.

عثمانی سلاطین کا خواب ایردوان نے پورا کردکھایا

ڈاکٹر فرقان حمید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی اور جاپان کے اشتراک سے ترکی کے قیام کی 90ویں سالگرہ کے موقع پر مرمرائے ٹیوب ٹینلز نام کے جس منصوبے کو تکمیل تک پہنچایا گیا ہے دنیا میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی ہے۔

استنبول میں آبنائے باسفورس کے دونوں دہانوں کو زیرِ آب سرنگوں سے ملانے کا خواب 1860ء عثمانی خلیفہ سلطان عبدالمجید نے دیکھا تھا اور انہوں نے اس سلسلے میں اس دور کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے آبنائے باسفورس کی تہہ میں ایک سرنگ بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے اس مقصد کیلئے اپنے دور کے ماہرین سے رائے لینے کے بعد ان کو اس منصوبے کو تیار کرنے کا حکم جاری کیا۔ منصوبے کے تحت آبنائے استنبول کی تہہ میں ستون تعمیر کرکے ایک سرنگ بنائی جانی تھی لیکن مالی دشواریوں کے باعث اس منصوبے کا آغاز نہ کیا جاسکا اور یوں یہ منصوبہ کاغذوں پر حتمی شکل اختیار کرنے کے باوجود دھرے کا دھرا رہ گیا۔1875ء میں بھی عثمانی دور ہی میں فرانسیسی انجینئر ایگون ہنری گواند کی جانب سے استنبول شہر کے لئے’’نیو سٹی‘‘ کے نام سے ایک نیا پروجیکٹ شروع کیا گیا جس میں استنبول کے دونوں حصوں کو زیرِ آب سرنگوں کے ذریعے ملانا تھا لیکن اس منصوبے کا بھی آغاز نہ ہو سکا پھر 1902ء میں سلطان عبدالحمید کے دور میں متحدہ امریکہ کے تین انجینئروں فریڈرک اسٹروم، فرانک ٹی لینڈ مین اور جان ہیکر نے استنبول آکر باسفورس کے دونوں کناروں کو ملانے کے لئے’’ جصر انبوبی‘‘ کے نام سے منصوبہ تیار کیا۔ ان تینوں انجینئروں نے بھی زیرِ آب ستونوں پر سرنگیں تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا تھا جس کے ذریعے سرائے برنو(یورپی دہانے) اور اسکودار(ایشائی دہانے) کو ایک دوسرے سے ملایا جانا تھا۔

اس سلسلے میں بلیو پرنٹ اور ڈرائنگ تیار کرکے سلطان کو پیش کردئیے گئے لیکن 1909ء میں سلطان عبدالحمید کا تختہ الٹنے کے باعث یہ منصوبہ بھی ختم ہو کر رہ گیا۔ جمہوریہ ترکی کے قیام کے طویل عرصے تک اس منصوبے کی جانب کوئی توجہ نہ دی گئی تاہم 1974ء میں یورپ اور ایشیا کو زیرآب ملانے کے بجائے آبنائے باسفورس پر ایک معلق پُل تعمیر کر دیا گیا۔ اس پُل کی تعمیر کے بعد اگرچہ استنبول کی ٹریفک بہتر ہونے کی امید کی جا رہی تھی لیکن گاڑیوں کی تعداد میں ہونے والے اضافے کی وجہ سے یہ پُل بھی ناکافی ثابت ہوا۔

استنبول میں ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانےکی غرض سے ایک بار پھر زیرِ آب سرنگ بنانے اور ٹرین کے ذریعے دونوں دہانوں کو ملانےکی منصوبہ بندی کی گئی۔ اس سلسلے میں پہلی بار 1985ء تا 1987ء میں ترگت اوزال کے دور میں سنجیدگی سے قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا اور موجودہ مقام(اسکو دار اور سرکے جی) کا تمام پہلووں سے سروے کرانے کے بعد سرنگ کی تعمیر شروع کرنے کے منصوبے کی منظوری دے دی گئی تاہم اس سلسلے میں 1998ء میں ایجوت دور میں اہم قدم اٹھایا گیا اور ترکی اور جاپان کے بین الاقوامی تعاونی ایجنسی JICA کے درمیان زیر آب سرنگوں کے مالی وسائل کے بارے میں سمجھوتہ طے پاگیالیکن 1999ء میں بحرہ مرمرہ کے علاقے میں شدید زلزلے آنے کی وجہ سے یہ منصوبہ بھی ایک بار پھر پسِ پشت ڈال دیا گیا۔

زلزلہ تو اس منصوبے کو پس پشت ڈالنے کا سبب بنا ہی تھا لیکن اصل وجہ اس دور میں ترکی کی پتلی اقتصادی اور سیاسی حالت تھی ملک طویل عرصے سے سیاسی عدم استحکام کا شکار تھا اور برسراقتدار آنے والی کوئی بھی حکومت اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی سکت نہیں رکھتی تھی۔

2002ء میں جسٹس اینڈ ڈولپمینٹ پارٹی (آق پارٹی) کے برسراقتدار آنے اور ملک میں سیاسی اور اقتصادی استحکام کے قیام کے بعد اس منصوبے پر ایک بار پھر سنجیدگی سے غور کیا جانے لگا اور الماری میں پڑے منصوبے کو باہر نکال کر اس کے تمام پہلووں پر نئے سرے سےغور کیا گیا اور آخر کار 2004ء میں اس منصوبے کاسنگ بنیاد رکھ دیا گیا اور پھر بڑی سرعت سے اس منصوبے پر کام شروع کردیا گیا ۔ اس منصوبے کو 2008ء میں پایہ تکمیل تک پہنچانے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن زیر زمین کھدائی کے دوران بڑی تعداد میں قدیم دور سے تعلق رکھنے والے شاہکار برآمد ہوئےجس پر ان کھدائیوں کو طویل عرصے کے لئے روک دیا گیا اور بعد میں ماہرین ِ آثار قدیمہ کی نگرانی میں بڑی آہستگی سے ماہرین ہی کی خواہشات کے مطابق کھدائی کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا اور برآمد کئے جانے والے قدیم شاہکاروں کو ان ماہرین کی نگرانی میں جمع کیا جانے لگااور یوں مرمرائے ٹیوب ٹینلز(زیرِ آب سرنگوں) ریلوئے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے کام جاری رکھا گیا اور آخر کار سطحِ سمندر سے 62 میٹر نیچے 14 کلو میٹر طویل سرنگوں کو بچھانے کے کام کو مکمل کر لیا گیا ۔

سمندر میں 62 میٹر نیچے اتاری جانے والی ٹیوب ٹینلز کو پہلی بار آبیِ نکاس کے لئے 1894ء شمالی امریکہ میں اور 1910ء تا 1906ء کے دوران متحدہ امریکہ کے مشی گن ریلوئے میں ٹریفک نظام کو بہتر بنانے کے لئے استعمال کیا گیا تھا جبکہ یورپ میں ان سرنگوں کو 1942ء میں راٹرڈیم ہالینڈ میں متعارف کرایا گیا۔ جاپان نے 1944ء میں ان سرنگوں سے استفادہ کیا۔ (مرمرائے ٹیوب ٹینلز اسٹیل سے بنی ہوئی ہیں ۔ایک ٹیوب ٹینل کا وزن بارہ سے اٹھارہ ٹن ہے جو 758میٹر بلند اور 515 میٹر وسیع ہے۔ مرمرائے میں مختلف سائز کی گیارہ ٹنلز کو بچھایا گیا ہے جن کی کل طوالت 1387 میٹر ہے) یہ تمام ٹنلز استنبول کے قریب تُزلہ میں تیار کی گئی ہیں۔ پہلی سرنگ کو24 مارچ 2007 میں سمندر میں بچھایا گیا تھا جبکہ آخری حصے کو23 ستمبر 2008 کو فکس کیا گیا۔ ان سرنگوں کو بچھانے سے قبل سمندر کی تہہ میں موجود ریت کو ہٹاتے ہوئے پہلے ان سرنگوں کو جمایا گیا اور پھر ان پر ریت کی تہہ بچھانے کے بعد چار میٹر بلندی تک پتھروں کے بلاک رکھ دیئے گئے اور ان کے اوپر ایک بار پھر ریت بچھا دی گئی تاکہ اس علاقے میں کسی بھی بحری جہاز کے غرق ہونے کی صورت میں ان سرنگوں کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہ پہنچے۔

وزیراعظم رجب طیّب ایردوان نے 15جنوری 2012ء کو ٹیوب ٹنلز میں ریلوے پٹڑی کی ویلڈنگ کرتے ہوئے پٹڑی بچھانے کے کام کے آغاز ہونے کی نشاندہی کردی تھی۔ پٹڑی بچھانے اور دیگر امور مکمل کرنے کے بعد اس سال چار اگست کو مرمرائے ٹرین نے ٹیسٹ سفر کا آغاز کردیا تھا۔ترکی کے قیام کی 90ویں سالگرہ یعنی 29 اکتوبر 2013کو استنبول کی آبنائے باسفورس کے دونوں دہانوں کے درمیان مرمرائے ریلوے کے باقاعدہ آغاز کیلئے اسکودار ریلوے اسٹیشن پر افتتاحی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں صدر عبداللہ گل، وزیراعظم رجب طیّب ایردوان، جاپان کے وزیراعظم شینزو ایبے، صومالیہ کے صدر شیخ حسن محمود اور رومانیہ کے وزیراعظم وکٹر پونٹا کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ٹیوب ٹینلز پر چار بلین ڈالر خرچ کئے گئے ہیں جس میں ایک بلین ڈالر جاپان نے قرضے کی شکل میں فراہم کئے ہیں۔ اس پورے منصوبے پر پندرہ بلین ڈالر کے اخراجات آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ مرمرائے ریلوے کے ذریعے فی گھنٹہ75ہزار مسافروں کی آمدورفت جاری رہے گی جبکہ روزانہ بارہ لاکھ مسافر اس ٹیوب ٹینلز کے ذریعے اپنے سفر کو جاری رکھتے ہوئے استنبول کے دونوں معلق پلوں پر ٹریفک کے رش کو کم کرنے کا وسیلہ بھی بنیں گے۔ اسی سال کے اواخر میں مرمرائے ریلوئے کو انقرہ،استنبول اسپیڈی ٹرین سے ملانے سے انقرہ اور استنبول کے درمیان مسافت تین گھنٹے ہو کر رہ جائے گی۔

اس منصوبے کی افتتاحی تقریب میں جو بات پہلی بار ترکی کی تاریخ میں دیکھی گئی وہ کسی بھی سرکاری منصوبے کی افتتاحی تقریب کے موقع پر محکمہ مذہبی امور کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر مہمت گیورمیز کی جانب سے قران کی تلاوت کرتے ہوئے دعائے خیرکرانا ہے۔ ترکی کی نوے سالہ تاریخ میں اس سے قبل اس قسم کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے اسی لئےملک میں ایک بار پھر نام نہاد سیکولر حلقوں کی جانب سے سرکاری تقریب میں قران کی تلاوت کرنے اور دعائے خیر کرانے پر سیکولرازم کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے نہ ختم ہونے والا بحث مباحثہ شروع کردیا گیا ہے۔ اس افتتاحی تقریب کے موقع پر وزیراعظم ایردوان نے عوام کو پندرہ دنوں تک مرمرائے ریلوے سے مفت سفر کرنے کی خوشخبری بھی دی اور آخر میں ایک اہم نوٹ۔ مرمرائے ٹیوب ٹینلز کی کھدائی کے دوران زیر زمین برآمد ہونے والے 35ہزار شاہکاروں اور غرقاب تین بحری جہازوں کے حصوں کو ینی کاپی مرمرائے ریلوے اسٹیشن کے ایک حصے میں تعمیر کئے گئے میوزیم میں نمائش کے لئے رکھ دیا گیا ہے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.