دو ٹانگوں والا کتا

ارشاد احمد عارف
ارشاد احمد عارف
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

فائر کا حکم ہے ملا، میں نے کمپیوٹر پر کلک کیا، ہزاروں میل دور ڈرون طیارے سے میزائل نکلا اور مٹی کا گھر ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ میں نے میزائل گرنے سے پہلے کا منظر دیکھنے کے لئے فضا سے بنائی جانے والی ویڈیو کو ری وائنڈ کیا گھر میں ایک کم سن بچہ چلتا پھرتا نظر آیا،’’کیا ہم نے بچہ مار ڈالا‘‘ میں نے قریب بیٹھے رفیق کار سے پوچھا ’’ہاں‘‘ اس کا مختصر جواب تھا، میں نے مانیٹر پر لکھا ’’کیا ایک بچہ ہمارا ٹارگٹ تھا؟‘‘ ہزاروں میل دور بیٹھے ہدایتکار نے جواباً لکھا ’’پریشان نہ ہو یہ کتا تھا‘‘ ہم دونوں نے ایک بار پھر غور سے یہ منظر دیکھا اور ایک دوسرے سے کہا ’’دو ٹانگوں والا کتا‘‘

یہ امریکی ڈرون آپریٹر برینڈون برنیٹ (Brandon bryant) کا تجربہ ہے جس نے چھ سال تک مختلف آپریشنوں میں حصہ لینے کے بعد امریکی ائیر فورس سے استعفیٰ دیدیا کہ پرامن، بے گناہ بچوں، بچیوں، عمر رسیدہ مرد و خواتین اور غیر مسلح نوجوانوں پر ڈرون طیاروں سے میزائل برساتے برساتے وہ تھک گیا، اس کے ضمیر کی خلش بڑھ گئی اور افغانستان اور پاکستان کے ہر افغان اور پشتون بچے کو دوٹانگوں والا کتا سمجھ کر مارنے اور انہیں مستقبل میں دہشت گرد بننے کی صلاحیت سے بہرہ ور جان کر صفایاکرنے کی منطق سے وہ متفق نہ ہوپایا۔

میاں نواز شریف نے دورہ امریکہ میں ڈرون حملوں کی بندش پر زور دیا تو اومابا ،چک ہیگل اور جان کیری نے ان حملوں کو پاکستانی حکمرانوں کی اجازت اور تعاون کا نتیجہ اور دہشت گردوں کو ختم کرنے کا نسخہ کیمیا بتا کر ان کی زبان بندی کردی حالانکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ایک دوسرے ہیومن رائٹس ادارے کی رپورٹ میاں صاحب کی مددگار تھی اور چین، برازیل اور کئی دیگر ممالک کے علاوہ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بان کی مون ان کے ہمنوا تھے تاہم پاکستان میں امریکی وظیفہ خور اور کلمہ گو کو طالبان، القاعدہ اور دہشت گردوں کا حامی اور مددگار سمجھنے والا میڈیا اور طبقہ ڈرون حملوں کے حق میں خوب مہم چلارہا تھا اور امریکہ کا شکرگزار کہ اس کے ا بابیل ابرہہ کے لشکر کا صفایا کر رہے ہیں۔

قرآن مجید اور اسلامی تعلیمات سے الرجک طبقے کی اپنی رائے بھی یہی ہے کہ ایک بے گناہ کو بچانے کے لئے اگر ننانوے(99) گناہگاروں کو معافی دینی پڑے تو حرج نہیں اور ایک انسان کا کسی جرم اور خطا کے بغیر قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ دنیا بھر میں سزائے موت کے خلاف مہم چلانے والوں کو صرف ایک ہی دلیل سوجھتی ہے کہ قتل، زنا بالجبر، اجتماعتی آبروریزی ،اغواء برائے تاوان اور دیگر سنگین جرم کے مرتکب شخص کو عدالتی سزا کے بعد پھانسی دیدی گئی اور بعد میں کوئی شہادت اس کے حق میں آ گئی تو اس کی زندگی کون لوٹائے گا، مگر یہ ڈرون حملے چونکہ امریکہ کرتا ہے اور اس کی شریعت ،اخلاقی و قانونی ضابطوں کے مطابق ایک مشکوک و مشتبہ شخص کو کسی فرد جرم، گواہی، عدالتی طریقہ کار اور صفائی کے بغیر مارنے کے لئے ننانوے بے قصور، پرامن، بچوں، عورتوں، بوڑھوں کی جان لینی پڑے تو کوئی مضائقہ نہیں بلکہ عین منشائے انصاف اور تقاضائے انسانیت ہے اس لئے ڈرون حملوں کے شکار ممالک کے بیشتر حکمران، سیاستدان، عسکری اہلکار، دفاعی ماہرین، دانشور اور اخبار نویس و اینکر پرسن اس غیر قانونی، غیر انسانی، غیر اخلاقی عمل کی بڑھ چڑھ کر تائید کرتے اور دنیا کو پرامن بنانے کا واحد نسخہ بتاتے ہیں۔

کولمبیا لاء سکول کے ہیومن رائٹس انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق باراک اوباما کے دور میں سب سے زیادہ ڈرون حملے ہوئے، دو سو کے قریب حملوں میں اندازاً نو سو افراد جاں بحق ہوئے جن میں صرف 22 مشتبہ دہشت گرد اور باقی 98 فیصد پرامن، بے گناہ سویلین تھے۔ بیورو آف انویسٹی گیٹو جرنلزم نے ان 98 لڑکوں اور25 لڑکیوں کی فہرست انٹرنیٹ پر نام پتوں اور عمروں کے ساتھ جاری کی ہے جو ڈرون حملوں میں شہید ہوئے۔ ایک سے سولہ سال تک عمر کے یہ بچے، بچیاں میزائل حملے کا نشانہ بن گئیں مگران کے والدین کی طرح آج تک کسی نے ان پر کوئی فرد جرم عائد نہیں کی صفائی کا موقع کسی کلمہ گو کو دینے کا تو دنیا میں کوئی رواج ہی نہیں، مگر ڈھنڈورا یہ پیٹا جا رہا ہے کہ امریکہ ڈرون حملوں کے ذریعے دہشت گردوں کا صفایا کر رہا ہے اور’’اجڈ‘‘ ’’وحشی‘‘ ’’گنوار‘‘ ’’غیر مہذب‘‘ عالمی حالات سے بے خبر’’جذباتی‘‘ مسلمانوں کو اس پر شور و غوغا کرنے کی ضرورت نہیں۔ امریکی علم و دانش ،سائنسی اپروچ اور مستقبل شناس انداز فکر کے مطابق یہ بچے، بچیاں دہشت گرد بننے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں تو انہیں نیست و نابود کرنے پر اعتراض کیوں؟

امریکی اداروں کی اپنی رپورٹوں کے مطابق ڈرون ٹیکنالوجی انسانیت کے لئے تباہ کن اور آئین، قانون، اخلاقیات، انصاف اور ہر گناہ گار کو صفائی کا موقع دینے کے اصول کی نفی ہے مگر پاکستان میں شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار امریکی گماشتے ڈرون حملوں کی برکتیں بیان کرکے وکیل صفائی کا کردار ادا کر رہے ہیں اور موجودہ حکومت کو بھی جنرل پرویز مشرف، زرداری اور گیلانی کی طرح چشم پوشی کی پالیسی اختیار کرنے کامشورہ دیتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ نے قومی غیرت اور انسانی ہمدردی کے وصف سے تو محروم رکھا مگر برینڈ ون برنیٹ کی طرح ان کا ضمیر بھی ملامت نہیں کرتا۔ جمائما خان کی فلم نے بھی انہیں نہیں جھنجھوڑا اس لئے انہیں ملالہ کو نوبل انعام نہ ملنے کا دکھ ہے اور سال دو سال کی بچیوں کے پرخچے اڑنے کی خوشی کہ پاکستان، افغانستان ،یمن ڈرون حملوں کی برکت سے امن و سلامتی کا گہوارہ بن رہے ہیں۔

میرانشاہ کے گائوں غنڈی کالا کی پانچ، سات، آٹھ سالہ بہنیں نبیلہ، اسماء، نعیمہ ہوں یا ڈرون حملوں میں تلف ہونے والے دیگر افغان و پشتون بچے بچیاں، ان کی ناحق بے وقت موت پر آنسو بہانے، ماتم کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ برینڈون برنیٹ کو ملنے والے پیغام پر غور کرنا چاہئے۔’’یہ دو ٹانگوں والے جانور ہیں‘‘ یا ایک امریکی افسر کی منطق کے مطابق’’مستقبل میں دہشت گرد بننے کی صلاحیت سے مالا مال‘‘۔

برینڈون برنیٹ استعفیٰ دینے سے قبل ہمارے کسی سفارتکار، دانشور،عسکری ماہر اور تجزیہ کار سے ملا ہوتا تو دوگنی تنخواہ، غیر معمولی مراعات اور پرکشش سہولتوں کو نہ ٹھکراتا کہ زندگی بھر انہی کی خاطر لوگ اپنے عقیدے، نظریے، ضمیر، دل و دماغ اور اصولوں کا سودا کرتے اور طاقتوروں کے گن گاتے ہیں مگر یہ گھامڑ امریکی صرف اطمینان قلب کی خاطر سب کچھ قربان کر بیٹھا۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں