جنوبی کوریا سے سبق

فیصل جے عباس
فیصل جے عباس
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

میں جنوبی کوریا سے ابھی ابھی لوٹا ہوں۔ وہاں میں نے دسویں سالانہ ''کوریا، مشرق وسطیٰ تعاون فورم'' میں شرکت کی۔ اس کے بعد میں اس بات کا اور بھی زیادہ قائل ہوگیا ہوں کہ ہمیں عرب ہونے کے ناتے آگے بڑھنے کے لیے مغرب کے بجائے مشرق کی ترقی کی کہانی پر غور کرنا چاہیے۔

میں یورپی ممالک کے بارے میں کسی منفی خیال کی بنا پر یہ نہیں کہہ رہا ہوں کیونکہ میں انسانی حقوق ،جمہوری اقدار اور اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے ان مغربی ممالک کی کامیابیوں پر ان کا بہت دلدادہ ہوں۔ البتہ ''عرب شاہراہوں'' اور بہت سے عرب لیڈروں کو مغربی ممالک کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ ان ممالک نے خارجہ پالیسی کے محاذ پر ان عربوں کو مستقلاً مایوس کیا ہے اور اس کی تازہ ترین مثال شامی بحران ہے۔

اسی سبب میں یہ کہتا ہوں کہ عربوں کو جنوبی کوریا ایسے ممالک کے ساتھ ناتا جوڑنا چاہیے کیونکہ ہم ایک ہی جیسی تاریخ کے حامل ہیں اور بہت سے موجودہ ایشوز کے حوالے سے ہمارا موقف بھی یکساں ہے۔ کوریا اور عرب دنیا کو بیسویں صدی کے آغاز میں نو آبادیاتی نظام کا تجربہ ہوا۔ دونوں نے کامیاب تحریکوں کے نتیجے میں آزادی حاصل کی۔ اس دوران انھیں کئی عشروں تک تقسیم، اقتصادی بحران اور سیاسی عدم استحکام کا سامنا ہوا۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد کوریائی اور عرب کمیونسٹ نواز یا مغرب نواز کے دوخانوں میں بٹ گئے۔ کوریا کے معاملے میں تو اس نظریاتی تقسیم نے زیادہ واضح شکل اختیار کرلی اور ماضی میں متحدہ جزیرہ نما کوریا دو حصوں میں بٹ گیا۔ شمالی کوریا کمیونسٹ نواز اور جنوبی کوریا مغرب نواز ٹھہرا۔ سنہ1950ء کے عشرے کے اوائل میں تین سال تک جاری رہی کوریائی جنگ کے نتیجے میں ان دونوں حصوں کی یہ تقسیم ہوئی تھی۔ تاہم اس کے بعد جنوبی کوریا نے جو کچھ حاصل کیا اور ترقی کی، عربوں کو اس پر توجہ دینے اور متوقع طور پر اس سے کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔

جنوب کوریائی بھی ہماری طرح جمہوریت کے لیے نئے تھے اور وہ جدید نظم ونسق کے معاملے میں بھی ناپختہ کار خیال کیے جا رہے تھے۔ وہ بھی ہماری طرح معیشت اور صنعتی ترقی کے میدان میں مغرب سے بہت پیچھے تھے لیکن ہمارے برعکس وہ ان دونوں محاذوں پر کامیاب رہے جبکہ ہم سیاسی اور اقتصادی طور پر افسوس ناک حد تک ناکامی سے دوچار ہوئے ہیں۔

جنوبی کوریا آج ایک مستحکم اور پختہ صدارتی جمہوریہ ہے۔ وہاں سن 1987ء میں فوجی حکمرانی کی جگہ سول حکومت نے لے لی تھی۔ موجودہ صدر پارک جیون ہائی نہ صرف اس منصب پر فائز ہونے والی پہلی خاتون ہیں بلکہ وہ شمال مشرقی ایشیا کی جدید تاریخ میں پہلی خاتون سربراہ ریاست بھی ہیں۔

افسوس ناک بات یہ ہے کہ بہت سے عرب ممالک میں آزادانہ انتخابات کا نظریہ ابھی تک دور ازکار سمجھا جاتا ہے، کسی خاتون کا سربراہ ریاست بننا تو بہت دور کی بات ہے۔ اس خیال کی ہنسی بھی اڑائی جا سکتی ہے کیونکہ ہمارے ہاں تو ابھی تک ایسے ممالک موجود ہیں جہاں غیرت کے نام پر قتل کے ذمے داروں سے رعایت برتی جاتی ہے اور خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی ہے۔

جنوبی کوریا کی اقتصادی طور پر ایک اہمیت ہے۔ یہ ایشیا کی چوتھی اور مجموعی قومی پیدوار کے اعتبار سے دنیا کی پندرھویں بڑی معیشت ہے اور قوت خرید کے توازن کے اعتبار سے بارھویں بڑی معیشت ہے۔

مسلسل فوجی چڑھائیوں اور خانہ جنگی کے نتیجے میں تقسیم ہونے والا یہ ملک ایک طویل عرصے تک غیر ملکی امداد کے سہارے زندہ رہا ہے۔ جنوبی کوریا اب امداد لینے والے ملک کے بجائے عطیات اور قرضے دینے والا ملک بن چکا ہے۔ اس نے 2010ء میں ایک ارب بیس کروڑ ڈالرز کے امدادی قرضے دیے تھے۔ وہ آیندہ برسوں میں اس رقم کو دُگنا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے خطے میں جو ترقی ہوئی ہے، وہ انھی ممالک میں ہوئی ہے جو بین الاقوامی امداد کے سہارے زندہ ہیں (ان ممالک میں تیل کی دولت سے مالا مال خلیجی عرب ریاستیں شامل نہیں ہیں)۔ ان عرب ممالک میں شام بھی شامل ہے جہاں مارچ 2011ء سے جاری بحران کے نتیجے میں ایک لاکھ چالیس ہزار سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں اور لاکھوں دربدر ہو کر مہاجرت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ انھیں پانی، خوراک اور جائے پناہ کی اس وقت اشد ضرورت ہے۔ یمن میں خوراک کے بحران کو حل کرنا زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا ہے۔

مجھے دو مرتبہ جنوبی کوریا جانے کا موقع ملا ہے۔ میں اس کی کوئی مدد تو نہیں کرسکتا لیکن اس کا احترام کرتا ہوں کہ اس کو ایک جانب تو اپنی روایات پر فخر ہے اور دوسری جانب اس نے جدیدیت کو قبول کر لیا ہے۔ یہ امر مشرق وسطیٰ کے لیے بڑی اہمیت اور حساسیت کا حامل ہے کیونکہ جنوبی کوریا کے ماڈل کا مطالعہ کرتے ہوئے ہمارے انتہا پسندوں کے سوالات کے جواب مل سکتے ہیں جو مذہب کے تحفظ اور روایات کی پاسداری کے نام پر جدیدیت کی مخالفت کرتے ہیں۔

جنوب کوریائی اپنے ہم نوا مغربی شہریوں کے برعکس اپنی تمام تر کامیابیوں کے باوجود عرب ثقافت کو احترام اور گہری دلچسپی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ وہاں کے حکام، صحافی اور ماہرین تعلیم ہمارے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔ وہ پیروکار کے بجائے ممکنہ شراکت دار کی حیثیت سے یہ تعاون کرنا چاہتے ہیں۔

اس کی خوب صورت وضاحت جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ یون بائی نگ سی نے گذشتہ ہفتے تعاون فورم میں شریک مندوبین سے اپنی تقریر میں کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ''ایک مرتبہ جو انتخاب کا تعلق تھا، اب ضرورت کا تعلق بن چکا ہے''۔ اگر یہی معاملہ ہے تو پھر ہمیں سیول کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے مزید سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔

یہاں یاد دہانی کے طور پر یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ متحدہ عرب امارات نے حال ہی میں چار جوہری پاور پلانٹس کی تعمیر کے لیے کوریا کی قیادت میں ایک کنسورشیم قائم کیا ہے اور کوریائی کمپنیاں خطے میں بھاری صنعتیں لگانے کے ٹھیکے حاصل کر رہی ہیں۔

تاہم یہی کافی نہیں ہے۔ عرب حکومتوں اور کاروباری لوگوں کو جنوبی کوریا کی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔علم سے استفادے اور اس کی منتقلی کا ایک آسان راستہ باہم ادغام اور کمپنیوں کی خریداری بھی ہے۔ مزید برآں ہمیں عوامی سطح پر بھی جنوبی کوریا کی حمایت کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارا ایران کے ساتھ جس طرح کا ایشو ہے، اسی طرح جنوبی کوریا کو جوہری شمالی کوریا سے خطرے کا سامنا ہے۔ ہماری طرح اسے بھی جوہری خطرات سے آزاد ہو کر پُرامن طور پر رہنے کا حق حاصل ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مندرجہ بالا کالم کو امتیازاحمد وریاہ نے انگریزی سے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں