.

اگر ملالہ یوسفزئی نوبیل انعام جیت جاتیں

تنویر قیصر شاہد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وطن عزیز کی عالمی شہرت یافتہ بیٹی ملالہ یوسفزئی، جسے ظالمان نے صفحہ ہستی سے مٹانا چاہا، امن کا نوبیل انعام حاصل نہ کر سکیں۔ ملالہ نے دنیا بھر میں امن اور تعلیم کا پرچم لہرا کر پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔ محترمہ بینظیر بھٹو کی طرح وہ پاکستان کی دوسری قابل احترام خاتون ہیں جنہوں نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے گیارہ اکتوبر 2013ء کی شام بجا کہا کہ ملالہ پاکستان کے لیے قابل فخر اور قوم کا بیش بہا اثاثہ ہیں۔ سوات کے مرغزاروں میں جنم لینے والی اس بچی نے گذشتہ ایک برس میں دنیا کے بڑے بڑے میڈلز اور انعامات جیت کر اپنے وطن کو قابل قدر اور قابل اعتبار بنایا ہے۔ امید تو یہی تھی کہ وہ اپنے مضبوط پس منظر کے باعث امن کا نوبیل انعام جیت جائیں گی لیکن ان کی نوعمری اور کمسنی آڑے آ گئی لیکن یہ اعزاز بھی کیا کم ہے کہ ملالہ 289 امیدواروں میں سرفہرست تھیں۔

اسے ہم اپنی بد نصیبی ہی کہیں گے کہ آج تک عالم اسلام کے جتنے بھی افراد کو نوبیل انعام سے نوازا گیا ہے ، ان کا اپنے ملک میں خاطر خواہ عزت و احترام نہ کیا گیا۔ انھیں دشنام اور مختلف النوع تہمتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ مثال کے طور پر جب پاکستان کے ڈاکٹر عبدالسلام کو 1979ء میں فزکس کے نوبیل انعام سے نوازا گیا تو پاکستان آمد پر انھیں گالیاں دی گئیں۔ پنجاب یونیورسٹی میں ان کے ساتھ جو سلوک کیا گیا، وہ کسی بھی طرح قابل ستائش نہیں تھا۔ کہا گیا تھا کہ ڈاکٹر عبدالسلام کا علمی کارنامہ کوئی نہیں تھا، انھیں محض یہودی لابی کی سفارش پر نوبیل انعام سے نوازا گیا تا کہ جمہور مسلمانوں کو نیچا دکھایا جا سکے۔ یہ بھی کہا گیا کہ ڈاکٹر عبدالسلام چونکہ احمدی اور قادیانی ہیں اس لیے وہ قابل احترام و قابل ستائش نہیں۔ مصر کے عالمی شہرت یافتہ ادیب ڈاکٹر نجیب محفوظ کو 1988ء میں ادب کا نوبیل انعام دیا گیا۔ انھیں اپنے وطن میں کس نظر سے دیکھا گیا، یہ جاننے کے لیے ایک مثال ہی کافی ہے۔ مصر کے شدت پسندوں اور مجاہدینِ اسلام نے ڈاکٹر نجیب محفوظ پر قاتلانہ حملہ کر دیا۔

ایک اسلامی تنظیم کا کا رکن تیز دھار خنجر سے ان پر حملہ آور ہوا۔ اس حملے میں ڈاکٹر صاحب کی جان تو بچ گئی لیکن ان کے دائیں بازو اور گردن پر خنجر کا وار اتنا گہرا تھا کہ نجیب محفوظ کا پھر ساری زندگی دایاں بازو مفلوج ہی رہا۔ یاد رہے حملہ آور اسی شدت پسند تنظیم کا کارکن تھا جس اسلامی تنظیم کے ایک کارکن (خالد اسلامبولی) نے مصری صدر انورالسادات کو شہید کر ڈالا تھا۔ ڈاکٹر نجیب کا معرکۃ لآراء ناول Children of Gebelawi (جسے عربی زبان میں ’’اولاد حارتنا‘‘ کا نام دیا گیا تھا) انھیں نوبل لاریٹ بنانے کا باعث بنا۔ مصر کے اخوان المسلمین اور شیخ عمر عبدالرحمٰن کا خیال تھا کہ اس ناول میں اسلام کا مذاق اڑایا گیا ہے لیکن جامعہ ازہر نے اس فتوے سے اتفاق نہیں کیا تھا۔ ایران کی مشہور عالم قانون دان ڈاکٹر شیریں عبادی کو 2003ء میں امن کا نوبیل انعام دیا گیا تو ایرانی مذہبی حکومت ان سے ناراض ہو گئی۔ ڈاکٹر شیریں عبادی نوبیل انعام پانے کے بعد جب وطن واپس آئیں تو تہران کے مہر آباد ائرپورٹ پر کسی ادنیٰ سے سرکاری اہل کار نے بھی ان کا استقبال نہ کیا۔

