وزیراعظم:دورہ واشنگٹن۔کامیابیاں اور ناکامیاں؟

عظیم ایم میاں
عظیم ایم میاں
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
13 منٹ read

وزیراعظم نوازشریف کے اہم دورہ واشنگٹن کے بارے میں پاکستان کا شہری یہ جاننے کا خواہشمند ہے کہ یہ دورہ کامیاب رہا یا ناکام؟ ان کے حالیہ دورہ واشنگٹن کے حوالے سے نواز شریف اور موجودہ حکومت کے حامیوں کے پاس بھی اتنے معقول اور باجواز دلائل و حقائق موجود ہیں کہ وہ اسے بآسانی کامیاب دورہ قرار دے سکتے ہیں اور اگر نواز شریف حکومت کے مخالفین بھی حامیوں کی طرح پہلے سے طے شدہ رائے کے حق میں دورے کو ناکام قرار دینے کے دلائل و حقائق ڈھونڈ رہے ہیں تو وہ بھی اتنی ہی آسانی سے معقول طور پر اس دورے کو ناکام قرار دے سکتے ہیں جبکہ میرے مشاہدے اور رائے کے مطابق یہ دورہ مسائل کے شکار دنیا بھر کی تنقید اور منفی رویہ کے سلوک پانے والے اور حالیہ ماضی کی آمرانہ مشرف اور جمہوری زرداری حکومتوں کے ورثہ میں ملنے والے مسائل اور عمل کے بھاری بوجھ کے ساتھ واشنگٹن آنے والے نواز شریف کا یہ دورہ ایک ’’مکسڈ بیگ‘‘ (Mixed bag) تھا جس میں ناکامیاں اور کامیابیاں دونوں ہی دیکھی جاسکتی ہیں۔

یہ دورہ کامیاب بھی تھا اور بعض پہلوئوں سے ناکام بھی تھا۔ اسے سیاسی جانبداری، ذاتی پسند و ناپسند کے بجائے توازن اور پاکستان کے قومی نقطہ نظر اور پاکستانی عوام کی زندگی کے مسائل کے تناظر میں جانچنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان عالمی طاقت نہیں بلکہ گزشتہ 15سال کے عرصہ میں اپنے اقتدار کی ہوس کیلئے ہر شے کو دائو پر لگا دینے والے آمر اور جمہوری حکمرانوں اور ان کے بااختیارمعاونین اور ساتھیوں نے پاکستان کو مزید ’’مسائلستان‘‘ میں تبدیل کر ڈالا ہے لہٰذا پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات اور مذاکرات کو تلخ زمینی حقائق کے تناظر میں جانچنا زیادہ مناسب ہے۔ پہلے اس دورے کے حوالےسے ایک پاکستانی سفارتکار ڈاکٹر اسد مجید خاںکی حب الوطنی اور فرض شناسی کا واقعہ سن لیں جو مادر وطن کی خدمت کی خاطر ماں کی موت کا دکھ اپنے اندر سمیٹ کر چہرے پر ماحول اورڈیوٹی کے تقاضوں کی خاطر مسکراہٹ مصنوعی لئے واشنگٹن میں وزیراعظم نوازشریف کی ہر ہر امریکی ملاقات، عوامی اجتماعات میں نہ صرف ساتھ ساتھ رہے بلکہ تقریر، تحریری، نوٹس اور معاون کے طور پر تمام فرائض کو ادا کرتے رہے، اطلاع ملنے پر وزیراعظم نے تعزیت بھی کی اور آرام کرنے کو بھی کہا لیکن ڈاکٹر اسد مجید خاں جو اس وقت واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانہ کے قائم مقام سربراہ یعنی چیف آف دی مشن ہیں انہوں نے دورے کے آغاز سے لے کر وزیراعظم کی واشنگٹن کی رخصتی کے دوسرے روز بھی اپنے فرائض ادا کئے۔ پاکستانی کمیونٹی کے ڈنر میں بھی وزیراعظم کی تقریر سے قبل خیر مقدمی تقریر بھی ڈاکٹر اسد نے ہی کی۔

اب آیئے وزیراعظم نواز شریف کے 20اکتوبر تا23اکتوبر دورہ واشنگٹن کے ان پہلوؤں کی طرف جو میرے قیام واشنگٹن، دورہ کی مصروفیات، جان کیری وزیر خارجہ سے نواز شریف کی ملاقات، وہائٹ ہاؤس میں نواز، اوباما ملاقات کے بعد دونوں کے اوول آفس میں بیانات، مختلف اداروں سے خطاب، ایوان نمائندگان کی امور خارجہ کمیٹی سے وزیراعظم کی ملاقات، اس کمیٹی کے دو اہم اراکین کانگریس مین ایلیٹ انگل اور کانگریس میں پال کک اور دیگر کانگریس مینوں، ان کے ماہر معاونین، وزیراعظم کے خصوصی مشیر طارق فاطمی اور مشیر برائے قومی سلامتی سرتاج عزیز اور امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اعلیٰ اور اہم عہدیدار سے گفتگو، مشاہدے اور موقف سننے کے بعد میں نے مرتب کیا ہے۔ اس دورے کے کمزور پہلو، کامیاب پہلو، حالات کا تناظر، تلخ زمینی حقائق اور پاکستان کیلئے محدود آپشنز کے گرداب اور نوازشریف سے قبل کے پاکستانی حکمرانوں نے اپنا جو بوجھ اور پاک،امریکہ تعلقات کا جو ورثہ چھوڑا ہے اس کے تناظر میں اس دورہ واشنگٹن کو جانچنے کی ضرورت ہے۔

اس تناظر میں دورہ کی ناکامیاں، کامیابیاں، میرا ذاتی مشاہدہ اور رائے آپ کیلئے حاضر ہے۔ یہ فیصلہ کرنا کہ آپ کی نظر میں دورہ ناکام تھا یا کامیاب؟ یہ آپ کا ذاتی حق اور اختیار ہے بلکہ اپنی رائے اور اس کے حق میں دلائل سے مجھے بھی آگاہ فرمائیں تاکہ عوامی سوچ سے نیویارک میں رہتے ہوئے مجھے بھی آگاہی ہوسکے۔دورہ واشنگٹن کے کمزور پہلو کچھ یوں ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ ڈرون حملوں کا رکنا اور عام بے گناہ شہریوں کی ہلاکت رکنا اور عافیہ صدیقی کی پاکستان واپسی کا مطالبہ پاکستان کے نقطہ نظر سے بڑا ہی اہم، ضروری اور جائز مطالبہ ہے۔ یہ مطالبات لازماً امریکہ کے سامنے نواز،اوباما ملاقات میں اٹھانے کی بڑی ضرورت تھی مگر یہ بھی بہت پہلے سے واضح تھا کہ امریکہ ان دونوں امور پر واضح اور دوٹوک انکار کردے گا۔ نواز شریف کے مشیران و معاونین کو ایجنڈا مرتب کرتے وقت ان دو مطالبوںکو ایجنڈے کی فہرست میں ایسی جگہ رکھنے کی ضرورت تھی کہ ان دونوں پاکستانی مطالبات کو امریکہ کے ماننے سے انکار پر نواز شریف کے دورہ کی ناکامی کا تاثر نہ ابھرتا۔

”جیو“ کے 25 اکتوبر کے پروگرام ”جرگہ“ سلیم صافی کے ساتھ میں گفتگو کا مقصد یہ بھی تھا کہ ڈرون حملے اور عافیہ صدیقی کی پاکستان واپسی کے عوامی مطالبات ضرور ہیں مگر ان دو امور پر امریکی موقف بھی دوٹوک واضح انکار تھا۔ مزیدبرآں گوانتاموبے اور دیگر جیلوں سے امریکہ اپنی ضرورت اور مفاد کے تحت سیکڑوں گرفتار صف اول کے طالبان کو بھی رہائی دے چکا ہے مگر عافیہ صدیقی کے مسئلے پر پاکستان کی عافیہ واپسی کی درخواست ماننے کو بوجوہ تیار نہیں اسی طرح ڈرون ٹیکنالوجی کی برتری کا فائدہ امریکہ کے حق میں ہے۔ وہ اسے روکنے کیلئے تیار نہیں لہٰذا ان دو امور پر واضح امریکی انکار کو ذہن میں رکھ کر وزیراعظم کے مشیران اور معاونین کوتخلیقی ڈپلومیسی اور تیاری کے ساتھ آنا چاہئے تھا۔ یہ امور پاکستانی مطالبات کے طور پر ایجنڈے میں لازماً شامل رکھے جاتے اور کئے جاتے مگر دورے کی کامیابی و ناکامی کا مینار ان پر تعمیر نہ کیا جاتا۔

وزیراعظم کو ڈرون حملوں، عافیہ صدیقی، ٹریڈ کیلئے امریکی منڈیوں تک پاکستان کی رسائی سمیت کسی بھی مسئلے پر کوئی مراعات نہیں ملیں۔ رہی بات ورکنگ گروپ کی تشکیل اور دوروں کے بعد سفارشات مرتب کرنے کی تو یہ ایک طویل المیعاد طریقہ کار ہے جس کے نتائج کے بارے میں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس کا نتیجہ کچھ بھی نہ نکلے۔ ماضی میں قائم کردہ ورکنگ گروپوں کی تاریخ اور ریکارڈ پر نظر ڈال لیں، حقیقت سامنے آجائے گی۔ مٹی کے کھلونوں سے بہل جانے والوں کو گم گشتہ جنت کی تلاش میں مدد کوئی نہیں کرتا۔ ورکنگ گروپ اپنے مقاصد کب کیسے اور کتنے حاصل کریں گے؟ یہ کوئی نہیں بتا سکتا اور اس کیلئے پاک، امریکہ تعلقات میں انتہائی قربت کے دور میں جنرل پرویز مشرف کے انتہائی شاندار اور کامیابی کے دعوے والا امریکی دورہ اور اس کا ریکارڈ دیکھ لیں۔

24 جون 2003ء کو میں بھی کیمپ ڈیوڈ میں موجود تھا جب امریکی صدر بش نے پاکستان کو 3 ارب ڈالر کی امداد کا اعلان کیا تھا۔ اس امداد کے ملنے میں کتنے سال لگے۔ سینیٹر جوزف بائیڈن کے نام سے امداد کیلئے بائیڈن لوگر بل اور پھر اس کی جگہ کیری لوگر بل بنانے، شرائط ڈالنے اور منظوری کے بعد امداد کا ابتدائی حصہ پائپ لائن میں آنے تک 2003ءسے لے کر 2009ءتک پاکستان کی معیشت دہشت گردی کے ہاتھوں کتنی تباہ ہوئی اور پھر 2009ءکے بعد کیری لوگر بل کے تحت یہ 3 ارب ڈالر کتنے عرصہ میں کتنی شرائط اور کس انداز تقسیم کے ساتھ پاکستان پہنچی یہ ہمارے ماہرین امور امریکہ اور مشیران حکومت کیلئے ایک بڑا تحقیقی سبق ہے۔ نواز شریف کے دورے میں ورکنگ گروپوں کے اعلان اور وعدے پر خوش ہونے والے وقت اور حالات پر نظر رکھیں۔

ڈرون حملوں کو امریکہ سے روکنے کا مطالبہ لے کر ایجنڈا آئٹم نمبر ایک بنانے والے مشیران کو اپنی وزارت خارجہ امریکی میڈیا اور خود اپنے پاکستانی ذرائع ابلاغ کی ماضی کی رپورٹوں کا جائزہ لے کر جانے کی ضرورت تھی۔ جن میں یہ واضح کہا گیا تھا کہ پرویز مشرف دور حکومت میں ڈرون حملوں کی اجازت اور پاکستان سرزمین کے استعمال کی اجازت جنرل پرویز مشرف نے دے رکھی تھی پھر جمہوری حکومت کے دور میں بھی یہ حملے جاری رہے اور پرویز مشرف اور زرداری حکومت کے ان ذمہ داروں کا تو کسی نے ڈرون حملوں کے حوالے سے کسی نے کوئی محاسبہ نہیں کیا نہ کوئی سوال اٹھایا اور امریکہ سے مطالبہ کر ڈالا۔ جواب میں امریکی صحافی باب وڈوارڈ نے سی آئی اے کی دستاویزات کے حوالے سے واضح کردیا کہ پاکستان کے سابق حکمراں مشرف اور زرداری تو خود ان حملوں کی منظوری اور نتائج کے بارے میں بریفنگ سے اپنے معاونین کے ذریعے باخبر اور شریک رہے ہیں۔ ظاہر ہے اس کا منطقی نتیجہ پاکستانی مطالبہ کا مسترد ہونا اور وزیراعظم کے دورے کی ناکامی تھا۔

امریکہ میں ڈیموکریٹ صدر اوباما اور ری پبلکن پارٹی کے درمیان انتہائی تلخ سیاسی تصادم اور 16 روز کے شٹ ڈاؤن کے بعد ری پبلکن اکثریت کے حامل ایوان نمائندگان کی بین الاقوامی امور کی کمیٹی میں ری پبلکن ممبران نے بند کمرے میں جس قدر تلخ اور مشکل سوالات وزیراعظم سے شکیل آفریدی، حافظ سعید اور دیگر حوالوں کی آڑ لے کر کئے وہ دراصل ری پبلکن ممبران کا صدر اوباما پر غصہ تھا جو اوباما کے مدعو کردہ مہمان وزیراعظم نواز شریف پر نکالا گیا۔ اس کا تاثر ناکامی دورہ نکالا گیا۔ بہتر ہوتا کہ وزیراعظم اس کمیٹی کے ڈیمو کریٹ کانگریس مینوں سے انفرادی ملاقاتیں کرتے اور کمیٹی کا پروگرام تبدیل کرلیتے۔ صدر اوباما کے سامنے اوول آفس میں نوٹس دیکھ کر پڑھنا جرم نہیں تھا البتہ قدرے ناگوار منظر تھا۔

مگر وزیراعظم کے دورہ واشنگٹن کے کامیاب پہلو بھی نظر میں رکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے تمام موجودہ فوجی، معاشی، سیاسی اور پاک امریکہ تعلقات کی تمام رازداریاں اور ڈرون حملوں کی اندرونی حقیقت کے ساتھ پاکستان کی یہ تباہی نواز شریف کو پرویز مشرف اور زرداری حکومتوں سے ورثہ میں ملی۔ نواز شریف کی برطرفی اور جلاوطنی سے پہلے یہ مسائل نہیں تھے لہٰذا فرینڈلی اپوزیشن ضرور مگر پھر بھی نواز شریف کی حکومت کو چار ماہ بعد ہی ان تمام مسائل اور ورثہ کے ساتھ واشنگٹن آنا پڑا۔ نواز شریف نے اپنے عوامی وعدے اور بیان کے مطابق ڈرون حملوں کو روکنے، عافیہ صدیقی کی واپسی، امداد کے بجائے ٹریڈ، پاک بھارت تعلقات کے بارے میں اپنے وعدوں کے مطابق واضح الفاظ میں موقف بیان کیا۔ اپنے وقار اور سنجیدگی کو برقرار رکھتے ہوئے عالمی طاقت امریکہ کے سامنے پاکستانی خواہشات کا اظہار ایک کامیاب اور قابل تحسین کارکردگی ہے۔ پاک امریکہ تعلقات میں سخت کشیدگی اور سرد مہری کی جو کیفیت پیدا ہو چکی تھی وزیراعظم کے دورے نے اسے کم از کم مہذب ڈائیلاگ اور نئے بہتر آغاز میں تبدیل کردیا ہے۔

امریکی فوج کے جزوی انخلاء کیلئے پاکستان امریکہ سے جو تعاون کر رہا ہے امریکہ اس پر مطمئن ہے۔ میرے تجزیہ کے مطابق امریکہ نواز شریف حکومت کے ساتھ 2014ءکے آخر تک تعاون و حمایت کرے گا۔ جو نواز شریف حکومت کیلئے مثبت بات ہے۔ امریکی فوج کے انخلاء کے بعد امریکی ترجیحات میں تبدیلی ہو گی۔ طالبان سے پاکستان کے مذاکرات کا انجام امریکہ جلد ناکام ہوتے دیکھنا چاہتا ہے۔ نواز شریف حکومت کو اس بارے میں بھی مہلت مل گئی۔ نواز شریف کا دورہ واشنگٹن صدر زرداری کے دورہ شکاگو سے کہیں زیادہ بہتر رہا۔ نواز شریف نے غیر ملکی دوروں پر اخراجات میں کفایت، سادگی اور مختصر وفود کی ایک نئی اور عمدہ مثال قائم کی ہے جسے آئندہ بھی جاری رکھنا چاہئے۔ یہ دورہ کامیابی و ناکامی کے پہلوؤں کا ”مکسڈ بیگ“ تھا۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں