.

خوش فہمی کا خاتمہ

ایاز امیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عملی صحافت کاتیس سالہ تجربہ رکھتے ہوئے میں یہ بات برملا کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان کو درپیش مسائل نا قابل ِ حل ہیں۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ مسائل بے حد پیچیدہ اور منفرد ہیں بلکہ اس کی وجہ وہ سیاست دان ہیں جو ناقص انتخابی عمل سے گزر کر یا کسی نادیدہ ہاتھ کی مہربانی سے مسند اقتدار پر فائز ہوجاتے ہیں۔ اگر آپ ان رہنمائوں کے چہروں سے پھوٹنے والی’’ ذکاوت فکری ‘‘کی ملگجی روشنی دیکھیں تو سب سمجھ میں آجائے گا کہ اس ’’بے بدل بصیرت‘‘ کے ہوتے ہوئے کیسے نتائج نکل سکتے ہیں۔ جو حکومت یوٹیوب کھولنے کا فیصلہ نہ کرپائے کہ مبادا اسے کھولتے ہی انواع اقسام کے بھوت اس کا گھیرائو کر لیں گے تو پھر اس سے مشکل قسم کے فیصلے کرنے کی توقع رکھنا زیادتی ہوگی۔ چنانچہ پاکستان کو آج جس سب سے بڑے مسئلے کا سامنا ہے تو صلاحیت اور قوت ِ فیصلہ کا فقدان ہے اور یہ مسئلہ لوڈ شیڈنگ اور معاشی بحران سے بھی زیادہ سنگین ہے۔

صلاحیت کے فقدان کا مسئلہ صرف موجودہ یا ان سے پہلے دیگر حکمرانوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس وطن کا سیاسی اور سماجی منظر نامہ یکساں طور پر بے بصری سے عبارت ہے۔ دو سو ملین افراد کی یہ قوم، جو ایک ہی فن میں طاق ہے (آبادی میں فزوں تر اضافہ اور انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر اس فن کی مہارت پر ناقابل ِ تردید سند ہے)اس دھرتی کے لئے بوجھ صرف اس لئے بن چکی ہے کہ اس کی قیادت بے سمت ہی نہیں بے روح بھی ہے۔قومی زندگی کا کوئی موضو ع لے لیں، چاہے وہ درسی نصاب ہو، ہر جگہ آوے کا آوا ہی بگڑا ہواہے۔ اسکولوں میں نصاب کے نام پر انتہائی مضحکہ خیز تاریخ پڑھا کر ہم ہر سال ’’جیّد جہلا ‘‘ کی ایک نئی کھیپ تیار کرتے ہیں جبکہ سوشل سیکٹر، جیسا کہ میڈیکل کیئر، پر ہماری عدم توجہی کی وجہ سے ڈاکٹر پہلے دستیاب موقع پر سعودی عرب یا دیگر ممالک کا رخ کر لیتے ہیں۔

پلاسٹک بیگ پر پابندی لگانا ہمارے بس کی بات نہیں ہے، چنانچہ اس شیطانی ایجاد نے شہروں کے نکاسی آب کے نظام کو مفلوج کر رکھا ہے۔ اگر کارکردگی کا یہ عالم ہو تو پھر دیگر معاملات، جیسا کہ طالبان سے بات کرنا، دہشت گردی کے خطرے کی فہم رکھنا یا تعلیمی پالیسی بنانا، سے عہدہ برآ ہونے کے لئے ہم سورج کو مغر ب سے کیسے طلوع کر سکتے ہیں۔

یہ ناقابل علاج مسائل نہیں ہیں لیکن اس کے لئے آپ کو التباسات کی دنیا سے باہر آتے ہوئے عملی اور حقیقی سوچ اپنانے اور درست فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ آپ کو اہل قیادت چاہیے.... چاہے سیاسی قیادت ہو، فوجی قیادت ہو، افسرشاہی ہو یا ملائیت (جیسا کہ ایران میں ہے)، لیکن کوئی لیڈر تو ہو جو سامنے آ کر فیصلے کرنے کی جرأت رکھتا ہو۔ سیدھی سی بات ہے کہ ایک ٹرین کو ڈرائیور، ایک کشتی کو ملاح، ایک ساز کو موسیقار اور کرکٹ ٹیم کو کپتان کی ضرورت ہوتی ہے، چنانچہ ایک ملک کو بھی لیڈر چاہئے ہوتا ہے۔ یہ زندگی کا ایک معمول ہے لیکن پاکستان میں تمام شعبوں میں چن چن کر نالائق ترین افراد تعینات کیے جاتے ہیں اور پھر ان سے معجزات کی توقع وابستہ کر لی جاتی ہے۔ اور جب وہ افراد توقعات پر پورا نہیں اتر پاتے تو پھر ہم قنوطیت یا مایوسی اور پریشانی کا شکار ہوجاتے ہیں۔قنوطیت دراصل امرأ کا مشغلہ ہوتا ہے کہ ناشتے کی میز پر گرما گرم کافی پیتے ہوئے تازہ اخبارکی ورق گردانی کرتے ہوئے یا شام کی میٹنگز میں من پسند خوشبو دار مشروبات سے نادیدہ غم غلط کرتے ہوئے سیاست پر بات کرلیں اور تھوڑی دیر کیلئے زمانے کے خراب حالات پر قنوطیت کا’’ فرض ِ کفایہ‘‘ ادا کرلیں...بس اتنا ہی کافی ہے، لیکن اگر آپ اس ملک کے عام غریب شہری ہوں تو پھر مایوسی بہترین آپشن ہے۔ چنانچہ حالات یہ ہیں کہ اگر ہم ملک میں پھیلی ہوئی قنوطیت اور مایوسی کو سونے میں ٹکسال کرسکیں تو ریت کے ہر ذرے کو زریں پہاڑ میں بدل دیں۔

ہماری ملکی آبادی میں اکثریت نوجوانوں کی ہے اور نوجوانوں کو اصولی طور پر پر امید ہونا چاہیے لیکن ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے۔ ہمارے نوجوان رجائیت اور یکسوئی سے عاری، ژولیدہ فکری کا شکار ہیں۔ چند ہفتے پہلے لاہور کینٹ میں سفر کرتے ہوئے میں نے ہزاروں نوجوانوں کو ایک قطار میں کھڑے دیکھا۔ ان میں سے کئی ایک دور دراز کے شہروں، جیسا کہ سرگودھا اور خوشاب سے آئے ہوئے تھے۔ وہ دراصل کینٹ کے گریژن ا سکولوں میں کلرکوں کی چھبیس اسامیوں پر ملازمت کے ٹیسٹ دینے کے لئے آئے تھے۔ اُن میں سے اکثر کے پاس ایم اے اور ایم بی اے کی ڈگریاں تھیں۔ بے روزگاری کا یہ عالم ہے کہ اگر کہیں پولیس کے سپاہی کے لئے ٹیسٹ ہو رہا ہو تو آپ دیکھیں گے کہ ٹیسٹ دینے والے زیادہ تر ماسٹر ڈگری رکھنے والے ہیں۔

بہرحال ہم موجودہ حکمرانوں کے شکرگزار ہیں کہ اُنھوںنے پاکستانیوں کو التباسات کے آئینہ خانے سے نکالتے ہوئے حقائق کی سنگلاخ سرزمین پر لاکھڑا کیا ہے۔ آج وہ اپنے حالات اور اپنے حکمرانوں کو سمجھنا شروع ہوگئے ہیں۔ جب ملک پر زرداری حکومت تھی تو پنجاب نے شریف برادران کی کارکردگی کے پیچھے پناہ لے لی تھی اور اُنہیں یقین تھا کہ جب میاں صاحب کی حکومت آئے گی تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن آج کیا ہوا ہے؟ انتہائی مختصر وقت میں موجودہ حکومت نے اُن کی خوش فہمی دور کردی ہے۔ ذرا تصور کریں کہ گزشتہ کئی عشروں سے قوم ان سیاسی کھلاڑیوں کے بچھائے ہوئے جال میں الجھی ہوئی ہے۔ جب یہ ایک جماعت کے بچھائے ہوئے دام کا شکار ہوتی ہے تو دوسری کے خوشنما دکھائی دینے والے جال کو رہائی کا پروانہ سمجھ لیتی ہے۔ ہمارے سیاسی سرکس میں نصب شدہ جھولے کا جھکائو یا تو بھٹو کی طرف ہوتا ہے یا نواز شریف کی طرف ... اور قوم بھی ایک سے تنگ آکر دوسرے کے پلڑے میں وزن ڈالتے ہوئے اس کی سابقہ بدعنوانی اور نااہلی کو فراموش کر دیتی ہے۔ تاہم، اب جبکہ موجودہ حکومت پوری طرح لوگوں پر آشکار ہو چکی ہے( اور چند ماہ پہلے لوگ پی پی پی کو دیکھ چکے ہیں)تو اس باری والی سیاست کا خاتمہ ہوجانا چاہئے۔ اب شاید لوگوں کو کوئی گمان باقی نہیں رہ گیا ہے۔ اس کھیل کا کبھی نہ کبھی خاتمہ ہونا ہی تھا، سو یہ وقت اب آن پہنچا ہے۔

اس سے پہلے ہم فوجی حکمرانی کا خاتمہ اور جمہوریت کی آمد دیکھ چکے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ گزشتہ انتخابات ہمارے ملک میں پہلی مرتبہ پرامن انتقال ِ اقتدار تھا۔ ہم پی پی پی کے عروج و زوال سے بھی آشنا ہیں، اسی طرح ہم اب پی ایم ایل (ن) کی موجودہ کارکردگی کی صورت میں رومانوی روشنی کو ماند پڑتا دیکھ رہے ہیں۔ ہم نے عدلیہ کی آزادی کا بھی پھل چکھا ہے۔ اس سفر میں ہم نے یکے بعد دیگرے مختلف خوش گمانیوں کے آبگینوں کو حقائق کی سنگلاخ چٹانوں سے ٹکراکر بکھرتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس جان توڑ مسافت نے عوام کو نیم جان تو کر دیا ہے لیکن وہ کم از کم خوش فہمی کے اُس طلسم ہوشربا سے نکل آئے ہیں جس میں وہ مدت سے گرفتار تھے۔

