نادیدہ دشمن

ڈاکٹر رسول بخش رئیس
ڈاکٹر رسول بخش رئیس
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

پاکستان دنیا کے ان تین ممالک میں سے ایک ہے جہاں پولیو وائرس سے متاثر ہونے کا شدید خطرہ لاحق ہے۔ اس سے آبادی کا ایک بڑا حصہ ، جیسا کہ بچے اور عورتیں، خاص طور پر حاملہ عورتیں اور وہ افراد جن کی قوتِ مدافعت کمزور ہوتی ہے، اس خطرناک اور لاعلاج بیماری کا شکار ہو سکتا ہے۔

پاکستان کے علاوہ دوسرے دو ممالک افغانستان اور نائیجریا ہیں ….اور یہ تینوں اسلامی ممالک ہیں۔ ہماراہمسایہ ملک بھارت، جس میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان کی کل آبادی سے بھی زیادہ ہے، مکمل طور پر پولیو سے پاک ملک بن چکا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے ہم پولیو کے خاتمے میں ناکام کیوں ہیں جبکہ دنیا کے دوسرے ممالک کامیاب جارہے ہیں۔ اس کی بہت سی پریشان کن وجوھات ہیں… ان میں غیر حقیقی سماجی رویہ، مذہب کی غلط تشریح ، بے حسی اور سنگدلی اور حکومت کی طر ف سے روا رکھی جانے والی بدانتظامی شامل ہیں۔ ان وجوھات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے میں کچھ تجاویز پیش کرتا ہوں تاکہ ارباب اختیار اگر کچھ کرنا چاہیں تو کر لیں۔

پہلی بات اس امر کی تفہیم ہے کہ پولیو کو انسانیت دشمن کیوں قرار دیا جاتا ہے یا عوام یا ریاستِ پاکستان کو اس سے کیا خطرات لاحق ہیں؟بات یہ ہے کہ پولیو وائرس سے پھیلنے والی ایک بیماری ہے۔ عام طور پر وائرس گندگی، فضلات، آلودہ ہوا اور پانی سے پھیلتے ہیں۔پولیو اس لیے بھی خطرناک ہے کہ 96 فیصد افراد ، جو پولیو کا شکار ہوں، میں پولیو کے مرض کی علامات نمودار نہیں ہوتی ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص خود پولیو کا مریض نہ ہو لیکن اُس میں پولیو وائرس ہو اور اس سے دیگر اہلِ خانہ یا محلے دار متاثر ہوجائیں۔ چونکہ پولیو ایک متعدی مرض ہے ، اس لیے جب ایسے افراد سفر کرتے ہیں تو ان سے بہت زیادہ افراد بیماری کا شکا ر ہوسکتے ہیں۔ اس طرح پولیو کا وائرس ایک مختلف گھروں، شہروں اور ملکوں تک پھیل سکتا ہے۔ ذرا تصور کریں کہ ایک صحت مند بچہ کسی ایسے فرد کی وجہ سے زندگی بھر کے لیے معذور ہو جائے۔ کیا ایسے معذور بچوں کے والدین اور دیگر اہلِ خانہ کے دکھ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے؟ کیا یہ بچے، جنھوں نے قوم کے معمار بنتے ہوئے معاشرے کا بوجھ اٹھانا، خود معاشرے پر بوجھ نہیں بن جاتے ہیں؟کیا یہ انسانیت کا قتل نہیں ہے؟افسوس کی بات یہ ہے کہ ان بچوں کو آسانی سے اس بیماری سے بچایا جاسکتا تھا۔ اس مرض سے بچانے کے لیے ٹیمیں گھر گھر آتی ہیں اور پولیوکے قطرے مفت ہیں۔

اگر ابھی بھی بچے اور عورتیں اس بیماری کے خطرے سے دوچار رہیں تو یہ شرمناک حد تک غیر ذمہ داری بلکہ سنگدلی اور بے حسی کے زمرے میں آتی ہے۔اگر سچ پوچھیں کہ یہ بھی دھشت گردی کی سفاک ترین شکل ہے۔ دکھ اس بات کا ہے کہ دیگر معاملات کی طرح یہاں بھی شہری مجبور ہیں۔ وہ ان قوتوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے جو قطرے پلانے کی راہ میں حائل ہیں۔ تاہم ، ہم اپنی آواز تو بلند کر سکتے ہیں تاکہ لوگوں کو آگاہ کیا جا سکے اور حکومت پر دباؤ بڑھایا جائے کہ وہ ہر ممکن حد تک اس مہم کو آگے بڑھائے۔ اس کے ساتھ ساتھ تاریکی کی اُن قوتوں کو بے نقاب کرنا بھی ضرور ی ہے جو مذہب کا لبادہ اُڑھ کر منافقت کا گھٹیا ترین مظاہرہ کرتے ہیں۔ کیا پولیو کے قطرے پلانے والے رضاکاروں پر حملوں سے زیادہ شرمناک کوئی اور حرکت ہو سکتی ہے؟

درحقیقت ہم کسی نارمل معاشرے کے شہری نہیں ہیں۔ یہاں انتہا پسندانہ رویے پوری شدت کے ساتھ رائج ہیں ۔چناچہ پولیوکے خاتمے اور فیملی پلاننگ کے منصوبوں کی کامیابی کے امکانات معدوم ہیں۔ اس وقت افراد کو یہ بات سمجھانا کہ وہ اپنے خاندانوں کا سائز مختصر رکھیں یا اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں، آسان کام نہیں ہے۔ لیکن کیا ابھی بھی وقت نہیں آیا جب انسانیت کو ہلاک یا معذور کرنے کے درپے قوتوں کے چہرے پر سے مذہب کا جھوٹا لبادہ نوچ پھینکا جائے اور اُنہیں انسانیت کے کٹہرے میں بے نقاب کیا جائے؟ یقیناً شہری ان کے خلاف مسلح اقدامات نہیں اٹھا سکتے لیکن کیا اُن کے خلاف آواز بھی بلند نہیں کی جاسکتی؟ہم کب تک مصلحت کا دامن تھام کر اپنی نسلوں کو معذوری کے جہنم میں دھکیلیں گے؟

درحقیقت اسلام ایک پرامن مذہب ہے۔ یہ شخصی امن، سماجی استحکام اور منظم زندگی کی تلقین کرتا ہے۔ اس کا مقصد انسانی قدروں کی ترویج اورسماجی ترقی ہے، تاہم دنیا کے ہمارے حصے میں طاقتور حلقے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے مذہب کی مند پسند تشریح کرتے ہیں اور ایسا کرتے ہوئے وہ خود کو کسی بھی چیلنج سے بالا تر سمجھتے ہیں۔مذہب کا سب سے منفی استعمال وہ ہے جب اس کا جواز بنا کر پر تشدد کاروائیاں کی جاتی ہیں۔ چناچہ ہمارے ملک میں دیگر افسوس ناک معاملات کی طرح پولیو ٹیموں پر حملے ایک معمول ہے۔چناچہ اس وقت ضروری ہے کہ ملک کے صاحبِ نظر علما کرام اور دینی رہنما ، جن کی معاشرے میں بجا طور پر تکریم ہے، سامنے آئیں اور پولیو مہم کی کامیابی میں رکاروٹ بننے والی تنگ نظری کے خلاف آواز بلند کریں۔ مثبت پہلو یہ ہے کہ معاشرے ایک بڑاحصہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی حمایت کرتا ہے ۔ اگر ہم اس خطرناک وائرس کا تدارک کرسکیں تو اس مطلب یہ ہوگا کہ ہم آنے والی نسلوں کے لیے اپنے شہروں کو محفوظ بنارہے ہیں۔ اگر ہم ایسا نہ کرسکے تو ہم انسانیت کے مجرم کہلائیں گے۔

بشکریہ روزنامہ "دنیا"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں