.

امریکہ افغانستان دفاعی معاہدہ اور پاکستان

نصرت مرزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اگرچہ اخبارات کی شہ سرخیاں یہ کہہ رہی ہیں کہ امریکہ اور افغانستان کے درمیان افغانستان مسلح افواج رکھنے پر اتفاق نہیں ہو سکا ہے۔مگر 13 اکتوبر کو امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے دورہ افغانستان سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں اور امریکہ نے وہ کچھ حاصل کر لیا ہے جو وہ چاہتا تھا یعنی افغانستان میں10 ہزار فوج، 9 فوجی اڈے امریکہ کے پاس رہیں گے اور امریکی فوجیوں پر افغان قانون لاگو نہیں ہو گا اگرچہ حامد کرزئی نے اس کو لویہ جرگہ کی منظوری سے منسلک کر دیا ہے لویہ جرگہ افغان حکومت کا بغل بچہ ہے اسی لئے ملا عمر نے اس معاہدہ کو رد کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کیا افغانستان میں امریکہ کی 10 ہزارفوج کی موجودگی میں ایسے حملے رک جائیں گے؟ ہمارے خیال میں حملے ضرور ہوں گے اور امریکہ کیلئے افغانستان میں رہنا طالبان مشکل بنا دیں گے اگر ان سے کوئی معاہدہ نہ ہو سکا۔

معاہدے میں کہا گیا ہے کہ امریکی جو بھی آپریشن کریں گے اس کی افغان حکومت سے منظوری لی جائے گی، امریکہ افغانستان کو اس کے دفاع میں مدد دے گا اگر کسی نے اس پر حملہ کیا، امریکہ نے حملے کے معنی کو واضح کیا جو کہ اس سرحدی دہشت گردی سے مختلف ہے یعنی کرزئی حکومت کو پاکستان سے تحفظ حاصل نہیں ہو گا جیسا کہ وہ چاہتے تھے کہ امریکہ ان کے ساتھ پاکستان سے تحفظ فراہم کرنے کا معاہد کرے، افغانیوں کی امریکی افواج پر قانونی گرفت نہیں ہو گی، افغان قانون امریکیوں پر لاگو نہیں ہو گا وہ افغانی قانون سے مبرا ہوں گے۔

اس طرح امریکہ نے افغانستان سے اپنی ضرورت کو منوا لیا اور اس نے ’’ہندوکش کی پالیسی پھر سے متوازن کرنے‘‘ یعنی سینٹرل ایشیا، چین، ایران، روس اور پاکستان پر نظر رکھنے کے معاملہ کو افغانستان سے منوا لیا ہے اور کہا یہ جارہا ہے کہ اس نے طالبان کی ضرورت کو محسوس کرلیا ہے کہ طالبان ہی روس کو آگے بڑھنے سے روک سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا سی آئی اے تحریک طالبان کو چھوڑ دے گی؟ اس پر تجزیہ کاروں کا اتفاق ہے کہ طالبان کے درمیان ڈھکا چھپا نفاق موجود تھا وہ لطیف محسود کے پکڑے جانے سے ظاہر ہو گیا ہے۔ لطیف محسود جو تحریک طالبان پاکستان میں حکیم اللہ محسود کا نائب تھا، وہ افغانستان کی انٹیلی جنس کی گاڑی میں سفر کر رہا تھا اورکہا جاتا ہے کہ وہ جلال آباد کے بھارتی قونصل خانے جارہا تھا کہ اس کو امریکیوں نے پکڑ لیا اور بگرام کے ہوائی اڈے پر لے گئے۔ لطیف محسود کا کہنا تھا کہ وہ افغان انٹیلی جنس اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان تعلق استوار کرنے کی راہ ہموار کررہا تھا اور تحریک طالبان پاکستان ملا عمر کی کمان سے نکل کر افغانیوں کے پاس جارہی تھی یا پھر وہ بھارت کے ساتھ ملی ہوئی تھی اور افغان حکومت کے ذریعے وہ کام کررہی تھی۔

اِس سے اندازہ ہوتا ہے کہ افغان حکومت، پاکستان کے ساتھ کیا کھیل کھیل رہی ہے۔ اس کے بعد اچانک جان کیری افغانستان پہنچے اور انہوں نے امریکہ افغانستان سیکورٹی معاہدہ کرلیا، یہ معاہدہ اس دباؤ میں ہوا جو لطیف محسود نے امریکیوں کو بتایا ہے، اس کا کچھ حصہ امریکیوں نے پاکستان کو بتا کر پاکستان کو خوش کردیا ہے، اب اس بات کے امکان بڑھ گئے ہیں کہ حکیم اللہ محسود کو ڈرون حملے کے ذریعے مار دیا جائے اور تحریک طالبان پاکستان کو بے اثر کر دیا جائے یا پاکستان کو امریکہ یہ بتا دے کہ حکیم اللہ محسود کس مقام پر چھپا ہے، امریکہ پاکستان سے ڈرون حملے جاری رکھنے کی اجازت لے لے اور وہ خود اسے مار دے یا ٹی ٹی پی کو مذاکرات کے لئے مجبور کرے۔ سی آئی اے سے معلومات کے تبادلے کے بعد پاکستان نے کہنا شروع کر دیا کہ بلوچستان میں افغانستان ایجنسی تخریب کاری کر رہی ہے، اس کے بعد ہی جنرل اشفاق پرویز کیانی نے واضح کیا کہ وہ طالبان سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں اور یہ کہ پاکستان اپنے دفاع کی صلاحیت رکھتا ہے، یہ پیغام بھارت کو بھی دیا ہے کہ اس صورتِحال میں بھارت کمزوری کی حالت میں آچکا ہے، صرف افغانستان کے سلسلے میں جو امریکی منصوبے کا حصہ ہے کہ بھارت کو ایشیا بعید کی طرف دیکھنے پر مجبور کرے اور چین اور روس کو دباؤ میں رکھنے کے لئے وہ طالبان کی مدد حاصل کرے۔

سوال یہ ہے کہ افغان طالبان کیا ماضی کے تجربے کے بعد بھی امریکی مفادات کیلئے روس سے ٹکر لیں گے یا پھر وہ کوئی بہتر حکمت عملی وضع کریں گے، اگرچہ ملا عمر نے اس معاہدے کو رد کردیا۔ افغانستان میں عید پر ایک صوبے کے گورنر کو مارا گیا، اس کے علاوہ کوئی بڑی سرگرمی دیکھنے میں نہیں آ رہی ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکی اور طالبان مذاکرات کافی آگے بڑھ گئے ہیں۔

اس پر سوال یہ پیدا ہورہا ہے کہ روس کے سلسلے میں پاکستان کا کیا کردار ہوگا، کیا وہ روس کے خلاف اسی مقام پر کھڑا ہوگا جہاں وہ 80 کے عشرے میں کھڑا تھا۔ شاید وہ ایسا نہ کرے مگر پھر طالبان امریکی چکر میں آجائیں گے جبکہ پاکستان کو اس کھیل سے کیا ملے گا بھارتی اس خدشہ کا اظہار کررہے ہیں کہ امریکہ کا افغانستان سے جانے کے بعد طالبان بھارت کا رخ کریں گے مگر امریکہ ان کو روس کے رخ پر ہی رکھنا چاہتا ہے، جو شاندار کھیل کا مظاہرہ ہوگا اگر امریکہ بھارت اور چین کو محدود کرنے کے لئے بھارت کا استعمال کرے اور اس کی دلچسپی ایشیا بعید میں بڑھا دے اور طالبان کو روس اور چین کے خلاف الجھائے رکھے تو یہ امریکہ کی تیسری کامیابی ہو گی۔ اس کھیل میں پاکستان کا کیا کردار ہوگا صورتحال کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ یہ کھیل دلچسپ و پیچیدہ ہو گا۔

معلوم نہیں کہ پاکستانیوں کے سمجھ میں یہ کھیل آئے گا یا نہیں اور اگر پاکستان سمجھتا ہے تو امریکہ کے پاس کیا نسخہ ہوگا، جس سے وہ پاکستان کی برہمی کا علاج کرے وہ ہوگا جیسا کہ امریکی دانشور بہت پہلے سے کہتے آئے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ سول ایٹمی ٹیکنالوجی کا معاہدہ، اس پر بھارت کو اب اعتراض نہیں ہوگا کیونکہ اس کی نیوکلیئر سپلائی گروپ میں شمولیت تاحال ممکن نہیں ہو سکی ہے وہ ابھی تک اٹکا ہوا ہے اگرچہ اس سے وعدہ وعید کر چکا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.