.

میاں نواز شریف کا دورہ امریکا

نجم الحسن عارف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے تیسری مرتبہ منتخب ہونے والے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف ایک مرتبہ پھر امریکی دورے پر واشنگٹن میں ہیں۔ اس سے قبل اپنے پچھلے دور حکومت میں بطور وزیر اعظم وہ 1999 میں اپنے اقتدار کے خاتمے سے محض تین سوا تین ماہ پہلے امریکا کے دورے پر آئے تھے۔ لیکن ان بھلے وقتوں میں ہونے والے ان کے دورے کے مقاصد میں اور آج کے حالات اور دورے کے مقاصد ہی نہیں دورے کے ظاہری حسن یعنی پروٹوکول میں بھی کافی فرق ہے۔

اس وقت میاں نواز شریف کارگل کی لڑائی میں پھنسی اپنی افواج کیلیے واپسی کا راستہ لینے آئے تھے آج انہیں افغانستان میں پھنسی امریکی افواج کی '' باعزت واپسی'' کے لیے وہ سب کچھ پیش کرنے کے لیے کہے جانے کی امید ہے، جس سے انکار کرنا ان کے کسی بھی صورت بس میں نہیں ہو گا۔ اولا یہ معاملہ حکومت سے زیادہ پاکستانی افواج کی دسترس، ترجیح اور دلچسپی کا ہے، لیکن اگر کسی رسمی رکھ رکھاو اور تکلف کا اہتمام کیا بھی گیا تو میاں نواز شریف خود کو برا بنانے کی کوشش نہیں کریں گے۔ گویا نہ کھایا نہ پیا گلاس توڑنے کے نقصان کا اندیشہ اپنی جگہ موجود ہو گا۔

ایک فرق یہ بھی ہے کہ 1999 میں بطور وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف اپنی حکومت کی ''روایتی مدت'' اڑھاَئی تین سال پورے کرنے والے تھے جبکہ ابھی انہیں کل تین چار ماہ سے ذرا زیادہ ہوئے ہیں۔ چودہ برس پہلے ہونے والے ان کے دورہ کے موقع پر اس وقت کے امریکی صدر نے اپنی سرکاری چھٹی کی قربانی دے کر انہیں فوری وقت دیا تھا لیکن اب صدر اوباما نے ایک گھنٹے کی کل ملاقات کیلیے انہیں کم از کم پورے دو دن انتظار کرایا ہے۔

ایک زمانہ وہ تھا جب صدر کلنٹن میاں نواز شریف سے ملنے صبح سویرے بغیر اطلاع کے بلئیر ہاوس پہنچ گئے تھے اور اسی وزیر اعظم پاکستان کا ایک یہ دورہ امریکا ہے کہ نہ صرف شٹ ڈاون زدہ امریکی انتظامیہ نے انہیں بلئیر ہاوس میں ٹھہرانا اپنے لیے مالی بوجھ میں اضافہ محسوس کیا اور مجبورا وزیر اعظم پاکستان ایک ''زائر لاہوتی '' کی طرح اپنے خرچے پر ایک ہوٹل میں قیام پذیر ہونا پڑا بلکہ ان کی صدر سے ملاقات بھی عملا خشک مزاج اور لذت کام ودہن سے قدرے''بے بہرہ'' بھارتی وزیر اعظم من موہن کے نیو یارک والے حالیہ ناشتے سے بھی روکھی رہے گی۔ معلوم یہ ہوا ہے کہ پرانے زمانے میں پاکستان پر مونگ پھلیوں کی طرز سخاوت کرنے کا رجحان رکھنے والی امریکی حکومت نے میاں نواز شریف کے ساتھ ایک گھنٹے کی کل ملاقات میں کھانے کے تکلف کو آڑے آنے دینے کو بہتر خیال نہیں کیا کہ خواہ مخواہ برتنوں کے شور سے ''اہم ملاقات '' میں خلل آئے گا۔

یار لوگوں کا خیال ہے کہ یہ سارا اہتمام میاں نواز شریف کا قیمتی وقت اور امریکا کا قیمتی سرمایہ بچانے کیلیے کیا گیا ہے۔ لیکن پاکستان کے اعلی ترین پروفائل کے وفد کی صدر اوباما سے ملاقات کے دوران امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا اپنی اہم مصروفیات کی وجہ سے دستیاب نہ ہو سکنا خالی از علت نہیں ہے۔ دوسری جانب میاں نواز شریف وزارت دفاع اور وزارت خارجہ کے قلمدانوں سمیت بنفس نفیس موجود ہوں گے جبکہ امریکی صدر کی معاونت کے لیے جان کیری کے کسی نائب کو زحمت دی جائے گی۔

ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ امریکی انتظامیہ نے وزیراعظم پاکستان کے استقبال کیلیے امریکی پروٹوکول کے شعبے کی ضروری مصروفیات کے باعث ان کے استقبال کا بوجھ پاکستان میں امریکی سفیر رچرڈ اولسن کے نازک کندھوں پر ڈالا گیا ہے۔ مطلب دو ٹوک اور واضح ہے کچھ اور دینا تو درکنار امریکی انتظامیہ زبانی کلامی بھی اپنے''محبوب'' کو پہلے والی محبت دینے کو تیار نہیں ہے۔

غالبا اسی لیے پاکستان کے جہاں دیدہ مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے یہ منسوب کیا جاتا ہے کہ انہوں نے کابینہ کے ایک حالیہ اجلاس میں صاف صاف بتا دیا تھا کہ اس دورے کے نتیجے میں امریکا سے کچھ ملنے کی امید نہ رکھی جائے بلکہ ان دو سوالوں کا جواب تیار رکھا جائے جن کا ہمیں امریکا میں سامنا ہو سکتا ہے، اولا یہ کہ اگر افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد طالبان کابل پر قبضہ کی کوشش کرتے ہیں تو پاکستان کس کے ساتھ ہو گا؟ ثانیا یہ کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی پوری حمایت نواز حکومت کو حاصل ہے یا نہیں؟ بلاشبہ سرتاج عزیز نے یہ ان دو سوالوں کی صورت میں اپنی ساری کدوکاش کا نچوڑ امریکیوں سے اپنے رابطوں اور ملاقاتوں کے نتیجے کے طور پر حاصل کیا ہو گا۔ جو میاں نواز شریف کے دورے کے سلسلے میں ایک سے زائد سطحوں پر ہوئی ہوں گی۔ اس لیے میاں نواز شریف کا اس کے باوجود سارے '' اہم کام ''چھوڑ چھاڑ کے امریکا جانا بعض دانا و بینا لوگوں کی سمجھ سے بالا معاملہ ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب امریکا کے پاس کچھ بھی دینے کیلیے نہیں بلکہ لینے ہی کیلیے ہے اپنا سر اوکھلی میں دینے کا نتیجہ اور کچھ نہیں تو بنے سنورے بالوں کی مانگ خراب کرانے کے ضرور مترادف ہو گا۔

لیکن ایک رائے اس کے برعکس بھی ہے کہ میاں نواز شریف کاروبار کو جتنا سمجھتے ہیں وہ ضرور کوئی سودا بیچنے کا بھی لے کر گئے ہوں گے۔ اگرچہ یہ ذہن میں آنا مشکل ہے کہ ایسا کیا سودا ہو گا جسے وہ فوج سے بالا بالا بیچنے کی پوزیشن میں ہو سکتے ہیں۔ اس معاملے میں بلاشبہ میاں نواز شریف پہلے ہی کسی شک اور شبہ سے بالاتر شخصیت کے طور پر ابھی قبول نہیں ہو سکے ہیں۔ اس سلسلے میں جنرل کیانی کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ اور مزید توسیع نہ لینے کی وضاحت کا آئی ایس پی آر سے جاری ہونا نہ صرف وزیر اعظم کے اکیلے میں کسی سودے کے بیچنے کی پوزیشن میں نہ ہونے کی چغلی کھاتا ہے بلکہ سرتاج کی طرف سے کابینہ کے اجلاس میں پیش کیے گئے دوسرے سوال کے جواب کا بھی ایک قوی اشارہ ضرور ہے ۔

اس لیے بہت سے سوچنے والے بجا طور پر یہ سوچ سکتے ہیں کہ جو وزیراعظم اپنے ملک کے آرمی چیف کی تقرری پر اتنا زیادہ سوچنے پر مجبور ہے امریکا اس پر ہوٹلنگ اور عشائیوں کے اخراجات بھی کیوں ضائع کرنے کا روادار نہیں وہ آخر امریکا سے کیا لے کر واپس آئے گا؟ البتہ یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ امریکی نمک جو میاں نواز شریف اور ان کے رفقاء کو اس دورے میں سب سے پہلے اور سب سے زیادہ ہائی پروفائل حوالے سے ملا ہے وہ امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر کا ہے۔ اس اکلوتے اہم امریکی کھانے کے موقع پر سی آئی اے کے سربراہ نے اپنے ایک پاکستانی آلہ کار ڈاکٹر شکیل آفریدی کی کسی نہ کسی صورت رہائی اور امریکا کو حوالگی منوائی ہو گی یا پاکستان میں ڈرون حملوں کو روکنے کا میاں نواز شریف کا مطالبہ مانا ہو گا؟ سرتاج عزیز کے سامنے لائے گئے دو سوالوں کی طرح ان دو سوالوں کا جواب بہر حال میاں نواز شریف یا ان کے عملا نمبر ٹو پرویز رشید کو بہر دینا ہو گا۔ اور ایک بیلنس شیٹ سامنے لانا ہو گی کہ اس دورے سے پاکستان نے کیا کھویا کیا پایا؟

بظاہر اس دورے کا حوالہ غالب کے اس روائتی مصرعے میں ملتا ہے''ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ میں ہوتا تو کیا ہوتا'' لیکن صدر اوباما کے دل میں کچھ رحم آ جائے تو عزت ''سادات ''بچانے کی ایک صورت ہے کہ وہ کچھ وقت میاں نواز شریف کو'' ون آن ون ''ملاقات کیلیے بھی دے دیں تاکہ وہ اپنے رفقاء کو تسلی دینے کی پوزیشن میں آ جائیں کہ ''اوباما سے ساری باتیں ہو گئی ہیں فکر کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ''

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.