الشیخ زید بن سلطان النہیان: شگفتہ یادیں

حافظ شفیق الرحمان
حافظ شفیق الرحمان
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے ہمہ جہتی تعلقات ہمیشہ دوستانہ، آبرومندانہ، مفاہمانہ اورخوشگوار رہے ہیں۔ پاکستانی عوام نے متحدہ عرب امارات کی شاندار ترقی اور مضبوط اقتصادیات کو ہمیشہ محبت کی نگاہ سے دیکھا ہے۔اولین مراحل میں یہ پاکستانی محنت کش ہی تھے، جنہوں نے اپنے خون جگر سے آبیاری کرکے متحدہ عرب امارات کے ریگ زاروں کو نخلستان اور لالہ زار بنایا ۔ ذہنی، قلبی، تہذیبی،ثقافتی ،روحانی اور ایمانی سطح پرمتحدہ عرب امارات اورپاکستان کے عوام ایک مضبوط رشتے سے بندھے ہیں اور اُن کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کے سابق صدر الشیخ زید بن سلطان النہیانؒ پاکستان کے ساتھ ہمیشہ گہرے تعلقات کے خواہاں رہے۔ وہ تو پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے تھے۔ وہ اپنی حیات مستعار میں متعدد بار پاکستان کے خیرسگالی دورے پر تشریف لائے۔ اُ ن کا ہر دور ہ پاکستانی معیشت کی عروقِ خفتہ میں حیاتِ تازہ کی لہریں دوڑا دینے کے مترادف رہا۔ انہوں نے پاکستان کے کئی پسماندہ، دور افتادہ اور ترقی سے محروم علاقوں میں عوام دوست ترقیاتی منصوبوں کی داغ بیل ڈالی۔ پاکستان کے طول و عرض میں کئی تعلیمی ادارے، شفاخانے، رفاہی ادارے اور بہبودئ عوام کے دیرپا نتائج کے حامل پروگرام مرحوم سلطان کی پاکستان کے ساتھ بے پناہ محبت، بے پایاں تعلق اور غیر متزلزل شیفتگی کے آئینہ دار ہیں۔ وہ تہذیب و تمدن اور سائنس و ٹیکنالوجی کی اعلیٰ ترین سہولیات سے مرصع مغربی ممالک اور امریکی ریاستوں کے پرشکوہ شہروں کی سیاحت پر ہمیشہ پاکستانی دشت و جبل میں بادیہ پیمائی کو ترجیح دیتے۔

دنیا کی امیر ترین شخصیت ہونے کے باوجودان میں رتی بھر کبر و غرور نہیں تھا۔ ان کا عجز وانکسار متحدہ عرب امارات میں ضرب المثل تھا۔ وہ ایک سادہ، سخی، فیاض اور خداترس شخصیت تھے۔ وہ بیسویں صدی کے عرب تھے لیکن قرون اولٰی کے صحرانشیں صحابہؓ کو اپنا رول ماڈل تصور کرتے ۔ وہ جمود کے بجائے اجتہاد پر یقین رکھتے تھے۔ ان کی وجیہہ شخصیت جدید و قدیم رعنائیوں کا مرقع تھی۔ وہ کورانہ تقلید کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھتے تھے۔ انہوں نے خدا کی عطا کردہ بیش بہا دولت کو ہمیشہ عالم اسلام اور ان کے شہریوں کی خدمت اور بہبود کیلئے وقف کیے رکھا۔ عالم اسلام کے درجنوں ممالک میں سے پاکستان واحد غیر عرب ملک تھا ،جو ان کی توجہات، عنایات، انعامات اور نوازشات کا خصوصی محور و مرکز تھا۔ ان کی شخصیت آج بھی کروڑوں پاکستانیوں کی محبتوں، ارادتوں اور عقیدتو ں کا مر جع ہے۔گو وہ اس دنیا سے رخصت ہوچکے لیکن ان کی خوبصورت اور حسین و جمیل یادیں آج بھی ہم پاکستانیوں کے حافظے میں سدا بہار پھولوں کی طرح تروتازہ ہیں۔

گلزار کے سایوں میں وہی حشر بپا ہے
پھولوں سے ابھی تک تری خوشبو نہیں جاتی

کس کے علم میں نہیں کہ متحدہ عرب امارات سے پاکستان کے تعلقات تاریخ، دین اور ثقافت کی زمین میں انتہائی گہری جڑیں رکھتے ہیں۔ ماضی میں جب بھی وطن عزیز پر کوئی اُفتاد، ابتلاء، مصیبت اور آزمائش کی گھڑی آئی، مرحوم سلطان نے پاکستان کا بے لوث اور غیر مشروط ساتھ دیا۔ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ، باوقار اور آبرومندانہ حل کے حوالے سے متحدہ عرب امارات کے مرحوم سلطان اور ان امارات میں شامل اکثر سلاطین، شیوخ اور ملوک نے ہمیشہ پاکستانی مؤقف کی تائید و تصدیق اور حمایت و توثیق کی۔ 60ء کے عشرہ کے نصف وسط میں جب متحدہ عرب امارات کی تعمیرنو کا آغاز ہوا تو متحدہ عرب امارات کے شیوخ نے امارات کی تعمیر و ترقی کیلئے ہمیشہ پاکستانی ماہرین، ہنرمندوں اور محنت کاروں کی خدمات سے استفادے کو ترجیح دی۔ یہ بات بلاخوف اشتباہ کہی جا سکتی ہے کہ متحدہ عرب امارات کی ابتدائی اٹھان، تعمیر اور ترقی میں پاکستانی تارکین وطن کا کلیدی ہاتھ ہے۔ اسی تناظر میں اس حقیقت کا اظہار بھی قرین حقائق ہوگا کہ پاکستان میں 60ء کے عشرے کے نصف سے 80ء کے عشرے تک لاکھوں کی تعداد میں زیریں متوسط طبقات سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے معیار زندگی کی بلندی میں متحدہ عرب امارات سے ملنے والے سہولیات، مراعات اور پرکشش مشاہرہ جات نے اہم کردار ادا کیا۔ اسی دور میں پہلی مرتبہ پاکستان میں زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا۔

پاکستان کے وہ بے زر، بے در ، بے پر اور بے گھر محنت کش جو ایک جھونپڑی کی تعمیر کے اخراجات کے بھی متحمل نہیں ہو سکتے تھے، پاکستان کے اکثر بڑے شہروں میں شہری ترقیاتی اداروں کی نئی ہاؤسنگ سکیموں میں انہوں نے بہتر رہائشی سہولیات سے آراستہ اپنے گھر بنائے۔ بھارت کے بھرپور معاندانہ اور مخالفانہ مبنی بر عداوت پروپیگنڈا کے باوجود ایک مدت تک متحدہ عرب امارت اور مشرق وسطیٰ میں محنت مزدوری کرنے والے پاکستانی تارکین وطن کو گہرے اسلامی، ثقافتی اور روحانی رشتوں کی بنیاد پر دو عشروں تک انتہائی توقیر و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا۔ متحدہ عرب امارات کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کی تعمیر و تکمیل کے دوران ذمہ داران نے ہمیشہ پاکستانی انجینئرز، آرکیٹٹیکس، ڈیزائنر اور لیبر کی خدمات مستعار لینے کو اپنی اولین ترجیح بنائے رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی متحدہ عرب امارات میں ایسے پاکستانی تارکین وطن موجود ہیں جو گزشتہ چار عشروں سے بلاخوف لومتہ الائم پر سکون انداز میں زندگی کی سہولیات سے متمع ہو رہے ہیں۔ وہ وہاں مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان میں سے کئی کی دوسری اور تیسری نسل بھی متحدہ عرب امارات ہی کی مختلف ریاستوں کو اپنا مامن و مسکن تصور کرتی ہے۔

جہاں تک دہشت گردی کیخلاف بین الاقوامی جنگ میں پاکستان کے ناقابل فراموش اور اہم ترین کردار کا تعلق ہے تو وہ ہر شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ خلیج فارس کی ریاستیں ہی نہیں، بلکہ پوری دنیا یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ اگر اکتوبر 2001ء میں افغانستان میں شروع کی گئی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی ’’دہشت گردی‘‘ کے خلاف ’’بین الاقوامی جنگ‘‘ میں پاکستان ہراول دستے کا فریضہ ادا نہ کرتا تو شایدامریکہ اور اس کے اتحادی مغربی ممالک کی افواج آج بھی کھلے سمندر میں کھڑے امریکی بحری بیڑے ہی سے افغانستان پر کروز میزائلوں کی چاند ماری کر رہی ہوتیں۔

کون نہیں جانتا کہ متحدہ عرب امارات کے حکمران پاکستان کی اقتصادی ترقی میں عشروں سے گہری دلچسپی لے رہے ہیں، ان کے اس کردار کو ہر محب وطن پاکستانی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے موجودہ سربراہ الشیخ خلیفہ بن زید النہیان اقتدار سنبھالنے کے روز اول سے یقین دلا تے چلے آرہے ہیں کہ ’’امارات کی تاجر برادری پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے دستیاب شاندار مواقع سے فائدہ اٹھائے گی‘‘۔ پاکستان میں امارات کے کئی سرمایہ کار آزادانہ اور پرامن ماحول میں اپنے کثیر المقاصد کاروباری پراجیکٹس کی داغ بیل ڈال چکے ہیں۔

پاکستان میں موجود امارات کا بینکنگ سیکٹر پاکستانی کھاتہ داروں کا اعتبار اور اعتماد حاصل کرنے میں جس سرعت سے کامیاب ہوا ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی عوام امارات کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں کھلے بازوؤں سے خوش آمدید کہتے ہیں۔ ٹیلی کام کے شعبہ میں بھی امارات کے سرمایہ کاروں کی سرمایہ کارانہ کاوشوں کو پاکستان کے عوامی حلقوں میں زبردست پذیرائی حاصل ہے۔ جہاں تک متحدہ عرب امارات کے سرمایہ کاروں کا تعلق ہے تو حقیقت یہی ہے کہ پاکستانی عوام اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے شہری انہیں بحیثیت مسلم اپنا بھائی سمجھتے ہیں۔ لہٰذا جب بھی کوئی مسلم سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے ایک قدم آگے بڑھاتا ہے تو پاکستانی عوام اور صارفین اس کی کاروباری اور سرمایہ کارانہ ثمر آفرینی کو نشو و نما اور تحفظ دینے کیلئے زرخیزانہ آب و ہوا پیدا کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے۔

بشکریہ روزنامہ 'نئی بات'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں