طالبان کے ساتھ مذاکرات

ڈاکٹر رسول بخش رئیس
ڈاکٹر رسول بخش رئیس
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

میں اس خیال سے اتفاق نہیں کرتا ہوں کہ طالبان سے مذاکرات نہیں ہونے چاہیں اور یہ کہ ا ن کے خلاف طاقت کا استعمال ہی واحد راستہ ہے۔درحقیقت اس بات میں کوئی منطق نہیں ہے اور اس مسلے کا فوجی حل تجویز کرنے کے پیچھے صرف انتہاپسندوں اور ان کے سخت گیر نظریات اور ان کے بے لچک مذہبی تصورات سے نفرت کارفرما ہے۔ میں ایسا کیوں کہتا ہوں؟وہ لوگ جو طالبان سے مذاکرا ت کی نفی کرتے ہیں وہ بھی کسی دلیل کی بجائے نسلی بنیاد پر انتہا پسندوں کی مخالفت کرتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اُن کو ہر صورت میں فوجی قوت سے کچل دیا جائے۔

اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ ڈائیلاگ یا طاقت کا استعمال کرنے سے شورش پسندی کی آگ بجھ جائے گی۔ دراصل شورش پسندی اچانک پھوٹ پڑنے والے فسادات کی طرح راتوں رات رونما نہیں ہوتی ہے ، بلکہ طویل عرصے تک سلگتے ہوئے واقعات کی وجہ سے اس کی درپردہ تنظیم سازی ہوتی رہتی ہے، قائدین سامنے آتے ہیں اور پھر ان کے اندرونی اور بیرونی روابط تشکیل پاتے ہیں۔ چناچہ ان کو راتوں رات شکست دینا بھی ممکن نہیں ہوتا ہے۔ پاکستان جیسی کوئی ریاست کسی ایک پالیسی کے تحت اس پر قابو نہیں پا سکتی ہے۔ کئی ممالک نے عشروں تک انتہاپسندوں سے جنگ لڑی ہے، جیسا کہ سری لنکا نے تامل ٹائیگرز سے اور برطانیہ نے ’’آئی آر اے‘‘ ( آریش رپبلکن آرمی) سے۔ ریاستوں کو فوجی بالا دستی رکھنے کے باوجود مذاکرات کی میز پر ہی معاملات طے کرنے پڑے ہیں۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو نہ تو طالبان یا ان کے کچھ گروہوں کے ساتھ مذاکرات کرنے کو ’’ہتھیار ڈالنے‘‘ کے مترادف قرار دینا درست سوچ نہیں ۔ پاکستان ، یا اس جگہ پر کوئی بھی ریاست اس صورتِ حال سے دوچار ہوتی تو اس کے پاس اس بات کی ضمانت نہ ہوتی کہ طاقت کا استعمال معاملے کو حل کر دے گا۔

جنگ اور سیاست شورش پسندی سے نمٹنے کے لیے دو پہلو ہیں۔ ان دونوں کو الگ کرکے دیکھنا یا یہ کہنا کہ جب تک دشمن کو فوجی طاقت سے کمزور نہ کر لیا جائے، اُس سے مذاکرات نہیں کیے جا سکتے ہیں، تاریخی اور منطقی اعتبار سے غلط سوچ ہے۔ اس کے علاوہ مذاکرات یا کسی منطق کی نفی کرنے والا گروہ ایک بے بنیاد مفروضے پر بات کر رہا ہے۔ مفروضہ یہ ہے کہ طالبان مذہبی جنونی ہیں اور ان کا ایجنڈہ یہ ہے کہ وہ ریاستِ پاکستان پر قبضہ کرکے اپنا نظام نافذ کرنا چاہتے ہیں، چناچہ ان سے بات کرنا صحراکی ریت چھاننے کے مترادف ہے۔ اس سے پہلے تاریخ میں ہمیں کسی ایسی ریاست کے بارے میں نہیں بتاتی جہاں انتہاپسندوں، مذہبی جنگجووں اور نسل پرستوں کے ساتھ مذاکرات کی اتنی مخالفت کی گئی ہو جتنی پاکستان میں کی جا رہی ہے۔

جب میں طالبان سے مذاکرات کی وکالت کرتا ہوں تو میری بات کا یہ مطلب نہ لیا جائے کہ میں طاقت کے استعمال کو غلط سمجھتا ہوں۔ ریاست کی طرف سے طاقت کے استعمال کا آپشن پسِ منظر میں ایک دھمکی کے طور پر موجود رہنا چاہیے تاکہ دوسرا گروہ یہ نہ سمجھ لے کہ ریاست بے اختیار ہے اور وہ اپنی کوئی بھی بات منوا سکتے ہیں۔ طالبان سے مذاکرات پر گزشتہ دنوں ہونے والا پارلیمانی اتفاقِ رائے یہ نہیں کہتا کہ ان کے خلاف طاقت استعمال نہیں کی جائے گی۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم طالبان سے بات کرنے جارہے ہیں تو ہمارے پاس کھیلنے کے لیے کیسے پتے دستیاب ہیں۔ یہ طرفین کے لیے بہتر ہے کہ اس مسلے کاکوئی پرامن حل نکل آئے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان پر یہ حقیقت بھی آشکار ہو کہ ریاست آئین، اپنی خودمختاری اور جمہوریت اور سماجی قدروں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ریاست انتہا پسندوں کے مقابلے میں کمزوری دکھاتے ہوئے مذاکرات نہیں کر سکتی… اگر ایسا ہوتا ہے توپھر وہ اپنے وجود کا جواز کھو دے گی۔

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ طالبان مذکرات کے لیے کتنے سنجیدہ ہیں، تو اس پر مختلف آراء دی جاسکتی ہیں۔ اس کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ مذاکرات کون کررہا ہے اور کن سے کر رہا ہے۔ طالبان، جوانتہا پسند تنظیموں کی طرح عملی اور جارحانہ عزائم رکھتے ہیں، کو کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ حکومت ہر مذاکرات کے لیے ہر ممکن حد تک جانے کے لیے تیار ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ ہر صورتِ حال کا سامنا بھی کرسکتی ہے۔ جہاں یہ طویل مذاکرات کے لیے تیار ہے، وہیں یہ طویل جنگ کا گھاؤ بھی برداشت کر سکتی ہے۔

بشکریہ روزنامہ 'دنیا'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں