.

کیا آپ بھی مجرم ہیں ؟

محمد بلال غوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آئے روز سنتے ہیں کہ غربت و افلاس کے خاتمے کے لئے دنیا بھر کی حکومتیں اور مخیر حضرات ملکر کاوشیں کر رہے ہیں مگر بھوک و ننگ ہے کہ بڑھتی ہی جاتی ہے۔گاہے خیال آتا ہے کیا آسمان سے رحمت ایزدی برسنے کا سلسلہ موقوف ہو گیا ہے یا ہماری زمینیں بنجر ہو گئی ہیں؟ شماریات کے ادارے بتاتے ہیں کہ پاکستان سمیت پوری دنیا کے وسائل آبادی میں اضافے کے مقابلے میں تیز رفتاری سے بڑھ رہے ہیں۔

بالخصوص غذائی اجناس کی پیداوار تو ہماری ضرورت کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے مگر پھر بھی ہر ایک منٹ میں 18 افراد بھوک سے مر جاتے ہیں۔ اس بے برکتی کا سبب کیا ہے؟ میں اس سوال کا جواب تلاش کرنے نکلا تو ایسے چشم کشا انکشافات ہوئے اور یوں لگا جیسے فاقوں مرتے ان انسانوں کے خون کے کچھ چھینٹ ےتو میرے دامن پر بھی ہوں گے۔ آپ بھی غور کیجئے کہ اس قتل نا حق میں آپ کا کتنا ہاتھ ہے۔

دنیا بھر کی غذائی اجناس کی پیداوار کا تخمینہ 4 ارب ٹن سالانہ ہے۔2012ء میں سویڈش انسٹیٹیوٹ فار فوڈ اینڈ بائیو ٹیکنالوجی نے ایک رپورٹ جاری کی، جس کے مطابق ہر سال 1.3 ارب ٹن کھانے پینے کی اشیاء زائد المیعاد ہونے کے بعد کوڑا دان میں پھینک دی جاتی ہیں۔2013ء کے آغاز میں ایک برطانوی ادارے نے تصیح کی کہ ضائع ہونے والی غذائی اجناس کا تخمینہ 2 ارب ٹن ہے یعنی جو کچھ ہم اگاتے اور بناتے ہیں اس کا نصف کھائے پیئے بغیر گندگی کے ڈھیر میں بدل جاتا ہے۔صرف برطانیہ میں ہر سال 15ملین ٹن کی غذائی اجناس تلف کی جاتی ہیں جن کی مالیت15.1 بلین پائونڈ ہے۔ ہر فیملی اس ضیاع میں شراکت دار ہے اور اوسطاً700پائونڈز فضول خرچی کی نذر کرتی ہے۔ یونیورسٹی آف ایری زونا کے اینتھرو پالوجسٹ Timothi Joneyجنہوں نے اس موضوع پر تحقیق میں ساری زندگی لگا دی،ان کا خیال ہے کہ جو ملک جتنا ترقی یافتہ ہے،انسانی وسائل کے ضیاع کا اتنا ہی بڑا ذمہ دار ہے۔ سب سے زیادہ خوراک امریکہ میں ضائع ہوتی ہے۔

امریکی حکومت ہر سال ایک بلین ڈالر کی خطیر رقم ضائع شدہ خوراک کو ڈمپ کرنے پر خرچ کرتی ہے۔ ہر یورپی باشندہ سالانہ95سے115کلو غذائی اجناس استعمال کئے بغیر پھینک کر غریبوں کے منہ سے نوالہ کھینچنے کا جرم کرتا ہے۔ پورے براعظم افریقہ کی مجموعی غذائی پیداوار 230ملین ٹن ہے جبکہ یورپی ممالک ہر سال 232 ملین ٹن کی اشیاء کوڑے دان میں ڈال دیتے ہیں ۔

اگرچہ غیر ترقی یافتہ ممالک میں صورتحال قدرے بہتر ہے، تاہم پاکستان سمیت جنوبی ایشیاء کے مختلف ممالک میں غذائی اجناس کے ضیاع کی فی کس شرح 6 سے 11کلو ہے اور اس میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔ کھانے پینے کی ان اشیاء کی خریداری پر صرف کئے گئے 950بلین ڈالر تو ہر سال مٹی میں مل ہی جاتے ہیں مگر ہم اور بھی ناقابل تلافی نقصان اٹھاتے ہیں، مثلاً جو کھانا کبھی کھایا نہیں جاتا، جو پھل کسی کے استعمال میں نہیں آتے، جو سبزی فریجوں میں پڑی گل سڑ جاتی ہے، اسے اگانے پر 500بلین کیوبک میٹر پانی استعمال ہوتا ہے۔ لاکھوں انسانوں کی دن رات محنت اکارت چلی جاتی ہے۔

میرے ذہن میں دوسرا سوال یہ تھا کہ خوراک کے ضیاع کے اسباب کیا ہیں؟آخر کیوں محنت سے کمائی یا بغیر محنت سے ہاتھ آئی دولت کو یوں برباد کر دیا جاتا ہے؟غربت و تنگدستی کی یہ ذلت ہمارا مقدر کیوں ہو چلی ہے؟ میرا رب کہتا ہے،جب اسراف آتا ہے تو قِلت و ذِلت بھی چلی آتی ہے اور خیروبرکت چُپکے سے رخصت ہو جاتی ہے۔ اس متمدن معاشرے نے ترقی کے نام پر ایسے لائف اسٹائل کو جنم دیا ہے کہ محض امیر ہی نہیں، لوئر مڈل کلاس کے لوگ بھی فضول خرچی کے رسیا ہو گئے ہیں۔ چند دہائیاں پہلے تک ضرورت کی اشیاء گلی محلے کی دکانوں سے خریدی جاتیں، کچھ بچ رہتا یا ضرورت سے زائد ہوتا تو فوراً ہمسائیوں میں تقسیم ہو جاتا۔ زمانے کے انداز بدلے تو پورے مہینے کا راشن ایک ساتھ خریدا جانے لگا۔ اہل زر کی طلب بڑھی تو انہوں نے صارفین کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کی ایک نرالی ترکیب سوچی۔ شہروں میں بڑے بڑے سپر اسٹور کھلنے لگے۔ دلیل یہ تھی کہ اگر بازار آپ کے پاس خود چل کر آ جائے اور بیسیوں دکانیں گھومنے کے بجائے ایک ہی اسٹور سے سب اشیاء دستیاب ہو جائیں تو اس میں قباحت ہی کیا ہے۔

میں بتاتا ہوں کیا قباحت ہے۔برطانیہ میں ’’ٹیسکو‘‘ کے نام سے ایک مشہور سپر مارکیٹ ہے۔ چند روز قبل کئے گئے ایک سروے کے دوران معلوم ہوا کہ یہاں سے خریدا گیا دو تہائی مال کسی کے استعمال میں نہیں آتا ۔68فیصد سلاد، 48 فیصد بیکری آئٹمز اور 24 فیصد انگور ٹرالیوں میں بھر کے لے جانے کے بعد کچھ دن گھروں میں فریج کی زینت بنتے ہیں اور پھر پھینک دیئے جاتے ہیں۔ پانچ میں سے دو سیب اور ہر پانچواں کیلا کسی انسان تو کیا حیوان کی خوراک بھی نہیں بنتا اور کوڑے دان میں پھینک دیا جاتا ہے۔

گزشتہ برس ایک آن لائن شاپنگ سینٹر نے سروے کرایا تو معلوم ہوا کہ برطانوی خواتین ہر سال دو بلین پائونڈز غیر ضروری شاپنگ پر خرچ کر دیتی ہیں۔ ہر برطانوی خاتون سال بھر میں 104پائونڈ ایسے ملبوسات پر ضائع کر دیتی ہے جس کی اسے ضرورت تو نہیں ہوتی مگر کسی شاپنگ مال سے گزرتے ہوئے اچھا لگنے پر خرید لئے جاتے ہیں۔

محققین کا خیال ہے کہ غیر ضروری شاپنگ میں مارکیٹنگ کے حربوں کا بنیادی عمل دخل ہے۔ مثلاً خصوصی تشہیر کے ذریعے وہ اشیاء خریدنے پر مائل کیا جاتا ہے جن کی ضرورت نہیں ہوتی۔ آپ کو ایک پنکھے کی ضرورت ہے،اگر ایک کے ساتھ ایک فری کی آفر موجود ہے تو آپ موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے۔آپ کو ایک کلو ٹماٹر درکار ہیں مگر پیکنگ پانچ کلو کی ہے یا پھر پانچ کلو خریدنے پر ڈسکائونٹ ہے تو آپ بچت کے لالچ میں خرید لیں گے اور وہ گھر میں پڑے گل سڑ جائیں گے۔ بعض چیزیں کسی کی دیکھا دیکھی خرید لی جاتی ہیں۔ اس فضول خرچی کے حق میں بات کرنے والوں کی آخری دلیل یہ ہوتی ہے کہ جسے رب نے دیا ہے وہ کیوں نہ خرچ کرے؟آپ کی دولت،آپ کا سرمایہ اپنے لئے خرچ کرنے کا پورا حق ہے آپ کے پاس،مگر قدرتی وسائل دنیا بھر کے انسانوں کی مشترکہ ملکیت ہیں،ان کے ضیاع کا حق کسی کو نہیں دیا جا سکتا۔

مغربی دانشور تو آج اس نہج پر سوچ رہے ہیں اور غذائی اجناس کا ضیاع روکنے کے اقدامات تجویز کر رہے ہیں مگر میرے رب نے ایک ہی جملے میں خرچ کرنے کے سب سلیقے اور قرینے سکھا دیئے کہ ’’کھائو، پیئو مگر اسراف نہ کرو۔ میں نے شروع میں لکھا تھا کہ ہر ایک منٹ میں کم از کم 18افرد بھوک سے مر جاتے ہیں۔اگر آپ نے یہ کالم 20منٹ میں پڑھا ہے تو اب تک 360انسان لقمۂ اجل بن چکے ہوں گے اور یہ فیصلہ آپ خود کر لیں کہ اس قتل ناحق میں آپ کا کتنا ہاتھ ہے؟اہل زر تو قاتل ہیں ہی مگر آپ کے ہاتھوں پہ خون کے کتنے چھینٹے ہیں؟کیا آپ بھی مجرم ہیں؟

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.