.

نواز شریف کا حالیہ دورہ نیویارک اور اگلا دورہ واشنگٹن؟

عظیم ایم میاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اگلے ہفتے وزیراعظم نواز شریف واشنگٹن میں امریکی صدر اوباما سے ملاقات و مذاکرات کیلئے پھر امریکہ آرہے ہیں لیکن ابھی تک ستمبر کی آخری تاریخوں میں وزیراعظم کا دورہ اقوام متحدہ اور قیام نیویارک کے حوالے سے بعض ایسی تصدیق طلب اطلاعات تبصروں، تجزیوں اور سوشل میڈیا کا موضوع بنی ہوئی ہیں جن کا زمینی حقائق اور منطقی معاملات سے دور کا تعلق بھی نہیں۔ ایسی نوعیت کی اطلاعات اس سے پہلے بھی سیاسی اور عسکری قائدین کے امریکی دوروں کے بارے میں بعض نادیدہ ہاتھ اشاعت و تبلیغ کرتے ہیں لیکن اس مرتبہ منفرد حقیقت یہ ہے کہ نواز شریف کا دورہ نیویارک اور اس سے چار ہفتے بعد کا دورہ واشنگٹن کے معاملات ایک دوسرے سے ’’بیک ٹو بیک‘‘ جڑے ہوئے ہیں۔

ایک تصدیق طلب اطلاع بعض حلقوں اور میڈیا میں یہ زیر بحث ہے کہ دورہ اقوام متحدہ کے دوران وزیراعظم نواز شریف اور امریکی صدر اوباما کی ملاقات نہیں ہوسکی۔ جس وقت نواز شریف نے اقوام متحدہ سے خطاب کیا تو صدر اوباما بھارتی وزیراعظم سے واشنگٹن میں ملاقات کررہے تھے اور یوں نواز شریف کی تقریر نظر انداز ہو گئی۔ پاکستانی سفارت کار اپنی کوششوں کے باوجود نیویارک میں اوباما، نواز ملاقات نہ کراسکے۔ اب بڑی مشکل سے صدر اوباما نواز شریف سے ملاقات کرنے پر راضی ہوئے ہیں لہٰذا نواز شریف 23 اکتوبر کو وہائٹ ہائوس میں صدر اوباما سے ملاقات کیلئے واشنگٹن آ رہے ہیں۔ اسی انداز میں ایک اور تصدیق طلب اعداد و شمار کے ساتھ یہ اطلاع گردش اور بعض میڈیا میں (جنگ گروپ نہیں) نظر آئی کہ نیویارک کے روز ویلٹ ہوٹل میں پاکستانی کمیونٹی کے اجتماع اور ڈنر سے وزیراعظم کے خطاب پر 4 لاکھ ڈالرز کے اخراجات کئے گئے۔

اس ڈنر میں پاکستان سے آئے ہوئے صحافی، پاکستانی میڈیا گروپس کے امریکہ میں مقیم نمائندے اور نیویارک سے شائع ہونے والے اردو اخبارات کے نمائندوں سمیت تقریباً 350 تا 400 مدعو مہمانوں پر مشتمل اس اجتماع میں مجھے اسٹیج سے لے کر ہوٹل کے ہال میں لگائی ہوئی آخری ٹیبل کے مہمان بھی بآسانی میری نظر میں تھے اور پھر لائن لگاکر بوفے ڈنر کے کھانوں کی تمام ڈشز دیکھنے اور کھانے کا موقع بھی ملا لیکن کسی بھی منطقی اصول، کوالٹی اور اکائونٹنگ کے حساب اور معیار سے یہ پروگرام 4 لاکھ ڈالرز کے اخراجات والا ڈنر ہو ہی نہیں سکتا پھر بھی جب روز ویلٹ ہوٹل کے اس ڈنر میں کھانا فراہم کرنے والے پاکستانی سے میں نے براہ راست سوال پوچھا تو وہ قہقہہ مارکر خوب ہنسے اور بتایا کہ اول تو ابھی کھانے کا بل ادا ہی نہیں ہوا لیکن جب ہوگا تو وہ ملنے والے چیک کی تفصیل فراہم کردیں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر انہیں 400 افراد کے کھانے کا بل 20 ڈالر فی شخص کے حساب سے آٹھ ہزار ڈالرز بھی ادا ہوئے تو وہ انتہائی خوش اور ممنون ہوں گے۔ آپ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ روز ویلٹ ہوٹل کے ہال کا ایک شام کا کرایہ تین لاکھ بانوے ہزار ڈالرز ہر گز ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اپنے ہوٹل سے روز ویلٹ ہوٹل کے ہال تک وزیراعظم کے آنے اور پھولوں کے چند گلدستوں اور ہوٹل کے ملازمین کی یونین کے سروس ریٹ کو بھی کسی بھی شرح سے اخراجات میں جمع کرنے سے بھی منطق اور اکائونٹنگ کے معیار کی تسلی نہیں ہوتی لیکن نادیدہ ہاتھوں نے کسی انجانے ایجنڈے کے تحت پھیلاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ایک ایسا ہی پاکستانی کمیونٹی کا اجتماع اور ڈنر واشنگٹن میں بھی کرنے کا منصوبہ بن رہا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان کے سرکاری اداروں کی طرح سفارتی مشنوں اور قونصلیٹس میں حساب کتاب کی بے قاعدگیوں کے انکشافات اور آڈٹ رپورٹس سامنے آتے رہتے ہیں لیکن امریکہ کی سرگرم اور فعال پاکستانی کمیونٹی کے ایک عوامی نوعیت کے پروگرام پر اخراجات کے اعداد و شمار کا یہ تناسب اور ایسا کھلا گھپلا خودکشی کے مترادف ہوگا۔دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس تصدیق طلب اطلاع کا ٹارگٹ قونصل جنرل یا ان کا عملہ نہیں بلکہ وزیراعظم نواز شریف اور شہباز شریف کے ایک دوست اور ہمدرد خالد شاہین بٹ تھے جو گزشتہ 30 سال سے ریسٹورنٹ کا بزنس نیویارک نیوجرسی میں چلا رہے ہیں۔ آپ حقائق کی روشنی میں اس اطلاع کی حقیقت اور ٹارگٹ کا فیصلہ خود فرمائیں۔ دراصل کچھ نادیدہ ہاتھ نوازشریف کے دورہ نیویارک کو سبوتاژ کرنے میں مصروف رہے۔

دوسری تصدیق طلب اطلاع ستمبر میں نیویارک میں نواز، اوباما ملاقات نہ ہونا تھی؟ میرے ذرائع کے مطابق وہائٹ ہائوس نے19ستمبر کو واشنگٹن میں وزیراعظم نوازشریف کی صدر اوباما سے ملاقات کا وقت طے کردیا تھا جس کا مطلب یہ ہوا کہ وزیراعظم نواز شریف کی امریکی صدر اوباما سے ملاقات بھارتی وزیراعظم من موہن کی27ستمبر کی ملاقات سے پہلے ہونا تھی جس سے امریکہ کا خطے میں پاکستان اور بھارت ڈائیلاگ کی حمایت اور ہمت افزائی کا پہلو ابھرتا جو امریکی مفادات اور پالیسی کے عین مطابق تھا۔ ریکارڈ یہ واضح کرتا ہے کہ وزیراعظم پاکستان کے دوست ملک ترکی کا دورہ انہی تاریخوں میں کررہے تھے یہ صورتحال امریکیوں کے علم میں لانے پر اوباما، نواز ملاقات کی نئی تاریخ 23 اکتوبر طے پائی جس کا اعلان امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی نیویارک میں وزیراعظم سے ملاقات کے موقع پر کیا گیا اور اب نواز شریف دورہ نیویارک کے بعد اس ملاقات کیلئے واشنگٹن آنے والے ہیں۔ اب نیویارک میں نواز، منموہن رسمی اور بڑی حد تک لاحاصل ملاقات کے ظاہری و باطنی حقائق نوازشریف، بارک اوباما اور منموہن سنگھ کے علم میں ہیں لہٰذا پاک بھارت تعلقات کی صورتحال کے بارے میں وزیراعظم نواز شریف اور ان کے سفارتی معاونین و مشیران بہتر پوزیشن میں ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ خطے میں اپنے واحد اور ٹھوس اتحادی پاکستان کے مقابلے میں امریکہ کی ترجیحات اور گلوبل الائنس کیلئے بھارت کو مرکزی اتحادی کی حیثیت حاصل ہے۔

امریکہ اور بھارت دونوں ہی چاہتے ہیں کہ پاکستان بھی جلد از جلد بنگلہ دیش، سری لنکا اور بھارت کے اردگرد آباد دیگر ممالک کی طرح خود کو بھارت کے ساتھ اپنی حیثیت اور حقیقت کو ’’ایڈجسٹ‘‘ کرلے لیکن معاشی بحران، بدامنی اور دہشت گردی کے تابڑ توڑ حملوں، جہالت، علاقائی تعصب، ریاست کی کمزور رٹ اور بڑی حد تک جرأت مند قیادت سے محروم پاکستانی قوم ابھی تک اپنے تشخص کو قائم رکھنے کی جنگ عزم و حوصلہ سے لڑ رہی ہے۔ ورنہ یوگو سلاویہ اور مشرقی یورپ کا شیرازہ تیز رفتاری سے بکھرنے کی ماضی قریب کی تاریخ بہت کچھ بتاتی اور سکھاتی نظر آتی ہے۔ امریکی تعاون اور گزشتہ 25 سالوں میں مالدار ترین مسلم دنیا کی تیز رفتار تنزلی، تفرقہ اور عالمی طاقتوں کے ہاتھوں تباہی کے نتیجہ میں جنوبی ایشیا میں ہرہر معاشی، سیاسی اور جغرافیائی فائدہ بھارت کو پلیٹ میں رکھ کر دیا گیا ہے اور یہ سب کچھ کسی جدوجہد، قربانی اور جنگ کے بغیر بھارت کو ملا ہے۔

وقت کا یہی تقاضا ،یہی چیلنج اور اس سے وابستہ خطرات ہی پاکستان اور اس کی بقا کے لئے خطرناک چیلنج میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ ہر طرف سے الزامات، مزید مطالبات، ماضی کی غلطیوں کی تاریخی چارج شیٹ اور 12سال کے حالیہ تاریخی پاک امریکہ اتحاد کی ناکامی ،اس صدی کے حالات اور ہماری تاریخی غلطیوں کا تقاضا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف 23 اکتوبر کو اسی تاریخی چیلنج اور بوجھ کے ماحول میں صدر اوباما سے ملیں گے۔ انہیں امریکہ کے مزید مطالبات، بھارت کیلئے مزید جھکائو، پاک افغان سرحد اور طالبان کیخلاف فوج کی تھکن اور موجودہ ذمہ داریوں کی پروا کئے بغیر مزید مصروف یعنی انگیج کرنے کے مطالبات کیلئے ذہن کو تیار رکھنا چاہئے۔ افغانستان میں حامد کرزئی کی تبدیلی، امریکی فوج کے محفوظ انخلاء کیلئے پاکستانی تعاون سمیت ’’ڈو مور‘‘ کی لسٹ میں اضافے کا چیلنج بھی تو ہے۔ ہم پہاڑ کی اس اونچی سطح پر ہیں جہاں سے خود کو پھسلنے سے روکنے کیلئے طاقت نہیں بصیرت کی ضرورت ہے۔ تخلیقی اور معجزانہ حکمت عملی چاہئے ورنہ نہ تو باگ ہاتھ نہیں ہے نہ پا ہے رکاب میں، والی کیفیت ہوگی۔ ملک کے داخلی بحران اور عوام کی معاشی بدحالی نے معاشرے اور ملک دونوں کو کھوکھلا اور حکومت کو بے بس کررکھا ہے۔ نواز شریف کی حکومت کمزور اور تاریخی چیلنجوں کے سیلاب کی زد میں ہے۔ دیکھیں واشنگٹن سے نواز شریف کیا لیکر لوٹتے ہیں؟

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.