.

حماقتوں کی انتہا

ایاز امیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہم میں سے زیادہ تر کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں ہے کہ آج کل پرویز مشرف کن مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں اور سچ پوچھیں تو اب ان کا نام سن کر اکتاہٹ محسوس ہونے لگتی ہے۔ اب جب اقتدار سے رخصتی کے بعد ان کی قسمت نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا ہے یا اُن سے پاکستان واپس آنے کی غلطی سرزد ہو گئی ہے تو اس کا فیصلہ بھی اُنھوں نے خود ہی کیا ہے، عام آدمی کو اس سے کیا، لیکن لال مسجد آپریشن کے حوالے سے ان پر جو قتل کا کیس بنایا گیا ہے، وہ ایک مختلف معاملہ ہے۔

دراصل پرویز مشرف پر بنایا گیا یہ کیس مذہب کے نام پر انتہا پسندی اور دہشت گردی کے حوالے سے ریاست میں پھیلے ہوئی کنفیوژن کی غمازی کرتا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ لال مسجد کے واقعات قوم کی یادداشت سے محو نہیں ہونے چاہئیں تھے لیکن یقین کریں، اہم سے اہم واقعات کو فراموش کرنے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں ہے۔ اُس وقت، جب لال مسجد آپریشن کا معاملہ پیش آیا، تو یہ ایک سیدھا سادا کیس دکھائی دیتا تھا لیکن اب اس پر من پسند التباسات کی ایسی ملمع کاری کر دی گئی ہے کہ وہاں مورچہ بند مسلح جنونیوں کو شہدا ٔ کا درجہ مل چکا ہے جبکہ ریاستی ادارے، فوج کو کم از کم اس کیس میں الزامات کی باڑ پر دھر لیا گیا ہے۔

اسلام آباد کے مرکز میں واقع لال مسجد پر انتہا پسندوں کا قبضہ ناقابل ِ برداشت پیشرفت تھی۔ کیا یہ 2007 کے موسم گرما تک صرف ایک عبادت گاہ ہی تھی؟ کیا یہ مسجد مولانا عبدالعزیز اور ان کے بھائی عبدالرشید غازی کی قیادت میں انتہا پسندوں کی آماجگاہ نہیں بن چکی تھی؟اور جیسا کہ پاکستان میں ہوتا چلا آیا ہے، پہلے وہ لوگ خفیہ اداروں کی قربت رکھتے تھے کیونکہ اُس وقت ہمارے اداروں کو جہاد کیلئے مجاہدین کی ضرورت رہتی تھی لیکن جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو جہاد کی جہت تبدیل ہو گئی۔ وہ مجاہدین جو پہلے آئی ایس آئی کے پروردہ تھے، اب اُس سے دور چلے گئے۔2007 تک یہ صورتحال پیدا ہو چکی تھی کہ وہ ریاست کی عملداری کو چیلنج کرتے ہوئے اپنے ایجنڈے پر عمل پیرا تھے۔

ذرا اپنی یادداشت کو تازہ کیجئے... لال مسجد کے باہر مسلح محافظوں کی قطاریں دکھائی دیتی تھیں اور ان میں سے کچھ نے گیس ماسک بھی پہنے ہوتے تھے۔ یہ تمام مناظر مشرف دور میں ہی تقویت اور آزادی پانے والے نجی ٹی وی چینل دکھا رہے تھے اور پوری دنیا اسلام آباد کی صورتحال سے لمحہ بہ لمحہ آگاہ ہو رہی تھی۔ اُس وقت میڈیا، جسے آزادی دے کر مشرف بعد میں پچھتائے ہوں گے، اُن انتہا پسندوں، جو ریاست کی عملداری کیلئے چیلنج بن چکے تھے، کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کر رہا تھا جبکہ اس کے بہت سے دھڑے اپریشن میں ہونے والی تاخیر پر حکومت کو ہدف تنقید بنائے ہوئے تھے۔

اس وقت پرویز مشرف دہرے دبائو کا شکار تھے کیونکہ وکلا ٗکی تحریک بھی حکومت کیلئے چیلنج بنی ہوئی تھی اور لوگ سڑکوں پر عدلیہ کی بحالی کا مطالبہ کررہے تھے اور پھر لال مسجد کا محاصرہ بھی طوالت اختیار کرتا جارہا تھا۔ میڈیا نے وکلا کی تحریک اور لال مسجد اپریشن کی طویل نشریات پیش کیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مشرف آمریت میں میڈیا کو سب سے زیادہ آزادی حاصل تھی۔ جس طرح ٹی وی اسکرین پر آنے سے وکلا تحریک میں زندگی کی لہر دوڑ گئی، اسی طرح کندھے پر کلاشنکوف لٹکائے غازی عبدالرشید بھی میڈیا کو استعمال کرنے کا گر جانتے تھے۔ وہ لوگ خوش قسمت ہیں جنھوں نے ٹی وی کا وہ ’’سنہری دور‘‘ دیکھا۔ بہرحال لال مسجد کے محاصرے میں تنائو کی کیفیت پیدا ہوتی گئی اور اسی دوران مسجد سے چلائی گئی ایک گولی سے رینجر کا ایک جوان ہلاک ہو گیا۔ اس سے مشرف پر کچھ کرنے کا دبائو مزید بڑھ گیا۔

کچھ لوگوں نے غازی برادران سے مذاکرات کرنے کی کوشش کی لیکن جب اُن کو اتنی توجہ مل رہی تھی تو اُن کے قدم بھی زمین پر نہیں ٹک رہے تھے چنانچہ اُنھوں نے جو مطالبات پیش کئے، کسی بھی ریاست کے لئے اُن کا پورا کرنا ناممکن تھا کیونکہ ایسے کرنے سے ریاست کی عملداری اور وہ بھی عین دارالحکومت میں ختم ہو جاتی۔ چنانچہ اُن حالات میں کسی قسم کا آپریشن ناگزیر ہو چکا تھا۔ اب یہ بحث طلب باتیں ہیں کہ آپریشن کیسے کیا گیا یا اس میں استعمال کی گئی قوت مناسب تھی یا حد سے تجاوز کر گئی تھی یا اس میں کتنی ہلاکتیں ہوئیں، اصل بات یہ ہے کہ اُس وقت پاک فوج کے پاس کارروائی کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا تھا پھر سب سے بڑی بات یہ کہ یہ واقعہ جنوبی یا شمالی وزیرستان میں نہیں، اسلام آباد میں پیش آ رہا تھا اور تمام دنیا دم سادھے یہ مناظر دیکھ رہی تھی۔ اب آپ کی مرضی، چاہے اسے سانحہ کہہ لیں یا ریاست کی عملداری کیلئے اٹھایا گیا ناگزیر اقدام۔

یہ واقعہ پیش آ کر رہا اور اس میں ہلاکتیں بھی ہوئیں تاہم ابھی اس اپریشن میں استعمال کئے گئے فاسفورس بموں کا دھواں بیٹھا بھی نہیں تھا کہ جہادی لشکروں اور ان کی ملک میں کمی نہیں، نے آسمان سر پر اٹھا لیا جبکہ کج فہم سیاست دانوں نے اسے اپنی انتخابی مہم کا حصہ بنا لیا۔ اس کے فوراً بعد (2008) میں ہونے والے انتخابات میں مشرف کے حامیوں کی شکست کی ایک بڑی وجہ لال مسجد آپریشن کے خلاف لگائے گئے انتخابی نعرے ہی بنے تھے۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ اگرچہ اُس وقت ملک کی زمام ِ اختیار پرویز مشرف کے ہاتھ میں ہی تھی لیکن لال مسجد آپریشن کی وجہ اس کی ذاتی پرخاش نہیں بلکہ ریاست کی عملداری کو کیا گیا چیلنج تھا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپریشن کا حکم کس نے دیا، حقیقت یہ ہے کہ یہ ریاستی ایکشن تھا اور اس کا مقصد چیلنج کرنے والی قوت کی سرکوبی تھی۔ اب مشرف کو مورد الزام ٹھہرانا ریاست پاکستان کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے مترادف ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ کیس اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر دائر کیا گیا ہے لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ بحالی کے بعد سے عدلیہ نے جہاں بہت اچھے فیصلے کئے ہیں، وہاں کچھ فیصلوں پر دوسری آرا بھی ظاہر کی گئیں۔ بہرحال یہاں یہ بحث چھیڑنے کی ضرورت نہیں، بات یہ ہے کہ اگر عدالت کے حکم پر کیس دائر کر لیا گیا تھا تو اس کے بعد عدالت کا کام ختم اور اسلام آباد پولیس، جو وزارت داخلہ کے ماتحت ہے، کا کام شروع ہو جاتا ہے۔

اس کیس میں ملک کی ساکھ دائو پر لگی ہوئی تھی۔ کیا ہم انتہا پسندی کے معاملے کو مذاق سمجھ رہے تھے یا اس پر سنجیدہ تھے؟ اگر ہم سنجیدہ ہوتے تو کچھ ابتدائی تحقیقات کے بعد مشرف کے خلاف کیس کو خارج کر دیا جاتا کیونکہ لال مسجد واقعے میں ہونے والی ہلاکتیں، چاہے وہ کتنی ہی قابل ِ افسوس کیوں نہ ہوں، بہرحال قتل کے زمرے میں نہیں آتیں۔ اگر یہ قتل کا کیس ہے تو پھر ریاست کی طرف سے لیا گیا ہر ایکشن، جس میں کوئی فرد یا افراد ہلاک ہو جائیں، قتل کا جرم بن جائے گا۔ اس کیس کو فوری طور پر ختم کردینے کے بجائے اس پر شش و پنچ کا شکار ہو کر وقت ضائع کرنا افسوسناک ہے۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر ہم ایسے دوٹوک معاملے کو بھی نہیں نمٹا سکتے تو پھر زیادہ پیچیدہ معاملات ہم سے کیسے سلجھیں گے؟ یہ کیس تو احمقانہ تھا ہی، تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پرویز مشرف نے بھی کم حماقت کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔ اُس نے کہا ہے کہ لال مسجد آپریشن کی ذمہ دار اُس وقت کی حکومت تھی، نہ کہ وہ۔ یہ بیان کسی فوجی کے منہ سے زیب نہیں دیتا ہے، چہ جائیکہ وہ پاک فوج کا سابق چیف ہو۔ یہ بات کسی طور ماننے میں نہیں آتی کہ وہ آرمی چیف آف اسٹاف ہوں اور اُنہیں علم ہی نہ ہو کہ اُن کی فوج اسلام آباد کی ایک مسجد میں آپریشن کرنے جارہی ہے۔ اگر مشرف کو اس یونیفارم، جو اُنھوں نے کبھی پہنا تھا، کا لحاظ ہوتا تو وہ کہتے...’’ہاں، میں نے اس کا حکم دیا تھا کیونکہ ریاست کو بچانے کیلئے یہ ضروری تھا اور اگر دوبارہ اس کا موقع آتا تو میں دوبارہ اس کا حکم دیتا‘‘۔ لیکن افسوس، ہمارے ہاں قائدین ایسی جرأت سے محروم ہوتے ہیں۔

اس وقت ہمارے وزیر ِ اعظم کے ورد ِ زباں صرف ایک معاملہ ہے...’’ڈرون حملے‘‘۔ وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے۔ جب اُن سے اور ان جیسے ’’دانائی کے پیکر ‘‘ عمران خان سے اس موضوع کی نہ ختم ہونے والی تکرار سنیں تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہی ڈرون حملے رکے، پاکستان میں امن و آتشی کے غنچے مہک اٹھیں گے اور سلگتے ہوئے آتشیں بگولے گلزار بن جائیں گے۔ اگرچہ بطور قوم ہماری توہین ہوتی رہتی ہے اور اب ہم اس کے عادی ہو چکے ہیں لیکن یہ گماں نہ تھا کہ ہمارے حکمران دانائی کے ایسے گل کھلائیں گے.... ہم کوئی تو سچ بول سکتے ہیں ۔ ہم قوم کو بتا سکتے ہیں کہ دیکھیں، ڈرون حملے برے ہیں اور انہیں رکنا چاہئے لیکن کس منہ سے ہم اسے اپنی قومی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ بنائے ہوئے ہیں؟ ہمارے پاس کون سی قومی خود مختاری ہے جو ڈرون کی جھلک دیکھتے ہی مجروح ہو جاتی ہے۔ ہاں، اگر اُن علاقوں میں ہم ریاستی عملداری قائم کر لیں تو پھر ہم توقع کر سکتے ہیں کہ امریکی اس کا احترام کریں گے لیکن جب ہم وہاں خود قدم نہیں رکھ سکتے ہیں تو پھر ڈرون حملے کس خود مختاری کو پامال کرتے ہیں؟

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.