.

غیر یقینی صورتحال

ڈاکٹر ملیحہ لودھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیر اعظم نواز شریف اور منموہن سنگھ کے مابین ملاقات نے گزشتہ مہینوں میں دونوں ممالک کے مابین بڑھنے والی کشیدگی میں کمی کرنے میں مدد کی، اس کی وجہ سے لائن آف کنٹرول پر 2003 کی جنگ بندی کو معاہدے پر عملدرآمد پر اتفاق کیا گیا جو کہ دونوں ممالک کے مابین تنائؤ کی حالیہ وجہ ہے۔ لیکن یہ ملاقات باہمی تعلقات پر منڈلاتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کو ختم نہ کرسکی۔ جامع مذکرات کے حوالے سے بھارت کے رضامند نہ ہونے سے ظاہر ہے کہ آئندہ سات ماہ کے بعد جب تک بھارت میں مئی 2014 میں عام انتخابات نہیں ہوجاتے غیریقینی کی اس صورتحال میں کمی ہونے کے بجائے اضافہ ہوگا۔ یہ غیر یقینی صورتحال پہلے ہی خوف کے ماحول میں تعلقات کو مزید خراب کر سکتی ہے۔ تسلسل کے ساتھ کی جانے والی سفارتی کوششیں اکثر اس طرح کی صورتحال کے تدارک میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ پاکستان کو بھارت سے تعلقات تسلسل اور سنجیدگی کے ساتھ معمول پر لانے کیلئے بھارت کے انتخابی موسم کے ختم ہونے کا انتظار کرنا ہوگا۔ دونوں جانب سے29 ستمبرکو نیویارک میں ہونے والی ملاقات کے حوالے سے توقعات بہت زیادہ نہیں تھیں، جس کے بعد دونوں وزرائے اعظم نے اپنے متعلقہ ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپرشینز (ڈی جی ایم اوز) کو مل کر لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی تحقیقات کیلئے طریق کار وضع کرنے کے احکامات جاری کئے تاکہ آئندہ اس قسم کے واقعات سے بچا جاسکے۔ جنوری سے شروع ہونے والی سرحدی جھڑپیں بھارت اور پاکستان دونوں اطراف کے فوجیوں جانیں لے چکیں ہیں، بھارت نے پاکستان پر اس دوران لائن آف کنٹرول کی 150 مرتبہ خلاف ورزی کا الزام عائد کیا جبکہ پاکستان کی جانب سے بھارت پر جنوری سے لائن آف کنٹرول کی 286 مرتبہ خلاف وزری کرنے کا موقف اختیار کی گیا۔

نیویارک میں بھارت نے دیگر معاملات پر جامع مذاکرات کی بحالی کیلئے لائن آف کنٹرول پر امن کو پیشگی شرط قرار دیا، جو کہ بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر شنکر مینن کی جانب سے میڈیا کو دی جانے والی بریفنگ میں بھی عیاں تھا، جب انہوں نے یہ کہا کہ تعلقات کو آگے لے جانے کیلئے لائن آف کنٹرول پر صورتحال میں بہتری پیشگی شرط ہے، بھارتی صدر نے بھی یہ پیشگی شرط دہرائی۔
اس موقف نے جامع مذاکرات کی جلد بحالی کو مسترد کردیا جس کیلئے اسلام آباد کی جانب سے نوازشریف کے اقتدار میں آتے ہی کوششیں سرگرم ہوگئی تھی۔ ماسوائے فوجی حکام کی ملاقاتوں کے نیویارک ملاقات میں آئندہ ماہ میں سفارتی رابطوں پر اتفاق نہیں کیا جاسکا۔ اگر پاکستان شرکت کا فیصلہ کرے تو نومبر میں دہلی میں ہونے والے کثیرالاقومی وزراء کے اجلاسوں جیسے اے ایس ای ایم(ایشیا یورپ فورم) میں اعلیٰ سطح پر رابطوں کا ایک موقع ملے گا۔ حالانکہ پس پردہ رابطوں کے جاری رہنے کی توقع ہے تاہم باضابطہ ملاقات کا سفارتی وقفہ اگلے سال تک جاری رہے گا۔

بھارتی میڈیا کی جانب سے نیویارک میں ہونے والے پاک بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات کو غیر اہم طور پر دکھایا گیا جیسے کہ یہ کوئی بات ہی نہ ہو جبکہ ملاقات اہم تھی چاہے اس کا نتیجہ مختصر ہی کیوں نہ ہو۔ مذاکرات میں تقریباً تمام ہی مسائل سمیت تمام تکلیف دہ امور پر گفتگو ہوئی جو کہ دونوں ممالک کو تقسیم کردیتے ہیں۔ حالانکہ دونوں فریقین نے اپنا دیرینہ موقف دہرایا لیکن ان مسائل پر اعلیٰ ترین سطح پر سفارتی رابطہ اہم تھا۔ وزیراعظم منموہن سنگھ کا مرکز نگاہ لائن آف کنٹرول کے واقعات کے علاوہ دہشت گردی اور ممبئی حملوں کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانا تھا جبکہ وزیراعظم نے پاکستان پر دہشت گردی کے الزام عائد کئے جانے کے بجائے، جس کا شکار پاکستان خود بھی ہے، واضح طور پر تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیراعظم نوازشریف نے اپنے بھارتی ہم منصب سے سادہ لفظوں میں بلوچ عسکریت پسندوں کی بھارتی حمایت کا معاملہ حل کرنے اور انہیں اس حوالے سے پاکستان کے خدشات سے آگاہ کیا۔ کہا جاتا ہے کہ منموہن سنگھ نے اس موقف کو مسترد کردیا لیکن وزیراعظم نوازشریف کے اصرار پر دونوں ممالک کے مشیر قومی سلامتی کو ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کرکے باہمی خدشات دور کرنے کا کام سونپنے پر اتفاق کیاگیا۔ وزرائے اعظم کی گفتکو محض اس تک محدود نہیں تھی۔ وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر، سیاچن، سرکریک اور پانی کے مسئلے کو حل کرنے کا مطالبہ کیا اور نشاندہی کی کہ ان تنازعات کو حل کئے بغیر پیشرفت نہیں ہو سکتی۔ کشمیر کے مسئلے پر بھارتی وزیراعظم نے نئی دہلی کا دیرینہ موقف دہرایا کہ سرحدوں میں تبدیلی نہیں ہو سکتی بلکہ لائن آف کنٹرول کو بھی غیر متعلق قرار دینا چاہئے۔

ملاقات میں معیشت اور تجارتی تعلقات پر بھی بات ہوئی جسے دونوں ممالک تقویت دینے کیلئے بے تاب ہیں، جب منموہن سنگھ نے پاکستان کی جانب سے بھارت کو انتہائی پسندیدہ قوم (ایم ایف این) کا درجہ دیئے جانے میں تاخیر کا معاملہ اٹھایا تو وزیراعظم نے نشاندہی کی جب مذاکراتی عمل ہی تعطل کا شکار ہے تو پھر اس حوالے سے پیشرفت بھی سُست روی کا شکار ہے۔

لیکن نواز شریف نے وزیراعظم منموہن سنگھ کو بتایا کہ زراعت اور صنعت کے جن گروپس کو پاکستان کی جانب سے بھارت کو ایم ایف این درجہ دیئے جانے کے باعث ممکنہ طور منفی اثرات مرتب ہونے کے خدشات ہیں انہیں دور کرنے کیلئے انہوں نے وزارتوں کو احکامات جاری کئے تھے۔ توانائی کے شعبے میں تعاون میں سست روی کو بھی وزیراعظم نوازشریف نے بھارت کی جانب سے سست روی کا شاخسانہ قرار دیا۔

اگر اس گفتگو سے آئندہ وارد ہونے والے چیلنجز کیلئے کوئی یکساں سطح نہ ملی جس میں دوطرفہ مسائل اور منقسم ترجیحات اور موقف جدا ہیں تو پھر پاک بھارت مذاکراتی عمل کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھنا شروع ہوجائیں گے۔ ایک کلیدی سوال یہ ہے کہ آیا تعلقات میں بحالی کیلئے بھارت کا طرز فکر مشروط ہی رہے گا، موجودہ حالات اور ماضی قریب میں بھی یہی صورتحال رہی ہے۔ مثال کے طور پر دہلی نے نومبر2008میں سانحہ ممبئی کے نتیجے میں مذاکرات معطل کردیئے تھے، یہ سفارتی جمود مارچ 2011 تک جاری رہا، اس عرصے کے دوران بھارت مذاکرات کی بحالی کیلئے پیشگی شرط کے طور پر پاکستان سے ممبئی کیس پر کارروائی کا مطالبہ کرتا رہا پھر بھارت کی جانب سے موقف تبدیل ہونے کے بعد ہی مذاکرات کا سلسلہ بحال ہوا اور اس سلسلے میں جامع مذاکرات کا تیسرا دور گزشتہ برس شروع ہوا جسے بھارت نے 2013 کے اوائل میں ایک مرتبہ پھر معطل کردیا۔

اس وقت سے دہلی پاکستان کی جانب سے باضابطہ مذاکرات کی پیشکش پر تواتر سے انکار کر رہا ہے۔ مذاکرات کی بحالی کیلئے پیشگی شرائط رکھنا ایک ایسا سفارتی موقف ہے جس پر بھارت ماضی میں بھی قائم نہ رہ سکا اور مستقبل میں بھی ایسا ہی ہو گا۔ یہ رویہ خود شکستہ بھی ہے کیونکہ اس سے مراد ہے کہ بھارت کی جانب سے مذاکرات کے ذریعے قدرے آسان مسائل جیسے تجارت اور عوامی سطح پر رابطوں کا ہدف طے کئے گئے تھے، انہیں بھارت خود ایک طرف کررہا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ بھارت اپنے انتخابی ماحول کی وجہ سے مذاکرات کو مشروط بنارہاہے لیکن اگر انتخابات کے بعد بھی دہلی کی ترجیح اِسی قسم کا سفارتی طرز عمل رہا تو پھر یہ بامعنی پیشرفت اور تسلسل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے عمل کو روک دے گا۔

دوسرے غیر یقنی پہلو بھی دونوں ممالک کے تعلقات پر منڈلارہے ہیں، جن میں سب سے اہم یہ ہے کہ جب بھارت پر نریندر مودی مطلق العنان ہوں گے تو وہ پاکستان کے حوالے سے کیا طریق کار اپناہیں گے۔ بھارت کے کئی تجزیہ کاروں نے ہندو قوم پرست جماعت بھارتی جنتا پارٹی(بے جے پی) کی انتخابات میں مکمل فتح کے امکانات کو مسترد کردیا ہے جس کی جانب سے وزارت عظمیٰ کیلئے انہیں کو نامزد کیا گیا ہے لیکن نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے امکانات کو ابھی کم گردانہ نہیں جا سکتا۔

اپنے ہی ملک میں سیاسی طور پر منقسم کردینے والی شخصیت کے طور پر ابھرنے والے نریندر مودی اسلام آباد کو ایک نئی مشکل سے دوچار کریں گے۔ نومبر کے اوائل اور دسمبر میں بھارت کی 5 ریاستوں میں ہونے والے انتخابات بھارت کے قومی رجحان کا پتہ دیں گے اور دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی انتخابی طاقت کے حوالے سے پہلے ہی نشاندہی کردیں گے۔ اگر بے جے پی ان ریاستوں میں جیت کے جھنڈے گاڑنے میں کامیاب ہو جائے جو اس وقت گانکریس کے پاس ہیں تو پھر اس کے2014 کے انتخابات جیتنے کے امکانات کو تقویت ملے گی۔ اسلام آباد نے ماضی میں بی جے پی کی حکومت سے معاملات طے کئے ہیں، کچھ لوگ دلائل دیں گے کہ بھارت سے تعلقات استوار کرنا اُس وقت بہتر ہوگا جب اس کی قیادت ایک، دائیں بازو کی حکومت کے ہاتھ میں ہو اور جو سخت فیصلے اور سفارتی سمجھوتے کرنے کے قابل ہو۔ لیکن کیا نریندر مودی اس رجائیت پسندانہ نقطہ نظر کی حمایت کریں گے ابھی اس حوالے سے کئی سوالات ہیں اور کچھ معلوم نہیں۔

موجودہ منظر نامے کے مطابق مستقبل قریب میں پاک بھارت تعلقات غیر یقینی کی حدود میں نظر آ رہے ہیں۔ اگر لائن آف کنٹرول پر امن لانے کیلئے باہمی کوششیں کی جائیں تو اس غیریقینی اور عدم استحکام کے خطرات میں کمی واقع ہو سکتی ہے، واقعی یہ ہدف قابل ترجیح ہے۔ لیکن اتناہی ضروری دہلی کی جانب سے ملک میں اور بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کے خلاف زبانی حملے روکنا بھی ہے۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.