بلاول زرداری، ذرا غور کریں

فرخ سہیل گوئندی
فرخ سہیل گوئندی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

آصف علی زرداری کے صاحب زادے، بلاول زرداری نے 18اکتوبر کو سانحہ کارساز کی برسی کے موقع پر اپنے خطاب میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان تحریک انصاف، ایم کیو ایم اور دوسری سیاسی قوتوں کو براہ راست تنقید کا نشانہ بنا کر عملی سیاست میں آنے کا احساس دلا دیا ہے۔ بلاول زرداری اب پچیس سال کے ہو چکے ہیں، یعنی انتخاب لڑنے کے اہل اور یہ خبر بھی ہے کہ 27 دسمبر کو محترمہ بے نظیر بھٹو کی چھٹی برسی کے موقع پر وہ گڑھی خدا بخش میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔ یہ بلاول زرداری کی خوش قسمتی ہے کہ ان کو عملی سیاست کے آغاز ہی میں سندھ کی سرزمین میسر ہے، جہاں پر ان کی پارٹی کی حکومت ہے اور یہ صوبہ ان کے نانا ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے المیے کو کبھی اپنی یاداشت سے مٹنے نہیں دیتا۔ ملک میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کی فضا میں سیاست کے لیے عوامی رابطے کرنا اب مشکل ترین کام ہے اور ہرسیاسی قیادت دہشت گردی کے نشانے پر سرفہرست ہے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو۔ بلاول زرداری کی اس تقریر کے ردِعمل میں ان کے مخالفین نے ان پر شدید تنقید اور حامیوں نے بھرپور حمایت کی اور یہی ہماری سیاست کا خاصا ہے، انہیں اپنے قائد کے غلط اور درست تمام بیانات اور خطابات پر بھرپور اعتماد اور فخر ہوتا ہے جبکہ مخالفین اسی شدت سے مخالفت کرتے ہیں۔

اس خطاب کے حوالے سے یہ بھی ذکر ہو رہا ہے کہ بلاول الیکشن لڑنے کے اہل ہو گئے، یعنی اب وہ صوبائی یا قومی اسمبلی کے رکن بن سکتے ہیں۔ اس پر مجھے وہ دن یاد آگیا جب بلاول زرداری کی والدہ، بے نظیر بھٹو پچیس سال کی ہوئیں تو انہوں نے جیل میں اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ اپنی سالگرہ کی سادہ اور افسردہ تقریب کا اہتمام سلاخوں کے آرپار کیا۔ اس موقع پر ان کے والد نے کہا کہ میرے لیے آج کا دن بڑا خوشی کا دن ہے کہ تم اب جنرل ضیاالحق کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹکنے لگ گئی ہو کہ اب تم الیکشن لڑنے کی اہل ہو گئی ہو۔ جون 1978ء میں باپ سے ملاقات کے چند ہفتوں بعد محترمہ بے نظیر بھٹو جن کو اخبارات ان دنوں آنسہ بے نظیر لکھتے تھے، لاہور میں فاروق لغاری کے گھر تشریف لائیں جہاں وہ گرفتاریاں دینے والے غربت کے مارے سیاسی کارکنوں سے ملاقات کر رہی تھیں۔ میں بھی وہاں اس مختصر سے اجتماع میں شامل تھا۔

