.

حکومت کی قوت فیصلہ اورجنرل کیانی

ارشاد احمد عارف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہ ستمبر 1999کا قصہ ہے سینئر صحافیوں کا ایک وفد وزیر اطلاعات سید مشاہد حسین کی قیادت میں دوست ملک جمہوریہ چین میں عوامی حکومت کے قیام کی گولڈن جوبلی تقریبات میں شرکت کے لئے عازم بیجنگ تھا دوران پرواز الطاف حسین قریشی، رحیم اللہ ، یوسف زئی ،نصرت مرزا اور دیگر اخبار نویسوں نے مشاہد صاحب سے وزیر اعظم اور آرمی چیف کے مابین سرد مہری کے حوالے سے شائع ہونے والی اطلاعات کی حقیقت جاننا چاہی تو انہیں گمراہ کن قیاس آرائیاں قرار دے کر وزیر اطلاعات نے مجھے مخاطب کیا۔ گرائیں آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘ سینئر کا احترام ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے میں نے عرض کی ’’جو میاں صاحب چاہتے ہیں وہ آپ کے علم میں ہے اور جب میاں صاحب نے اپنی خواہش کو حقیقت کا روپ دیا سمجھو حکومت گئی ‘‘ مشاہد صاحب نے زوردار قہقہہ لگایا اور اپنی نشست پر براجمان ہو گئے۔

دراصل چند روز قبل میاں صاحب والد گرامی میاں محمد شریف اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ اپنے سرپرست بزرگ مدیر سے ملے تھے اور آرمی چیف کی تبدیلی پر تبادلہ خیال کیا تھا جس کا مجھے علم تھا بزرگ مدیر کے سمجھانے کے باوجود میاں صاحب پرویز مشرف سے گلو خلاصی پر بضد تھے وہ صدرسردار فاروق لغاری ،چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ اور آرمی چیف جہانگیر کرامت کے استعفوں کی ہیٹ ٹرک مکمل کر چکے تھے۔ بھاری مینڈیٹ کے علاوہ بے پناہ اعتماد نے انہیں ایک اور ایڈونچر پر مائل کیا تھا اور وہ ہرچہ بادا باد کی پالیسی پر گامزن تھے۔ اس گھریلو میٹنگ کی تفصیلات کا علم ہونے کی بنا پر میں باخبر وزیر اطلاعات کے سامنے اپنی رائے پر اصرار کرتا رہا۔ ذرائع ابلاغ ان دنوں وزیراعظم کی بے بسی، مظلومیت، دبائو اور 1998میں فاروق لغاری اور سجاد علی شاہ اور 1999میں آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کی من مانی، منتخب حکومت کی راہ میں ڈالی جانے والی رکاوٹوں اور اسٹیبلشمنٹ کی سازشوں سے بپھرے ہوئے تھے اور تان مرضی کے صدر، مرضی کے چیف جسٹس اور مرضی کے آرمی چیف پر ٹوٹتی تھی۔

جنرل اشفاق پرویز کیانی کی ریٹائرمنٹ کو ابھی ڈیڑھ ماہ پڑا ہے وہ ایک بار تین سالہ توسیع لے چکے ہیں اور بظاہر مزید تین سالہ توسیع کو شائد فوج قبول کرے اور نہ قوم مگر گزشتہ ایک ماہ سے اندرون و بیرون ملک ذرائع ابلاغ میں تواتر سے ایسی اطلاعات شائع ہو رہی ہیں جو اس جرنیل کی نیک نامی پر بٹہ لگانے کے مترادف ہیں جس نے موقع ملنے کے باوجود ایوب خان، یحییٰ خان، ضیاالحق اور پرویز مشرف کے نقش قدم پر چلنا گوارا کیا نہ دو انتخابات 2008اور 2013 میں اپنے کسی دوسرے اورا فسر کو مداخلت کی اجازت دی۔ این آر او کے ضامن وہ ضرور تھے مگر پرویز مشرف کو بچانے اور اس بدنام زمانہ آر ڈیننس کو برقرار رکھنے کے لئے انہوں نے کوئی دلچسپی نہیں لی اور جمہوریت کی محبت میں اس آشفتہ سرجرنیل نے زرداری گیلانی کے وہ قرض چکائے جو واجب بھی نہیں تھے ایک اے پی سی میں اس با وردی جرنیل نے ایسے ایسوں کی کڑوی کسیلی سنی جو عام حالات میں چھڑی دیکھ کر پتلون گیلی کر بیٹھتے ہیں۔

مگر ایک ماہ سے اس جرنیل کو توسیع کا طلب گار، عہدہ منصب کا خواہش مند اور امریکی مفادات کا محافظ ثابت کرنے کے لئے مہم کا آغاز ہوا اور وال سٹریٹ جرنیل اور رائٹر نے وہ کچھ لکھا کہ جو کسی بھی عزت دار شخص کے لئے ہرگز قابل برداشت نہ تھا۔ یہ خبریں، تبصرے، تجزیے کس کے ذہن کی اختراع ، فراہم کردہ مواد کا محاصل اور کس حکمت عملی کا حصہ تھیں۔ اقتدار کے کھیل اور میاں صاحب کے قریبی احباب کی افتاد طبع سے باخبر ہر شخص بخوبی جانتا ہے۔ اسلم بیگ، آصف نواز، جہانگیر کرامت، فاروق لغاری، اسحق خان اور سجاد علی شاہ اس پروپیگنڈا مہم کا نشانہ بنے اور جنرل پرویز مشرف کو بھی اس کا سامنا کرنا پڑا مگر فوج کے اجتماعی فیصلے نے بازی پلٹ دی کہ اب کسی دوسرے جرنیل کی بے توقیر رخصتی اسے قبول نہ تھی۔

جنرل پرویز کیانی نے اپنی ریٹائرمنٹ کا خود اعلان کر کے ایوان اقتدار میں پکنے والی دال کو دلیا بنا دیا۔ یہ ثابت کیا کہ اگر کوئی آرمی چیف اپنی افتاد طبع ادارے کی خواہش اور جمہوریت سے کمٹمنٹ کے سبب سول بالادستی قبول کرنے پر آمادہ ہو تو اسے قوت فیصلہ سے محروم، کمزور، بے اختیار اور بیوقوف نہ سمجھ لیا جائے۔ انہوں نے پہل اور پیش قدمی کا موقع حکومت کو نہ دیکر یہ باور کرایا کہ سول حکمران اہم فیصلے ادارہ جاتی مشاورت اور آئینی تقاضوں کے مطابق بروقت کرنے کی عادت ڈالیں اور ذاتی وفاداری، پسند و ناپسند، قرابت داری کے کلچر کو خیر باد کہیں کہ اب یہ ملک اس کا متحمل نہیں۔

دہشت گردی، لوڈشیڈنگ، روز افزوں مہنگائی اور بیروزگاری بے تحاشہ ناقابل برداشت اضافہ کی وجہ سے قومی سطح پر مایوسی، بے چینی اور ہیجان دو چند ہے۔ فیصل آباد میں حکومتی امیدوار کی ناکامی اس کا مظہر، فیصلہ سازی کے حوالے سے میاں صاحب کا ریکارڈ مثالی نہیں مگر اب جمودبھی اس عمل کا حصہ ہے ۔130 قومی ادارے سربراہان اور امریکہ و برطانیہ سمیت ایک درجن سفارتخانے سفیروں سے محروم ہیں۔ چیئرمین جائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کے تقرر میں تاخیر بھی اس کی مثال ہے ورنہ سارا ملک جانتا تھا کہ جنرل خالد شمیم وائیں 7اکتوبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔ جاتی عمرہ اور اسلام آباد کے طول ارض اجلاس بھی اب نمائشی لگتے ہیں ورنہ کوئی نتیجہ ضرور نکلتا۔ دینے دلانے میں فراخدل حکمران فیصلوں میں بخیلی شکار ہیں۔ اگر دیگر ممالک کی طرح پاکستان کے حکمران بھی فیصلے، دستور، قانون، قاعدے ، ضابطے کے تحت بروقت اور میرٹ پر کرنے کے عادی ہوں تو افواہیں پھیلیں نہ قیاس آرائیاں جنم لیں ہر کسی کو معلوم ہو کہ فلاں شخص کی ریٹائرمنٹ کے بعد فلاں کی باری ہے تو کوئی کسی کے کیوں پوچھتا پھرے کہ وزیراعظم کیا سوچ رہے ہیں، میاں شہباز شریف کس سے ملے اور حمزہ شہباز شریف، نثار علی خاں اور خواجہ آصف نے ناشتہ، عشائیہ، ظہرانہ کس کے ساتھ کیا۔ جاتی عمرہ میں کس نے حاضری دی اور جان کیری نے کس کی سفارش کی۔ ابہام حکمران خود پیدا کرتے ہیں جوئے بازوں کو شرطیں لگانے اور افواہ سازوں کو کنکوے اڑانے کا موقع دیتے ہیں اور پھر روتے ہیں کہ سول بالادستی قائم نہیں ہوتی۔

اگر چھ سال تک باوقار انداز میں ملازمت، سول حکومت کی تابعداری کرنے والے جرنیل کو یہ معلوم نہ ہو کہ اس کا مستقبل کیا ہے اس کا جانشین کون ہو گا اور وہ اپنی سپاہ کی باگ ڈور کسی سینئر شخص کو سونپ کر جائیں گے یا حکمرانوں کے وفادار کسی جونیئر کو تو ظاہر ہے کہ وہ اپنی صفائی میں بیان جاری کرکے ریٹائر ہو جائے گا اور حکمران اس کا منہ دیکھتے رہ جائیں گے۔ اچھی حکمرانی، بہتر کارگزاری، میرٹ پر فیصلے، عوامی حکومت، بے نفسی اور اخلاقی برتری کے بغیر سول بالادستی کی خواہش دیوانے کا خواب اور مجذوب کی بڑ ،زیادہ سے زیادہ دن میں خواب دیکھنے کی عادت، جہانگیر کرامت کی طرح خود آزمائش میں پڑے بغیر جنرل کیانی حکمرانوں کو امتحان گاہ میں بٹھا کر باعزت انداز میں رخصت ہو رہا ہے اب امریکی انخلا، عسکریت پسندوں سے معاملہ فہمی اقتصادی و معاشی بحالی اور جمہوریت کا تسلسل حکومت کا درد سر ہے۔ معلوم نہیں اگلا آرمی چیف کیا آرڈر آف دی ڈے جاری کرے گا۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.