.

میرا نہیں، تیرا سلطان

حسن نثار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

’’بولی اماں یہ شوکت علی کی جان بیٹا خلافت پہ دینا‘‘

آج ’’علی برادران ‘‘ زندہ ہوتے تو انہیں ترکی کے ڈرامہ ’’میرا سلطان‘‘ کی قسط دکھا کر پوچھتا کہ’’حضرات! کیا ان کے حق میں ’’تحریک خلافت‘‘ چلا کر برصغیر کے مسلمانوں کیلئے زندگی مشکل کی تھی ؟‘‘اس داستان جمال و جلال میں ہمیشہ حرم اور کبھی کبھی گرم میدان جنگ کے علاوہ کیا ہے؟ ہمارا المیہ یہ کہ خلافت کا خوبصورت لفظ سنتے ہی ہم خلافت راشدہ کے سنہرے دور میں داخل ہو جاتے ہیں حالانکہ خلفائے راشدین کے بعد ان جیسا تو کیا ،ان کی خاک پا جیسا بھی کوئی نہ آیا، میں جانتا ہوں کہ شاعری اور ڈرامہ مبالغہ ہوتا ہے لیکن میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ سلاطین خلفائے راشدین کا پاسنگ بھی نہیں ہوتے بلکہ اس کے برعکس جہاں سلطان ہوتے ہیں وہاں حرم ہوتے ہیں، سازشیں ہوتی ہیں، قتل وغارت ہوتی ہے اور سلطان کے ہاتھوں اس کی سنتان تک کو امان نہیں ہوتی۔

دنیا بھر میں ’’سلطان‘‘ تقریباً داستان بن گئے۔ جدید دنیا کا سلطان تو مونیکا لیونسکی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا، حرم تو دور کی بات ہے۔ پچھلے دنوں سابق سلطان امریکہ بل کلنٹن کی ’’حورم‘‘ ہیلری کلنٹن کا انگلینڈ میں چالان ہو گیا تو بیچاری نے جرمانہ ادا کرکے جان چھڑائی کیونکہ مہذب دنیائوں میں سلطانی نہیں سلطانی ٔ جمہور کا دور دورہ ہے جس کی پیش گوئی اقبالؒ نے کی تھی کہ:

’’سلطانی ٔ جمہور کا آتا ہے زمانہ‘‘

لیکن مملکت خداداد سے سلطانی ٔ جمہور ابھی کچھ دور ہے ۔ یہاں ابھی تک سلاطین کی باریاں لگتی ہیں اور اس سلطنت کو پیار سے یا مذاق سے جمہوریت جمہوریت کہہ کر چھیڑتےہیں اور یہ جمہوریت اس قدر شریف النفس ہے کہ اس چھیڑ چھاڑ پر شرماتی بھی نہیں ۔یقین کیجئے کہ پاکستان اگر سلطنت کی جگہ جمہوریت ہوتا تو بابا نجمی جیسا درویش کبھی یہ پنجابی نظم لکھ کر مجھے نہ بھجواتا ’’میرا سلطان 2013ء‘‘ کی شان میں لکھا گیا بابا نجمی کا یہ نوحہ نما قصیدہ ملاحظہ فرمائیے ۔
’’بک روپیئے، آٹا سیر
روٹی روٹی کرے چنگیر
ہائے ہائے لوکو ! آیا شیر
فیر پرانا ساڈا رونا
ساڈے ہتھیں خالی پونا
سوچاں والا اگے ڈھیر
روٹی روٹی کرے چنگیر
ہائے ہائے لوکو !آیا شیر
ایہدی کدے دیہاڑی ٹٹے
پھڑیا کم وی ہتھوں چھٹے
گھر نہ ہووے آٹا سیر
ہائے ہائے لوکو! آیا شیر
بھورا وی نئیں پہیہ ہلیا
سر تو پیراں تیکر کلھیا
انھی انھی جہی سویر
ہائے ہائے لوکو! آیا شیر
اپنی چپ دا جندرا کھولو
جنی ہمت اونا بولو
کجھ نئیں ہوندا بنو دلیر
روٹی روٹی کرے چنگیر
ایہنا دے ہن پٹو بچے
بھکھ دے ویہڑے باندر نچے
مسلم لیگی بڑے دلیر
ہائے ہائے لوکو! آیا شیر

قارئین!

معذرت خواہ ہوں کہ پنجابی کے حبیب جالب کی پوری نظم پیش نہیں کر رہا کیونکہ آخر مروت اور طوالت بھی کوئی چیز ہے ۔ بابا نجمی کو چاہئے پوری نظم نیٹ پر چڑھا دیں تاکہ پوری دنیا کو خبر ہو جائے کہ ’’میرا سلطان‘‘ پاکستان میں دودھ کی کیسی نہریں بہا رہا ہے ۔ ابھی تو اک اور چھوٹی سی خبر ہے کہ آئی ایم ایف کی شرط کے عین مطابق آئی ایم ایف کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دسمبر میں 70اشیاء پر سیلز ٹیکس لگائے جانے کا امکان ہے یہاں اپنا وہ منحوس وعدہ پھر سے یاد دلائوں گا کہ اس حکومت کے 6ماہ پورے ہونے پر عوام کی چیخیں مریخ پر سنائی دیں گی۔

’’پوچھیں گے اپنا حال تری بے بسی سے ہم ‘‘
ایسے کڑاکے نکلیں گے کہ مائیں کاکے بھول جائیں گی

آج کل سنتے ہیں امریکہ میں ہر کسی کی زبان پر ایک ہی نعرہ ہے یعنی ’’دیکھو دیکھو کون آیا ؟‘‘ میرا نہیں تیرا سلطان اپنے ’’سمبل آغائوں‘‘ سمیت امریکہ میں فتوحات کے جھنڈے گاڑ رہا ہے ۔ واپسی پر قوم کی بیٹی عافیہ صدیقی بھی ساتھ ہو گی ۔ڈرون کا سکریپ بحری جہازوں پر پیچھے پیچھے آ رہا ہو گا۔ 1.6ارب ڈالر کا ’’خراج ‘‘ تو خوفزدہ امریکن پہلے ہی پیش کر چکے ہیں تاکہ کشکول شکن شیر کے ہاتھوں تاخت و تاراج سے بچ سکیں اور سپر پاوری کی لاج رہ جائے۔

وائٹ ہائوس کا کالا مکین جان کیری سے پوچھ رہا ہے ’’کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے‘‘ کیری کانپتے ہوئے کہتا ہے ’’آقا میرے آقا ! عافیہ واپس کرنا ہو گی، ٹریڈ کی اجازت دینا ہو گی اور اپنے سرمایہ کاروں کو اس دیس میں سرمایہ کاری کا حکم دینا ہو گا جس کے سلاطین خود اپنے ملک میں سرمایہ کاری سے اجتناب کرکے ہم جیسے غلاموں کی سر پرستی فرماتے ہیں ۔‘‘

’’میرا سلطان ‘‘ تو کبھی آیا نہیں ’’تیرا سلطان‘‘ امریکہ سے خالی ہاتھ نہیں، بے شمار خوشحالی کے ساتھ واپس آئے گا اور بے شمار پیارے پیارے سنبل آغا سر سے سر اور تال سے تال ملا کر یہ اعلان کریں گے کہ ’’میرا سلطان کامیاب اور تاریخی دورے کے بعد مع مال غنیمت 1.6 ارب ڈالر واپس اپنی سلطنت تشریف لے آیا۔ ‘‘

میرے آقا ؟

تھوڑا سا آٹا ۔۔۔۔ یا پھر بابا نجمی کی نظم گوندھ کر پراٹھا بنا لوں؟

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.