میں نے اپنے دوسرے سیاسی ساتھیوں کے ہمراہ آنسہ بے نظیر بھٹو سے پہلی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دیگر متحرک سیاسی ساتھیوں جو کہ طلبہ سرگرمیوں میں بھٹو کی رہائی کے لیے سرگرم تھے، سمیت ہم نے آنسہ بے نظیر بھٹو سے اپنی ان سرگرمیوں اور متوقع منصوبوں کا ذکر کیا کہ ہم کس طرح طلبہ کو ذوالفقار علی بھٹو کی رہائی کی تحریک بنانے پر راغب کر سکتے ہیں۔ ایک اٹھارہ سالہ پُرجوش نوجوان اس ملاقات سے آگے کئی برسوں تک یہ یقین کیے بیٹھا تھا کہ ہمیں اپنی منزل جلد ہی ملنے والی ہے، ایک ایسا پاکستان جس میں جاگیرداری کا خاتمہ، جمہوریت کا قیام، آئین کی بالادستی ہوگی اور ایک حقیقی فلاحی ریاست قائم ہوگی۔ لیکن یہ سب خواب درمیانے درجے کے طبقات تک پائے جاتے ہیں۔ درمیانے طبقے سے اوپر لوگ اجتماعی خواب نہیں دیکھتے۔ ذوالفقار علی بھٹو پھانسی پر لٹکا دیئے گئے۔ کارکنوں کی پیٹھوں پر کوڑے داغے گئے۔ جنرل ضیا کا مارشل لا گیارہ سال تک وہ کچھ کرتا رہا جس کا تصور آج کی نسل کر ہی نہیں سکتی۔ آنسہ بے نظیر بھٹو دوبارہ جلاوطن ہوئیں، پھر وطن واپس آئیں اور ان کی آمد پر لاکھوں کا استقبال اور لاکھوں کے اس جلوس میں دیگر نعروں کے علاوہ یہ نعرہ بھی بلند ہوتا رہا، ’’بے نظیر آئی ہے، انقلاب لائی ہے‘‘ ۔

لیکن جب محترمہ بے نظیر آگئیں تو ان کا قیام پنجاب کے بڑے جاگیردار کے گھر ہوا اور ان کے رابطے جنرل ضیاء الحق کی مجلس شوریٰ کے ساتھیوں سے ہوئے تو ان کی پارٹی نے ایک نیا پیغام نشر کیا، ’’جدوجہد کرنا اور جیل کاٹنا اور بات ہے اور الیکشن لڑنا بالکل مختلف بات۔‘‘ محترمہ بے نظیر بھٹو نے ملک بھر میں عوامی رابطے بھی کیے اور حکمرانی کا راز پا جانے والے روایتی خاندانوں اور شخصیات سے بھی رابطے استوار کرنا شروع کر دیئے۔ ایسے ہی رابطوں کے دوران جب وہ پنجاب کے معروف جاگیردار اور گدی نشین فیصل صالح حیات کے گھر قیام پذیر تھیں تو جیل اور قلعہ کی قید کاٹنے اور کوڑے کھانے والوں پر ان کے دروازے بند ہوئے تو تب نعرہ لگا، ’’ضیا بھی مارے، تم بھی مارو، ہائے پجارو، ہائے پجارو۔‘‘ جدوجہد کے کاروان نے اب اپنی جدوجہد کو دو رُخی کیا، یعنی ملک میں آمریت کے خلاف اور پارٹی میں آمریت کے خلاف جدوجہد۔ صرف دو سال بعد محترمہ بے نظیر بھٹو، جنرل ضیا کی باقیات کو اقتدار میں شامل کرنے پر ’’مجبور‘‘ ہوئیں تو جہاں ملک میں آمریت کے خلاف جدوجہد اپنی موت آپ مر گئی وہاں پر پارٹی کے اندربھی آمریت کے خلاف جدوجہد مٹنے لگی اور پارٹی اپنی اساس اور جذبات سے محروم ہونے لگی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو دو مرتبہ وزیراعظم بنیں، لیکن کمزور پارٹی کی وزیراعظم کو دونوں مرتبہ معزول کر دیا گیا۔

وہ سیاسی کارکن جو پارٹی کو مضبوط بنانے اور منشور پر عمل درآمد کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا رہے تھے، اب ان کی آوازیں بھی وقت کے ساتھ مرنے لگیں۔ کمزور پارٹی کی معروف رہنما دوسری بار طویل جلاوطنی پر مجبور ہوئیں اور پھر 18اکتوبر 2007ء کو پاکستان کی مقبول ترین رہنما وطن واپس لوٹیں تو عوام نے ان کا عظیم الشان استقبال کیا۔ اُن کی ’’قائدانہ سواری‘‘ کی تصاویر پر نظر دوڑائیں تو ان کے اردگرد تقریباً تمام وہ لوگ شامل تھے جو ’’آمریتوں کے ستون‘‘ اور ’’اقتدار کی راہوں‘‘ کی رہنمائی کرتے ہیں۔ پاکستان کی مقبول ترین رہنما محترمہ بے نظیر بھٹو پر یہ قاتلانہ حملہ ناکام ہوا لیکن پھر27دسمبر 2007ء کو قاتلوں نے اس مقبول رہنما کو ایک بڑے جم غفیر کے سامنے ہلاک کر دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو سے بے نظیر بھٹو تک قتل ہونے والوں کی ایک فہرست ہے اور اس قتال کے نتیجے میں مستفید ہونے والوں کی بھی ایک فہرست ہے۔

ہم نے دیکھا کہ 27دسمبر 2007ء کو محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد وہ تمام لوگ اقتدار کی مسند پر بیٹھے جن کو 18اکتوبر کو محترمہ بے نظیر بھٹو کی ’’قائدانہ سواری‘‘ (ٹرک) پر دیکھا جا سکتا ہے۔ جدوجہد اور قتل کے اس سفر میں کاروانِ جدوجہد کے سیاسی کارکن اور استقبال کرنے والے لاکھوں عوام کی زندگی اپنی جگہ جامد کھڑی ہے اور بھٹو خاندان جس کے دو فریق دعوے دار ہیں، ایک ذوالفقار علی بھٹو کے بیٹے مرتضیٰ بھٹو کی اولاد اور دوسرا فریق جس نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے بطن سے جنم لیا۔ اب اس خاندان کے دوسرے فریق کے چشم و چراغ جناب بلاول زرداری جو بھٹو کہلوانے پر زیادہ فخر محسوس کرتے ہیں، جوش و جذبے سے ان اجتماعات اور استقبالوں کی سیاست میں داخل ہو رہے ہیں۔ ان سے سوال بھی ہے اور عرض بھی کہ آپ کی خطابت میں گرم لہو کی شدت کو تو محسوس کیا جارہا ہے، لیکن یہ فرمائیں کہ عوام کی قسمت، تقدیر کے لیے آپ کے ذہین دماغ میں کہیں کوئی مقام ہے؟ یہ اجتماعات اور استقبال قتل کا کاروان ثابت ہوئے ہیں۔

مقبول رہنماؤں کا قتل اور حقیقی عوامی سیاست کا قتل بھی۔ کیا آپ بھی ایسے کارواں کی قیادت کرنے چلے ہیں جس میں مقبول قائد تو ہوتا ہے مگر جماعت کمزور کہ جس مقبول رہنما کو قتل کر دیا جائے تو مرثیہ خوانی اور اس کے قتل سے مستفید ہونے والوں کے سوا سیاست میں عوام اور قوم کی فلاح کا سفر کہیں آگے نہیں بڑھتا۔ کمزور جماعت کے مقبول رہنماؤں کے لیے یہ تین دہائیوں کا سفر، قتل، اقتدار اور ہوسِ دولت سے عبارت ہے۔ بلاول زرداری آپ بھٹو نہ بھی کہلائیں تو کوئی حرج نہیں آپ عوام کے بن جائیں۔ قیادت کمزور بھی ہو تو کچھ نہیں، جماعت مضبوط ہو گی تو ملک مضبوط ہو گا۔ جماعت مضبوط ہو گی تو عوام کی سیاست مضبوط ہو گی اور پھر کوئی قتل بھی نہیں ہو گا۔ بلاول زرداری صاحب، ذرا پچھلی اور حالیہ صدی کے کامیاب لیڈروں پر نظر دوڑائیں، کامیاب وہ رہنما ہوئے جنہوں نے کامیابی سے پہلے بلند بانگ دعووں سے اجتناب کیا اور جوش و جذبات سے احتیاط کی،اور وہ جنہوں نے دعوے، جوش اور خون گرما دینے والے خطاب کیے ،وہ عوام کے لیے کچھ بھی نہ کرسکے۔

بشکریہ روزنامہ 'نئی بات'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں