.

ملالہ کا اونچا قد!

مجیب الرحمٰن شامی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ملالہ کا نام نوبل انعام کے لئے نامزد ہوا، لیکن اسے اس کا اولین حقدار نہ سمجھا گیا۔ یہ کیمیائی ہتھیاروں کے خلاف کام کرنے والے ایک ادارے کے سر سجا دیا گیا۔ملالہ کو اس کا کوئی ملال نہیں، اس نے یہ کہہ کر اطمینان کا اظہار کر دیا کہ جس کو مستحق سمجھا گیا، اس کا استحقاق فی الواقع زیادہ تھا۔نوبل انعام کمیٹی کے چیئرمین نے بھی یہ کہنا ضروری سمجھا کہ ملالہ کو آئندہ سال نامزد کیا جا سکتا ہے، گویا اس کے لئے اعزاز حاصل کرنے کا یہ پہلا موقع تو تھا، آخری نہیں۔ایک 16سالہ لڑکی کے لئے یہ بھی کچھ کم نہیں تھا کہ اسے اس عالمی ایوارڈ کے لئے نامزد کیا جائے ۔جب یہ خبر آئی تو بعض دوست اسے لے اڑے، اسے ایک سازش قرار دیا جانے لگا اور یہاں تک کہہ دیا گیا کہ روس کے صدر پیوٹن نے شام پر امریکی یلغار روک کر امن عالم کی جو خدمت انجام دی ہے اور جس طرح خود کو اس انعام کا حقدار ثابت کیا ہے، اس کو سبوتاژ کرنے کے لئے ملالہ کا نام آگے لایا گیا ہے۔مغرب ملالہ کے ذریعے پیوٹن پروار کرنا چاہتا ہے اور اس کی حیثیت ایک آلہ ءکار سے زیادہ کچھ نہیں.... اور بھی شوشے چھوڑے گئے، لیکن کرنا خدا کا یہ ہوا کہ ملالہ کا معاملہ مو¿خر ہوگیا۔اس کا اقدام جو دنیا بھر کو اپنی طرف متوجہ کر گزرا تھا اور جو دنیا بھر سے مسلسل خراجِ تحسین حاصل کررہا تھا، نوبل پرائز تک نہ پہنچ سکا۔اس پر عزیزم شاہد اللہ شاہد کو ،جو پاکستانی طالبان کے ترجمان کہلاتے ہیں، بہت خوشی ہوئی ہے اور وہ خدا کا شکر بجا لائے ہیں کہ یہ ”سامراجی سازش“ پہلے مرحلے ہی میں ناکام ہوگئی۔

شاہد میاں کی مسرت تو کچھ نہ کچھ جواز رکھتی ہوگی کہ ملالہ کا نام طالبان کی ضد کے طور پر سامنے آیا۔ اس نے اپنا تعلیم کا حق سرنڈر کرنے سے انکار کیا اور اس کے لئے گولی تک کھالی ، لیکن ان حلقوں کے اطمینان کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آ رہی جو تعلیم پر لڑکیوں کا حق بھی تسلیم کرتے ہیں اور خود کو پاکستانی طالبان سے منسوب کرنے والے بعض افراد سے بھی دور رکھتے ہیں۔ ایسے حضرات بہت کم ہیں، لیکن موجود بہرحال ہیں۔پاکستانی قوم کی بھاری اکثریت ملالہ کونوبل انعام ملنے کے امکان پر بہت خوش تھی اور اسے پورے پاکستان کا اعزاز سمجھ رہی تھی۔وزیراعظم نوازشریف اور عمران خان میں اور جو بھی فاصلہ ہو، اس معاملے میں دونوں یک آواز ہوئے ہیں کہ ملالہ پاکستان کا فخر ہے اور ہماری بچیوں کے لئے رول ماڈل کی حیثیت اختیارکر گئی ہے۔پیپلزپارٹی سے لے کر مسلم لیگ (ق) اور ایم کیو ایم نے بھی ملالہ کو اپنی متاع قرار دیا ہے، اور یہ سب جماعتیں مل کر پاکستانی قوم کا انتہائی غالب حصہ بن جاتی ہیں، ان کے ہم خیالوں کو ملا لیا جائے تو محتاط الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ 90 سے 95 فیصد لوگوں کی حمایت ان کو حاصل ہے۔

ایک، دو یا تین فیصد عناصر ایسے ہو سکتے ہیں، جنہیں ملالہ ایک آنکھ نہیں بھا رہی اور وہ کبھی ایک بہانے کبھی دوسرے بہانے اس کی شخصیت کو کم تر ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں.... کبھی کہا جاتا ہے کہ ملالہ نے کوئی ادارہ نہیں بنایا، کبھی کہا جاتا ہے کہ اس طرح کی کئی ملالہ ہمارے ہاں موجود ہیں، کبھی یہ کوڑی لائی جاتی ہے کہ ملالہ کے ساتھ کوئی سنگین حادثہ نہیں ہوا۔ایک عام پاکستانی کے لئے یہ سمجھنا مشکل ہو رہا ہے کہ ملالہ کی پذیرائی میں قوم کی رسوائی کہاں ہے؟ ہماری ایک بچی جو اپنی وضع قطع ،چال ڈھال، بودوباش میں ہماری ثقافت کی بھرپور نمائندگی کررہی ہے، جب دنیا بھر کی بچیوں کو تعلیم دلانے کی بات کرتی ہے، ان کے لئے فاﺅنڈیشن قائم کرتی ہے،عالمی رہنماﺅں سے ملتی ہے، امریکی صدر اور ان کے اہل خانہ کو اپنے خیالات سے آگاہ کرتی ہے، ڈرون حملوں پر احتجاج کرتی ہے ، گورڈن براﺅن کے ساتھ مل کر ”تعلیم سب کے لئے“ کا نعرہ دُہراتی ہے تو پاکستانیوں کا قد چھوٹا کیسے ہو جاتا ہے؟

ملالہ نے کوئی سیاست نہیں کی،کسی جماعت کا ایجنڈا نہیں اپنایا، کسی سیکولر لابی کی ترجمانی نہیں کی،اس نے اپنا حق طلب کیا۔ وہ حق جو اللہ اور اس کے رسول نے اس کو دیا ہے۔ تعلیم حاصل کرنے کا حق کہ فرمایا گیا طلب علم ہرمسلمان پر فرض ہے، اس حق کو کبھی مردوں کے لئے خاص نہیں کیا گیا۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ جیسا عالم تو اجل صحابہؓ میں بھی خال خال ہی موجود تھا۔ان کے عظیم الشان خطبے اور ان کے فقیہانہ نکات تو آج بھی اہل دل کو گرماتے اور اہلِ دانش کو برماتے ہیں۔ملالہ نے انتہائی مشکل حالات میں اپنا حق مانگا،خوف میں مبتلا ہونے سے انکار کیا، اپنی آواز دنیا تک پہنچائی، اسے دور دور تک سنا گیا۔ اس آواز، اس احتجاج، اس للکار، اس انداز اور اس ”مردانگی“ نے اسے ایک ایسا پیکر عطا کردیا، جو کسی اور بچی تو کیا، بڑے کو بھی نصیب نہیں ہوا تھا۔

یہ درست ہے کہ بہت سی بچیوں کو نشانہ بنایا گیا، بہت سوں کو مار ڈالا گیا، بہت سوں کو یتیم بنا ڈالا گیا، لیکن یہ بھی درست ہے کہ ملالہ کی طرح کوئی میدان میں نہیں اترا۔اپنے قلم کو جہاد کا پرچم کسی اور نے نہیں بنایا۔جب اسے نشانہ بنایا گیا تو انسان جہاں جہاں بھی تھے تڑپ اٹھے .... کہ آج بھی عالمِ انسانیت انسانوں سے خالی نہیں ہوا۔ملالہ نے اپنے ساتھ ساتھ اپنے ہم وطنوں کا قد بھی اونچا کردیا ہے، وہ اس پر خوش ہیں ۔ اس کے جس جس ناقد کی نگاہ میں جو جو بھی مظلوم ہے، اسے اس بچی سے حوصلہ پا کراس کے لئے اپنی آواز بلند کرنی چاہیے۔ طالبان سے تعلق کا دعویٰ رکھنے والوں کو بھی جائزہ لینا چاہیے کہ کس نے کس کس طرح ان کو نقصان پہنچایا ہے، ان کا غصہ ملالہ پر نہیں ، اس ہاتھ پر نکلنا چاہیے، جس کی چلائی ہوئی گولی نے خود ان کو نشانہ بنا ڈالا ہے۔ملالہ تو ہم سب کی پہنچ سے دور نکل چکی، اب اسے چھوٹا نہیں کیا جا سکتا، لیکن اسے چھوٹا کہہ کر اپنے آپ کو چھوٹا بنانے سے تو بچا جا سکتا ہے۔

بشکریہ روزنامہ 'پاکستان'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.