حنوط شدہ ماضی

زاہدہ حنا
زاہدہ حنا
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

کوئی وجہ تو ہوگی کہ ہم مسلسل زوال کا شکار ہیں۔ ہم سے کہیں زیادہ غریب اقوام رفتہ رفتہ مسائل سے نکل رہی ہیں جب کہ ہر دن گزرنے کے ساتھ ہمارے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ جنوبی ایشیا کے تمام ملک ہم سے آگے نکلتے جا رہے ہیں۔ یہی دیکھ لیجیے کہ چند برس پہلے ہندوستانی، بنگلہ دیشی، سری لنکن اور افغانی سکے کے مقابلے میں ہمارے روپے کی کیا قدر تھی اور اب کیا رہ گئی ہے۔ یہ ملک ترقی کر رہے ہیں،اس لیے ان کا سکہ مستحکم ہے۔ ہم بحرانوں میں مبتلا ہیں اسی لیے ہمارے روپے کی بے قدری عیاں ہے۔

مسلسل ناکامی اور ہزیمت انسانوں کی طرح قوموں میں بھی غصہ اور جھنجھلاہٹ پیدا کرتی ہے۔ ہمارا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ ہم اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں پر نظر نہیں ڈالتے۔ ایسا کرتے ہوئے ہمیں خوف محسوس ہوتا ہے کیونکہ خود احتسابی سے زیادہ بے رحم کوئی عمل نہیں ہوتا۔ آسان طریقہ یہ ہے کہ اپنی ناکامیوں کا ملبہ دوسروں پر ڈال دیا جائے۔ یہ کہا جائے کہ سب ہمارے مخالف ہیں۔ امریکا، ہندوستان اور یورپ ہماری ترقی کی صلاحیتوں سے خوفزدہ ہیں۔ اسی لیے سب مل کر سازشیں کرتے ہیں، ہمارے راستے میں روڑے اٹکاتے ہیں، ہمیں آگے بڑھنے نہیں دیتے۔ ہم ان کی سازشوں کو ناکام بنا دیں تو چند دہائیوں میں ہم دنیا کے زیادہ تر ملکوں سے آگے نکل جائیں گے۔

اپنا احتساب نہ کرنا اور ہر ناکامی کی وجہ بیرونی اور اندرونی قوتوں کو قرار دینا ہمارا قومی مزاج بن گیا ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال یہ ہے کہ نواز شریف امریکا کا دورہ کرکے واپس آئے تو ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔ کوئی کہتا ہے کہ وہ ناکام آئے، کسی کا تجزیہ تھا کہ وہ امریکا سے اپنے مطالبات منوا نہیں سکے اور کوئی یہ کہہ رہا تھا کہ امریکا کو 2014میں افغانستان سے جانا ہے لہٰذا امریکا کو پاکستان کی ضرورت ہے لیکن وزیر اعظم اپنے دورے میں امریکا کی مجبوریوں سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ یعنی یہ فرض کرلیا گیا کہ ہم چاہیں تو امریکا سے اپنی ہر شرط منوا سکتے ہیں، ہمیں اس کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ یہ رویہ بہت تباہ کن ہے۔ ہم باتیں بہت بڑی کرتے ہیں اور اپنے حالات پر نظر ڈالنے سے گریزاں رہتے ہیں۔

ایک ایسے ملک کا وزیر اعظم دنیا کے سب سے طاقت ور اور سب سے بڑی معیشت رکھنے والے ملک کے صدر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کیا خاک بات کرسکتا ہے جس کے ملک کے پاس چار ہفتوں کے درآمدات کا بل ادا کرنے کی رقم بھی موجود نہ ہو۔ وہ ایسے ملک کی حکومت کاسربراہ ہو جس کی آمدنی 18 کھرب اور اخراجات 28 کھرب روپے ہوں۔ جس کے سرکاری کاروباری ادارے ایک دو ارب نہیں بلکہ سالانہ 500 ارب روپے کا نقصان کرتے ہوں، جس کے اپنے ملک کی ریلوے دیوالیہ ہو رہی ہو اور افغانستان میں ریلوے کا جال بچھایا جارہا ہو۔ المیہ ہمارا یہ ہے کہ حقیقت کو ہم نے کبھی قبول نہیں کیا۔ خود کو فریب دیا اور دوسروں پر اپنی ناکامیوں کا الزام دھرا، ہمیں دیکھنا چاہیے کہ ہم جس امریکا اور مغرب کی امداد لیتے ہیں اور انھیں لعن طعن بھی کرتے ہیں، وہ آج اس مقام اور منزل پر کیسے پہنچے ہیں۔

قومیں اپنے خوابوں کے تعاقب میں آگے بڑھتی ہیں اور اس وقت تک ان کا سفر جاری رہتا ہے جب تک ان کی آنکھوں میں خواب زندہ رہتے ہیں۔ آج ہمیں امریکا سے کس قدر شکایتیں ہیں۔ ہم اسے سفاک اور ستم گر کے طور پر دیکھتے ہیں، ہمارے خیال میں اسے تباہ وبرباد ہوجانا چاہیے لیکن یہ دیکھ کر ہمیں اذیت ہوتی ہے کہ وہ ایجادات و انکشافات کے میدان میں مسلسل آگے کی طرف سفرکر رہا ہے۔ اس کے تعلیمی ادارے دنیا کے بہترین اداروں میں سے ہیں اور مشرق و مغرب سے شمال و جنوب سے ذہانتیں اس کی طرف کھنچی چلی آتی ہیں۔ اس کے خلائی جہاز مریخ سے آگے کے سفر پر رواں دواں ہیں، اس کے دولت مند ترین افراد اپنی اربوں کی دولت ساری دنیا کے غریبوں کا معیار زندگی بہتر کرنے پر خرچ کر رہے ہیں اور اس کے نوجوان دنیا کے پسماندہ طبقات کی زندگیاں بہتر بنانے میں کوشاں ہیں۔

بات سادہ سی ہے کہ اٹھارہویں صدی میں امریکا کی 13 ریاستوں نے ایک خواب دیکھا تھا۔ یہ برطانوی راج کے تسلط سے آزادی اور ایک آزاد قوم کے طور پر بلندیوں کی جانب سفر کرنے کا خواب تھا۔ امریکی سیاستدانوں، فلسفیوں،دانشوروں اور لکھاریوں نے یہ خواب دیکھا اور اسے اپنے عوام کی آنکھوں میں رکھ دیا۔ اس خواب کو حاصل کرنے کے لیے انھوں نے برطانوی افواج سے ایک طویل اور خوں ریز جنگ لڑی۔ یہ جنگ ابھی جاری تھی کہ انھوں نے 4 جولائی 1776 کو برطانیہ سے اپنی آزادی کا ایک اعلان نامہ جاری کیا۔ اس اعلان نامے کو تحریر کرنے میں سب سے اہم نام تھامس جیفرسن کا ہے۔ یہ آزادی کا اعلان نامہ نہیں دراصل وہ خواب ہے جو 1776 سے پہلے امریکی سیاستدانوں، دانشوروں اور قانون دانوں نے دیکھا اور جس کے سحر میں اپنے لوگوں کو گرفتار کیا۔ امریکی قوم آج بھی اسی خواب کے تعاقب میں ہے اور اسے شرمندۂ تعبیر کرنے کے مراحل سے ہر روز گزرتی ہے، اور پھر اگلی منزلوں کی طرف بڑھتی چلی جاتی ہے۔

اس تناظر میں اگر ہم پاکستان کے حالات و معاملات پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں اس تلخ حقیقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ 1940میں ہم نے حصول پاکستان کا جوخواب دیکھا تھا، وہ 14 اگست 1947کو پورا ہوگیا اور اس کے بعد ہمیں معلوم نہ ہو سکا کہ ہمارے خواب کیا ہیں۔ بانی پاکستان کی 11 اگست 1947کی تقریر کا متن آج بھی معرض بحث میں ہے۔ کوئی پاکستان کے ان کے خواب کو سیکولر قرار دیتا ہے، کسی کا کہنا ہے کہ وہ دراصل ایک اسلامی ریاست قائم کرنے کے خواہاں تھے۔وہ خواب جو 1940 میں دیکھا گیا آزادی کے اعلان سے پہلے ہی اس پر ابہام اور منتشر خیالی کی ایسی دھول اڑائی گئی جس نے ہمیں خلفشار میں مبتلا کر دیا۔ 1947 سے آج تک ہم نے اجتماعی خواب نہیں دیکھے۔ جمہوریت کو ہم میں سے بے شمار لوگوں نے مغرب کے بد عقیدہ لوگوں کی سازش خیال کیا جس کا مقصد ’’خلافت‘‘ کی راہ میں روڑے اٹکانا تھا۔ منبر و محراب سے عوام کو قرون اولیٰ کی خلافت کے سنہرے خواب دکھائے گئے۔ اور آج ہم خوابوں سے محروم بے سمت مسافر ہیں۔

یہ باتیں اس لیے یاد آئیں کہ اب سے صرف دو دن پہلے 28 اکتوبر کو امریکیوں نے اس مجسمے کی تنصیب کا جشن منایا جو فرانسیسیوں نے انھیں تحفے کے طور پر بھیجا تھا۔ یہ مجسمہ ساری دنیا میں ’’لیڈی لبرٹی‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ آزادی کے امریکی اعلان نامے سے فرانسیسی اتنے متاثر تھے کہ انھوں نے اس اعلان نامے کی ایک صدی مکمل ہونے پر امریکی شہریوں کو ایک شایانِ شان مجسمہ تحفے میں بھیجا تھا۔شروع میں ہی یہ طے ہو گیا تھا کہ اس کا چبوترہ امریکی تعمیر کریں گے اور اس پر نصب ہونے والا مجسمہ فرانسیسی عوام کی طرف سے امریکی عوام کے لیے ایک تحفہ ہو گا۔ امریکا میں اس کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کی مہم صبر آزما تھی۔ اس کے لیے تھیٹر میں کھیل دکھائے گئے۔ مصوری کی نمائشیں، مختلف چیزوں کی نیلامی اور کشتی کے پروگراموں سے حاصل ہونے والی رقم سے پیسے اکٹھے کیے گئے۔ فرانس میں اس مجسمے کی تعمیر کے لیے مختلف نمائشیں، تفریحی پروگرام، لاٹری کے ٹکٹ غرض کے ہر طریقہ اختیار کیا گیا۔ تانبے کے اس عظیم الشان مجسمے کو تخلیق کرنے کے لیے ایک ذہن، خلاق اور بہترین انجینئر کی ضرورت تھی جو اس مجسمے کے بدن کے عظیم الشان ٹکڑوں اور اس کے ڈھانچے کو ایسی بنیادوں پر تعمیر کرسکے جو صدیوں آزادی خاتون پر موسم کی ستم رانیوں کاکوئی اثر نہ ہونے دیں۔

آزادی خاتون کو جس چبوترے پر متمکن ہونا تھا، اس کے لیے رقم کی فراہمی ایک مسئلہ بنی ہوئی تھی۔ جب کہ امریکا اور بہ طور خاص نیویارک میں دولت مند اور خوشحال طبقے کی کمی نہ تھی۔ امریکیوں کی اس بے اعتنائی پر جھنجھلا کر ’’دی ورلڈ‘‘ نامی اخبار کے مالک پلٹزر نے اپنے اخبار کے صفحے چندہ اکٹھا کرنے کی مہم کے لیے مختص کردیے۔ اس نے امریکا کے ثروت مند اور متوسط طبقے دونوں کو ہی اپنے قلم کی دھار پر رکھ لیا۔ وہ ان پر گرجا برسا، اس نے انھیں طعنے دیے اور اس کا طنز و استہزا آخر امریکیوں کو جھنجھوڑنے میں کامیاب ہوگیا۔ یہ وہی پلٹزر ہے جس کے نام سے آج تک امریکا کے سب سے بڑے صحافتی، ادبی اور فنون لطفیہ کے ایوارڈ منسوب ہیں۔

امریکیوں نے اٹھارہویں صدی میں جو خواب دیکھنے شروع کیے، ان کے وفور میں آج بھی کوئی کمی نہیں آئی۔ ان خواب دیکھنے والوں کی اکثریت تارکین وطن پرمشتمل رہی۔ ان میں کوئی روس سے آیا تھا، کوئی چیکو سلواکیہ اور کوئی پولینڈ، فرانس یا بلیجیئم سے۔ کوئی یہودی، میرونی عیسائی، ہندو یا مسلمان تھا۔ نیویارک میں پانیوں کے بیچ خانم آزادی سر اٹھائے کھڑی ہے اور اس کی نگاہیں افق پر جمی ہوئی ہیں۔ اس کی بے نور آنکھیں خواب دیکھتی ہیں، خواب دکھاتی ہیں اور ہم اپنی جیتی جاگتی آنکھوں سے خواب نہیں دیکھتے۔ ہم نے اپنا رخ مستقبل کے بجائے حنوط شدہ ماضی کی طرف کرلیا ہے۔ ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ خوابوں سے محروم کوئی گروہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا ۔!

بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں