.

عوام کی عدالت میں

انجم نیاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستانی رہنما اپنے بارے میں حقائق افشا ہونے سے اتنا کیوں گھبراتے ہیں؟وہ ہمیں اپنے بظاہر شائستہ انداز سے دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیا پاکستان کے موجودہ یا سابقہ صدور یاوزرائے اعظم اپنے وزرائے اعلیٰ، وزرا یا اعلیٰ عہدوں پر تعینات افسران کا انتخاب محض صلاحیت کی بنیاد پر کرتے ہیں یا ایسا کرتے ہوئے اُن افراد کی ملکوتی صلاحیتوں کی ایسی پرکھ کر لیتے ہیں جس سے عام انسان نا بلد رہتے ہیں؟کیا وہ حادثاتی طور پر اقتدار میں آئے ہوتے ہیں یا کوئی ’’خفیہ ہاتھ ‘‘ان کی معاونت کرتا ہے؟کیا اس کام میں دولت کارفرما ہوتی ہے یا پھر کسی کو ان کے’’شہید ‘‘والد یا بیوی کی غائبانہ تائیدحاصل ہوتی ہے؟

برائے مہربانی اکتاہٹ کا اظہارکرتے ہوئے یہ مت کہیں کہ ہمیں سب پتہ ہے کہ وہ اس مقام تک کیسے پہنچے ہیں۔ اگر آپ سب کچھ جانتے ہیں تو کیا ابھی بھی وقت نہیں آیا کہ ہم ان ’’طے شدہ اصولوں ‘‘ میں تبدیلی کا مطالبہ کریں؟اس مقصد کے لیے جلسے جلوس نکالنا حماقت کے زمرے میں آتا ہے۔ اگر عوامی سطح پر رہنماؤں سے براہِ راست سوال وجواب ہوں تو پھر پتہ چلے گا کہ وہ کیا کہتے ہیں ۔ شاید ان میں سے بہت سے رہنما بتائیں گے کہ وہ عام افراد تھے اور شاید یہ بھی ان کے منہ سے نکل ہی جائے کہ پھر اُنھوں نے کس طرح دولت کی دیوی کو خود پر مہربان کیا اور ہماری قسمت کے دیوتا بن بیٹھے۔ اگر اس دوران رہنماؤں کے تقریر نویسوں اور منسٹر ی آف (ڈس) انفارمیشن کے خوشامدیوں کو خاموش رکھاجائے تو پھر’’ عظیم عوامی رہنما‘‘ عوامی زبان میں ہی عوام سے ہم کلام ہوں گے۔ اگر اُن سے حلف لے لیا جائے کہ وہ سچ کے سوا کچھ نہیں کہیں گے ۔ تاہم ایک بات ذہن میں کھٹکتی ہے کہ حلف تو اُس وقت بھی لیتے ہیں جب وہ انتخابات میں کامیابی کے بعد مقدس کتاب پر ہاتھ رکھ کر ملک و قوم کی خدمت کا ’’سچا عہد‘‘ کرتے ہیں۔

ہو سکتا ہے کہ آپ میں سے اکثر سوچیں کہ یہ امریکی طرزِ عمل دکھائی دیتا ہے ۔ یقیناًایسا ہی ہے لیکن اسے پاکستان میں آہستہ آہستہ متعارف کرایا جانا چاہیے کیونکہ ہمارے ملک میں ووٹ سے فی الحال مکمل احتساب ہونا ممکن نہیں ہے۔ چناچہ گفتگو سے ان سیاست دانوں کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آنا چاہیے۔ میں یہ سوال چیف الیکشن کمیشنر کے لیے چھوڑنا چاہتی ہوں کہ کیا سیاست دانوں کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آشکار ہونا چاہیے یا نہیں؟کیا سابقہ الیکشن کمشنر کا کا فرض نہیں تھا کہ وہ اسمبلی کے امیدواروں کی جانچ پڑتال کریں؟ اگر فخر الدین جی ابراہیم ایسا کرپاتے تو قومی ہیرو قرار دیے جاتے ، تاہم ایسا محسوس ہوتا تھا کہ حکمران پی پی پی اور اپوزیشن نواز لیگ کے ’’تعاون ‘‘ نے ان کے ہاتھ باندھ دیے ہیں۔

ہمارے ہمسائے، افغانستان ، کے صدر حامد کرزئی کی دماغی حالت کے بارے میں شکوک پیدا ہوجانا فطری امر ہے۔ جب بھی وہ امریکہ کو گالیاں دیتے ہیں تو امریکہ ان کے پاس کوئی اعلیٰ وفد بھیج کر اُنہیں اُس زبان،جسے وہ باآسانی سمجھ لیتے ہیں، میں سمجھاتے ہیں کہ وہ زبان پر قابو رکھیں۔ اب حال ہی میں سینٹر جان کیری کابل گئے ہیں تاکہ حامد کرزئی کو مزید ڈالر اور کچھ اور امداد دے کر تلخ نوائی سے باز رکھ سکیں۔ ایک بات طے ہے کہ مستقبل میں امریکہ کاافغانستان کا ساتھ صرف اسٹرٹیجک ہی نہیں ، معاشی مفاد بھی وابستہ ہے ۔ امریکہ وہاں پر درکار مالی سرمایہ کاری کررہا ہے اور اُسے امیدہے کہ بہت جلد وہ اس کا فائدہ اٹھائے گا۔ خبریں آرہی ہیں کہ افغان سرزمین کے نیچے کئی ٹریلین ڈالر کا تیل، سونا ، لوہا ، تانبا اور دیگر دھاتیں پائی جاتی ہیں۔ ایسی صورت میں افغانستان کو غربت اور سیاسی عدم استحکام کے شکار پاکستان سے کیا دلچسپی ہوسکتی ہے؟

ہمارے پاس افغانستان جیسی معدنیات تو نہیں ہیں لیکن ایسے رہنما ضرور ہیں جن کا شمار ’’قدرتی دولت ‘‘ میں کیا جاسکتا ہے۔ امید ہے کہ آپ کو سمجھ آچکی ہوگی کہ جس طرح معدنیات کو زمین سے نکال کر صاف کیا جاتا ہے، اسی طرح رہنماؤں کو تطہیر کے عمل سے گزارنا ضروری ہوتا ہے۔ اسی دوران کانٹ چھانٹ بھی ضروری ہوتی ہے۔ یہی اصول دیگر اداروں کے سربرھان ، خاص طور پر عدلیہ، پر بھی لاگو ہوتا ہے ۔ خوب تر کی تلاش ہی جمہوری حسن ہے۔جب ہمارے رہنما اقتدار میں ہوتے ہیں تویہ 24 کریٹ سونے جیسے لگتے ہیں لیکن جب اقتدار سے رخصت ہوتے ہیں تو محض کاٹھ کباڑ۔ گزشتہ حکومت نے انتخابات کے انعقاد کو ایک سو اسی ملین افراد کے لیے خصوصی تحفہ قرار دیا تھا اور کہا گیا تھا کہ اس کے نتیجے میں ہونے والا انتقالِ اقتدار ملکی تاریخ کا زریں لمحہ ہے ، لیکن اگر حقیقت پر نظر جائے تو محسوس ہوگا کہ چند ایک چہروں کو چھوڑ کر باقی وہی لوگ دوبارہ اسمبلیوں میں آچکے ہیں۔

اب ہماری اس جمہوری کہانی کے توانا کرداروں کا ماضی کے ساتھ رشتہ تلاش کیاجانا چاہیے۔ ہمارے سابقہ صدر صاحب کا بمبینو سینما کراچی سے شروع ہونے والا سفر ایوانِ صدرتک جا پہنچا۔ کیا اس ان راہوں کے مختلف سنگِ میل عوام کی نظروں کے سامنے ہونے چاہیں یا نہیں؟ پھر ملتان سے تعلق رکھنے والے سابقہ وزیرِ اعظم کی زندگی کے بارے میں جانکار ی بھی دلچسپ ہوگی ۔ کہا جاتا ہے کہ محترمہ فوزیہ گیلانی کے ذمے کچھ قرضہ واجب الادا تھا۔ اُس کا کیا بنا؟ہمارے موجودہ مردِ آہن کا لوہے کی ٹکسال سے شروع ہونے والا سفر تین مرتبہ گھوم پھر کر ایوان تک پہنچ کر ہی دم لیتا ہے۔ کیا عوام کو اس چکر سے آشنائی ہونی چاہیے یا نہیں؟ان تینوں رہنماؤں میں ایک قدر مشترک ہے کہ ان تینوں پر مقدمات چلے، قید ہوئے اور ان تینوں نے ہی حلفاً کہا کہ وہ بے گناہ ہیں۔

ہمارے ملک میں نیب کا ریکارڈ اتنا اچھا نہیں ہے ۔ یہ ادارہ بدعنوان عناصر کو گرفت میں لانے اور اُنہیں قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنے میں ناکام ثابت ہوا ہے۔ ذرا سوچیں کہ یہ غیر جانبدار کیسے ہوسکتا ہے جب اس کے چیئرمین کا تقرر حکمران جماعت اور اپوزیشن کی مشاورت سے عمل میں آئے گا۔ عوامی زبان میں اس مشاورت کو ’’مک مکا‘‘ کانام دیا گیا ہے۔ کیا یہ سوچ نہیں آتی کہ وہ صاحب اپنی کرسی بچانے کے لیے ان تمام افراد سے تعاون کریں گے… اس صاف مطلب ان کی حرکتوں سے اغماض برتنا ہے۔ گزشتہ چیئرمین نیب مسٹر بخاری کی کارکردگی نہایت افسوس ناک تھی۔ ان سے پہلے چیف الیکشن کمیشن جسٹس فخر الدین جی ابراہیم کی تقرری اُس وقت عمل میں آئی تھی جب وقت کی طنابیں ان کے کنٹرول میں نہیں تھیں۔ اُنہیں بہت پہلے عہدے پر فائز کیا جانا چاہیے تھا تاکہ وہ تمام مہروں کو سمجھ لیں۔ بہرحال، جلد بازی میں متعین کیے گئے وہ عمر رسیدہ صاحب ہمارے لیے امید کی آخری کرن تھے۔

حالیہ دنوں کچھ انتخابی نتائج کی چھان پن بتاتی ہے کہ وہ اپنے کام میں بری طرح ناکام ہوئے۔ کیا اُن سے بھی پوچھ گچھ ہوگی؟ کیا ہمارے ملک اس بات کا رواج نہیں پڑنا چاہیے کہ عدالت کے علاوہ بھی احتسابی عمل جاری رہے؟ کیا عوام کی طر ف سے پوچھے گئے سوالات پررعونت گردنوں کو شرمندگی سے نہیں جھکائیں گے؟ ممکن ہے کہ اس کام میں دیر ہوجائے لیکن ایک دن ایسا ضرور ہوگا۔ سوال اٹھاتے رہیں، ایک نہ ایک دن انہیں جواب دنیاہوگا۔

بشکریہ روزنامہ 'دنیا'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.