وزیراعظم کا دورۂ نیویارک: کامیاب یا ناکام

ڈاکٹر منظور اعجاز
ڈاکٹر منظور اعجاز
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کے دورہ نیویارک کے بارے میں یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ کامیاب رہا یا ناکام۔ اگر دورے کا واحد مقصد بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ سے ملاقات تھی تو اسے کامیاب دورہ کہا جا سکتا ہے لیکن اگر دوسرے کئی پہلوئوں سے دیکھاجائے تو اس دورے کے بارے میں بہت سے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ بہرحال اس دورے سے یہ ضرور ثابت ہوا کہ پاکستان کاعالمی وقار بہت بری طرح متاثر ہو چکا ہے اوردنیا کے اہم ترین ممالک اسے نظر انداز کر رہے ہیں۔ دوسری طرف پاکستانی قوم خوش فہمیوں کے حصار میں بندیہ سمجھتی ہے کہ ایٹمی طاقت ہوتے ہوئے ان کا ملک دنیا کے اہم ترین ممالک میں شامل ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ خوش فہمیوں کے اس حصار سے باہر آکر حقیقت پسندانہ انداز میں غور و فکر کیا جائے۔

میاں نواز شریف تقریباًایک ہفتہ نیویارک میں رہے۔ اس دوران سوائے ایرانی صدر اور ہندوستانی وزیر اعظم کے ان کی دنیا کے کسی بڑے رہنما سے ملاقات نہ ہوسکی۔ روس سے لے کر برطانیہ تک کسی بڑے ملک کے رہنما نے ان کو شرف باریابی نہیں بخشا۔ اس سے پاکستان کی عالمی برادری میں تنہائی کا تاثر اور بھی گہرا ہوتا ہوا نظرآتا ہے۔ صدر اوباما نے بھی نیویارک میں ان کے ساتھ کافی سردمہری کا مظاہرہ کیا ۔ اگرچہ پاکستان کی اشک شوئی کے لئے وزیر اعظم کو تیئس اکتوبر کو سرکاری دورے پر مدعو کر لیا گیا ہے لیکن اس سے پاکستان کے خارجی تعلقات میں مشکلات کا کوئی حل نکلتا نظر نہیں آتا۔

پاکستان اور امریکہ کے بدلتے ہوئے تعلقات کو دیکھنا ہو تو اس کو دیکھئے جو ہندوستانی وزیر اعظم اور صدر اوباما کی واشنگٹن ملاقات کے بعد جاری ہوا۔ اگرچہ ہمارے میڈیا میں اسے دیہاتی بڑھیا کی ہمسایوں کے ساتھ چغل خوری جیسے بد ذوق مزاح سے تشبیہ دی گئی لیکن اعلامیے کا زبان و بیان بتاتا ہے کہ جیسے یہ نیو دہلی میں لکھا گیا ہو اور امریکہ نے اسے من و عن تسلیم کر لیا ہو۔ اس اعلامیے سے اشارہ ملتا ہے کہ امریکہ چین کے ساتھ مستقبل کی پالیسی کو افغان پالیسی سے کہیں زیادہ اہم سمجھتا ہے اور وہ اس مقصد کیلئے بھارت کے ساتھ تعلقات مستحکم کر رہا ہے۔ اس کیلئے اگر پاکستان کو قربانی کا بکرا بھی بنانا پڑا تو وہ اس سے دریغ نہیں کرے گا۔ اس پس منظرمیں یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ ہندوستانی وزیر اعظم نے میاں نوازشریف کے سامنے مذاکرات کیلئے دہشت گردی ختم کرنے کی شرط رکھی۔

اس کے باوجود بعض حلقوں میں میاں نوازشریف کی ہندوستان کے ساتھ صلح جوئی کو کافی سراہا گیا اور شاید یہ بھی پہلی مرتبہ ہوا کہ نیویارک میں منموہن شریف ملاقات کے بعد ہندوستان نے میڈیا بریفنگ میں پاکستانی صحافیوں کو بھی شامل کیا اور پاکستان نے ہندوستانی صحافیوں کو بریفنگ میں شمولیت کا موقع دیا۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ ہندوستان کی بریفنگ بہت منظم تھی جب کہ پاکستان کی بریفنگ انارکی کاشکار تھی۔ اس سے صحافتی حلقوں کوکچھ ایسا تاثر ملا کہ پاکستان کے نیویارک مشن اور پاکستانی سفارت خانے کے کار پردازوں کو اپنے فرائض منصبی کا زیادہ علم نہیں ہے۔

میاں نوازشریف کے کمیونٹی عشائیے کے بارے میں بھی کئی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ غلط یا صحیح تاثر یہ ہے کہ اس عشائیے میں سوائے اکادکا افراد کے صرف پنجابیوں کو مدعو کیا گیا۔ امریکہ میں سندھی اور دوسری قومیتوں کے تارکین وطن کی بھاری تعداد آباد ہے، ان کو ایسے موقع پر نظر انداز کرنا جبکہ ملک میں علیحدگی پسندی اور نسل پرستی روز بروز بڑھ رہی ہو بہت بڑی غلطی ہے جس کا مستقبل میں ازالہ کیا جانا چاہئے۔ ان مسائل کو فروعی سمجھ کر اگر نظر انداز بھی کر دیا جائے تو سنجیدہ حلقوں میں پاکستان کے بارے میں بہت سی تشویش پائی جاتی ہے۔

دنیا کی نظر میں اس وقت پاکستان خانہ جنگی اور معاشی طور پر ایک بدحال ملک ہے۔ طالبان اور فرقہ پرست یورش کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں علیحدگی کی مسلح مزاحمت اور کراچی میں شدید بدامنی پاکستانی ریاست کے استحکام کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ عالمی حلقے پاکستانی ریاست کو اس انتشار کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ یہ تاثر کافی گہرا ہے کہ پاکستانی ریاست نے خود ایسے مسلح جتھوں کو جنم دیا جو اس کی رٹ کی نفی کر رہے ہیں۔ پاکستان کی دہشت گردی سے نپٹنے کی موجودہ پالیسی بھی عالمی سطح پر پذیرائی حاصل نہیں کر پائی۔ اس پس منظر میں پاکستان کو اپنا وقار بحال کرنے کے لئے دہشت گردی کے خلاف فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

اس وقت پاکستان میں معاشی ترقی کی رفتار پورے جنوبی ایشیا کے ممالک میں کمتر سطح پر ہے۔پاکستان میں براہ راست سرمایہ کاری دن بہ دن کم ہوتی گئی ہے۔ چین یا ترکی کے ساتھ ان گنت مفاہمی یادداشتیں کاغذی ثابت ہوئی ہیں۔ اس طرح کی یادداشتیں عوام کو خوش کرنے کے کام تو آسکتی ہیں لیکن ان سے زمینی حالات میں تبدیلی نہیں آتی اور زمینی حالات یہ ہیں کہ عالمی سرمایہ کار (مع چین و ترکی) پاکستانی ریاست کو متزلزل تصور کرتے ہوئے ایک ٹکہ بھی لگانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان میں آبادی کا بم سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ ان کے خیال میں اگر پاکستان میں آبادی اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو کسی طرح کی معاشی پالیسی کارگر ثابت نہیں ہو سکتی۔ یہ وہ روگ ہے جس کے بارے میں سابقہ یا موجودہ حکومتیں خاموش بے عملی کا شکار ہیں۔ غالباً اس کی وجہ ملک میں مذہبی حلقوں کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ ہے اور ہر حکومت بھی ان کا سامنا کرنے سے گریزاں ہیں لیکن آخر کب تک اس بنیادی مسئلے سے روگردانی کی جا سکتی ہے۔ آخر کار کسی نہ کسی حکومت کو تو اس کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں