.

ترکی: خواتین کے ہیڈ اسکارف پر پابندی کا خاتمہ

ڈاکٹر فرقان حمید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سب سے پہلے اپنے تمام قارئین کو عید کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ترکی جہاں پر کسی دور میں طالبات کیلئے یونیورسٹیوں میں ہیڈ اسکارف پہن کر تعلیم حاصل کرنا ممکن نہ تھا اب حالات نے ایسا پلٹا کھایا ہے کہ اب ان کے لئے سرکاری ملازمت کے دروازے بھی کھلنا شروع ہو گئے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہوا؟ اس پر ہمیں پہلے ترکی کے ماضی پر ایک نگاہ ڈالنے کی ضرورت ہے۔

جدید جمہوریہ ترکی ( آئین کے لحاظ سے ایک سیکولر ملک ہے جس میں ننانوے فیصد مسلمان آباد ہے) عالم اسلام کا واحد ملک ہے جہاں پر قانونی طور پر خواتین کے چہرہ ڈھانپنے یعنی حجاب استعمال کرنے پر پابندی ہے۔ اس لئے ترکی کی حدود میں داخل ہونے والی کسی بھی پردہ نشین خاتون کو سب سے پہلے اپنے نقاب کو ہٹانےکی ضرورت ہوتی ہے اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں اس پردہ نشین خاتون کو قید یا پھر جرمانے کی سزا بھگتنا پڑتی ہے یا پھر اسے اسی وقت ملک ترک کرنا پڑتا ہے۔ ترکی میں پردے پر پابندی اتاترک کے دور میں اس وقت لگائی گئی جب غیر ملکی قوتوں نے ان پردہ نشین خواتین کو ( اس دور میں مرد اور خواتین دونوں ہی برقع پہن کر غیر ملکی قوتوں کے لئے جاسوسی کا کام کیا کرتے تھے) جس کا بھرپور طریقے سے غیر ملکی قوتوں نے فائدہ اٹھایا اور اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا اور مملکت کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا تھا۔

اتاترک نے مملکت کو دشمن کے پنجے سے بچانے کے لئے اور اندورن خانہ پہنچنے والے نقصان سے بچنے کے لئے اس سوچ کے ساتھ ہی نقاب اوڑھنے پر پابندی عائد کر دی تھی اور اس وقت سے اس پابندی کا سلسلہ جاری تھا لیکن اتاترک کی اس سوچ کو بعد میں آنے والے رہنمائوں نے غلط استعمال کیا جس میں عصمت انونو پیش پیش تھے۔ 1960ء میں فوج کی جانب سے تیارکردہ آئین میں پہلی تین شقوں جس میں تیسری شق مہذب اور جدید لباس سے متعلق تھی ان تین شقوں میں کسی قسم کی تبدیلی یا ترمیم کرنے کا حق پارلیمینٹ سے چھین لیا گیا 1982ءکے جنرل کنعان ایورن کے آئین میں بھی جوں کا توں رکھا گیا اور ایردوان دور تک اس پر عمل درآمد کا سلسلہ جاری رہا۔آئین کی رو سے پارلیمینٹ میں کوئی بھی جماعت چاہے اسے کلی اکثریت ہی کیوں نہ حاصل ہو ان تین شقوں پر بحث و مباحثہ کرنے یا ترمیم کرنے کا کوئی اختیار نہیں رکھتی ہے۔

وزیراعظم ایردوان سے قبل برسراقتدار تمام جماعتوں نے کبھی بھی اس آئین کی جگہ نیا آئین تشکیل دینے کی کوشش ہی نہیں کی ہے بلکہ یہ تمام جماعتیں چہرہ ڈھانپنے کی پابندی کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کے ہیڈ اسکارف پہننے پر پابندی لگانے کی بھی کسی نہ کسی طریقے سے راہ ہموار کرتی رہی ہیں اور پھر ایک دور ایسا بھی آیا کہ برسراقتدار حکومتوں نے لڑکیوں کے ہیڈ اسکارف پہن کر یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم کے دروازے بھی بند کر دیئے۔اس کے پیچھے یہ سوچ کارفرما تھی کہ ہیڈ اسکارف والی طالبات فارغ التحصیل ہونے کے بعد کہیں سرکاری ملازت کے لئے رجوع کرنا شروع نہ کردیں۔ اسی لئے ان نوجوان لڑکیوں کیلئے یونیورسٹیوں کے دروازے ہی بند کردیئے گئے اور اس اصول پر عمل درآمد کیا گیا‘‘نہ ہوگا بانس نہ بجے گی بانسری‘‘۔ ملک میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے نام نہاد سیکولر عناصر ہمیشہ ہی مذہبی خواتین کے سر پر رومال باندھنے یا ہیڈ اسکارف پہننے کے عمل کو ایک ماڈرن ملک کی ترقی ( ان نام نہاد سیکولر عناصر نے ترکی کو اقتصادی لحاظ سے ہمیشہ ہی پسماندگی کا شکار بنائے رکھا اور جدت اور ترقی کو صرف خواتین کے بالوں ہی میں تلاش کیا) کیلئے رکاوٹ سمجھتے رہے ہیں اور اتاترک کے انقلاب کا غلط حوالہ دیتے ہوئے ہیڈ اسکارف کو ایک بہت بڑے خطرے کے طور پر پیش کرتے رہے۔

مذہبی حلقے اس بات سے پوری طرح آگاہ ہیں کہ ان عناصر اور جماعتوں کا اتاترک کے انقلاب اور اصولوں سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ اتاترک ہمیشہ اپنی والدہ کے سر ڈھانپنے کے عمل کی تعریف کرتے رہے اور ان کی والدہ نے اپنی زندگی کے آخری لمحوں تک اپنے سر کو ڈھانپے رکھا۔ وہ اتاترک کیلئے جنگوں میں فتوحات اور بعد میں زندگی کے دیگر محاذوں پر کامیابی کی دعا کرتی رہیں۔

اسّی کی دہائی میں جنرل کنعان ایورن کے مارشل لا کے بعد ترگت اوزال حکومت نے ملک میں جمہوریت کو فروغ دینے اور عوام کی رائے کا احترام کرتے ہوئے ہیڈ اسکارف کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے اس موضوع کو یونیورسٹیوں کے چانسلروں اور ریکٹرز پر چھوڑ دیا اور اس طرح کئی ایک یونیورسٹیوں میں طالبات نے ہیڈ اسکارف اوڑھتے ہوئے اعلیٰ تعلیم کو جاری رکھا لیکن ترگت اوزال کے بعد ملک میں بائیں بازو کی نام نہاد سیکولر جماعتوں کے برسراقتدار آنے کے بعد اس نظام پرعمل درآمد روک دیا اوریہ اختیارہائر ایجوکیشن کمیشن کے سپردکر دیا گیا جس نے ایک بار پھر یونیورسٹیوں میں ہیڈ اسکارف پر پابندی عائد کردی جس پرملک بھر میں شدید ردِعمل کا مظاہرہ کیا جانے لگا اور ان مظاہروں نے پورے ترکی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ان حالات میں ملک میں قائم ہونے والی نئی جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (آق پارٹی)نے ان طالبات کے مطالبے کی بھرپور حمایت کی اور پھر عوام کی بھرپور تائید کی بدولت اس جماعت نے ملک میں 2002میں پہلی بار اقتدار حاصل کیا لیکن اپنے اقتدار کے پہلے آٹھ سالوں تک(قانونی مجبوریوں کے باعث) یہ حکومت طالبات کے مطالبات کو پورا نہ کر سکی لیکن اس کے باوجود طالبات اور عوام نے جسٹس اینڈ ڈولپمینٹ پر اپنا یقین و اعتمادبرقرار رکھا اور آخر کار آق پارٹی نے دو سال قبل پارلیمینٹ میں بھاری اکثریت سے بل منظور کراتے ہوئے طالبات کیلئے یونیورسٹیوں کے دروازے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے کھول دئیے۔

گزشتہ دو سالوں میں مذہبی گھرانوں کی طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کا موقع فراہم کرنے والی ایردوان حکومت نے اس دوارن ایسے کام کا بیڑا اٹھایا جس کی ترکی کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ۔ جیسا کہ عرض کرچکا ہوں ملک میں نام نہاد سیکولر عناصر ہیڈ اسکارف پہننے والی طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کا موقع اس لئے فراہم کرنا نہیں چاہتے تھے مستقبل میں یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل یہ طالبات سرکاری ملازمت فراہم کرنے کا مطالبہ نہ کردیں جس سے مملکت کا سیکولر ڈھانچہ ہی تباہ نہ ہو جائے۔

راقم کو آج بھی وہ دن اچھی طرح یاد ہے جب ملک کے اس وقت کے وزیراعظم بلنت ایجوت کے دور میں رفاہ پارٹی کی ایک رکن پارلیمینٹ مروہ کاواک چی کو رکنِ پارلیمینٹ منتخب کیا گیا تھا لیکن اس وقت کے وزیراعظم بلنت ایجوت(جو ایک سوشلسٹ اور انسانی حقوق کے علمبردار انسان تھے اور بڑے دھیمے مزاج کے حامل تھے) نے اپنی پوری گھن گھرج کے ساتھ اس رکن پارلیمینٹ کو اسمبلی میں حلف لینے سے روک دیا اور پھر کسی کو بھی ہیڈ اسکارف والی خاتون کو رکن پارلیمینٹ منتخب کرانے کی جسارت نہ ہوئی لیکن اب وزیراعظم ایردوان نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ملک میں ہونے والے انتخابات میں ہیڈ اسکارف والی خواتین کو بھی اپنی پارٹی سے انتخابات میں حصہ لینے کا موقع فراہم کریں گے۔

اس کے ساتھ ہی ساتھ وزیراعظم ایردوان نے گزشتہ دونوں پارلیمینٹ سے بل منظور کراتے ہوئے اب ہیڈ اسکارف پہننے والی خواتین کو سرکاری ملازمتیں فراہم کرنے کا موقع فراہم کردیا ہے۔ اگر آپ ترکی کے مختلف سرکاری اداروں میں اب ہیڈ اسکارف پہن کر کام کرنے والی خواتین کو کام کرتے ہوئے دیکھیں تو آپ کو تعجب نہیں ہونا چاہئے کیونکہ ترکی میں اب بلا امتیاز تمام انسانوں کو مساوی حقوق فراہم کئے جانے کے دور کا آغاز ہو چکا ہے اور اب ترکی میں کسی شخص کو بھی اس کے مذہبی سوچ یا نظریات کی بنا پر نظر انداز نہیں کیا جاسکے گا بلکہ تمام لوگوں کو مساوی حقوق حاصل ہوں گے۔

اسی لئے اب ترک اس بات پر پختہ یقین کرنے لگے ہیں کہ وزیراعظم ایردوان جس چیز کا وعدہ کرلیں اور جس کام کو کرنے کا ایک بار بیڑا اٹھالیں تو پھر اسے پایہ تکمیل تک پہنچا کر ہی دم لیتے ہیں۔ انہوں نے ہیڈ اسکارف پہننے والی خواتین کیلئے سرکاری ملازمت کے دروازے کھول کر ناممکن کو ممکن بنا ڈالا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی طالبات کے ہیڈ اسکارف پہننے کو دل سے قبول نہ کرنے والی سیاسی جماعت ری پبلیکن پیپلزپارٹی جو ہمیشہ ہی (نام نہاد) سیکولر ہونے کا دعویٰ کرتی ہے نے ہیڈ اسکارف پہن کر سرکاری ملازمت کے مواقع فراہم کرنے کے عمل کو رکوانے کے لئے عدلیہ سے رجوع کیا ہے لیکن ترکی میں اب عدلیہ مکمل طور پر آزاد ہے اور اب نام نہاد سیکولر حلقوں کی جانب سے عدلیہ پر دبائو ڈال کر فیصلے کرانے کادور بھی اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ وزیراعظم ایردوان نے ویسے بھی کچی گولیاں نہیں کھیلیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں پارلیمینٹ سے بل کو منظور کراتے ہوئے ہیڈ اسکارف پہننے والی خواتین کے لئے سرکاری ملازمتوں کے دروازے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے کھول دئیے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.