.

نواز شریف کا دورۂ امریکہ، پاکستانی و بھارتی نظر میں

نصرت مرزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہمیں یہ اعزاز حاصل ہوا کہ افغانستان اور بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان تعلق داری اور پاکستان میں خون خرابہ کرانے کی سازش کو اپنے کالم ’امریکہ افغان معاہدہ اور پاکستان ‘(25 اکتوبر 2013ء) سب سے پہلے طشت از بام کیا اور پھر 31اکتوبر 2013ء کو چین کے پہلے عالمی نظام کے خدوخال واضح کئے۔ اس تناظر میں ضروری ہوگیا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم کے دورۂ امریکہ کے کچھ پہلوئوں کو زیر بحث لائیں۔

اس بات پر سب کو اتفاق ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو 19 اکتوبر 2013ء سے 23 اکتوبر 2013ء تک سرکاری دورئہ امریکہ میں غیر معمولی اہمیت دی گئی اگرچہ کئی تجزیہ کاروں نے اسے تعارفی دورہ کہا مگر ہم سفارت کاری کے زاویئے سے کافی امید کی کرن دیکھتے ہیں۔ امریکہ کی ہر اہم شخصیت نے اُن سے ملاقات کی۔ وزیر خارجہ، وزیر دفاع، مشیر سلامتی امور، چیئرمین چیف آف جنرل اسٹاف کمیٹی، کانگریس کے امور خارجہ کی کمیٹی، نائب صدر اور صدر امریکہ سے ملاقاتیں ہوئیں۔ امریکہ کے دورے میں وزیراعظم میاں نواز شریف کو جو اہمیت دی گئی اُس کی وجہ عمومی طور پر یہ بتائی جارہی ہے کہ پاکستان امریکہ کی ایک دفعہ پھر ضرورت بن گیا ہے اگرچہ ہمیشہ کی طرح امریکہ وہ وقتی ضرورت ہے 2014ء تک، جب تک امریکی افواج کا افغانستان سے انخلاء ممکن ہوجائے گا۔ مگر ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی اہمیت ہمہ جہتی ہوگئی ہے۔ پاکستان ایک کمزور ملک سے مضبوط ملک بن گیا ہے، ایک معمول سے عامل بن رہا ہے، وہ بارہویں کھلاڑی سے میدانِ عمل کا کھلاڑی بننے جارہا ہے، جس کا اظہار میاں نواز شریف نے اپنی اقوام متحدہ کی تقریر میں کردیا تھا۔ اِس کی دوسری اہم وجہ پاکستان اور چین کے بڑھتے ہوئے تعلقات ہیں اور چین نئے عالمی نظام کو ترتیب دینے کی فکر رکھتا ہے۔ اُس کی بساط پاکستان کے ساتھ مل کر بچھانا چاہتا ہے، اسی وجہ سے پاکستان کے وزیراعظم نے اپنے دورہ چین کے بعد ’’کھیل کی تبدیلی‘‘، ’’معاشی کاریڈور‘‘ کی اصطلاحات استعمال کیں۔ وہ پاکستان کی بدلتی پالیسی کی عکاس تھیں۔ جس کو پاکستان کو پُرعزم اور مستحکم ہونے کی مظہر ہونے کی دلیل کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔

لگتا ہے کہ امریکہ افغانستان سے نکلنے کیلئے پاکستان کی ضرورت کے علاوہ چین اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات کو سمجھتے ہوئے پاکستان کو اہمیت دینے پر مجبور ہوا۔ اِس بات کو چھپانے کیلئے انہوں نے بقول وزارت خارجہ کے مشیر طارق فاطمی کے امریکیوں نے کہا کہ یہ دورہ اس لئے اہمیت اختیار کر گیا کہ ایک جمہوری حکومت دوسری جمہوری حکومت کو پرامن اقتدار منتقل ہوا۔ افغانستان کو مستحکم دیکھنا چاہتا ہے، اگرچہ بھارت کے زاویۂ نگاہ سے امریکہاور طالبان کے درمیان اِس بات پر گفتگو ہورہی ہے کہ وہ روس کو محدود رکھنے کے لئے کیا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ پاکستان میں چہ مہ گوئیاں اگرچہ عروج پر ہیں مگر اُن کے مشترکہ اعلامیہ میں کئی باتیں مثبت نظر آتی ہیں۔ اگر اُن کے معنی وہی ہوں جن کی پاکستان نے مانگ کی تھیں جیسا کہ امریکہ پاکستان کے لئے اپنا اسٹرٹیجک پارٹنر کی اصطلاح استعمال کرتا ہے مگر پھر وہ پاکستان سول ایٹمی نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا معاہدہ کی پیشکش نہیں کرتا۔

پاکستان کے دانشوروں کا خیال ہے کہ شاید امریکہ پاکستان سے یہ کہے کہ اگر وہ چین سے تعلق داری چھوڑے تو وہ پاکستان سے معاہدہ کرسکتے ہیں۔ وہی دانشور یہ کہتے ہیں کہ چاہے امریکہ پاکستان سے سول ایٹمی ٹیکنالوجی کا معاہدہ کرے یا نہ کرے مگر یہ چین دوستی کی قیمت پر نہیں ہونا چاہئے۔ اس کے علاوہ امریکہ پاکستان کے بارے میں کہتا ہے کہ اس نے دہشت گردی سے کافی نقصان اٹھایا ہے۔ اس پر ایک بھارتی سابق سفیر اور قلم کار کا کہنا ہے کہ پاک امریکہ مشترکہ اعلامیہ نے بھارتی خارجہ پالیسی سلامتی امور پر ایک دھماکا خیز بم اڑا دیا ہے۔ اعلامیہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تمام رنگوں کا اسٹرٹیجک پارٹنر شپ کا دروازہ کھول رہا ہے۔ بقول انڈین لکھاری ایسا لگتا ہے کہ پاک امریکی تعلقات سرد جنگ کے دور کے زمانے جیسے ہوگئے ہیں۔ شاید اس لئے کہ امریکہ افغانستان میں دس ہزار کی تعداد میں فوجی اور 9 فوجی اڈے رکھنا چاہتا ہے۔ ایسا کرنے میں امریکہ کو پاکستان کی سخت ضرورت ہے۔ اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکہ نے اپنے جنوبی ایشیا کی پالیسی کو متوازن کیا ہے۔

میاں محمد نواز شریف اس کے لئے تیاری کرکے آئے تھے۔ انہوں نے امریکہ کو اپنی ضروریات کی فہرست حوالے کی۔ وہ لکھتے ہیں کہ اوباما پاکستان کی حمایت میں بہت آگے بڑھ گئے ہیں۔ اوباما نے من موہن سنگھ کی اپنی ملاقات یکسر نظر انداز کردیا۔ جنہوں نے پاکستان کو دہشت گردی کا مرکز قرار دیا تھا مگر نواز شریف نے کہا نہ وہ دہشت گردی کررہے ہیں اور نہ ہی وہ دہشت گردی کو ایکسپورٹ کرتے ہیں بلکہ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار ہے۔ اوباما نے پاکستان کی قربانیوں کو سراہا۔ جس سے لگا ہے کہ وہ من موہن سنگھ کی توہین کررہے ہوں اور اُن کے خیالات کو پس پشت ڈال رہے ہیں اور پاکستان کے اقدامات کو سراہا جو وہ اپنی اندرونی و بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لئے کررہا ہے نہ صرف یہ بلکہ پاکستانی حکومت، عوام، مسلح افواج اور ایجنسیوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا جو دہشت گردی کا جواں مردی سے مقابلہ کررہی ہیں اس طرح امریکہ نے پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی خدمات کو بھی سراہا۔ اوباما نے پاکستان کو ضروری اتحادی قرار دیا جو امریکہ کے ساتھ مل کر امن اور سیکورٹی کی حصول میں کوشاں ہے۔ دونوں سربراہان نے خطہ کو متوازن بنانے کی ضرورت کو محسوس کیا۔

شفافیت اور مسلسل مذاکرات کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ نام لئے بغیر کشمیر کا ذکر دو مرتبہ مشترکہ اعلامیہ میں کیا گیا۔ اگرچہ دونوں رہنما پاکستان اور بھارت کے درمیان باہمی اچھے تعلق کی ضرورت کو محسوس کرتے ہیں اور یہ کہا گیا کہ اس طرح گفتگو کے ذریعے پرانے تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرلیں گے۔ بھارتیوں کے مطابق جنوبی ایشیا میں توازن قائم رکھنے کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ اب پاکستان اور بھارت کو ایٹمی میدان کے ساتھ سارے میدانوں سے برابری کی سطح پر دیکھتا ہے۔ پاکستان کے ایٹمی عدم پھیلائو کے موقف کو تسلیم کرلیا گیا اور جنوبی ایشیا کے استحکام کے سلسلے میں بھی وہ مل کر کام کریں گے۔ اس طرح اوباما نے پاکستان کو ایٹمی پھیلائو کی ذمہ داری سے مبرا قرار دے دیا۔ اسی کے بدلے میں وہ افغانستان میں پاکستان میں تعاون کا محتاج ہے اور اس کی ہندوکش پالیسی روس کو آگے بڑھنے سے روکنے کیلئے بنائی گئی ہے۔ اس میں امریکہ پاکستان سے مدد کا خواہاں ہے جو پاکستان کے لئے بدلے ہوئے حالات میں ممکن نہیں ہے۔ اس لئے کہ پاکستان روس سے تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتا۔ البتہ اگر طالبان اور امریکہ کسی قسم کے معاہدے میں جڑتے ہیں اور اس کے بدلے میں طالبان امریکہ کی خدمات کے لئے تیار ہو جاتے ہیں وہ اُن کی اپنی مرضی ہے تاہم افغانستان میں ایک جیسے ہی انتخابات کا اعلان ہوا ہے۔ بٹا نظر آتا افغانستان یکجا ہوگیا، ہر صدارتی امیدوار کے ساتھ کوئی نہ کوئی پشتون، ازبک، تاجک یا ہزارہ نظر آتا ہے۔ یہ افغانستان کی خصوصیت ہے کہ جنگ بھی کرتے ہیں اور بات چیت بھی جاری رکھتے ہیں۔ اِس زاویہ سے دیکھیں تو پاکستانی وزیراعظم کا دورہ کامیاب ہوا ہے اور پاکستان اور امریکہ نئے قسم کے تعلقات کے ساتھ ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.