آخر کار مک مکا ہو گیا

ایاز امیر
ایاز امیر
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

اس ملک کا ہر شخص جانتا تھا کہ پی ایم ایل (ن) اور اپوزیشن پی پی پی، جو ’’بدعنوانی سے پاک اس معاشرے کی درخشاں مثالیں‘‘ ہیں، کو نیب کے چیئرمین کے لئے کسی بے ضرر شخص کی خدمات درکار تھیں۔ اس دوران توانائی کے بحران، مہنگائی اور طالبان جیسے مسائل اور ریٹائرڈ ہونے والے آرمی چیفس کے عہدوں پر افسران کی تعیناتی جیسی اہم ذمہ داریوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان کی توجہ کا مرکز صرف نیب کے چیئرمین کا عہدہ تھا۔

اس عہدے کے لئے پہلے تو مختلف ریٹائرڈ جج صاحبان کے نام سامنے آئے لیکن جیسا کہ ہم سب جانتے تھے وہ محض دکھاوا تھا اور جب اصل نام سامنے آیا تو چوہدری قمر زماں تھے۔ اس پر میں مسکرائے بغیر نہ رہ سکا۔ اگر اس انتخاب پر کوئی بھی غور کرتا تو وہ بھی اپنی ہنسی نہ روک سکتا کیونکہ قمر زماں جنرل ضیا کے اے ڈی سی اور ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ سے تعلق رکھنے والے افسر جو نواز شریف کے پسندیدہ رہے ہیں اور اُنھوں نے ہمیشہ نوازشریف حکومت میں اعلیٰ عہدوں پر کام کیا ہے۔ تاہم اُن کے غیر معمولی لچکدار روئیے کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو گا کہ وہ زرداری دور میں بھی خود کو اعلیٰ پوزیشن پر رکھنے میں کامیاب رہے۔

دراصل چیئرمین نیب کے لئے دونوں جماعتوں میں پائی جانے والی تشویش اور فکر بجا تھی کیونکہ ان دونوں کا دامن صاف نہیں ہے ...اگر آصف زرداری کے خلاف مقدمات ہیں تو بھاری بھرکم مینڈیٹ رکھنے والوں کے ماضی سے بھی انواع و اقسام کے کیس سر اٹھاتے رہتے ہیں۔ ان کیسز کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اگر کوئی عدالت سنجیدگی سے ان کا احتساب کرے تو اگلے پانچ سال تک اس کے پاس سانس لینے تک کی فرصت نہ ہو۔ چنانچہ اس پس منظر میں کسی ’’درست چیئرمین ‘‘ کا انتخاب نہایت ضروری تھا۔

قمر زماں کے چنائو کے لئے جو سادہ مگر جامع لفظ استعمال کیا جا سکتا ہے، اُسے عوامی زبان میں ’’مک مکا ‘‘ کہتے ہیں۔ اس سلسلے میں حکومت اور اپوزیشن کی عملیت پسندی کی داد دینا پڑتی ہے۔ سابقہ حکومت کے دور میں پی ایم ایل (ن) سندھ سے تعلق رکھنے والے جسٹس دیدار حسین شاہ، اگرچہ وہ اچھی شہرت کے مالک تھے، کے ساتھ صرف اس لئے خوش نہیں تھی کہ اُن کو پی پی پی نے نامزد کیا تھا۔ اس کے بعد نواز لیگ نے ایڈمرل (ر) فصیح بخاری کو بھی ناپسند کیا حالانکہ وہ بھی ایک ایماندار انسان کے طور پر مشہور تھے اور ان کا ریکارڈ بھی صاف ستھرا تھا۔ بخاری صاحب کو پراپرٹی کے کسی معاملے میں ملوث کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن جب زور نہ چلا تو پھر چاروناچار قبول کرنا پڑا۔ اگرچہ پی پی پی اور پی ایم ایل (ن) کے نظریات مختلف ہیں لیکن احتساب کے معاملے میں وہ یک جان دوقالب ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ماضی کو کریدنا مناسب عمل نہیں ہے، چنانچہ ایسے معاملات پر ’’مٹی پائو ‘‘ ہی بہترین حکمت ملی ہے۔ ملکی دولت لوٹنے والوں کوگھسیٹنے اور رقم واپس لے کر لوگوں کو لوٹانے کے دعووں کو شاید ہی کسی نے سنجیدگی سے لیا ہو۔

انتخابات سے پہلے ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا تھا کہ جمہوری عمل کی آڑ میں بڑی جماعتوں کا مک مکا ہونے جا رہا ہے لیکن ہم سب نے اُن کا مذاق اُڑایا۔ یہ کہا گیا کہ وہ دفاعی اداروں کا کھیل کھیل رہے ہیں، کبھی کہا گیا کہ اُن کو پاشا صاحب سے ہدایات ملتی ہیں۔ کچھ کو خدشہ حقیقت کا روپ دھارتا ہوا محسوس ہوا کہ احتجاجی لانگ مارچ دراصل 111 بر یگیڈکا ’’ہراول دستہ ‘‘ ہے۔ ہماری دوست، اور ان مواقع پر خاموش رہنا بشری تقاضوں کے خلاف سمجھنے والی عاصمہ جہانگیر نے پنجاب اسمبلی کے سامنے کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ جمہوریت کو پٹری سے اتارنے کی اجازت نہیںدی جائے گی۔

یہ سب منظر ڈبل شاہ جیسے کسی دھوکے باز کی یاددلاتا ہے۔ عوام سے نہایت خوش کن اور دلفریب وعدے کئے گئے۔ بظاہر بہت ذہین افراد نے بھی دانائی سے رضاکارانہ دستبرداری اختیار کرتے ہوئے اس دھوکے باز پر اعتماد کا اظہار کر دیا ۔ جب ان لوگوں کو احساس ہو ا کہ وہ لٹ چکے ہیں تووہ چیخ اٹھے۔ تاہم ہمارے ملکی منظر نامے پر ایک ہی ڈبل شاہ نہیںہے۔ چند ماہ پہلے ایک مرتبہ پھر وہی ڈرامہ کسی اور شہر میں دہرایا گیا اور لوگ پھر دھوکے میں آگئے۔ سیاست میں بھی یہی ’’ڈبل شاہی‘‘ چلتی ہے۔ ہم بار بار اُنہی سیاست دانوں اور جماعتوں کے وعدوں کا اعتبار کرلیتے ہیں جن کے وعدوں کی حقیقت کو ہم اچھی طرح جانتے ہوتے ہیں۔ یہ رہنما ’’کھیلن کو چاند ‘‘ دینے کا دعدہ کر تے ہیں اور لوگ نہایت خندہ پیشانی سے اسے سچ مان لیتے ہیں۔ اس کے بعد اگلے چند سال چیخ و پکار میں گزر جاتے ہیںیہاں تک کہ انتخابات کا مرحلہ آجاتا ہے۔ اس کے ساتھ جیسا کہ قومی یادداشت کو کسی نے سحر زدہ کر دیا ہو، لوگ ایک مرتبہ پھر انہیں ووٹ دے کر اپنے اعتماد کا اظہار کر دیتے ہیں۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، تو یہاں ہمارے سامنے کوئی اور انتخاب نہیں ہے۔ یہی سیاست دان ہیں اور ہم ہیں۔ میں یہ بات بار بار کہہ چکا ہوں کہ نواز شریف حکومت کو پہلے بھی آزمایا جا چکا ہے اور یہ ایسے ہی ہیں۔ ان سے اس سے زیادہ بہتری کی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔ ان کے بعد ہمارے پاس پی پی پی اور عمران خان ہیں، یا پھر وہ جنرل ہیں جن کی مسیحائی کی صلاحیتوں سے ہم بخوبی آگاہ ہیں۔ چنانچہ میرا خیال ہے کہ حالیہ دنوں میں ہونے والا مک مکا برداشت کرنا چاہئے۔ کسی ذہین صحافی نے بریگیڈیئر (ر) ترمذی کی Profiles of Intelligence, کے کچھ اقتباسات کا حوالہ دیا ہے۔ میں نے یہ کتاب کئی سال پہلے پڑھی تھی اور میرا خیال تھا کہ اب تک لوگ اسے بھول چکے ہوںگے۔ اب اس صحافی کے پیش کردہ اقتباسات ظاہر کرتے ہیں کہ جنرل ضیا کے ایک ذہین اے ڈی سی (آپ نے نام کا اندازہ لگا لیا ہوگا)خفیہ طور پر مین پاور کا پرکشش کاروبار چلاتے تھے۔ مذکورہ بریگیڈیئر صاحب جو کئی سال آئی ایس آئی میں بھی فرائض سرانجام دے چکے ہیں، نے کچھ دلچسپ تفصیل بھی بیان کی ہے کہ کس طرح بھارتی سفارت کاروں کی خوبرو بیویاں سرخ مشروب (سفید کیوں نہیں ؟) پلاتے ہوئے کچھ سادہ لوح افسران کو شیشے میں اتارنے کی کامیاب کوشش کرتی تھیں۔ 1980 کی دہائی میں میرے بھی بہت سے بھارتی سفارت کاروں ، جیسا کہ پتوار دھان، رانگاچری، بنرجی، گپتا، سود ، روی نائر، سے دوستی تھی۔ ان سفارت کاروں کی بیویاں حسن و جمال کا مجسمہ تھیں۔

افسوس، مجھے تو کہیںسے سرخ ’’مشروب‘‘ کی مہک نہ آئی۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ مہک اُس وقت پاکستانی فضائوں میں اجنبی نہیں تھی، اگر سخت گیر فوجی آمریت کا راج تھا۔ اُس وقت کا پاکستان آج کے پاکستان، جس کی سرزمین پر طالبان کے قدموں کی دھمک اب صاف سنائی دے رہی ہے، سے کہیں زیادہ روشن خیال تھا۔ اب وہ صاحب ، جو اُن روشن زمانوں میں مین پاور کا بزنس چلاتے تھے، احتساب کرنے پر مامور کیے گئے ہیں۔ میری نیک تمنائیں اُن کے ساتھ ہیں۔

ملک کے سب سے بڑے بزنس مین کا نام چکوال میں درج ہونے والی ایک ایف آئی آ ر میں شامل ہے۔ اس معاملے میں ایک ڈی پی او بھی ملوث ہوگئے۔ کسی زمانے میں اپنی کارکردگی کی وجہ سے یہ ڈی پی او خادم ِ اعلیٰ کی ستائش کا حقدار بن چکا تھا لیکن اس مرتبہ وہ پکڑا گیا۔ اس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ یہاں کا ایس ایچ او اس سے بھی دوہاتھ آگے تھا۔ واقعہ یوں ہوا کہ چکوال کے ایک گائوں خیرپور کے ایک شخص نور محمد نے کہانی سنائی کہ تاریکی میں گمنام حملہ آوروں نے اُس پر فائرنگ کی ہے۔ اُس نے حملہ آوروں کا واضح نام تو نہیں لیا لیکن شبہ ظاہرکیا کہ اگر کسی کو اس کو اسے نقصان پہنچنے کا فائدہ ہو سکتا ہے تو وہ وہی کاروباری شخصیت ہے(نور محمد کا سیمنٹ فیکٹری کے ساتھ کچھ پرانا معاملہ تھا)۔ چنانچہ وہ کاروباری شخصیت، اُس کے بیٹے اور ڈی پی او کا نام لے دیا گیا۔

ایس ایچ او نے ڈی پی او کو بتا دیا کہ اُس کا نام آرہا ہے۔ اس پر ڈی پی او نے کہا کہ کچھ بھی کرو، میرا نام اس کیس سے الگ کر دو۔اُسے وہ ایف آئی آر تین مرتبہ پڑھ کر سنائی گئی کہ اس میں اُس کاروباری شخصیت اور اس کے بیٹے کا نام ہے۔ اگلے دن خبر دھماکہ بن چکی تھی ۔ ایڈیشنل آئی جی تفتیش کرنے پہنچ گئے۔ ڈی پی او اور ایس ایچ او نے ایک دوسرے کو مورد ِ الزام ٹھہرانے کی کوشش کی۔ روس کی سرخ فوج تھیٹر پر ڈانس کی مشق کیا کرتی تھی۔ پیپلز لبریشن آرمی کو بھی رقص و موسیقی سے دلچسپی تھی۔ اگر پنجاب پولیس بھی اس فن کا مظاہر ہ کرے تو کسی سے کم نہ ہو۔ بہرحال ہمارے ملک میں یہ فن اپنے عروج پر پہنچنے والا ہے۔ بہت جلد ’’رقص میں سارا جنگل ہو گا۔‘‘

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں