.

توانائی کے میدان میں سائنسدانوں کی نئی جستجو

ڈاکٹر عطاء الرحمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گزشتہ دو مقالوں میں میں نے توانائی کے میدان میں رونما ہو نیوالی حیرت انگیز پیش رفت کا ذکر کیا ۔اب مزید معلومات نظرقارئین ہیں جن سے پاکستان بھی مستفید ہوسکتا ہے۔ ہوا ایک بہت اہم ذریعۂ ِ توانائی ہے۔اس وقت دنیا میں تقریباً 200,000 سے زائد ہوا کی چرخیاں مصروفِ عمل ہیں جن میں چرخیوںکےذریعے پیدا ہونے والی توانائی کی سب سے زیادہ گنجائش چین میں تقریباً 75,000 میگا واٹ ہے اس کے بعد امریکہ (60,000MW) ، جرمنی (31,000 MW)، اسپین (21000 MW) اور ہندوستان میں 19,000 میگاواٹ ہے۔

ہوا کے ذریعے حاصل کردہ توانائی میں دن بہ دن بہت تیزی سے اضافہ ہورہا ہے (تقریباً 20% سالانہ ) جس میں چین سرِفہر ست ہے۔ ہوا کی چرخیوں سے پیدا ہونے والی بجلی ڈنمارک میں 28% ،پرُتگال میں 19%،اسپین میں 16% ، آئرلینڈ میں 14% اور 8% جرمنی میںبجلی پیدا کرتی ہے ۔ 2001؁ء میں جب میں وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و مواصلات تھا، میں نے اپنی نگرانی میں بہت بڑے پیمانے پر ہوا سے بجلی پیدا کرنے کا ملک گیر پروگرام ترتیب دیا تھا جس کے تحت ہوائی رُخ اور دبائو کے نقشے بھی تیّار کر لئے گئے تھے جن کے مطابق سندھ (کیٹی بندر، گھارو اور حیدرآباد کے علاقے سے ) اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں سے تقریباً 20,000 MW سے 50, 000 MW بجلی حاصل کی جاسکتی تھی اگر اسی وقت اس پروجیکٹ پر عمل شروع کر دیا جاتا تو آج بجلی کی پیداواری صلاحیت بڑھ چکی ہوتی لیکن گزشتہ حکومت میں چند بدعنوان سرکاری افسران نے اس پروجیکٹ میں رشوتیں اتنی زیادہ مانگیں کہ تمام بڑے سرمایہ کاروں نے اپنے ہاتھ پیچھے کر لئے ۔ لہٰذا اس معاملے میں زیادہ پیش رفت نہ ہو سکی۔

سمندر سب سے بہترین اور موزوں انتخاب ہے جہاں پر تیرتی ہوئی ہوائی چکّیاں لگائی جا سکتی ہیں کیونکہ اسطرح زمین کاشتکاری اور دوسرے ضروری مقاصد کے لئے استعمال ہو سکے گی اور سمندری تیز ہوائوں کے زور کی وجہ سے بجلی بھی بآسانی حاصل ہو سکے گی۔ ان چرخیوں کے بلیڈ کافی وزنی ہوتے ہیںجس کی وجہ سے ان چرخیوں کا اوپری حصّہ وزنی ہوجاتاہے اور تیز لہروں اور سمندری طوفانی موسموںمیںڈگمگا کر الٹنے کا خطرہ ہے یہی چیلنج ہے کہ ہم ان چرخیوں کو خراب سمندری موسم میں بھی مستحکم اور اسی کارکردگی سے کام کرتا ہوا کیسے رکھ سکتے ہیں۔ان مشکلات کے حل کے لئے امریکی جامعات اور کمپنیوں کے اشتراک سے ایک کمپنی بنائی گئی اور ایک منصوبے کے تحت 13جون 2013؁ء کو ساحل سے دور پہلی ہوائی چرخی لگائی گئی جو گرڈ اسٹیشن تک بجلی پہنچاتی ہے ۔اسطرح سمندر کو استعمال کرتے ہوئے توانائی کے حصول کے نئے راستے کھول دئیے۔ ایک اور تیرنے والا پروجیکٹ، جاپان کے ساحل سے دور قائم کیا جا رہا ہے۔ناروے کے سائنسدان بھی 2009؁ء میں کامیابی سے لگائے جانے والے پروجیکٹ پر مزید جستجو میں لگے ہوئے ہیں تاکہ ایک باسہولت اور عمدہ ڈیزائن تیّار کر سکیں۔ہائیڈروجن کرّہِ ارض پر پایا جانے والا سب سے عام عنصر ہے۔ کائنات کا تقریباً 75%حصّہ ہائیڈروجن پر مشتمل ہے۔

ستاروں میں ہائیڈروجن کافی وافر مقدار میں موجود ہوتی ہے جو زیادہ درجہی حرارت پر ملاپ کے نتیجے میں روشنی اور حرارت فراہم کرتی ہے جو ہماری کائنات کو روشنی اور گرمائی پہنچاتی ہے۔لہٰذا ہائیڈروجن ایک عمدہ ذریعہِ توانائی ہے۔اور یہ بھی ثابت ہو چکا ہے کہ ہائیڈروجن کی ’توانائی کثافت ‘ مٹّی کے تیل سے چار گنا زیادہ ہے۔پانی سب سے معقول و سستا ذریعہ ہائیڈروجن ہو سکتا ہے اگر پانی میں موجود ہائیڈروجن اور آکسیجن کے درمیان کا جوڑ توڑنے کا کوئی سستا اور آسان طریقہ دریافت کر لیا جائے۔ قدرت یہ عمل بڑے خوبصورت انداز سے photosynthesis کے دوران ایک مخصوص اینزائم کے ذریعے سر انجام دیتی ہے۔البتہ یہ اینزائمر کافی مقدار میں دستیاب نہیں ہیں کیونکہ یہ اینزائم اپنے قدرتی ماحول سے ہٹتے ہی غیر متوازن ہو جاتا ہے۔اس کرّہِ ارض پر پانی کافی وافر مقدار میں موجود ہے اور یہی ایک صاف ترین ذریعہ ِ توانائی ہے کیونکہ ہا ئیڈروجن کو جلانے سے وہ دوبارہ پانی میں منتقل ہو جاتی ہے۔ سائنسدان مستقل اس جستجو میں سرگرداں ہیں کہ کوئی ایسا معقول طریقہ دریافت کرلیں جو کہ پانی میں سے ہائیڈروجن اورآکسیجن کے جوڑ کو توڑ کر ہائیڈروجن حاصل کرسکیں۔ایک دھاتی پلاٹینم یہ کام کر سکتا ہے لیکن یہ طریقہ کافی مہنگا پڑتا ہے۔ اب UC Berkley کے شعبہ کیمیا کے سائنسدان نے پلاٹینم سے ستّر گنا سستا دریافت کر لیا ہے جو کہ ہائیڈروجن کی پیداوار کے لئے صنعتی ضروریات کے مطابق دستیاب ہے۔ لہٰذا اب گاڑیاں اس حساب سے تیّار کی جا رہی ہیں جو کہ ہائیڈروجن کو بطورایندھن / پیٹرول کی جگہ استعمال کر سکیں ۔امریکہ، جاپان اور یورپ میںگاڑیوںمیں ہائیڈروجن بھرنے کے اسٹیشن تیّار کئے جارہے ہیں اور ہائیڈروجن کے ذریعے چلنے والی گاڑیاں بنانے پر کافی زور دیا جا رہا ہے۔ البتہ جاپان میں پہلے ہی کافی بسیں ہائیڈروجن سے چلتی ہیں۔

قدرت خود بہت بڑی معلّم ہے جس سے بشر سیکھتا ہی رہتا ہے۔ مصنوعی عمل کے ذریعے ہا ئیڈروجن کی بھاری پیداوار بمعہ عمدہ کارکردگی سائنس کے محققین کے لئے کسی سنہری حصول سے کم نہیں ۔ کیا عام طور پر کھائی جانے والی پالک اس مشکل کا حل ہو سکتی ہے؟ اور حیرت انگیز طور پر اسکا جواب ہے ۔جی ہاں! کیونکہ اب امریکہ کے ایک سائنسدان نے دریافت کر لیا ہے کہ سورج کی روشنی کی موجودگی میں پالک کے پتّوں کی پروٹین سے تیّار کردہ جھّلی کے ذریعے نقل کی جا سکتی ہے اور اسطرح ہائیڈروجن حاصل کی جا سکتی ہے۔ ایک دفعہ یہ عمل تجارتی بنیادوں پر کامیاب ہو جاتا ہے تو آ پ پالک کے ذریعے حاصل کردہ ہائیڈروجن سے گاڑی چلا سکیں گے۔ہائیڈروجن کی ذخیرہ اندوزی سب سے مشکل مرحلہ ہے کیونکہ مائع ہائیڈروجن کو 253°C کے درجہِ حرارت پر محفوظ کیا جاسکتا ہے جو کہ گاڑیوں اور دیگر آلات کے لئے کافی مہنگا اور محنت طلب طریقہ ہے۔ برطانیہ کی ایک کمپنی ہائیڈروجن کے استعمال کا نیا طریقہ لے کر سامنے آئی ہے۔

انہوں نے نینوٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے ہائیڈروجن کا ایندھن تیّار کیا ہے جس میں ہائیڈروجن کو ہائیڈرائڈ مرکّب کی حا لت میں محفوظ کیا جاتا ہے۔ اس ہائیڈروجن کو بآسانی گاڑیوں کے انجن میں کوئی ردّو بدل کے بغیر استعمال کیا جا سکتا ہے اور کسی بھی پیٹرول پمپ سے بھرا جا سکتا ہے ۔ ہائیڈروجن کو گولیوں اور ٹشو کی صورت میں بنایا گیا ہے اس کی تیّاری میں صرف $1.5 فی گیلن کی لاگت آئی ہے جو کہ معدنی ایندھن سے بھی کافی کم ہے۔ اس زبردست ایندھن کی دریافت کی تفصیلات کو آکسفورڈ کے سائنسدانوں نے اب تک صیغہ راز میں رکھا ہے۔
ایک اور نیا زریعہ ہائیڈروجن گھریلو فضلہ ہے ۔ ہمارے گھروں سے جو فضلہ نکلتا ہے اس میں کافی اچّھی مقدار میں نامیاتی اجزاء ہوتے ہیںجو کہ بیکٹیریا تحلیل کرکے کافی بھاری مقدار میں ہائیڈروجن خارج کرتے ہیں۔ یہ عمل ("Microbial Electrolysis Cells" (MECs کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اس طرح جو ہائیڈروجن حاصل ہوتی ہے اسے جلا کر براہِ راست اس فضلے سے بجلی پیدا کی جاتی ہے۔اس پورے عمل میں 0.2 Voltsکی معمولی مقدار میں بجلی درکار ہوتی ہے۔ یہ مقدار سمندری پانی سے تازہ پانی کی منتقلی کے دوران خارج ہو نے والی توانائی سے پوری کی جا سکتی ہے۔لہٰذا اس قسم کے پلانٹس سمندر کے قریب ہی بنانے چاہئیں تاکہ سمندری پانی صحیح مقدار میں سہولت سے میّسر ہوسکے۔یہ ولولہ انگیز کام Bruce Logan اور انکے ساتھیوں نے سر انجام دیا جس میں انہوں نے فضلے سے پیدا ہونے والی ہائیڈروجن سے بجلی پیدا کی تھی۔

پاکستان میں کوئلہ، پانی، سلیٹی پتھر اور میتھین جیسے وسائل کے ساتھ ہوائی توانائی کے استعمال کی بھی فوری ضرورت ہے ۔ اس کے لئے ہمیں ایسی افرادی قوت چاہئے جو روشن خیال اور متحرک ہو جو ان پروجیکٹس کو دو سال کے اندر شروع کر وا دے ۔ہم امید کرتے ہیں کہ موجودہ حکومت ان کاموں میں زیادہ دیر نہیں لگائے گی کیونکہ پہلے ہی اس توانائی کے بحران اور اس کی اونچی قیمتوں کی بدولت صنعتیں بدحال ہیں۔

بشکریہ روزنامہ "اجنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.