چلتے ہو تو امریکہ چلئے

سجاد میر
سجاد میر
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

امریکہ کے اس دورے کو میں تقریباً اتنا ہی اہم قرار دے چکا ہوں جتنا لیاقت علی خاں کا پہلا دورہ امریکہ تھا یا جیسے ایوب خاں کی امریکہ یاترا تھی۔ دونوں نے پاک امریکہ تعلقات کا رخ متعین کر دیا تھا۔ اسی طرح وزیراعظم نواز شریف کا یہ دورہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ ہم اپنے تعلقات کے ایک اہم موڑ پر کھڑے ہیں۔ دو سال کی ”جدائی“ کے بعد لگتا ہے کہ ہم تازہ تعلقات کی صورت گری کر رہے ہیں۔

اچھے دنوں کا ربط گوارا نہیں اگر
تازہ تعلقات کی صورت ہی سوچ لیں

نہیں لگتا کہ یہ تعلق پہلے سے کمزور ہوں گے۔ شاید اس لئے کہ تاریخ ہمیں اس موڑ پر لے آئی ہے کہ یہ تعلقات ہماری بھی مجبوری ہے اور امریکہ کی ضرورت بھی۔ یہ ہو سکتا ہے، محبت کے نئے پیمانوں کو ہم مختلف شکل میں ڈھالیں۔ اسے کوئی اور رنگ دیں۔ پہلے ایبٹ آباد کے واقعے نے، پھر سلالہ کے حادثے نے ہمیں وہاں لا کھڑا کیا کہ ہم نے نیٹو کی سپلائی لائن بند کرنے کا خطرہ مول لیا۔ ملک کے اندر بھی گزشتہ ایک عشرے سے ایک ایسی امریکہ دشمنی کی فضا پیدا ہو چکی ہے کہ کوئی جمہوری حکومت ہی کیا، کوئی فوجی قیادت بھی اسے نظر انداز نہیں کر سکتی۔ یہ الگ بات ہے کہ حالات کا جبر اس فضا سے الٹ عمل کرنے پر مجبور کر رہا ہو، ہمارے ساتھ ایسا ہوتا آیا ہے۔

مجھے نہیں معلوم اسامہ بن لادن کے پر اسرار طریقے سے دریافت کے منصوبے کے پیچھے اصل کہانی کیا ہے۔ یہ بات البتہ میں خوب جانتا تھا کہ اصل سچ وہ مان رہے ہیں نہ ہم۔ دونوں ہی جھوٹ بولنے پر مجبور ہیں۔ کھینچا تانی البتہ شروع ہو گئی تھی۔ سلالہ نے سارے بندھن توڑ دیئے۔ بالکل سمجھ نہیں آتا کہ امریکہ نے اس پر اتنا سخت موقف کیوں اختیار کیا۔ ہمارے فوجیوں کی شہادت پر معافی مانگنے جیسے بے ضرر کام سے انکار کیوں کرتے رہے۔ پاکستان نے نیٹو کے سپلائی روٹس بند کرکے ایک کھلی جنگ کا آغاز کیا۔ اس واقعے کے فوراً بعد امریکیوں کا جو ردعمل سامنے آیا، اس سے صاف لگتا تھا کہ وہ بھی جان چکے ہیں کہ تعلقات کی باگ پر ہاتھ کی گرفت کمزور پڑ گئی ہے۔ اس وقت کے امریکی سفیر نے جس طرح بے ساختہ ردعمل کا اظہار کیا، اس سے پتا چلتا تھا کہ تعلقات اتنے خراب ہو گئے ہیں کہ انہیں بھی ان کے فوری سنبھلنے کی توقع نہیں تھی۔

امریکہ نے ہر طرح کی امداد روک دی۔ دہشت گردی کے خلاف لڑائی لڑنے کے جو پیسے سبھی کو ملتے تھے، وہ بھی بند کر دیئے گئے۔ دونوں ملکوں کے درمیان جو تزوینی مذاکرات کا عمل جاری تھا، اسے معطل کر دیا گیا۔ درمیان میں بہت کچھ ہوا جس سے لگتا تھا پاکستان مشکل میں پھنس گیا ہے۔ امریکہ کا اتحادی ہونا تو دور کی بات ہے، یہ ایک طرح سے صفِ دشمناں میں شامل کر دیا گیا ہے۔ میمو گیٹ سب اسی کا شاخسانہ تھا۔ سی آئی اے، پینٹا گان سے بڑے منفی اشارے آ رہے تھے اور آتے چلے جا رہے تھے۔ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ بھی سیدھے منہ بات نہیں کرتا تھا۔ پاکستان کو یہ احساس دلایا جا رہا تھا کہ اس کی گویا اب خطے میں کوئی اہمیت ہے ہی نہیں۔ جن کاموں کے لئے اس کی مدد درکار تھی، اس کا بھی متبادل تلاش کر لیا گیا تھا۔ بھارت کے حوالے سے بھی کبھی لگتا کہ ہمیں بہتر تعلقات قائم کرنے کے لئے مجبور کیا جا رہا ہے، کبھی لگتا کہ بھارت سے بھی ہماری توہین کرائی جا رہی ہے۔ بالکل ایسے جیسے کوئی جاگیردار اپنے کسی کمّی کمین سے کسی کو سرعام جوتے لگوا کر اسے اس کی اوقات یاد دلائے۔

ایسے میں ہمارے ہاں انتخابات ہوئے۔ نواز شریف کی جیت پر تبصرے کرنے والوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی حکومت امریکہ کے اشاروں پر چلنے ہی میں عافیت سمجھتی ہے۔ یہ تو میں تکلف برت رہا ہوں، یہ تک کہا گیا کہ یہ نتائج عالمی اسٹیبلشمنٹ کے پیدا کردہ ہیں۔ میاں صاحب پاک فوج سے ناراض ہیں کہ مشرف کا ان کی حکومت کا تختہ الٹنا فوج ہی کی تو کارروائی تھی۔ ایسے میں ان دنوں چونکہ امریکہ ہماری فوج کو دبانا چاہتا ہے، اس لئے اقتدار میں آنے یا اقتدار میں رہنے کے لئے ہمارے سیاستدان امریکہ کا سہارا لینے پر مجبور ہیں۔ زرداری یہی کرتے رہے ہیں اور اب میاں صاحب اس ”کار خیر“ کے لئے تیار ہیں۔ یہ بات اس نظریے پر مبنی تھی کہ امریکہ اور ہماری فوج ایک دوسرے کے مخالف ہیں اور ہماری سول قیادت اور فوج ایک ہی پیج پر نہیں ہے۔ جب کہ بعض باخبر لوگوں کا کہنا تھا یہ سب قیاس اور قیافے ہیں جو غلط ہیں۔

نئی حکومت نے بھی آتے ہی امریکہ کا رخ نہیں کیا، بلکہ میں تو یہ کہتا ہوں کہ سعودی عرب عمرے پر فوراً نہیں گئے۔ اس کے بجائے چین کا ڈنکا بجنے لگا۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری بھی اردگرد کے چکر لگا کر واپس امریکہ پلٹ جاتے رہے۔ رسماً بھی پاکستان کا رخ نہ کیا، وہ خاصی تاخیر یا یوں کہئے لیت و لعل کے بعد پاکستان آئے۔ سب سے پہلے جانے والے صدر زرداری سے ملے، پھر فوجی قیادت سے اور آخر میں وزیر اعظم سے اس طرح ملاقات کی کہ دن میں ملاقات ہوئی اور شام کو وزیراعظم عمرے کے لئے سعودی عرب روانہ ہو گئے۔ حالانکہ اس خواہش کا اظہار کیا جاتا رہا کہ وہ اپنا دورہ ایک آدھ گھنٹہ موخر کر دیں اور جان کیری کو اپنے روایتی کشمیری انداز میں ایک عشائیہ دے ڈالیں۔ سعودی عرب میں بھی ان کی ملاقاتیں رسمی ہی دکھائی دیتی رہیں۔ جان کیری نے صرف اتنا بتایا کہ چھ ماہ تک ہمارے تزوینی مذاکرات شروع ہو جائیں گے۔ گویا اس میں بھی اتنی جلدی نہ تھی۔

اقوام متحدہ میں خطاب کے لئے وزیراعظم نیویارک گئے تو اوباما سے کوئی ملاقات نہ ہوئی۔ آمنا سامنا بھی ہوا تو روا روی کے انداز میں۔ اب وہ خاص دعوت پر امریکہ کے سرکاری دورے پر ہیں۔

اشارے تو مثبت آ رہے ہیں۔ وزیر خزانہ نے نیویارک ہی سے خوشی سے اعلان فرمایا کہ کولیشن سپورٹ فنڈ کے چند کروڑ ہمارے بینک دولت پاکستان میں جمع کرا دیئے گئے ہیں۔ اگلے روز ہی خبر آئی کہ کوئی ایک ارب 60 کروڑ ڈالر پاکستان کو ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ یہ وہ رقم تھی جس کی ادائیگی طے تھی اور جو روک لی گئی تھی۔ اور بہت سی باتیں ہیں۔ اس روکی ہوئی رقم کے اثرات ہمارے بجٹ پر پڑتے ہیں، کیونکہ یہ تاثر غلط ہے کہ یہ رقم براہ راست فوج کو ملتی ہے۔ آج آئی ایس پی آر کے جنرل باجوہ سے لاہور ہی میں ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ یہ کوئی تازہ خبر نہیں کہ یہ رقم بجٹ میں جاتی ہے، بلکہ ہمیشہ سے یہ ہوتا آیا ہے (اس ملاقات کے حوالے سے بہت سی باتیں ہیں جو پھر عرض کروں گا)۔ بہرحال پاکستان نے بھی اس عرصے میں بہت کشٹ کاٹے ہیں۔ اپنی سلامتی کے لئے بھی بہت سے خطرات پیدا کئے ہیں۔ اس وقت ہمارے جتنے مسائل ہیں اس کے ڈانڈے کسی نہ کسی طرح پاکستان کے امریکہ سے تعلقات سے جا ملتے ہیں۔ ہماری جیو پولیٹیکل صورت حال ہماری طاقت بھی ہے اور ہم پر دباﺅ بھی۔ خدا کرے ہم اس دباﺅ سے نکل آئیں۔

میں نے یونہی اس دورے کا لیاقت علی خاں اور ایوب خاں کے دوروں سے موازنہ نہیں کیا ہے۔یہ یقینی تازہ تعلقات کی صورت گری ہے۔ ہو سکتا ہے یہ پہلے جیسے نہ ہوں، مگر ان میں پرانے تعلقات کی جھلک ضرور دکھائی دے گی۔ خطے کے بارے میں بھی دنیا کو، میرا مطلب ہے، امریکہ کو، اندازہ ہو رہا ہے کہ یہاں معاملات میں بہت کچھ ضرب تقسیم کرنا پڑے گی۔ شاید امریکی زیادہ بالغ نظر ہو جائیں اور اپنے سامراجی ارادوں کو حقیقت پسندی اور اپنے قومی آدرشوں کے مطابق زیادہ بصیرت سے دیکھنا شروع کر دیں اور ہم بھی صحیح معنوں میں پاکستان کے قومی تقاضوں کو سمجھنا سیکھ جائیں۔

بشکریہ روزنامہ 'نئی بات'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں