ ایک اور تکلیف دہ حقیقت ہے کہ یہ ریاستیں تیل اور گیس کی دولت سے مالا مال ہونے کے باوجود دنیا کی پسماندہ ترین خطوں میں شمار ہوتی ہیں۔ انہیں ہر وقت دھڑکا لگارہتا ہے کہ کوئی بیرونی قوت ان پر قبضہ کر لے گی۔ چناچہ وہ امریکیوں کو ناپسند کرتے تھے، روسیوں اور چینیوں سے خائف تھے لیکن اب انہیں اسلامی انتہا پسندی کے خطرے کا سامنا ہے۔

بشکریہ روزنامہ 'دنیا'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں