دنیا کے تمام ملکوں کا پڑوسی ملک امریکہ

منو بھائی
منو بھائی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

وزارت داخلہ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوری 2010ء سے اکتوبر تک چار سالوں کے دوران دہشت گردی کی 6ہزار ایک سو چار وارداتوں میں پانچ ہزار نو سو 65 قانون نافذ کرنے والے اور عام پاکستانی شہری اپنی زندگیوں کی قربانی پیش کر چکے ہیں۔ ان میں قانون نافذ کرنے کے ذمہ دار لوگوں کی تعداد ایک ہزار سات سو 32اور عام شہریوں کا حصہ چار ہزار دو سو 33 بتایا گیا ہے۔

یقینی طور پر وزیر اعظم میاں نواز شریف اور صدر بارک اوباما کی ملاقات میں یہ اعداد و شمار پیش کئے جائیں گے اور خاص طور پر ڈرون حملوں کے معاملات بھی زیر بحث لائے جائیں گے مگر یہ پیش گوئی بھی کی جا سکتی ہے کہ امریکی صدر جہاں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کی زبانی قدر افزائی فرمائیں گے وہاں یہ معلوم کرنے کی کوشش بھی کریں گے کہ پاکستان مزید کس قدر اور کہاں تک قربانی کے لئے تیار ہے۔ عام طور پر یہی سوچا جاتا ہے کہ اس نوعیت کی ملاقاتوں میں امریکہ بہادر کا انداز یہی ہوتا ہے کہ یہ نہ پوچھیں کہ امریکہ آپ کے لئے کیا کرے گا یہ بتائیں کہ آپ امریکہ کے لئے کیا کریں گے۔

تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ امریکہ افغانستان سے فوجیں 2014میں نکال لے گا مگر یہ تاثر کچھ زیادہ ہی خوش فہمی پر مبنی معلوم ہوتا ہے کیونکہ امریکہ افغانستان میں طویل عرصہ تک قیام پذیر رہے گا۔ امریکہ کابل کی آبزرویٹری میں بیٹھ کر جہاں روس کی سابق وسط ایشیا کی ریاستوں پر نگاہ رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے وہاں پاکستان، ہندوستان، چین، ایران اور دوسرے پڑوسی ملکوں کا بھی جائزہ لیتا رہے گا تاکہ اس علاقے میں امریکی مفادات کی نگرانی کر سکے۔

بتایا جاتا ہے کہ فرانس کے صدر ڈیگال نے ایک ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل ایوب خاں سے کہا تھا کہ آپ کو اپنے تمام ہمسایہ ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے چاہئیں مثال کے طور پر چین ایک بہت بڑا اور اتنا ہی اہم پڑوسی ملک ہے اس کے بعد ہندوستان کو بطور پڑوسی ملک بہت اہمیت حاصل ہے۔ ایران، افغانستان بھی پاکستان کے پڑوسی ممالک ہیں اور یقینی طور پر امریکہ دنیا کے تمام ملکوں کا پڑوسی ملک ہے اس کا خاص خیال اور لحاظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ صدر ڈیگال کے اس مشورے کو صدر ایوب خان کے بعد آنے والے پاکستان کے تمام سربراہان مملکت نے پلے باندھے رکھا۔

یقینی طور پر ہمارے وزیر اعظم میاں نواز شریف بھی اپنے اس سب سے بڑے پڑوسی ملک کے صدر کے ساتھ ملاقات میں صدر ڈیگال کے مشورے پر سختی سے کاربند ہوں گے لیکن امریکی صدر سے یہ توقع قائم نہیں رکھی جائے گی کہ وہ بھی اپنے پڑوسی ملک پاکستان کے لوگوں کے بہنے والے خون اور پہنچنے والے نقصان کو اہمیت دینے کی کوشش کریں گے۔

سال رواں کے لئے نوبیل پیس پرائز کے سلسلے میں تقریباً یقین حاصل کر لیا گیا تھا کہ یہ اعزاز پاکستان کی بیٹی ملالہ یوسف زئی کو دیا جائے گا مگر پتہ چلا کہ ملالہ یوسف زئی نے بہت ہی چھوٹی عمر میں نوبیل انعام والا کارنامہ سرانجام دیا جس سے نوبیل انعام کے ’’نابالغ ‘‘ قرار دیئے جانے کا اندیشہ لاحق ہو سکتا تھا لیکن اصل معاملہ شام کا تھا جس پر الزام لگایا گیا کہ شامی حکومت نے اپنے لوگوں پر کیمیاوی ہتھیار استعمال کئے ہیں چنانچہ اس سال کے نوبیل انعام کے مستحق کیمیاوی ہتھیاروں کے خلاف مہم چلانے والوں کو قرار دیا گیا اور یوں دنیا کے سب سے بڑے پڑوسی ملک امریکہ کی خواہش کا احترام کیا گیا اور ملالہ یوسف زئی کو امریکہ کے ایوان صدر کی چائے پر ٹرخا دیا گیا۔ وزیر اعظم پاکستان کی ڈرون حملوں کے بارے میں شکایت پر بھی امریکی صدر کچھ ایسے ہی انداز میں جواب دے سکتے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں