نور حق بجھ نہ سکے گا نَفَسِ اعدا سے

ارشاد احمد عارف
ارشاد احمد عارف
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

اخبار میں ہالینڈ کی بنیادپرست فریڈم پارٹی کے رکن آرنوڈ وین ڈرو کی طرف سے فریضہ حج کی ادائیگی کی خبر پڑھ کر اقبالؒ یاد آئے:

ے عیاں یورش تاتار کے افسانے سے
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

یہ وہی وین ڈرو ہے جس نے حضور کے بارے میں گستاخانہ دلآزار فلم بنائی۔ اسلام کو وحشیانہ مذہب ثابت کرنے کے لئے منفی پروپیگنڈا کیا اور مسلمانوں کو دیس نکالا دینے کے لئے زوردار مہم چلائی مگر بالآخر مسلمان ہو گیا۔

ڈچ فلمساز کو روضہ رسول کے سامنے بہ چشم تر صلوٰۃ و سلام پیش کرتے دیکھ کر اخبارنویس نے اس قلب ماہیت کا سبب پوچھا تو نومسلم نے جواب دیا ’’دلآزار فلم پروڈیوس کرنے کے بعد میں روحانی، ذہنی اور نفسیاتی بے سکونی کا شکار ہو گیا۔مسلمانوں کی اپنے رسول سے والہانہ محبت نے مجھے جھنجوڑ کررکھ دیا۔ میں نے سیرت رسول کا مطالعہ کیا تو ایک خاتون کےساتھ حضور کے حسن سلوک کا قصہ پڑھ کر ایمان لانے پر مجبور ہو گیا جو روزانہ آپؐ پر گندگی پھینکتی مگر جب بیمار ہوئی تو حضور اس کی عیادت کرنے پہنچ گئے۔ میں اب ایسی فلم بنائوں گا جو تبلیغ اسلام میں مددگار ثابت ہوگی۔‘‘

ممتاز عالم دین علامہ احمد سعید کاظمیؒ رنگون کے ایک مجسمہ ساز ہندو کے قبول اسلام کا واقعہ سنایا کرتے تھے جس نے حضور کا مجسمہ بنانے کے لئے سیرت رسولؐ کا مطالعہ شروع کردیا۔ آپؐ کا حلیہ مبارک، نین نقش ازبر کرکے مجسمہ بنایا اور تکمیل کے بعد اسے دیکھتے ہی بے اختیار بول اٹھا ’’لاالہ الا اللہ محمدرسول اللہ میرا تراشیدہ مجسمہ اس قدر حسین، بے مثال اور بے عیب ہے تو خدا کی تخلیق کے حسن و جمال کاعالم کیا ہو گا‘‘:

لَمْ یَاتِ نظیرُک فی نظرٍ
مثل تو نہ شد پیدا جاناں

نائن الیون سے پہلے اور بعد اسلام، پیغمبر اسلامؐ اور مسلمانوں کے خلاف کیا کچھ نہ کہا، لکھا اور پھیلایا گیا۔ ہر زبان کی لغت میں موجودکون سا منفی ، ثقاہت سے گرا اور مکروہ لفظ ایساہے جو محبوب خدا ، انؐ کی تعلیمات، اسلامی تاریخ، ثقافت، سماجی رسوم و رواج کےبارے میں بے دریغ استعمال نہ کیا گیا صرف غیرمسلم اور اسلام دشمن ہی نہیں کلمہ گو لبرل، سیکولر بھی مسلمانوں پر دشنام طرازی اور اسلامی تعلیمات کا مذاق اڑانے میں پیش پیش تھے۔ دہشت گردی، انتہا پسندی اور بنیاد پرستی کے نام پر مسلمانوں کو بزور طاقت دبانے کی ہرعسکری کارروائی کو حق بجانب قرار دیا گیا اور مسلمانوں کی مزاحمت کو بے جا جاہلیت، پسماندگی، ضد اور ہٹ دھرمی کا نتیجہ۔ مگر اس منفی پروپیگنڈے اور جارحانہ طرز عمل نے تاتاری لشکر کے سلیم الطبع افراد کو اپنے کئے پر پشیمان کرکے حلقہ اسلام میں داخل ہونے کی ترغیب دی ۔ کعبے کو صنم خانے سے پاسبان ملنے لگے۔

برطانوی جریدہ ’’اکانومسٹ‘‘ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق مغربی ممالک میں ہر سال 52 ہزار افراد دائرہ اسلام میں داخل ہوتے ہیں۔ اب تک ایک لاکھ برطانوی شہری اسلام قبول کرچکے ہیں اور ان کے قبول اسلام کی وجہ صرف اسلامی تعلیمات کا مطالعہ نہیں بلکہ مسلمانوں کے بہتر سماجی رویوں، اخلاقی اقدار، دوسرے مذاہب کے لوگوں سے غیرمتعصبانہ سلوک نےبھی قبول اسلام میں اہم کردار ادا کیا۔ برطانوی ماڈل کازلے واٹس نے اپنے اور دیگر لوگوں کے قبول اسلام کو برطانیہ میں نسلی امتیاز اور اخلاقی اقدار کے فقدان کا نتیجہ قرار دیا جبکہ صحافی یونے روڈلی نے قبول اسلام کا سبب بدترین حالات میں راسخ العقیدہ مسلمانوں کا خوف خدا اور خوفِ آخرت سے بے نیاز نہ ہونا بتایا تھا۔ یہ تجربہ اسے طالبان کی قید میں ہوا جہاں اس کی نگرانی پر مامور نوجوان طالبان اپنی قیدی خوبصورت، جواں سال اور پرکشش خاتون کی طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھتے جبکہ اس عمر کے مغربی نوجوان اکیلی عورت کو دیکھ کر بائولے ہو جاتے ہیں۔ بگرام میں دنیا کو تہذیب و شائستگی کا سبق سکھانےوالے امریکی فوجیوں نے اکیلی عافیہ صدیقی کے ساتھ جو وحشیانہ سلوک کیا وہ اس کی زندہ مثال ہے اور امریکی حکومت، فوجی قیادت اور معاشرے نے ان بائولے کتوں کا دفاع کیا، انہیں حق بجانب قرار دیااور کبھی شرمندگی محسوس نہیں کی۔

خلائی سٹیشن پر 195 دن گزارنے والی بھارتی نژاد امریکی خلاباز خاتون سمیتا ولیمز نے NASA کے مشن میں خلا سے زمین کا نظارہ کیا تو ہر طرف تاریکی کے باوجود دو مقامات روشن نظر آئے۔ روشنی کے دوہالوں سے اس کی آنکھیں چندھیا گئیں۔ مکہ معظمہ میں کعبہ اللہ اور مدینہ منورہ میں مسجد نبویؐ اس روشنی میں صاف دکھائی دیئے۔ ہمارا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا یوں تو بھارتی فلمی دنیا کے لمحے لمحے کی خبر رکھتا اور اپنے ناظرین و قارئین کو وقت بے وقت آگاہ کرتا ہے مگر اسے ابھی تک نامور اداکارہ ممتا کلکرنی کے قبول اسلام کی خبر نہیں ہوئی ورنہ پاکستانی عوام کو اداکارہ ایک ایسے مذہب کو قبول کرنے کی وجہ بتاتی جس کے ماننے والوں کو اس سیکولر ریاست میں ملیچھ اور معلوم نہیں کیا کیا کہا جاتا ہے۔ ممتا کلکرنی اب نیروبی (کینیا) میں اپنے مسلمان شوہر کے ساتھ مقیم ہے۔

امریکہ، برطانیہ، فرانس، سپین، جرمنی، ہالینڈ اور دیگر ممالک کے ہزاروں فلم سٹار، سائنس دان، کھلاڑی، ڈاکٹر، انجینئر اور سیاستدان دائرہ اسلام میں داخل ہو کر دنیا کو پیغام دے رہے ہیں کہ ترقی یافتہ تہذیب و تمدن خیرہ کن سائنسی و سماجی ترقی اور عہد حاضر کی قیادت کے علمبردار امریکہ و یورپ کا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈا مذہبی تعصب، نسلی امتیاز اوراقتصادی و معاشی مفادات کا آئینہ دار ہے اور اس پھیلتے ہوئے مذہب کے خوف کا مظہر:

عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہ یہ ٹوٹا ہوا تارہ مہ کامل نہ بن جائے

یہ اسلام کا اعجاز، سیرت رسولؐ کی کشش اور ہمارے دانشوروں کے بقول ’’پسماندہ، جاہل اور غیر مہذب‘‘ مسلمانوں کے اخلاق و کردار کی بلندی ہے جس نے کرسٹائن بیکر سے لے کر آرنوڈ وین ڈرو تک اسلام بیزار غیرمسلموں کو اسلام کے دامن رحمت میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا مگر بعض کم فہم نابغے اب بھی ایک ہی ڈھول پیٹ رہے ہیں کہ لوگ ہماری بات سنتے کیوں نہیں۔ سننے اور ماننے کااس سے بڑا ثبوت اورکیا ہے کہ مسلمانوں کو ہالینڈ سے نکالنے کا خواہشمند وین ڈرو روضہ رسول کے سامنےاپنے گناہوں اور رویوں کی بہ چشم تر معافی مانگ رہا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ مسلمان خود نہ تو اسلامی تعلیمات اور سیرت رسولؐ پر صحیح معنوں میں عمل پیرا ہیں اور نہ خدا اور رسولؐ کے مطلوب مردِ مومن کی تعریف پر پورا اترتے ہیں۔

سو طرح کی خامیاں ہیں جنہیں ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔اس کے باوجود لوگ انہی مسلمانوں سے متاثر ہو رہے ہیںاور چکا چوند تہذیب سے منہ موڑ کر انہی کی صفوں میں شامل ہونے اور بے رنگ و ذائقہ زندگی بسر کرنے کے خواہش مند ہیں۔ تصور کیجئے اگر ہم واقعی اسوۂ رسول کی عملی تصویر بن جائیں، دنیا کے لئے اخلاق و کردار کا عملی نمونہ ہوں اور اپنے اوپر گندگی اچھالنے والوں کے دکھ سکھ کو اپنا دکھ سکھ سمجھنے لگیں، ہر فرد بشر سے خیر خواہی کریں، تو بے سکون ، بے چین اور روحانی افلاس کے شکار مغربی فرد اور معاشرے پر کیا بیتے؟ تعصب و تنگ نظری کے جذبے سے سرشارامریکی و یورپی تہذیب و ثقافت کا منفی ردعمل کن انتہائوں کو چھوئے۔ بہرحال فریضہ حج کی ادائیگی کے ذریعے آرنوڈ نے دنیا کو پیغام دیا ہے کہ:

اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے
اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دبا دیں گے

کوئی اقتصادی، معاشی ترغیب، عسکری و سیاسی دبائو اور منفی پروپیگنڈا اسلام کی ترویج میں رکاوٹ نہیں۔ کوئی مانے یا نہ مانے: پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں