چین کا نیا عالمی نظام اور پاکستان

نصرت مرزا
نصرت مرزا
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

پاکستان اور چین کے تعلقات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ہر موسم کی دوستی ہے، آگے بڑھ کر لوگ کہتے ہیں کہ شہد سے زیادہ میٹھی، ہمالیہ پہاڑ سے بلند اور سمندر سے گہری ہے تاہم چین اور پاکستان کے تعلقات متوازن ڈپلومیسی تک محدود رہے اگرچہ چین نے ہمیشہ پاکستان کی حتی المقدور مدد کی مگر ایک حد سے آگے نہیں بڑھا اور نہ ہی اس نے امریکہ کی بالادستی کے رجحان کو کبھی چیلنج کیا البتہ امریکہ کو یہ اندازہ ضرور تھا کہ وہ 2020ء میں امریکہ کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں آجائے گا تاہم چین نے اس پر منہ سے بھاپ تک نہیں نکالی، وہ خاموشی سے اپنے معاشی حالات کو درست کرنے میں لگا رہا۔

اسلحہ کے معاملے میں بھی اِس کی پیشرفت واجبی سی تھی مگر ایک دفعہ اس نے امریکہ اور مغرب کے عسکری حلقوں میں تھرتھری ضرور پیدا کی جب اس نے خلاء میں اپنے ایک پرانے سیارچے کو زمین سے پیغام دے کر یا میزائل مار کر تباہ کر دیا۔ یہ صلاحیت مغرب کے پاس اس وقت موجود نہیں تھی اس لئے کافی ہیجان پیدا ہوگیا ہے اور چین پر یہ الزام لگایا گیا کہ اس نے فضا کو آلودہ کر دیا ہے۔ اگرچہ امریکہ فضا کو ہتھیاروں، سیارچوں اور خلائی جہازوں سے بھر رہا ہے تاکہ روس اور چین کو جب وہ اس قابل ہوں کہ خلاء میں ہتھیار بھیج سکیں تو انہیں جگہ نہ ملے یا پھر آسانی سے نہ ملے۔ امریکہ نے زمین سے سیارچے کو تباہ کرنے کی صلاحیت چین کی صلاحیت کے اظہار کے چھ ماہ بعد حاصل کر لی۔

9اکتوبر 2013ء کو ہوانگ چنگ جو ملٹری سائنس کے اسکالر ہیں، نے چین کے ایک اخبار ’’گلوبل ٹائمز‘‘ میں مضمون لکھ کر چین کے بیدار ہونے کی اطلاع دی کہ چین دُنیا میں اپنا ایک نیا عالمی نظام وضع کررہا ہے جس میں اُس کو پاکستان کی حمایت حاصل ہے اور وہ عالمی نظام بالادستی کے تصور سے مبرا ہوگا مگر موجودہ بالادست اور استحصالی نظام کو چیلنج بھی نہیں کرے گا مگر یہ نظام دُنیا کے موجودہ نظام کو زیادہ متناسب اور مدلل اور سب کے مفاد کو پیش نظر رکھے گا۔ تبدیلی کی اِس فضا میں دُنیا کے یہ دو ممالک یہ طے کریں گے کہ اُن کا مستقبل میں اسٹرٹیجک تعاون کی کیا نوعیت ہوگی۔ جب دُنیا میں اکھاڑ پچھاڑ بڑھ گئی ہے، امریکی بالادستی کو ڈینٹ لگ گئے ہیں اور دُنیا میں چین ایک طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے۔

گمان ہے کہ تاریخ دس سے پندرہ برسوں میں ایک اور موڑ سے گزر کر ایک نئی دُنیا دیکھے گی۔ ایسی صورت میں آئندہ دس برسوں میں چین اور پاکستان کے تعلقات بڑھیں گے اور دونوں مل کر نئے عالمی نظام کو معرضِ وجود میں لانے کی سعی کریں گے اور یہ تعاون نئے نظام کو وضع کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ اس لئے دونوں ممالک کے لئے سب سے اہم ترجیحات یہ ہوں گی کہ وہ معیشت کو فروغ دیں، اندرونی خلفشار کو رفع کریں، اندرونی استحکام پیدا کریں اور خطرات سے نمٹنے کی صلاحیتوں میں اضافہ کریں اور اسٹرٹیجک تعاون کو سیمنٹ کی طرح مضبوط کرلیں۔ دونوں ممالک کے لئے ضروری ہو گیا ہے کہ وہ انتہائی متحرک انداز میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں تاکہ مغرب اور مشرق کے درمیان مقابلے میں مشرق کا پلڑا بھاری ہوجائے۔ اِس کام کے لئے ضروری ہے کہ ترقی پذیر ممالک سے تعاون کو بڑھائیں اور اُن کی مدد کو اس طرح پہنچیں کہ وہ موجودہ استحصالی عالمی نظام میں اپنی جامد پوزیشن کو خیرباد کہہ کر متحرک ہو جائیں۔

چین اور پاکستان کے سامنے جس خطے پر نظر ہو اُس میں مشرقی ایشیا، سینٹرل ایشیا، مشرق وسطیٰ، افریقہ کے ممالک اور لاطینی امریکہ کے ممالک شامل ہونا چاہئیں۔ اس سلسلے میں تندہی کے ساتھ پیشرفت کرتے ہوئے ان ممالک کے ساتھ ہمہ جہتی تعاوں کا میکنیزم تیار کرلینا چاہئے۔ پاکستان اور چین اس وقت ’’متوازن ڈپلومیسی‘‘ کے دائرے کے اندر کام کررہے ہیں، اُن کو اب اِس سے نکل کر آگے بڑھنا چاہئے۔ اُن کو دوسروں کی مشکلات کو اپنی مشکلات سمجھ کر اُن کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے۔ ایک مستحکم اور مسلسل معاشی تعاون ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کا مرکزی نکتہ ہے جبکہ سیاست میں باہمی اعتماد اور سیکورٹی کے معاملات ایک دوسرے پر انحصار اور عملی دفاعی تعاون اِن تعلقات میں کلیدی کردار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اِس سلسلے میں چین کو زیادہ ذمہ داریاں اپنے کندھے پر لینا ہوں گی اور خصوصاً دوسرے ممالک کی پاکستان میں مداخلت کے معاملے کو زیادہ سنجیدگی اور گہرائی سے لینا ہو گا اور ایسا ہی کر کے وہ مل کر باہمی فوائد کا حصول ممکن بنا سکیں گے۔ چین اس وقت 120 ممالک کا تجارتی ساتھی ہے۔ چین کو امریکہ کے ساتھ ایک نیا قسم کا ’’طاقت کا تعلق‘‘ قائم کرنا ہوگا اور دوسرے ممالک سے بھی ربط اس طرح بڑھانا ہوگا کہ وہ دوسرے ممالک کی ضروریات اور مفادات کا خیال رکھے جبکہ اپنے مفاد کا تحفظ تو اولین ترجیح کے زمرے میں آئے گا۔

چینی دانشور اور چینی حکام اور صحافی کم بات کرتے ہیں اور اس وقت کرتے ہیں جب وہ کوئی کام کرنا چاہتے ہوں۔ جو مشورہ یا تجویز چینی دانشور ہوانگ چنگ نے دی ہے وہ پاکستان کے دانشور عرصہ دس سال سے کہہ رہے ہیں اور 9/11 کے واقعے کے بعد تو اس کی ضرورت شدت سے محسوس کی جاتی رہی کہ امریکہ ہماری خود مختاری کو پامال کرتا رہا۔ ہمیں رسوا کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور بے دست و پا کرکے مارنے کی تیاری کئے بیٹھا ہے، ہر طرف اندرونی خلفشار کو ہوا دے رہا ہے۔ پاکستان میں امن قائم نہیں ہونے دینا چاہتا۔ میں اس بات کا داعی ہوں جو یہ کہتا رہا کہ اگر ہم ایٹمی طاقت ہیں تو ہمارا دائرہ اثر بھی ہونا چاہئے۔ شاید یہ بات چین نے محسوس کرلی ہے اور پاکستان کی جغرافیائی اور ایٹمی صلاحیتوں کو وہ اِس مقام پر دیکھتا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر دُنیا میں ایک نیا عالمی نظام وضع کرنے کی سوچ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے فضا ہموار کرنے میں لگ گیا ہے۔ اِس کا یہ اثر ہوا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کے وزیراعظم کے دورۂ امریکہ کو بہت اہمیت دی ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ وہ چین کے نئے عالمی نظام سے پاکستان کو الگ رکھنے کی جستجو میں لگ گیا ہے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں