2014 کے بعد غیر یقینی کے سائے

ڈاکٹر ملیحہ لودھی
ڈاکٹر ملیحہ لودھی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
11 منٹ read

کچھ عرصے سے ایسا لگتا ہے کہ افغانستان، واشنگٹن کی اولین ترجیح نہیں رہا کیونکہ اوباما انتظامیہ سیاسی داخلی جمود سے نبرد آزما ہونے میں مصروف ہے اور ساتھ ہی اس کی توجہ مشرق وسطیٰ میں ہونے والی پیشرفتوں اور افریقہ میں دہشت گردی کے خطرات پر ہے لیکن امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے ہفتے کے حالیہ دورے سے معلوم ہوتاہے کہ امریکہ کو ابھی بھی افغانستان میں اہم کام کرنا ہے۔ ان کا یہ دورہ جلدی میں تھا جس کا مقصد سیکورٹی معاہدہ طے کرنا تھا جس سے 2014 کے بعد افغانستان میں امریکی فوج کی موجودگی کی راہ ہموار ہوتی۔ کابل اور واشنگٹن کے مابین ایک سال کے مذاکرات کے بعد باہمی سیکورٹی معاہدے (بی ایس اے) پر جاری تعطل نے اس حوالے سے امریکہ کی جانب سے اکتوبر کی ڈیڈلائن کو مبہم بنا دیا ہے۔ گزشتہ مہینوں میں دونوں ممالک گہری چالوں کے عوامی کھیل میں داخل ہونا شروع ہوگئے، دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کی جانب سے مذاکرات کے نکات پر اتفاق نہ کرنے پر مذاکرات کےختم کرنے کی دھمکی دی۔

امریکی میڈیا میں افشا ہونے والے صدر حامد کرزئی کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر دونوں ممالک سیکورٹی معاہدے پر اتفاق نہ کر سکے تو پھر امریکہ کو افغانستان سے تمام فوجیوں کے انخلاء کا راستہ اختیار کرنا ہو گا۔ گزشتہ ہفتے صدر اوباما نے خود اعلان کیا تھا کہ بی ایس اے معاہدے کی عدم موجودگی میں انہیں تمام فوجیوں کے انخلاء کا حکم دینا پڑے گا۔ اس پس منظر کے برخلاف امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے کابل کے دورے سے بی ایس اے معاہدے کے اکثر پہلوؤں پر اتفاق کرلیا گیا سوائے ایک کلیدی پہلو کے جس کا تعلق امریکی فوجیوں کے افغانستان میں قانونی کارروائی سے استثنیٰ سے تھا۔ اس سے مراد ہے کہ دو دن سے جاری رہنے والے مفصل مذاکرات میں پیشرفت ہونے کے باوجود حتمی معاہدہ طے نہ پاسکا۔ صدر کرزئی نے اعلان کیا ہے کہ امریکی فوجیوں کے استثنیٰ کا فیصلہ لویہ جرگہ کرے گا جس کے انعقاد کا منصوبہ انہوں نے اگلے ماہ بنایا ہے، جس کے بعد اس معاملے کو پارلیمینٹ کے روبرو رکھا جائے گا اور جان کیری نے واضح کیا ہے کہ ’اگر حدود کا مسئلہ حل نہ کیا جاسکا تو باہمی سیکورٹی معاہدہ (بے ایس اے) طے نہیں کیا جاسکتا‘۔ ایک اور طرف نشاندہی کرتے ہوئے صدر کرزئی کا کہنا تھا کہ متعدد چھوٹے مسائل اور تکنیکی نکات پر نظرثانی کا کیا جانا ابھی باقی ہے۔

اس صورتحال سے غیر یقینی کی فضا اور کئی سوالات نے جنم لیا،کرزئی جوکہ 6 ماہ میں عہدہ صدارت خالی کرنے والے ہیں لویہ جرگہ کب طلب کریں گے؟ وہ اسے دو مرتبہ پہلے ہی ملتوی کرچکے ہیں۔ کیا لویہ جرگہ اس معاہدے کی توثیق کرے گا؟ 24 اپریل2014 کو منعقد ہونے والے صدارتی انتخاب کیلئے امیدوارں کی رجسٹریشن کا عمل رواں ماہ کے اوائل میں ختم ہوگیا۔ بے ایس اے معاہدے پر اب تک دستخط نہ ہو سکے کیا اس کا اختتام انتخابی معاملے کے طور پر ہو گا۔ اگر جان کیری کا دورہ اس امکان سے بچنے کیلئے تھا تو یہ غیر واضح ہے کہ بقیہ رکاوٹوں کے ساتھ اس حوالے سے مزید تاخیر انتخابی سیاست اور اس کے نتائج کو کس طرح مرتب کرے گی۔ حالانکہ اب تک معاہدے کے جتنے نکات پر بھی اتفاق ہوا ہے اس کی جزئیات کا اعلان نہیں کیا گیا، ایک اہم اور نتیجہ خیز سوال یہ ہے کہ یہ مدنظر رکھتے ہوئے کہ طالبان کا بنیادی مطالبہ افغانستان سے بیرونی افواج کا مکمل انخلاء ہے تو بی ایس اے معاہدہ افغان امن مذاکرات کی بحالی پر کس طرح اثر انداز ہو گا۔ عید کے حوالے سے ملا عمر کے پیغام میں انہوں نے مجوزہ معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ افغان ہتھیار ڈالنے کی اس دستاویز کو قبول نہیں کریں گے جس کی توثیق جعلی لویہ جرگے کی جانب سے کی جائے گی۔ افغانستان میں امریکی فوج کی موجودگی پر خطے میں بھی کوئی اتفاق رائے نہیں ہے،حالانکہ اگر 2014 کے بعد خطے میں سیکورٹی کے ممکنہ خلا کے حوالے سے خدشات ہونے کی صورت میں بھی خطے کی زیادہ تر ریاستیں خاص طور پر روس، ایران اور چین اس پر معترض ہیں۔ خطے کہ مذکورہ خدشات ابھی دور نہیں ہوئے ہیں جنہیں دور کیا جانا ابھی باقی ہے کیونکہ ہمسایہ ممالک کو پختہ موقف اختیار کرنے کیلئے کوئی حتمی سیکورٹی معاہدے میسر نہیں ہے،اس حوالے سے تاخیر خطے میں اشد ضروری سفارت کاری کے مواقع میں کمی کا موجب ثابت ہوگی۔

اب جبکہ کوئی معاہدہ نہ طے پاسکا تو کرزئی کے پاس اس حوالے سے چالیں چل کر ایک اور نئے امکان کو جنم دینے کا موقع ہے۔ اگر صدر کرزئی صدارتی انتخاب میں التوا کیلئے بی ایس اے معاہدے کو پس پشت ڈال دیں تو کیا ہو گا؟ یہ غیر ممکنہ بات ہے تاہم اس امکان کو بھی رد تو نہیں کیا جاسکتا،خاص طور پر ایسے وقت میں جبکہ ایک سینئر افغان افسر نجی طور پر صدارتی انتخاب کے التوا پر غور کررہے ہیں، جس کے حوالے سے وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آئین میں اس کی اجازت ہے جبکہ انتخابات بظاہر کچھ ہی مہینوں کی دوری پر ہیں۔ صدارتی انتخاب میں یہ تاخیر حزب اختلاف کے تمام افغان گروپوں کیلئے ناقابل قبول ہوگی، اس سے اندرونی انتشار کو ہوا ملے گی اور اس سے نیٹو کے افغانستان سے انخلاء کی حکمت عملی کو بھی نقصان پہنچے گا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس ضمن میں تاخیر کی مخالفت کریں گے، ان کا مزید یہ بھی کہنا ہے کہ جان کیری کے دورے کے بعد کرزئی بی ایس اے کے معاملے کو لویہ جرگہ کی نذر کرکے زیادہ طول دے سکتے ہیں نہ ہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں تاہم ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ امریکہ فوجیوں کے استثنیٰ کا معاملہ سودے بازی کے بغیر کیسے طے کرتا ہے۔ اگر کزرئی التوا کی چال چل رہے ہیں تو پھر سودے بازی کیا ہوگی؟ اور اگر تمام توانائیاں بی ایس اے معاہدے کو طے کرنے میں صرف ہوتی رہیں اور انخلاء کے حوالے سے دیگر پہلوؤں کو واقعی نظر انداز کر دیا گیا تو خصوصاً افغان مفاہمتی عمل کے امکانات پر اس کے کیا نتائج مرتب ہوں گے۔ سیاسی، معاشی اور سیکورٹی کے ضمن میں تبدیلیوں کے حوالے سے غیر یقینی پہلے ہی بڑھ چکی ہے کیونکہ جنگ کے خاتمے کے ضمن میں سیاسی مفاہمت کیلئے امن مذاکرات جیسی اہم ترین شرط پوری ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔

واشنگٹن اور کابل نے پہلے ہی قیمتی وقت بی ایس اے معاہدے پر طویل مباحثوں میں ضائع کردیا ہے، اگرچہ اس سے امن کی کوششیں پٹڑی سے نہیں اتریں تاہم اس میں التوا ہوا جس کی بھاری قیمت چکانی پڑی۔ جون میں کرزئی نے امریکہ کی جانب سے طالبان کو قطر میں دفتر کھولنے میں معاونت کرنے پر احتجاجاً بی ایس اے معاہدے پر مذاکرات معطل کردیئے تھے۔ امن عمل کیلئے ممکنہ طور پر ایک معنی خیز آغاز کرزئی کے اس خیال کی نذر ہوگیا کہ واشنگٹن کیلئے بے ایس اے سے زیادہ اہم کچھ بھی نہیں ہے۔انہوں نے دو معاملات کو منسلک کردیا اور مصر رہے کہ اگر طالبان کے ساتھ مذاکرات میں انہیں مرکزی حیثیت نہ دی گئی تو وہ اس عمل کو آگے بڑھنے نہیں دیں گے۔ جون سے لے کر اب تک دوحہ مذاکراتی عمل کی بحالی کیلئے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی حالانکہ طالبان کے نمائندے قطر سے نہیں نکلے اور ان کے ترجمان نے مذاکرات کے سلسلے کو وہیں سے شروع کرنے کی بات دہرائی ہے جہاں سے وہ منقطع ہوئے تھے۔ اسلام آباد نے متعدد مرتبہ واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ دوحہ میں مذاکراتی عمل کے راستے کو ترک نہ کرے، امریکہ نے پاکستان کی یہ تجویز ماننے سے انکار کیا جو کہ کچھ ماہ قبل مذاکرات سے پہلے غلط فہمیوں کو دور کرنے کیلئے دی گئی تھی جس پر عملدرآمد نہ کرنے کا نتیجہ دوحہ میں مذاکراتی عمل میں سفارتی شکست کی صورت میں سامنے آیا۔

درایں اثنا اگست میں صدر کرزئی کے اسلام آباد کے دورے کے بعد پاک افغان تعلقات میں معقول بہتری آئی اور جس سے مفاہمتی عمل کو آگے لے جانے میں کچھ پیشرفت ہوئی۔ طالبان کے کرزئی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات سے انکار کو مدنظر رکھا جائے تو کابل کی درخواست پر پاکستان کی جانب سے سینئر طالبان رہنما ملا عبدالغنی بردار کی رہائی کے بعد بھی اس محرک میں تبدیلی کے امکانات نہیں ہیں۔ امکانات یہ ہیں کہ سیاسی مفاہمت کی جانب معنی خیز پیشرفت کیلئے کرزئی دور کے خاتمے کا انتظار کرنا پڑسکتا ہے۔ اگر صدارتی انتخاب وقت پر ہو جائے تو بھی ایک سوال اٹھتا ہے کہ آیا اس عمل سے طالبان کے ساتھ سیاسی مفاہمت کی صورت ہو سکتی ہے کیونکہ کئی امیدوار معاہدے ختم کر کے نئے اتحاد بنانے کے متلاشی ہیں۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ کسی بھی امن عمل کی عدم موجودگی میں کیا طالبان کو انتخابی عمل سبوتاژ نہ کئے جانے کی جانب راغب کیا جاسکتا ہے؟ اب تک طالبان کے نمائندوں نے صدارتی انتخاب کو مسترد کیا ہے۔ ملا عمر نے اپنے عید کے پیغام میں عوام سے اس میں شرکت نہ کرنے کی استدعا کی اور اسے ڈرامہ قرار دیا ہے۔یہ سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ اگر جون میں امن مذاکرات ہو جاتے تو انتخابات کے پُرامن انعقاد کیلئے کوئی راہ نکل سکتی تھی۔

اس عزم کی غیر موجودگی میں منصوبہ بندی کے مطابق 2014 کے انخلاء اور اس کے بعد کی صورتحال کے ہموار ہونے پر شبہات بڑھ گئے ہیں۔ تذبذب پیدا کرنا امریکی اتحادی کا انخلاء کے حوالے سے مطمح نظر معلوم ہوتاہے۔2014 کے بعد سیاسی مفاہمت کے ذریعے جنگ کے خاتمے کیلئے غیر سنجیدگی نے تینوں اہم پیشرفتوں کو کھٹائی میں ڈال دیا۔ جس سے 2014میں پُرامن تبدیلی کیلئے داغ بیل ڈالی جا سکتی تھی اور اس سے 2014 کے بعد ملکی استحکام یقینی ہونے میں بھی مدد ملتی۔ اس حوالے سے پیشرفت کیلئے وقت ختم ہورہا ہے اور 2014 کے بعد افغانستان میں عدم استحکام اور انتشار کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ کوئی یہ نتیجہ نہیں چاہتا، پورے پاکستان کو تو رہنے دیجئے لیکن اسلام آباد کے پاس اس صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں