.

بھارت نواز شریف سے ناراض کیوں؟

حامد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارتی میڈیا نواز شریف کے دورہ امریکہ کو ناکام قرار دے رہا ہے۔ بھارتی میڈیا کے غصے کی اہم ترین وجہ یہ ہے کہ نواز شریف نے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے امریکہ سے مدد کیوں مانگی ہے۔

بھارتی میڈیا اور بھارت کی حکمران اشرافیہ کا خیال تھا کہ نواز شریف حکومت سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے اپنی فوج کے ساتھ لڑائی شروع کریں گے اور یوں پاکستان کے اندر ایک نیا داخلی بحران پیدا ہو گا جس سے بھارت خوب فائدہ اٹھائے گا۔ بھارت یہ توقع بھی لگائے بیٹھا تھا کہ پاکستان کے سابق فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف نے من موہن سنگھ کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے جس حل پر رضامندی ظاہر کر دی تھی نواز شریف بھی اسی حل کو تسلیم کر لیں گے۔ نوازشریف نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے قول و فعل سے بھارت پر واضح کر دیا کہ ان کا جنرل پرویز مشرف کے ساتھ اختلاف ضرور تھا لیکن وہ پاکستانی فوج کے ساتھ لڑائی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حل کے نام پر مشرف کی طرف سے بھارت کے ساتھ کی جانے والی سودے بازی کو بھی مسترد کر دیا کیونکہ یہ مذاکرات کی میز پر بھارت کے سامنے ایک اور سرنڈر کے مترادف تھا۔

نواز شریف نے وزیر اعظم بننے کے بعد مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کا دوبارہ ذکر شروع کر دیا جس پر بھارت مسلسل تلملا رہا ہے ۔ ستمبر 2013ءمیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف نے مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا جس کے بعد سے بھارت لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری پر مسلسل جارحیت کا ارتکاب کر رہا ہے۔ اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے باعث عام لوگ نواز شریف حکومت سے خاصے نالاں ہیں آل پارٹیز کانفرنس کے اعلانات پر بھی کوئی پیش رفت نظر نہیں آ رہی لیکن یہ امر باعث اطمینان ہے کہ نواز شریف نے حکومت سنبھالنے کے بعد پہلے تین ماہ میں ایک طرف مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا اور دوسری طرف امریکی ڈرون حملوں کے خلاف بھی عالمی رائے عامہ کو خوب جھنجوڑا۔ کیا یہ نواز شریف کی سفارتی کامیابی نہیں کہ انہوں نے تمام تر دبائو اور سازشوں کے باوجود آل پارٹیز کانفرنس کے فیصلوں پر کاربند رہنے کا فیصلہ کیا اور امریکہ یہ کہنے پر مجبور ہو گیا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کوششوں کی حمایت کی جائے گی؟

27اکتوبر کو اتوار کا دن تھا۔ آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے وفاق میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے ساتھ مل کر بھارت کے خلاف بھرپور انداز میں یوم سیاہ منایا۔ یہ وہ منحوس دن ہے جب بھارت نے سرینگر پر فوجی قبضہ کیا تھا۔ ایک طویل عرصہ کے بعد مظفر آباد اور اسلام آباد کی حکومتیں مل کر سرینگر کی آواز میں آواز ملا رہی تھیں جس پر بھارتی حکومت اور میڈیا نواز شریف کو کوس رہا ہے۔ نواز شریف کسی بھی صورت بھارت کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتے لیکن دوستی کے نام پر کشمیر کے سودے کیلئے تیار نہیں۔ افسوس کہ پاکستان میں بھی کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو کشمیریوں کی تحریک آزاد کی حمایت کو اب قدامت پرستی اور امن دشمنی قرار دیتے ہیں ۔ وہ یہ بھول چکے ہیں کہ کشمیریوں کی تحریک آزادی پاکستان کی محتاج نہیں ہے۔

پاکستان میں ماضی کے حکمرانوں نے کشمیریوں کیلئے آسانیاں کم اور مشکلات زیادہ پیدا کیں۔ کشمیریوں کو پاکستان کی کم اور پاکستان کو کشمیریوں کی زیادہ ضرورت ہے۔ اگر کشمیری 27اکتوبر 1947ء کو بھارت کے فوجی قبضے کو تسلیم کر لیتے تو آج بھارت کی سرحد مری کے قریب کوہالہ کے پل اور گجرات کے قریب بھمبر تک ہوتی لیکن کشمیریوں نے مہاراجہ ہری سنگھ کی طرف سے بھارت کے ساتھ الحاق کو تسلیم نہیں کیا ۔ کشمیریوں نے ڈوگرہ حکمرانوں کے خلاف جدوجہد 1832ء میں شروع کی تھی جب پلندری اور منگ کے علاقے میں سبز علی خان اور ملی خان نے مہاراجہ گلاب سنگھ کے خلاف بغاوت کی تو ان دونوں کی کھالیں اتار کر منگ میں ایک درخت پر لٹکائی گئیں ۔ سدھنوتی میں قتل عام ہوا ۔ باغ میں شمس خان اور راجولی خان کو شہید کرکے ان کے کٹے ہوئے سر بھمبر میں نمائش کیلئے رکھے گئے ۔ 1929ء میں سردار سکندر حیات کے والد سردار فتح خان کریلوی نے پونچھ میں ڈوگرہ راج کے خلاف دوبارہ بغاوت کی ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب علامہ اقبالؒ کا سردار فتح خان کریلوی اور مفتی ضیاالدین ضیا سے رابطہ ہوا ۔ علامہ اقبال ؒ انجمن کشمیری مسلمانان لاہور کے روح رواں کی حیثیت سے ریاست جموں و کشمیر کے مسلمانوں کے جذبہ آزادی کی حمایت کرتے رہے تھے۔

ایک دفعہ محمد الدین فوق نے علامہ اقبال ؒ کی کشمیر کے حکمران مہاراجہ پرتاپ سنگھ کے ساتھ ملاقات کا اہتمام کیا۔ جب علامہ اقبال ؒ کو پتہ چلا کہ مہاراجہ پرتاب سنگھ مسلمانوں کو منحوس سمجھتا ہے اور دوپہر 12بجے سے پہلے کسی مسلمان کا منہ دیکھنا پسند نہیں کرتا تو علامہ اقبال ؒ نے اس کو ملنے سے انکار کر دیا ۔ 13جولائی 1931ء کو سرینگر میں ڈوگرہ فوج نے مسلمانوں کے ایک اجتماع پر فائرنگ کر دی اور کئی مسلمان شہید ہو گئے۔ علامہ اقبالؒ نے اس ظلم کے خلاف 14اگست 1931ء کو یوم کشمیر منانے کا اعلان کر دیا ۔14اگست 1931ء کی شام دہلی دروازے لاہور سے کشمیریوں کے حق میں ایک جلوس نکالا گیا اور بعداز نماز عشا موچی دروازہ میں ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا جس کی صدارت علامہ اقبال ؒ نے کی۔ یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ متحدہ ہندوستان میں پہلا یوم کشمیر 14اگست 1931ء کو منایا گیا اور اس کے 16سال کے بعد 14اگست 1947ء کی شب پاکستان کے نام سے ایک مملکت وجود میں آئی جس کے نام میں ’’ک‘‘ دراصل کشمیر کی نمائندگی کر رہا تھا۔

مسلم لیگی رہنما سردار شوکت حیات نے 1947ء میں کشمیر میں شروع ہونے والی مسلح مزاحمت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے اپنی کتاب ’’گم گشتہ قوم ‘‘ میں لکھا ہے کہ لارڈ مائونٹ بیٹن نے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو بھارتی رہنما سردار پٹیل کا پیغام دیا کہ پاکستان حیدر آباد دکن اور جونا گڑھ سے دستبردار ہو جائے کیونکہ یہ دونوں ہندو اکثریتی علاقے ہیں جو اب میں بھارت کشمیر سے دستبردار ہو جائے گا ۔یہ پیغام دیکر مائونٹ بیٹن چلا گیا تو ہم نے لیاقت علی خان سے کہا کہ حیدر آباد دکن اور جونا گڑھ کے بدلے جموں و کشمیر لینے میں کوئی حرج نہیں جس پر لیاقت علی خان نے بڑے غصے میں سرار شوکت حیات خان سے کہا ’’میں پاگل تو نہیں کہ حیدر آباد جو پنجاب سے بھی بڑا ہے اسے کشمیر کے چند پہاڑیوں کے عوض چھوڑ دوں‘‘ اسی لیاقت علی خان نے سیز فائر قبول کر لیا اور اس کے بعد پاکستان کے سیاسی و فوجی حکمرانوں نے کشمیر پر معذرت خواہانہ رویہ اختیار کئے رکھا۔ کشمیر کی آزادی کے نام پر کارگل آپریشن کرکے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دہشت گردی بنا دیا گیا۔

دہشت گردی کا شور بڑھا تو جنرل پرویز مشرف نے خفیہ سفارت کاری کے ذریعہ کشمیر کا سودا منظور کرلیا لیکن اسے مزید مہلت نہ ملی اور سودا درمیان میں رہ گیا۔ آج بھارت کا میڈیا اور حکمران اشرافیہ کو خوابوں میں بھی مشرف نظر آتا ہے۔ وہ نواز شریف کی ذات میں مشرف تلاش کر رہے ہیں لیکن نواز شریف مشرف بننے کیلئے تیار نہیں اسی لئے بھارت میں نواز شریف پر خوب تنقید ہو رہی ہے اور لائن آف کنٹرول پر بھارت کی گولہ باری بھی جاری ہے۔ یہ وقت عزم وہمت کے ساتھ کشمیریوں کا ساتھ دینے کا ہے کیونکہ کشمیری دراصل پاکستان کے تحفظ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.