ائرپورٹ پر ڈاکٹر صاحبہ کے بچے اور چند ایک نہایت قریبی عزیز ہی ان کے استقبال کو آئے تھے۔ ایرانی حکومت کو رنج تھا کہ ڈاکٹر شیریں کو نوبیل انعام دے کر مغرب نے اس کا سر جھکایا ہے کہ شیریں عبادی نے اپنے ملک میں ہمیشہ اس تہی دست اور مظلوم طبقے کی قانونی دستگیری کی جس نے ایرانی حکومت کی کسی نہ کسی شکل میں مخالفت کرنے کی جرأت و جسارت کی تھی۔ ڈاکٹر صاحبہ کو ایران میں بدنام کرنے کا ہر سرکاری حربہ استعمال کیا گیا ہے۔ شیریں عبادی ایران کی اکثریتی آبادی کی طرح شیعہ ہیں لیکن انھیں بے توقیر کرنے کے لیے ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی (IRNA) نے اگست 2008ء میں ایک آرٹیکل شایع کیا جس میں الزام عائد کیا گیا کہ شیریں عبادی ’’بہائی‘‘ فرقے سے تعلق رکھتی ہیں۔ انھیں مزید ٹارچر کرنے کے لیے 29 دسمبر2009ء کو ان کی ہمشیرہ (نوشین عبادی) کو کچھ عرصہ کے لیے زیر حراست بھی رکھا گیا حالانکہ نوشین کا سیاست سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا۔

لیکن یہ افسوسناک داستان یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔ ترکی کے مشہور ادیب اورہان پامک کو 2006ء میں ادب کے بلند اور بے مثل نوبیل انعام سے نوازا گیا تو ’’جدید‘‘ ترک حکمران پامک سے شدید ناراض ہو گئے۔ ترک حکمرانوں، جو اپنی نام نہاد روشن خیالی کے باعث خاصے محترم گردانے جاتے ہیں، کو شک تھا کہ انعام کمیٹی نے پامک کو ادب کا نوبیل انعام دے کر ترکی کے خلاف سازش کی ہے۔ جس ناول (انگریزی میں SNOW اور ترکی زبان میں KAR) کی بنیاد پر پامک صاحب کو نوبیل انعام کا حقدار سمجھا گیا، اس میں ماضی بعید کے حوالے سے آرمینیا کے عوام سے پرانے ترک حکمرانوں کے غیر مناسب سلوک کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اس باعث موجودہ ترک حکمرانوں نے پامک کو گردن زدنی خیال کیا لیکن عالمی خوف سے وہ ناول نگار کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔ واضح رہے اورہان پامک کا لکھا گیا لٹریچر دنیا کی ساٹھ زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آج تک ان کی ایک کروڑ دس لاکھ کتابیں فروخت ہو چکی ہیں۔ اس کے باوجود موجودہ ترک حکمرانوں کے نزدیک وہ قابل تعریف و ستائش نہیں۔ جناب پامک کا کہنا ہے کہ موجودہ ترک حکمران خصوصاً طیب اردگان آمروں سے بدتر ہیں۔ پامک کا یہ جملہ جون 2013ء کو اس وقت منظر عام پر آیا جب ترکی میں ’’غازی پارک‘‘ کا بحران شدت اختیار کر گیا تھا ۔

بنگلہ دیش عالم اسلام کا واحد ملک ہے جس کے ایک لائق فائق فرزند کو 2006ء میں نوبیل انعام ملا تو سارے ملک میں خوشیاں منائی گئیں اور ایک دن کے لیے سارے بنگلہ دیش میں سرکاری چھٹی کی گئی۔ بنگلہ دیش کے اس فرزند کا نام ہے پروفیسر محمد یونس۔ وہ عالمی شہرت یافتہ بینکر اور ماہر معیشت ہیں۔ انھوں نے ’’گرامین بینک‘‘ بنا کر بنگلہ دیش کے عسرت زدہ کروڑوں افراد کی جس نہج پر مدد کی، اس کا شہرہ ساری دنیا میں ہوا۔ اسی کے اعتراف میں انھیں نوبیل انعام کا حقدار قرار دیا گیا لیکن بنگلہ دیش میں ڈاکٹر یونس صاحب کے حوالے سے منائی گئی خوشیاں محض چند روزہ ثابت ہوئیں۔ جلد ہی بنگلہ دیش کے ملاؤں نے ان کے خلاف جلسے جلوس نکالنے شروع کر دیے، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ ڈاکٹر یونس سو د کا ظالمانہ کاروبار کر رہے ہیں اور ان کا ’’گرامین بینک‘‘ دراصل اسلام کے خلاف امریکا و مغرب کا آلہ کا ر ہے۔

سات اکتوبر 2013ء کو طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے اپنے ایک ویڈیو انٹرویو میں کہا: ’’ملالہ یوسفزئی جعلساز ہے۔ اسے دوبارہ نشانہ بنائینگے۔‘‘ رہی سہی کسر جے یو آئی (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق صاحب نے پوری کر دی۔ انھوں نے آٹھ اکتوبر 2013ء کو اپنے مدرسے جامعہ حقانیہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا: ’’ملالہ یوسفزئی کو اسلام دشمن قوتوں نے ہائی جیک کر لیا ہے۔‘‘ اس منظر میں اگر ملالہ کو امن کے نوبیل انعام سے نوازا جاتا تو ہمارے ہاں ان لوگوں کی کمی نہ تھی جو اس انعام کو اسلام اور پاکستان کے خلاف ’’عظیم سازش‘‘ قرار دینے سے باز نہ آتے۔ شکر ہے ملالہ مغرب و امریکا کی ’’ایجنٹ‘‘ ہونے کے فتوے سے بچ گئیں۔

بشکریہ روزنامہ 'ایکسپریس'

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.