.

بھارت میں ’’کرائے کی مائوں‘‘ کی پھیلتی صنعت

ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گزشتہ کئی ہفتوں سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر، روپے کی قدر میں کمی، آئی ایم ایف سے لئے گئے قرضے اور ان کے ملکی معیشت پر اثرات پر مسلسل کئی کالم تحریر کرنے کے بعد میں یہ سوچ رہا تھا کہ اس بار کسی نئے موضوع پر کالم تحریر کروں۔ حال ہی میں بھارت میں ’’کرائے کی مائوں‘‘ کی پھیلتی ہوئی صنعت کے بارے میں میڈیا میں شائع ہونے والی معلومات نے مجھے جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے اور میں آج کا کالم اسی جذباتی مسئلے پر لکھ رہا ہوں۔

جوں جوں دنیا میں امیر اور غریب کے مابین فرق بڑھتا جارہا ہے یعنی امیر نہایت امیر اور غریب نہایت غریب ہورہا ہے اور امراء غریبوں کی مجبوریاں خرید کر اپنی خواہشات کی تکمیل کررہے ہیں۔ ’’کرائے کی مائیں‘‘ بھی اسی کی ایک مثال ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں ایسی خواتین جو خود بچہ پیدا کرنے کی تکلیف سے بچنا چاہتی ہیں یا پھر وہ بانجھ جوڑے جن کے ہاں بچہ پیدا نہیں ہو سکتا، کرائے کی مائوں کی خدمات حاصل کرکے بچے کے والدین بن رہے ہیں۔ کرائے کی مائوں کے ذریعے بچے پیدا کرنے کے عمل میں مرد کی منی (اسپرم) سے بیضہ حاصل کرکے اسے کرائے کی ماں کے رحم میں داخل کیا جاتا ہے اور حاملہ ہونے کے بعد کرائے کی ماں کو بچے کی پیدائش تک میڈیکل ہاسٹل میں ڈاکٹروں اور نرسوں کی زیر نگرانی رکھا جاتا ہے۔ حال ہی میں بھارتی فلم انڈسٹری کے سپر اسٹار شاہ رخ خان اور ان کی اہلیہ گوری خان جن کے پہلے ہی دو بچے ایک بیٹا اور بیٹی ہے، نے اپنا تیسرا بچہ ابرام (Abram) کرائے کی ماں کے ذریعے حاصل کیا تھا جس کی شاہ رخ خان نے بھی تصدیق کی تھی لیکن اس مسئلے پر میڈیا میں یہ تنازع پیدا ہوا تھا کہ شاہ رخ خان نے کرائے کی ماں کی کوکھ میں اس بچے کی جنس کا ٹیسٹ کرایا تھا جس پر بھارت میں پابندی عائد ہے۔

بھارت میں کرائے کی مائوں کے ذریعے بچے پیدا کرنے کا رجحان تیزی سے فروغ پارہا ہے جس نے ایک ابھرتی ہوئی صنعت کی شکل اختیار کرلی ہے اور اب سول سوسائٹی میں یہ بات زیر بحث ہے کہ اس صنعت کیلئے قواعد و ضوابط بنائے جائیں۔ بھارتی قانون کے مطابق ’’کرائے کی مائوں‘‘ یعنی سروگیٹ مائوں سے پیدا ہونے والی اولاد پر کرائے کی ماں کا نہ تو کوئی حق ہے اور نہ ہی ذمہ داری جبکہ مغربی ممالک میں بچے کو جنم دینے والی کرائے کی ماں بچے کی حقیقی ماں سمجھی جاتی ہے اور پیدائشی سرٹیفکیٹ میں اس خاتون کا نام درج کیا جاتا ہے۔ بھارت میں کرائے پر کوکھ دینے والی ماؤں کی سماجی زندگی آسان نہیں ہوتی کیونکہ معاشرے میں انہیں بری نظر سے دیکھا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بیشتر کرائے کی مائیں بچہ جنم دے کر دوسری جگہ منتقل ہوجاتی ہیں۔ ناقدین کا خیال ہے کہ کرائے کی مائوں کے ذریعے غریب عورتوں کا استحصال کیا جارہا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ کرائے کی مائوں کے حصول کیلئے غیر ملکیوں پر سخت قوانین عائد کئے جائیں جس کے تحت ہم جنس پرست جوڑوں، اکیلی ماں اور باپ پر کرائے کی مائوں کے ذریعے بچہ پیدا کرنے پر پابندی عائد کی جائے۔ ’’کرائے کی ماں‘‘ کے ذریعے بچہ پیدا کرنے کے عمل کو مخالفین غیر فطری، غیر اخلاقی اور مذہب سے متصادم عمل قرار دیتے ہیں لیکن انہیں اس بات کا بھی اندیشہ ہے کہ سخت قوانین اس ’’منافع بخش صنعت‘‘ کیلئے نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔

تربیت یافتہ ڈاکٹروں کی دستیابی، جدید ٹیکنالوجی، کم قیمت اور دوستانہ قانون کی وجہ سے بھارت ’’کرائے کی مائوں‘‘ کا مرکز بن گیا ہے۔ بیرون ملک سے بھارت آنے والے بے اولاد جوڑوں کیلئے ’’کرائے کی ماں‘‘ خریدنا انتہائی سستا اور آسان ہے کیونکہ بھارت میں پرکشش رقم کے عوض کرائے کی ماں بننے پر خواتین کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بیرون ملک مقیم بیشتر بھارتی جوڑے بھی کرائے کی مائوں کے ذریعے بچے کے حصول کیلئے بھارت کا رخ کررہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق کرائے کی ماں اگر جڑواں بچوں کو جنم دیتی ہے تو اسے اس کے عوض تقریباً سوا چھ لاکھ بھارتی روپے ملتے ہیں جبکہ اسپتال ہر کامیاب حمل کے تقریباً 18 لاکھ روپے لیتا ہے لیکن اگر کسی عورت کا حمل گرجائے تو اسے صرف 38 ہزار روپے دے کر رخصت کردیا جاتا ہے۔ سروگیٹ مائوں کیلئے ہاسٹل جسے ناقدین ’’بچہ فیکٹری‘‘ کہتے ہیں، میں رہنا لازمی ہوتا ہے جہاں تربیت یافتہ نرسیں صحت مند بچے کی پیدائش کیلئے سروگیٹ مائوں کو اچھا کھانا، وٹامن اور دیگر ادویات دیتی ہیں۔ ہاسٹل میں رہنے والی سروگیٹ مائوں کو ہفتے میں صرف ایک دن اتوار کو اپنے شوہر اور بچوں سے ملاقات کی اجازت ہوتی ہے لیکن اس دوران وہ اپنے شوہر سے جنسی تعلقات استوار نہیں کر سکتی۔

بھارتی ڈاکٹر نین پٹیل جو گجرات میں ’’سروگیٹ سینٹر‘‘ چلارہی ہیں جہاں تقریباً 100 سروگیٹ مائیں داخل ہیں کے مطابق ایک عورت زیادہ سے زیادہ 3 مرتبہ اپنی کوکھ کرائے پر دے سکتی ہے جبکہ سروگیٹ کے ذریعے بچہ پیدا کرنے کے عمل کے دوران کسی حادثے کی صورت میں اسپتال، ڈاکٹر یا اولاد کے مطلوب جوڑے کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاتا۔ شمالی بھارت سے تعلق رکھنے والی کرائے کی ماں بسنتی کے مطابق اس نے ایک جاپانی جوڑے کیلئے پانچ لاکھ روپے کے عوض ایک بچے کو جنم دیا تھا جسے وہ پیدائش کے بعد صرف چند سیکنڈ ہی دیکھ سکی کیونکہ بچے کی پیدائش کے بعد اسے اس کی نظروں سے ہٹادیا گیا تھا۔ یہ کہتے ہوئے بسنتی کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے لیکن وہ خوش تھی کہ اسے ملنے والے معاوضے کی بدولت اس کے اپنے بچے آج انگلش اسکول میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ بسنتی کے مطابق بھارت میں خاندانی رشتے بہت مضبوط ہوتے ہیں اور والدین اپنے بچوں کیلئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔

اسی طرح آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی للی نامی بچی جو ان دنوں اپنی پہلی سالگرہ منانے والی ہے، کی کرائے کی بھارتی ماں سیتا تھاپا کو وہ دن یاد ہے جب للی پیدا ہوئی تھی تو اس نے اپنا منہ دوسری طرف موڑ لیا تھا۔ للی کے والدین آسٹریلیا کے ایسے دو ہم جنس پرست مرد ہیں جو شادی شدہ جوڑے کے طور پر ایک ساتھ رہتے ہیں اور انہوں نے اپنے ہاں اولاد کی خواہش کو عملی شکل دینے کیلئے سیتا تھاپا کی خدمات حاصل کی تھیں۔ سیتا تھاپا کے بقول وہ للی کو دیکھنے کی خواہش نہیں رکھتی کیونکہ اس کے اپنے بچے ہیں جن کی عمریں 16 اور 18 برس ہیں۔ بھارت میں اکثر ’’کرائے کی مائوں‘‘ کی سوچ سیتا تھاپا کی طرح ہے کیونکہ بچے کی پیدائش کے بعد کرائے کی مائوں کو نفسیاتی تربیتی کورس کرایا جاتا ہے اور سیتا تھاپا بھی نئی دہلی کے ایک کلینک سے نفسیاتی تربیتی کورس کے ذریعے اپنے آپ کو یہ یقین دلاچکی ہے کہ اس نے جس بچی کو جنم دیا تھا وہ دراصل اس کی اپنی اولاد نہیں ہے۔ بھارت میں 2002ء سے کمرشل سطح پر ’’کرائے کی مائوں‘‘ کا کاروبار جاری ہے جس کی مارکیٹ تقریباً ایک ارب ڈالر سے زائد ہے جبکہ بھارت کے علاوہ جارجیا، روس، تھائی لینڈ اور امریکہ کی کچھ ریاستیں بھی اس کاروبار میں شہرت رکھتی ہیں۔ ماں ایک مقدس رشتہ ہے جسے اسلام میں انتہائی بلند مقام اور عزت و احترام حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ پاکستان ’’کرائے کی مائوں‘‘ جیسے کاروبار سے محفوظ ہے اور ہمیں فخر ہے کہ ہم اُس دیس کے باسی ہیں جہاں انسانی زندگیاں دولت کے عوض فروخت نہیں کی جاتیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے وطن پاکستان کو ایسے غیر اخلاقی، غیر فطری اور مذہب سے متصادم کاروبار سے محفوظ رکھے۔ (آمین)

قارئین! گزشتہ اتوار کو اپنی والدہ محترمہ کے انتقال کے بعد میں ماں جیسی عظیم ہستی، نعمت اور دولت سے محروم ہوکر دنیا کا سب سے غریب شخص بن گیا ہوں۔ آپ سے التماس ہے کہ میری والدہ محترمہ کیلئے دعائے مغفرت کریں۔ انشاء اللہ میں جلد ’’ماں کی عظمت‘‘ پر کالم تحریر کروں گا۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.