.

ملالہ کی پذیرائی، نواز شریف سے بے اعتنائی

ارشاد احمد عارف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مجھے ان لوگوں سے ہرگز اتفاق نہیں جن کا خیال ہے میاں نواز شریف امریکا سے خالی ہاتھ لوٹے، کولیشن سپورٹ فنڈ کی رکئی ہوئی رقم ادا کرنے کی یقین دہانی، طالبان سے مذاکرات کی حمایت، حافظ سعید کے خلاف ٹھوس ثبوت، کنٹرول لائن پر کشیدگی کم کرنے پر زور اور ڈرون حملے بند نہ کرنے کا عندیہ، اتنا کچھ تو میاں صاحب کے ہاتھ پر رکھ دیا، اندھے کو کیا چاہئے دو آنکھیں، میاں صاحب یہ کر گزرے تو بہت کچھ ملنے کی امید ہے۔

ویسے آپس کی بات ہے پاکستان کے کسی صدر اور وزیراعظم کو امریکا میں کبھی اس صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑا ہے کہ وہ سرکاری دورے پر واشنگٹن پہنچے تو صدر سے ملاقات آخری دن طے پائے۔ اس سے پہلے وزیراعظم، نائب صدر، وزیر خارجہ اور دیگر حکام سے ان کے دفاتر جا کر ملے اور کھانا اسے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں کھلایا جائے۔ یہ وزارت خارجہ کی نالائقی ہے، وزیراعظم کی کسرنفسی، امریکی صدر سے ہر قیمت پر ملاقات کی بےتاب خواہش، ورنہ وزیراعظم دورے کا آغاز اوباما کے ساتھ ملاقات سے بھی کر سکتے تھے۔ شکر ہے اوباما نے وزیراعظم کو نوٹس پڑھنے کی اجازت دے دی اور پریس کانفرنس بھی جان کیری کے ساتھ کھڑے ہو کر کرنے پر اصرار نہیں کیا ورنہ ماضی میں جنرل پرویز مشرف اور شوکت عزیز تو کولن پاول اور کنڈالیزا کے کندھے سے کندھا ملا کر پریس کانفرنس کرتے نہیں شرماتے تھے۔

جنرل پرویز مشرف کے وزیر خارجہ عبدالستار کے استعفیٰ کی کئی اور وجوہات بھی ہوں گی مگر ایک وجہ یہ بھی تھی کہ امریکی نائب وزیر خارجہ کرسٹینا روکا کو جب اسلام آباد آنا ہوتا وہ ایئر پورٹ سے سیدھی ایوان صدر پہنچتیں، باوردی صدر سے ملاقات کرتیں، وزیر خارجہ اور سیکرٹری خارجہ کو ایوان صدر میں مشرف ملاقات بخشتیں اور یہ جا وہ جا۔ اس غلامانہ طرز حکمرانی سے اکتا کر سابق سفارت کار نے بالاخر استعفیٰ دے دیا، اب پاکستان کے منتخب وزیراعظم کو ایک بار پھر وزیر خارجہ کے دفتر میں جا کر ملاقات کرنے کی عادت ڈالی جا رہی ہے، خدا خیر کرے۔

ایک سابق سفارت کار دوست کا خیال ہے کہ چونکہ میاں نواز شریف صرف پاکستان کے وزیراعظم نہیں وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور وزیر تجارت بھی ہیں، اس لئے وہ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں جان کیری سے ملنے چلے گئے جہاں جزرس و کفایت شعار امریکی وزیر خارجہ نے اپنے پاکستانی ہم منصب کی ملاقات دیگر ہم منصبوں یعنی وزیر دفاع اور وزیر تجارت کے علاوہ سی آئی اے چیف سے بھی کرا دی، امریکیوں نے دو کھانے بچا لئے اور میاں نواز شریف کا وقت بچ گیا مگر پھر لوگ سوال کرتے ہیں کہ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ جانے والے میاں نواز شریف وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور وزیر تجارت تھے تو اس وقت وزیراعظم نواز شریف کہاں تھے ہوٹل میں رہے یا سیر سپاٹے کو نکل گئے۔ جنرل پرویز مشرف نے تین چار منصب سنبھالے تو ہم سب مذاق اڑایا کرتے تھے، اب کیا کریں۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کے وزیر خزانہ محمد شعیب کو فلپائن میں پروٹوکول والوں نے وزیر کی کار سے نکال کر ڈائریکٹروں والی وین میں بٹھا دیا۔ ایوب خان نے پوچھا تو میزبانوں نے جواب دیا کار میں، اطلاع کے مطابق شعیب ورلڈ بینک کے ڈائریکٹر ہیں، اس لئے اپنے ہم منصب کے ساتھ بیٹھے ہیں باقی وزیر صدارتی قافلے کا حصہ ہیں۔

میاں نواز شریف جولائی 1999ء میں صدر کلنٹن سے ملنے گئے تو انہیں اپنے دوست کلنٹن بھارتی وزیراعظم واجپائی کے نمائندے لگے جو بات بات پر واجپائی کے فون ملاتے کہ مشترکہ اعلامیے پر رائے لیتے اور پاکستانی وزیراعظم کا مشورہ رد کر دیتے، اب صدر اوباما سے ملاقات میں بھی دوسری بار انہیں تجربہ ہوا کہ پاکستان صرف امریکا نہیں بھارت کے سامنے بھی جواب دہ ہے اور بھارت کی شکایات، تحفظات اور الزامات پر نواز شریف سے جواب طلبی اوباما کی ذمہ داری ہے۔ بھارت راضی تو امریکا بھی راضی ورنہ امریکا کے لئے ہم خواہ اپنی آزادی خود مختاری، سلامتی اور قومی تشخص دائو پر لگا دیں وہ راضی ہونے والا نہیں۔ واقعی الکفرملتہ واحدہ، مسلمانوں کو سمجھ نہ آئے تو دوسری بات ہے۔ بھارتی بالادستی پہلے صرف برہمن قیادت کا خواب تھی اب سپرپاور امریکا کی خواہش ہے اور اس خواہش کی تکمیل کے بغیر ڈرون حملے بند ہو سکتے ہیں نہ عافیہ صدیقی رہا اور نہ توانائی کا بحران ختم۔ پاک امریکا تعلقات بھی نارمل ہونا مشکل۔

میاں نواز شریف کھلے ذہن اور بہتر اخلاقی ساکھ کے ساتھ امریکا گئے اور دل سے چاہتے ہیں کہ نہ صرف پاک امریکا بلکہ پاک بھارت تعلقات بھی بہتر، خوشگوار اور مضبوط ہوں مگر امریکی قیادت نے ڈرون حملوں پر ان کے مضبوط قانونی موقف پر سی آئی اے کی یادداشتوں، سابقہ حکمرانوں کے تحریری اور غیرتحریری معاہدوں کا ڈرون گرا دیا، واشنگٹن پوسٹ میں سب کچھ چَھپ گیا، عافیہ صدیقی کی رہائی کا جواب شکیل آفریدی کی رہائی اور حافظ سعید کی گرفتاری کے مطالبے سے دیا اور معیشت کی بہتری کے لئے تعاون کی درخواست کو کنٹرول لائن پر کشیدگی کم کرنے اور سکیورٹی سسٹم کو بہتر کرنے سے مشروط کر دیا گویا ہر غلطی، ذمہ داری پاکستان کی ہے۔ امریکا صرف نشاندہی کر سکتا ہے تعاون کا تکلف نہیں۔

امیر تیمور لنگ نے اپنی سوانح حیات میں لکھا ہے کہ ’’میرے دشمن اور مدمقابل کی کمزوری میری طاقت ہے اور میری کمزوری اس کی قوت‘‘ صدر اوباما نے میاں نواز شریف کو باور کرایا کہ آپ کی کمزوریاں امریکا اور بھارت کی مشترکہ قوت و طاقت ہیں اور ان کا مقابلہ طاقت، مسکراہٹ، بلند بانگ دعوئوں اور غیر حقیقی خواہشات کے علاوہ بے تاب ملاقاتوں سے نہیں کیا جا سکتا۔ کمزور تو کوئی ماں جایا ہو تو اس بے چارے کی کوئی نہیں سنتا، امریکا اور بھارت تو پھر بھی بیگانے ہیں، صرف بیگانے نہیں پاکستان کے اسلامی تشخص، نیوکلیئر پروگرام اور مخصوص جغرافیائی پوزیشن سے خائف بھی، لہٰذا بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ بننے کے بجائے اپنے پائوں پر کھڑے ہونے اور اپنی نظریاتی اساس، اقتصادی و معاشی حالت اور سیاسی ترجیحات پر توجہ دو تاکہ کوئی تمہاری سنے بھی اور مانے بھی۔

’’مظلوم‘‘ ملالہ صدر اوباما سے ملی تو امریکی میڈیا کا جوش و خروش دیدنی تھا، پاکستان کا منتخب وزیراعظم واشنگٹن پہنچا تو ذرائع ابلاغ کو جیسے سانپ سونگھ گیا، شائد اس لئے کہ میاں نواز شریف سلمان رشدی کے حق اظہار رائے کا دفاع کرتے ہیں نہ پاکستانی آئین کو اسلامی شقوں سے پاک کرنے کی یقین دہانی کرا سکتے ہیں اور نہ جنرل پرویز مشرف کے دور حکمرانی میں کئے گئے ملک دشمن معاہدوں پر کاربند رہنے اور اپنے عوام کو ڈرون حملوں سے مروانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ کرسٹینا لیمب سے کتاب لکھوانے کے خواہش مند بھی ہیں، اگرچہ ان کے ارد گرد ایسے دانشوروں کی کمی نہیں جو امریکی اور بھارتی ایجنڈے سے سو فیصد متفق اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور اسلامی تشخص سے الرجک ہیں مگر میاں صاحب فی الحال ان کی سنتے ضرور ہیں مانتے نہیں اس لئے مغربی میڈیا میں پذیرائی سے محروم ہیں۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.