.

ناکام مذاکرات اور تلخ حقائق

اسلم خان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

طالبان سے مذاکرات آغاز سے پہلے ہی ناکام ہو چکے لیکن ہم تلخ حقائق کا سامنا کرنے کو تیار نہیں۔ قاتل ڈرونز کی موجودگی میں کیسے مذاکرات، کہاں کی بات چیت لیکن ہماری قومی قیادت آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کے بجائے شترمرغ کی طرح ریت میں سر دبا کر خوش فہمی کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔

پاکستانی طالبان نے مذاکرات سے پہلے ڈرون حملے بند کرنے کی پیشگی شرط عائد کی تھی۔ جناب عمران خان دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ ڈرون حملے بند نہ ہوئے توہم خیبر پختون خوا میں نیٹو سپلائی بند کر دیں گے۔ اب ڈرون حملہ ہو چکا۔ جناب خان صاحب چلیں آپ بھی اپنا شوق پورا کر لیں۔ یاد رکھیں کہ سلالہ چیک پوسٹ کے سانحے کے بعد ایک سال تک نیٹو سپلائی بند رہی تھی۔ ہٹ دھرم اور متکبر امریکیوں نے اربوں ڈالر اضافی اخراجات برداشت کر لیے تھے لیکن معذرت نہیں کی تھی۔

’طالبان سے مذاکرات شروع کر دیے ہیں مزید قتل و غارت گری برداشت نہیں کر سکتے‘ وزیر اعظم نواز شریف نے لندن میں یہ انکشاف کر کے اس نازک معاملے سے جڑے ہوئے تمام افراد کو ششدر کر دیا۔ اسلام آباد میں وزیر داخلہ نثار علی خاں کا کہنا ہے کہ روابط جاری ہیں۔ پاکستانی طالبان سے مذاکرات کا ایجنڈا، مقام، طریق کار اور دیگر تفصیلات طے کر رہے ہیں۔


طالبان سے مذاکرات کے بارے میں بظاہر سیاسی زعماء یکسود کھائی نہیں دے رہے۔ طالبان سے مذاکرات کے سب سے پہلے داعی مولانا فضل الرحمن کو طالبان اور حکومت، دونوں فریقین نے کمال دانش مندی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے عملاً اس سے علیحدہ کر دیا تھا کہ ان کے ’کڑے‘ مطالبات کو پورا کرنا حکومت کے لیے کوہ گراں بن گیا تھا۔


حالت جنگ میں بھی متحارب فریقین کے معمول کے روابط جاری رہتے ہیں اسی طرح پاکستانی طالبان سے وفاقی اور صوبائی انتظامیہ کے مختلف سطحوں پر رابطے موجود ہیں لیکن جہاں تک باضابطہ مذاکرات کا تعلق ہے کہ پاکستانی طالبان سے بات چیت کے لیے زیر حراست ملا عبدالغنی برادر کمزور کڑی ہیں جن پر ہم ضرورت سے زیادہ انحصار کیے جا رہے ہیں۔


ڈرون حملوں کی بندش مذاکرات کے آغاز کے لیے طالبان کی شرط اول تھی‘ اب تازہ ترین ڈرون حملے کے بعد ان مذاکرات کا اللہ ہی حافظ ہے جو شروع ہونے سے پہلے ہی ناکام ہو چکے ہیں کیونکہ ڈرونز کا کمانڈ اور کنٹرول ہمارے اختیار سے باہر ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف کی تمام گزارشات کا صدر اوباما نے تازہ ڈرون حملہ کر کے عملی جواب دے دیا ہے۔ اگر ہم اس حوالے سے جوابی اقدام کرنا چاہتے ہیں تو اس کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ حکومت ڈرونز کو گرانے کا اعلان کر دے جس کی مکمل صلاحیت ائیر فورس کے پاس موجود ہے لیکن یہ فیصلہ سیاسی قیادت نے ہی کرنا ہے۔


ڈرون حملوں کو پاکستانی سیاست میں مرکزی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔ پاکستان میں ہمیشہ حقائق کی بنیاد پر عملیت پسندی کے بجائے جذبات کا سستا کھیل کھیل کر مصائب سے چشم پوشی کی گئی ہے۔ ہمارے اصل حکمران طبقے جذبات اور جذباتیت کو ہوش و حواس پر ہمیشہ ترجیح دیتے رہے ہیں کہ مسائل سے وقتی چھٹکارا پانے کا یہ ’شارٹ کٹ‘ کامیابی سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ طالبان سے مذاکرات اور ڈرون حملوں کا معاملہ بھی اب ٹھنڈے دل سے غور و خوض کے بعد حکمت عملی سے کرنے کے بجائے جذباتی نعرے بازی سے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

صدر بش کے دور میں صرف 52 حملے ہوئے تھے لیکن مسلمانوں جیسے نام والے بارک حسین اوباما نے تو ڈرون حملوں کو بچوں کا کھیل بنا کر رکھ دیا ہے۔

جوانی کے چند سال گوجرانوالہ میں گزارنے والے بارک حسین اوباما کو اپنے اس وقت کے پاکستانی دوست تا حال یاد ہیں اور ان کی مہمان نوازی بھی کہ وہ ’دال، قیمہ کی کراری لذت کو مدتیں گزرنے کے باوجود نہیں بھول پائے۔ اسی اوباما کے دور میں اب تک 319 ڈرون حملے ہو چکے ہیں جس میں مارے جانے والوں کی اکثریت کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ جس میں معصوم بچے اور خواتین بھی شامل تھیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم سچ کا سامنا کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اب عالم یہ ہو گیا کہ ڈرون حملوں کے خلاف عالمی ضمیر احتجاج کر رہا ہے اور دبائو بڑھا رہا ہے جب کہ ہمارے بعض نادر و نایاب تحقیقاتی رپورٹر بتا رہے ہیں کہ یہ حملے پاکستان کے قانون ہوا بازی کی کھلی خلاف ورزی ہیں جس کے تحت بغیر پائلٹ والے مخصوص ساخت کے جہاز صرف لائسنس لے کر ہی اڑائے جا سکتے ہیں۔ جب کہ اقوام متحدہ کے نمایندے بھی اب ان کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور پاکستان کی خود مختاری کے خلاف جارحیت قرار دے رہے ہیں۔

ہم تو اس سچ کا سامنا کرنے کو بھی تیار نہیں کہ قاتل ڈرونز مشرف کے دور حکومت میں پاکستانی سر زمین سے اڑ کر حملے کرتے تھے جس کے لیے تربیلا ڈیم کے نواح میں غازی کا خفیہ ہوائی اڈہ اور بلوچستان کی شمس ائیر بیس کو استعمال کیا جا تا تھا۔ آج ہمارے ایسے تمام مصائب کے ذمے دار جنرل مشرف اپنے گھر کی آرام دہ جیل کی پر آسائش قید کاٹنے کے بعد باہر جانے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ ویسے ہم بھی کیا عجیب قوم ہیں اجتماعی معاملات میں جوش و خروش کو عقل و دانش پر ترجیح دیتے ہیں لیکن ذاتی اور شخصی معاملات میں قدم پھونک پھونک کر رکھتے ہیں۔

افغان طالبان افغانستان سے امریکا اور اتحادی افواج کے انخلاء کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں جس کے بعد وہ کٹھ پتلی انتظامیہ سے نمٹنے کی تیاریاں کر رہے ہیں گزشتہ دنوں حکمران افغان اشرافیہ کے ایک اہم نمایندے نے غیر رسمی گفتگو میں انکشاف کیا کہ موجودہ فوجی اور انتظامی ڈھانچے کو برقرار رکھنے کے لیے 16 ارب ڈالر سالانہ کی ضرورت ہو گی جب کہ امریکی بجٹ میں 2014ء کے بعد افغانستان کے لیے ایک دھیلا بھی نہیں رکھا گیا۔ امریکی انخلاء کے بعد انتظامی مشینری جنوبی افغانستان میں مکمل طور پر طالبان کے رحم و کرم پر ہو گی جب کہ ڈیورنڈ لائن کے اس پار پاکستانی طالبان اپنے افغان ساتھیوں کے برعکس عالمی ایجنڈے پر عملدرآمد کا اعلان کر رہے ہیں۔ وہ شام کے مختلف محاذوں پر اپنے گوریلے بھیج چکے ہیں۔ مسلکی اختلافات کی بنا پر ایران کو بھی چیلنج کر رہے ہیں۔ چین کے اندرونی خلفشار کے ڈانڈے بھی ان سے ملائے جاتے ہیں۔ اب وہ اپنے پر پرزے وزیرستان سے سارے ملک تک وسیع کرتے جا رہے ہیں۔ جناب عمران خان کی دفاتر کھولنے کی تجویز پر طالبان ترجمان نے بڑے فخر سے کہا تھا ’ہم ہر جگہ‘ ہر شہر میں موجود ہیں باقاعدہ دفاتر کھولنے کی کیا ضرورت ہے ۔

ہم ہیں کہ نادیدہ سایوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، ہلکان ہو رہے ہیں لیکن برہنہ سچ کا سامنا کرنے کو تیار نہیں کہ طالبان سے مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی ناکام ہو چکے۔

بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.