.

بدعنوانی سے چشم پوشی

انجم نیاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دو اہم شخصیات ، جن کے ہاتھ میں گزشتہ پانچ سال یا اس سے کچھ زائد عرصہ سے ملک کی قسمت کی باگ ڈورتھی، وہ آنے والے چندہفتوں میں اپنے فرائض سے سبکدوش ہونے والی ہیں۔ کیا ان کے جانے کے بعد ان کی کمی محسوس کی جائے گی؟اس بات کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ یہ سوال کس سے پوچھتے ہیں۔ اگر آپ دفاعی اداروں کے جوانوں سے پوچھیں تو اُن میں سے زیادہ تر اپنے چیف کی تعریف کریں گے، لیکن اگر آپ عام شہری سے پوچھیں تو وہ آپ کو بتائے گا کہ جنرل کیانی صاحب اُسے دھشت گردوں سے تحفظ دینے میں ناکام رہے ہیں۔ درحقیقت کیانی صاحب کے دور میں کراچی سے خیبر تک دھشت گردوں نے ہزاروں پاکستانیوں کو خون میں نہلا دیا۔

جہاں تک دوسری شخصیت، چیف جسٹس آف پاکستان، افتخارمحمد چوہدری صاحب، جن کو عوام کی ایک بڑی اکثریت نے اپنے نجات دہندہ کے طور پر دیکھا تھا، کا تعلق ہے، تواُن کے بارے میں بھی عام آدمی کے تاثرات بھی بہت اچھے نہیں ہوں گے۔ اگر چہ ان کے حامی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے تنِ تنہا بدعنوانی اور بدانتظامی کے خلاف جنگ کی، لیکن اگر آ پ کسی حقیقت پسند پاکستانی سے پوچھیں تو وہ جواب دے گا کہ عدالت کی فعالیت پر سوال کرنے والوں پر توہینِ عدالت کے مقدمات قائم کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا گیا۔ گویا ان دونوں شخصیات کی گھن گرج(بیانات کی حد تک) نے عوام کے راستے سے کوئی پتھر نہیں ہٹایا۔

انتخابات کے چند ہفتوں بعد ہی نواز حکومت سے لوگوں کو شکایات پیدا ہونا شروع ہو گئی تھیں۔ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا لیکن نواز شریف تھکے ہوئے، مایوس، کنفیوز اور پریشان دکھائی دیتے ہیں اور ان کی پوری کوشش ہے کہ اہم معاملات پر دوٹوک فیصلے لینے کی بجائے، اُن التوا میں رکھا جائے۔ ذرا ماضی پر نظر دوڑائیں جب امریکہ ،برطانیہ اور سعودی عرب نے بے نظیر بھٹو، اُس وقت کے آئی ایس آئی چیف، جنرل کیانی اور مشرف کے خاص نمائندے طارق عزیز کے ساتھ مل کربدعنوانی کو تحفظ دینے کے لیے منصوبہ بنایا۔ 2007 کے موسمِ گرما میں واشنگٹن میں این آراو کے مندرجات طے کیے گئے۔ ایسا کرتے ہوئے عالمی طاقتوں نے یقیناًسوچا ہو گاکہ اگر محترمہ بے نظیر بھٹو جان کی بازی ہارجاتی ہیں (اُنہیں دھمکیاں مل چکی تھیں)تو قدرتی طور پر ان کے شوہر پارٹی کی باگ ڈور سنبھالیں گے۔ وہ یقیناًاتنے نا سمجھ نہ تھے کہ گمان کرلیتے کہ پی پی پی کی قیادت مخدوم امین فہیم کے پاس جائے گی۔آصف زردار ی کو کون نہیں جانتا تھا؟امریکہ کی سی آئی اے اور برطانیہ کی MI 6 ان کی بدعنوانی کی تمام تفاصیل سے واقف تھیں… اور ہمارے آئی ایس آئی بھی بے خبر نہ تھی۔ کیا وہ نہیں جانتے تھے کہ اگر محترمہ کو کچھ ہوجاتا ہے تو ایک دن آصف زرداری وزیر اعظم یا صدر بن جائیں گے؟کیا وہ یہ بھی جانتے تھے کہ این آر او کو کالعدم قرار دے دیا جاتا ہے تو پھر کیاصورت حال پیش آئے گی؟

جب سب کو سوئس کیسز کا علم تھا تو کیا وہ یہ توقع کررہے تھے کہ زرداری صاحب ملک کے حکمران بنتے ہی اچھے بچوں کی طرح تمام پیسے ملکی خزانے میں جمع کرادیں گے؟سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ایک شخص ، جس پر ملکی دولت لوٹنے کا الزام ہو، وہ سربراہِ مملکت کیسے بن سکتا ہے، لیکن ہمارے ملک میں یہ انہونی بھی ہو گئی … او ر سب شخصیات کی آنکھوں کے سامنے ہوئی۔ لکھا گیا این آراو ایک قابلِ نفرت معاہدہ تھا اور اسے نافذہونے کا موقع ہی نہیں ملنا چاہیے تھا۔ اس بہانے سے بھی نہیں کہ اس کا مقصد جمہوریت کا فروغ ہے کیونکہ بدعنوانی کی بنیاد پر جمہورت راسخ نہیں ہواکرتی۔ دنیا میں ایسی کوئی جمہوریت نہیں ہے جو سنگین قسم کی مالی بدعنوانی کا ارتکاب کرنے والے شخص کو حکمران مان لے۔ اس کے بعد زرداری صاحب نے جن صاحب کو وزیرِ اعظم بنایا، وہ بڑی مشکل سے نیب سے مک مکا کرکے اپنے جان بچانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ یہ ایک کھلا راز ہے کہ فوزیہ گیلانی بنک کی نادھندہ تھی۔ ہمیں بتایا گیا کہ گیلانی خاندان نے رقم واپس لوٹا دی تھی، لیکن یہ نہیں بتایا گیاکہ ’’کاروبار‘‘ کرنے کے لیے کتنی رقم لی تھی اورواپس کتنی کی تھی؟وزیر اعظم گیلانی بالکل دوسری شوکت عزیز ثابت ہوئے اور وہ زرداری کی ہدایات پر من و عن عمل کرتے رہے کیونکہ ان کا اقتدار اسی تابعداری کے مرہونِ منت تھا۔

تمام پرانے چہرے، بشمول سیدہ عابدہ حسین، آصف زرداری کے ساتھ ایوانِ صدر میں دکھائی دینے لگے۔ چوہدری اعتزاز احسن کو بھی اپنے پرانے حریف بابر اعوان کے پہلو بیٹھ کر بدعنوانی کے خلاف زرداری صاحب کا دفاع کرنے میں کوئی اعتراض نہ تھا۔ بہرحال ان تمام واقعات میں…’’کچھ لوگ پہچانے گئے۔‘‘ والا معاملہ درپیش تھا۔ اس سے پہلے لوگ اُنہیں قومی ہیرو قرار دے رہے تھے لیکن اب تمام ملمع کاری اتر چکی تھی۔ جب جان کیری سینٹ کی امور خارجہ کی کمیٹی کے چیئرمین تھے تو تو اکثر پاکستان کے دورے پر آتے تھے۔ ان کا مقصد یا تو آصف زرداری کی سرزنش کرنا ہوتا تھا یا ان کو تسلی دینا۔ اس دوران کچھ ملین ڈالر امداد، جو پی پی پی کے رہنماؤں کی جیب میں چلی جاتی تھی، دینے کے علاوہ امریکہ نے بھی پاکستانی کی سیاسی صورتِ حال کو سنبھالا دینے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ ان کی ایک ہی خواہش تھی کہ پاکستان دھشت گردوں کے خلاف کچھ کرے تاکہ وہ دوبارہ امریکہ پر حملہ کرنے کے قابل نہ رہیں۔

جس دوران امریکہ یہاں دھشت گردی کے خلاف جنگ کررہا تھا، ہماری جنگ دراصل بدعنوانی کے خلاف ہونی چاہیے تھی ۔ تاہم یہ تمام تر بوجھ سپریم کورٹ پر آن پڑا کہ وہ بدعنوان سیاست دانوں سے دودوہاتھ کرے۔ نئی بحال ہونے والی عدلیہ سے عوام کی توقعات بہت اونچی تھیں۔ تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ لوگوں نے خود آگے بڑھ کر اپنا کردار کیوں ادا نہ کیا؟اُن کے ہاتھ کس نے روکے تھے؟ کیا اس میں بھی کوئی امریکی سازش کارفرما تھی؟اُ س وقت فخر الدین جی ابراہیم کی ایک ای میل آئی۔ اُن کا کہنا تھا کہ وہ عدلیہ میں سنیارٹی کو نظرانداز کرنے کے خلاف ہیں کیونکہ اسے غلط افعال کا جواز نکل آتا ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ لاہور ھائی کورٹ کے چیف جسٹس کو ترقی دے کر سپریم کورٹ میں تعینات کرتے ہوئے ایک اور سینئر جج کو نظر انداز کیا گیا تھا۔ تاہم یہ تمام تر صدر صاحب نے چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کی سفارشات پر کیا تھا۔ تاہم مسٹر ابراہیم سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا ایسا کرتے ہوئے واقعی چیف جسٹس صاحب سے مشورہ کیا گیا تھا؟اُس صدراتی ترجمان نے یقین دلایا تھا کہ آئین کے مطابق مشورہ کیا گیا ہے، تو کیا اس کا کوئی دستاویزی ثبوت موجود ہے؟اگر ہے کہ تو کیا اس مطلب ہے کہ اعلیٰ ترین شخصیات بھی فیصلے کرتے ہوئے آئین کا خیال نہیں رکھتیں؟

بشکریہ روزنامہ 'دنیا'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.