’’پرانی سیاست گری خوار‘‘ ہو چکی ہے جبکہ مختلف کھلاڑی بھی بے نقاب ہو رہے ہیں۔ پرانے جام و مینا چکنا چور ہیں اور اب شاید وقت آگیا ہے کہ کسی نئے میکدے کی تلاش کی جائے، کسی نئے ساقی کو موقع دیا جائے اور نئے جام ہوں اور نئی مینا۔

تاہم بنیادی سوال اپنی جگہ پر موجودہے کہ یہ نیا ساقی اب کہاں سے آئے گا؟ واقع ہونے والے اس خلاکو کون پُر کرے گا؟ یہ خلا اُس نازک وقت میں پیداہوا ہے جب طالبان ہمارے دست و بازو آزما چکے ہیں۔ وہ ہماری طاقت کی گہرائی کا اندازہ لگا چکے ہیں، اس لئے وہ للچائی ہوئی نظروں سے ریاست ِ پاکستان پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔ ان کے عزائم شعلہ بار ہیں اور وہ عقابی نظروں سے اس تھکے ہوئے ممولے کی تاک میں ہیں...اور ستم یہ ہے کہ ممولا خود عقاب سے مذاکرات (مینو) طے کرنا چاہتا ہے۔ شمال کی طرف سے آنے والے ماضی کے حملہ آوروں کے لئے ہندوستان سونے کی چڑیا تھی۔ ایک مرتبہ پھر ویسا ہی معرکہ درپیش ہے ، ایک مرتبہ پھر ہماری ریاست میں سراسیمگی پھیلی ہوئی ہے... جیسی کہ قدیم ہندوستان میں تھی۔ چنانچہ اس وقت ہمارے سامنے صرف ایک مسئلہ ہے... ہم اسے ایک مسئلہ سمجھ کر پوری یکسوئی کے ساتھ اس کے خلاف ڈٹ جائیں۔ اس وقت ہم لاکھ شترمرغ سہی، سرچھپانے کے لئے ریت نہیں چاروں طرف آتشیں بگولے ہیں۔

کسی بھی معرکے کی فتح اور شکست کا فیصلہ ذہن میں پہلے اور میدان میں بعد میں ہوتا ہے۔ 1940 میں جرمن دستوں کی طرف سے Maginot Line عبور کرنے سے پہلے ہی فرانس ہار چکا تھا۔ اس کے ایک سال بعد جب جرمن افواج روس کی طرف پیش قدمی کر رہی تھیں تو یہ قابل ِ دید منظر تھا۔ پہلے تو جرمنی دستوں نے روس کی دفاعی لائن کو پاش پاش کردیا ، پھر اس کے شہروں اور افواج کا محاصرہ کرلیا۔ لاکھوں افراد قیدی بن گئے لیکن بے انتہا مصائب اور بے پناہ جانی نقصانات کے باوجود روس کی سرخ فوج نے جنگ جاری رکھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ روس ہار نہ ماننے کا فیصلہ کر چکا تھا۔ جہاں تک ہمارا تعلق ہے ، تو ہم جنگ کے آغاز سے پہلے ہی شکست تسلیم کر چکے ہیں۔ ہماری بزدلی کی وجہ سے دشمن شیر ہو چکا ہے۔ یہ درست ہے کہ ہمیں جنگی تیاری کے لیے وقت اور مزید ہتھیار،جیسا کہ ہیلی کاپٹر اور رات کو دیکھنے والے آلات کی ضرورت ہے لیکن ان سب سے بڑھ کر فولادی قوت ِ ارادی اور آہنی عزم درکارہے۔ جنگ جیتنے کیلئے اسباب ِ حرب سے زیادہ جرأت چاہئے ہوتی ہے۔

ذرا سوچیں کہ امریکیوں کے ہاتھوں گرفتار ہونے سے پہلے طالبان کمانڈر لطیف اﷲ محسود افغانستان میں کیا کر رہا تھا؟وہ افغان خفیہ اداروں کے ساتھ مل کرپاکستان کی افواج کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ اس سے اندازہ لگالیں کہ جب ریاستیں کمزور ہو جائیں تو کمزور افراد بھی سازشیں کرنے لگتے ہیں۔ اس وقت ہمیں اس بات کی تفہیم کی ضرورت ہے کہ پرانی سیاست کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ اب سیاست کا نیا صفحہ پلٹنا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے پاس کون سا آپشن موجود ہے؟

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.